نکتہ داں-۱۲۴
۲۵ جون ۲۰۲۵
ایران کا موثر جواب
اسرائیل اور ایران کے درمیان سیز فائر ہونے کے اعلان کے بعد بھی اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کئے، جسکا ایران کی طرف سے جواب بھی دیا گیا۔ اسکے رد عمل میں ٹرمپ نے (کہ جو اس سیز فائر کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں) نے دونوں ممالک کو متنبہ کیا، بلکہ ان کے ردعمل میں ، اسرائیل کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے گئے۔ ایسے الفاظ، اسرائیل کے قیام کے وقت سے اب تک کسی امریکی صدر نے اسرائیل کی تمام بدمعاشیوں کے باوجود ، کبھی استعمال نہیں کئے۔ اس رویے پر، امریکہ کا اسرائیل نواز میڈیا مخمصے کا شکار ہے۔
میرے سیاسی فہم کے مطابق، اس کی وجہ امریکہ میں سیاسی صدر کے بجائے ایک تاجر صدر حکومت کر رہا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کیلئے،آپکی توجہ میں اس حقیقت کی طرف کرواؤں گا کہ، صدر ٹرمپ کے مئی ۲۰۲۵ میں ، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ۴ روزہ دورے کے دوران،کھربوں ڈالروں کے معاہدے کئے گئے۔ امریکہ کی گرتی معیشیت ان معاہدوں ہی کی وجہ سے کچھ سنبھل پائے گی۔
ان معاہدوں میں امریکی معیشیت میں نہ صرف سرمایہ کاری کے وعدے ہیں بلکہ، اربوں ڈالروں کا اسلحہ بھی خریدا جائے گا۔
یہ اسلحہ کس کے خلاف خریدا جا رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل کے ساتھ تو ان عرب ممالک کے کچھ کھلے اور کچھ ڈھکے تعلقات ہیں۔ یہ سب ممالک مطلق العنان سلطنتیں ہیں اور ایران بھی شاہ ایران کے زیر اثر، مطلق العنان سلطنت تھا۔ ایران میں بادشاہت ختم ہو گئی اور عرب ممالک کو شدید خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں ہمارے عوام بھی ایرانی انقلاب کے زیر اثر بغاوت پر آمادہ نہ ہوجائیں۔ اس ہی لئے ، ان ممالک میں حکومتی ایما پر ایران سے مذہبی اختلاف کو بڑھا چڑھا کر عوام میں نفرت پھیلائی جاتی رہی ہے۔ اور امریکہ بہادر بھی اس نفرت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے، کیونکہ اس نفرت ہی کی وجہ سے اسے کھربوں ڈالروں کے اسلحہ آرڈر ملتے ہیں۔ گویا اس خطہ ارض میں ایران کا قائم و دائم رہنا، امریکی مفادات کیلئے ضروری ہے۔ امریکہ کی خواہش یہ ہے کہ ایران اسقدر طاقتور رہے کہ اس کے گرد تمام عرب ممالک اس سے ڈرتے رہیں اور امریکی معیشیت اسلحے کے کاروبار سے چلتی رہے۔ لہذا اس جنگ بندی کو واقع ہونا ضروری تھا۔
* لیکن اس دس بارہ دنوں کی جنگ نے، اگر کسی کا کلف توڑا ہے، تو وہ اسرائیل ہے۔
* مستقبل میں، عرب دنیا ، ایران سے اپنے تعلقات پر نظر الثانی کرے گی۔
* یورپی ممالک ، ایران اسرائیل اور عرب معاملات میں، اپنی خارجہ پالیسی کو امریکی چھتری سے باہر نکال کر، آزادانہ موقف اپنائیں گے
* دنیا کی جنگیں اب محاذوں یا جنگی میدانوں میں نہیں لڑی جائیں گی۔
* میزائل ٹیکنالوجی ہی نئی جنگوں کے نتائج مرتب کیا کریں گی
* ایرانی قوم ایک نئے عزم کے ساتھ، اس جنگ میں اپنی غلطیوں سے سبق لیکر، آگے بڑھے گی اور اسلامی دنیا کو لیڈ کرے گی
* ایران پر تجارتی اور معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی انشااللہ قریب نظر آتا ہے، یہ امریکہ کی مرضی سے نہیں ، امریکہ کی کمزوری کی وجہ سے ہوگا
ضرورت اس بات کی ہے، کہ مسلم دنیا، متحد ہوکر تعلیم کے میدان میں ہاتھ سے ہاتھ ملاکر، مشترکہ یونیورسٹیاں تعمیر کریں اور ٹیکنالوجی کے حصول کی ایک مشترکہ کاوش کی جائے، تاکہ مسلم نشاط ثانیہ کی ابتدا ہو سکے
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی