نکتہ داں-۱۲۲
۲۳ جون ۲۰۲۵
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ؟
اگر مرزا غالب موجودہ دور میں حیات ہوتے اور دنیا کی ہر لمحہ بدلتی موجودہ صورتحال انکے مشاہدے میں ہوتی، تو یقیناً وہ یہ شعر کہنے سے پہلے کئی دفعہ ضرور سوچتے۔
امریکی صدر کی سیاسی قلابازیاں، نیتن یاہو کی درندہ صفت شخصیت اور باقی تمام دنیا کی گومگو کی حالت،یہ سب عوامل، اس خطہ ارض کو ایک ناگہانی آگ میں دھکیلنے کی طرف لے جارہے ہیں۔اس ساری صورتحال کو سمجھنے کیلئے مجھے اس وقت، ضیاالحق یاد آرہا ہے۔ بقول مرحوم پروفیسر غفور احمد ،جب ضیا نے یہ محسوس کیا کہ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کی جماعتیں ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ چکی ہیں اور کسی بھی وقت، معاہدے پر دستخط ہوسکتے ہیں تو اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے شب خون مارا اور ملک مارشل لا کی نذر ہوگیا۔
یہی کچھ نیتن یاہو نے کیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے متعلق مذاکرات کے ۵ دور مکمل ہوچکے تھے ۔ کسی معاہدے پر پہنچنے کیلئے، دونوں فریق، اپنے اپنے موقف میں کچھ نرمی دکھانے پر تیار تھے اور یہ بات قریب از قیاس تھی کہ آئندہ چند ہفتوں میں، ایران اور امریکہ معاہدے پر دستخط کردیں گے۔ جبکہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت پر پچھلے چند سالوں سے نئے انتخابات کرانے کا دباؤ تھا۔ غزہ کی بے رحمانہ جنگ کو جاری رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی ، کہ حالت جنگ، دراصل نیتن یاہو کی نامقبول حکومت کو سیاسی آکسیجن پہنچارہی تھی۔ غزہ میں بھی، بے دریغ اور بے رحمانہ طاقت کا استعمال ، حماس کی عسکری قوت کا تقریبا، خاتمہ کر چکا ہے۔ گویا اسرائیل اب حالت جنگ سے نکلنے کے قریب تھا۔ اس صورتحال میں نئے انتخابات کا دباؤ، نیتن یاہو (کہ جسکے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی ہیں) کو حکومت سے باہر اور جیل کے اندر لیجانے کا پیش خیمہ ہوسکتا تھا۔ اس ہی لئے،نیتن یاہو حکومت نے ایران پر حملہ کردیا۔
اس حملے کی اصل وجہ، ایک طرف امریکہ و ایران کے معاہدے کو روکنا، اور دوسری طرف، ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کردینے کا تمغہ سینے پر لگا کر، انتخابات کا انعقاد معلوم ہوتا ہے
امریکہ کے پالیسی سازوں کی لگام ہمیشہ سے، امریکہ میں یہودی لابی ، کے ہاتھوں میں رہی ہے اور وہ ،امریکہ کو اسرائیل کی پراکسی کے طور پر استعمال کرتے چلے آئے ہیں اور اس مرتبہ بھی وہ یہی امید رکھے ہوئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، اور ریپلکن پارٹی پچھلی نصف صدی سے، دنیا بھر میں امریکہ کی جنگی مداخلت کی وجہ سے کھربوں ڈالروں اور ہزاروں امریکی جانوں کے نقصان کی وجہ سے، اس نعرے پر انتخاب جیتے تھے کہ “ نو وار ” ۔ اس ہی لئے ابتداً وہ اس جنگ کا حصہ بننے میں تردد برت رہے تھے۔انھیں اپنے، “ بنکر بسٹر بم “ کی کامیابی پر بھی سو فیصد یقین نہیں تھا۔ اس ہی لئے ٹرمپ نے ڈپلومیسی کے لئے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔
لیکن دوسری طرف، ایران نے جنگ کے ابتدائی جھٹکے کے بعد خود کو سنبھالا اور اسرائیل پر پے در پے میزائلوں اور ڈرون سے کامیاب حملے شروع کردئیے۔
اسرائیلی آبادی پچھلی نصف صدی سے اپنے اطراف کے عرب ممالک پر جب چاہے حملے کرنے اور جواباً کسی ہم پلہ جواب نہ ملنے کی عادی ہو چکی تھیں۔ انھیں ایران کی طرف سے ایسے جواب کی کسی بھی طرح توقع نہ تھی۔ اس نے صرف دوسروں کو تباہ کرنا سیکھا تھا، اپنی تباہی کی انھیں کوئی توقع نہ تھی۔
میری دانست میں اسرائیل کا ایران پر حملہ اسکے گلے میں اٹک گیا ہے، جسے نہ وہ اگل سکتا ہے اور نہ نگل سکتا ہے۔
اس ہی لئے، اسرائیل اور امریکہ نے طے کیا، کہ اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کے مراکز پر بمباری کرکے، ایرانی ایٹمی پروگرام کو تباہ کردینے کا پروپیگنڈا کرکے اپنی جان چھڑ ائی جائے۔
لیکن یہ اقدام ، اسرائیل کو بہت مہنگا پڑے گا۔
ایران ، اس لمحے بڑی سمجھداری سے امریکی بمباری کو وقتی طور پر درگزر کرکے، اپنی تمام تر قوت اسرائیل کو تباہ کردینے پر صرف کرے گا۔وہ اسرائیل کے تمام اہم فوجی، صنعتی، تحقیقی اور مواصلاتی مراکز کو تباہ کردے گا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، امریکی بمباری، ایران کے ایٹمی مراکز کو محض جزوی نقصان پہنچا پائی ہیں ۔ اسکا اب تک کا ایٹمی انرچڈ مواد محفوظ ہے۔ اسکے فنی ماہرین کی پوری بٹالین موجود ہے جو اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکتی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی عوام اور خاص کر انکے بچے ، نوجوان اور ادھیڑ عمر کے لوگ ، جو اسرائیل کو ناقابل شکست سمجھتے تھے، جو دوسروں کو تباہ کرکے قہقہے لگانے کے عادی تھے، وہ اب اپنی تباہی دیکھ رہے ہیں۔ وہ سائرن کی آواز سن کر کانپ جاتے ہیں، انکے شب و روز کا بیشتر حصہ اب پناہگاہوں میں گزرتا ہے وہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ یقیناُُ اسرائیل اس صورتحال کیلئے تیار نہیں تھا۔ آئندہ دنوں میں، اسرائیل جنگ بندی کی طرف ضرور آئے گا۔ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کا ہدف ایران میں “ رجیم چینج “ کو بنائے ہوئے تھے۔ جبکہ رجیم چینج محض ہوائی حملوں، ڈرون اور میزائل داغ کر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ رجیم چینج کیلئے فوجوں کو بھیجنا پڑتا ہے۔ عراق اور افغانستان میں رجیم چینج کیلئے امریکہ کی فوج گئی تھی۔ جبکہ جنگ مسلط کرنے کی وجہ سے ایرانی عوام اگر انھیں حکومت سے شکایتیں بھی تھیں لیکن وہ تمام اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے ، اس ہی لئے، امریکہ نے اپنا بیانیہ بدلا کہ ہمارا مقصد رجیم چینج نہیں ہے۔
ایران اس جنگ کے خاتمے کے بعد، ایک نئے عزم اور ولولے سے دوبارہ ابھرے گا
خالد قاضی