نکتہ داں-۱۲۱
۱۹ جون ۲۰۲۵
مخمصہ
اسرائیل ، ایران پر حملہ کر چکا ہے، یہودی لابی اور نیتن یاہو ، کی خواہش ہے کہ،
امریکہ ہمیشہ کی طرح ، اس مرتبہ پھر، ، اسرائیل کی پراکسی بن کر، ایران کے خلاف حملہ آور ہو۔ کیونکہ پرپیگینڈا یہ ہے کہ صرف امریکہ کے پاس ایسے بم ہیں جو زیر زمین ، ایرانی ایٹمی توانائی کے مراکز کو تباہ کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا جو بہرحال صیہونی پیاوے کے طور پر کام کرتا ہے، اپنے تجزیوں، تبصروں اور مشوروں میں امریکی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ،” ابھی نہیں، تو کبھی نہیں.ں !
اور اس پس منظر میں، پاکستانی فوج کا چیف، عاصم منیر، وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جاتا ہے۔
یہ ملاقات امریکی پروٹوکول کے بھی خلاف ہے۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات میں ، پروٹوکول کے مطابق، مختلف ممالک کے سربراہان بلائے جاتے ہیں۔ آرمی چیف نہیں !
آرمی چیف کی ملاقاتیں، پینٹاگون ، امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلیجنس کے ہم پلہ حکام سے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ بھی مختلف ہے اور اس کے آرمی چیف کی بات بھی کچھ اور ۔
ایسا نہیں ہے، کہ پاکستان کی تاریخ میں عاصم منیر پہلا آرمی چیف ہے جو امریکی وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مہمان بنا ہے۔ پاکستان کے “ پیادے” آرمی چیف ابتدا ہی سے،( اپنی تابعداری کے عوض) امریکی صدور کی مہمانداری کے لطف سے ، محظوظ ہوتے رہے ہیں، لیکن وہ تمام سابق آرمی چیف، حکومت پر قابض ہوکر، بطور سربراہ مملکت مدعو کئے گئے تھے۔ جی ہاں، جرنل ایوب ، جرنل ضیا اور جنرل مشرف آرمی چیف بھی تھے اور حکومت پر غیر آئینی قبضے کی وجہ سے سربراہ مملکت کے طور پر، امریکی صدر کی احکام براری کیلئے حاضر ہوا کرتے تھے۔
لیکن جرنل عاصم منیر کے اس دورے کی پراسراریت ، مندرجہ ذیل ، وجوہات کی بنا پر ہیں:
* یہ دعوت امریکہ کے صدر کے پروٹوکول کے خلاف ہے
* اس دعوت میں، کسی میڈیا کے نمائندے ، صحافی اور ٹی وی چینل مدعو نہیں کئے گئے
* ملاقات کی کوئی تصویر میڈیا پر اب تک نمودار نہیں ہوئی
* کوئی پریس کانفرنس نہیں کی گئی
* کوئی (اب تک) سرکاری اعلامیہ یا ملاقات کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
* امریکی صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد، اخباری نمائندوں کے سوالوں کا گول مول جواب دیا کہ جرنل عاصم کو، میرے مشورے پر ، جنگ بندی پر راضی ہونے پر ،شکریے کیلئے بلایا تھا۔
* اڑتی خبر یہ بھی ہے کہ جرنل عاصم نے ٹرمپ کو امن قائم کرنے کیلئے نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا ہے
اس سارے منظر نامے میں اگر کچھ باعث شرم ہے تو وہ ہماری پوری سیاسی قیادت کہ جسے نہ اپنی عزت عزیز ہے اور نہ ہی ملک کی۔
ن لیگی شریفوں اور خاص کر شہباز شریف کی بالیدگی سے تو سب واقف ہیں لیکن مجھے صدمہ بلاول کے بیان سے زیادہ ہوا۔ موصوف نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مطابق فرمایا ہے کہ جرنل عاصم کو امریکی صدر کے ظہرانے پر دعوت بظاہر پاکستانی ڈپلومیسی کی کامیابی ہے۔ یہ ملاقات اگر شہباز شریف کرنے جاتے تو بلاول کی بات میں واقعی وزن ہوتا، لیکن جرنل عاصم منیر کو سربراہ مملکت کا درجہ دینے پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ:
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ اس پراسرار ملاقات ، کہ جس کے ایجنڈے کے متعلق کسی کو کچھ آگاہ نہیں کیا گیا، امریکی حکومت کے کسی نئے پلان کو تکمیل کروانے کیلئے، ہماری کرائے کی آرمی کے سربراہ کو احکام سمجھانے اور پوری مستعدی سے بجا لانے کیلئے بلایا گیا تھا۔
پاکستان کی پوری تاریخ ہماری کرائے کی آرمی، جرنل ایوب سے لیکر آج تک، ہر امریکی حکم پر لبیک کرتی نظر آتی ہے۔
تو اس دفعہ کیا حکم دیا گیا ہے ؟
پاکستان کا اسرائیل کے حملے کے خلاف ایران کی حمایت میں دو ٹوک موقف تو قابل اطمینان ہے۔
چین اور پاکستان کے تعلق اور فوجی تعاون میں بھی کوئی رخنہ نہیں ڈالا جاسکتا۔
موجودہ سیاسی حالات میں، ایران کے خلاف امریکہ کو کوئی مدد فراہم کرنا، پاکستانی عوام میں فوج کے خلاف کھلی بغاوت پیدا کرسکتا ہے اور، فوج کے اندر نوجوان قیادت بھی، اپنی لیڈرشپ سے سوال کرسکتی ہے۔ تو پھر ایسا کیا کام ہے جو جرنل عاصم کو سونپا جارہا ہے۔
صدر ٹرمپ سے امریکی صحافیوں نے بار بار پوچھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں وہ کب شامل ہورہے ہیں، جواب ہمیشہ گول مول ملا۔ اور جرنل عاصم سے ملاقات کے بعد بھی اب تک مخمصہ جاری ہے
میرے خیال میں اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں:
* اس پروپیگنڈے میں کس قدر حقیقت ہے کہ امریکی “ بنکر بسٹر بم “ ایران کے جوہری انتظام کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ اگر امریکہ نے وہ بم ایران کے نیوکلیئر کے مرکز پر گرا بھی دئیے لیکن انھیں تباہ نہیں کرسکے تو پھر سبکی کیسے سنبھالی جائے گی۔
* امریکی اقدام کے جواب میں، یقیناً ایران، امریکی دفاعی اڈوں پر میزائلوں سے حملے کرے گا۔ اگر اس میں امریکی جانی نقصان بہت ہوتا ہے تو امریکی عوام کے غصے سے کس طرح نمٹا جائے گا
* ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کا انتخابی نعرہ ہی، دنیا کے مسائل میں امریکی کو جنگی طور پر شامل کرنے سے روکنے کا ہے ۔ اگر ٹرمپ اس جنگ میں اپنے نعرے کے خلاف کرتا ہے تو ریپلکن پارٹی میں بغاوت اور صدر کی امپیچمنٹ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
لیکن یہ سب تو امریک کے داخلی مسائل ہیں، جرنل عاصم منیر کا ان مسائل سے کیا لینا دینا ؟
کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا
میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
باقی بس یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس حالیہ جنگ کے بڑھنے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جس سے یورپ اور امریکہ کو تیل کی ترسیل اور تجارت میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بادشاہوں کی حکومتوں کے خلاف، عوامی احتجاج اور بغاوت پیدا ہوسکتی ہے ،اُس بے چینی کی روک تھام کیلئے پاکستانی کرائے کی فوج اپنی خدمات فراہم کرسکتی ہے
لیکن اسکا رد عمل مشرق وسطیٰ کے عوام میں۔ پاکستان کے خلاف کس قدر ہوگا اسے سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے
خالد قاضی