NUKTADAAN

Reading: ‏۱۲۵۔ “ م کی منطق ”
Reading: ‏۱۲۵۔ “ م کی منطق ”

‏۱۲۵۔ “ م کی منطق ”

admin
9 Min Read

نکتہ داں-۱۲۵

۴ جولائی ۲۰۲۵

“ م کی منطق ”

پاکستان کے سیاسی حالات پر، شاید ہی کوئی ذی شعور شخص،مطمئن ہو۔ یہاں بظاہر جمہوریت تو ہے، لیکن بس  نام کی۔ 

ابتدا ہی سے، اقتدار کی خواہش، عالمی طاقتوں کی ضرورت اور انگریز کے زیر سایہ وجود میں آنے والی “منہ زور”، سول اور خاکی بیروکریسی، نے اس ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا، اور آئے دن، عدلیہ اور میڈیا کے بے شرمانہ تعاون سے، جمہوری اداروں، کو کمزور، سیاستدانوں کو بدنام، صوبائی منافرت کی ترویج اور وفاقی سیاسی پارٹیوں کو محدود کرنے کے ایجنڈے پر عمل کرکے، پاکستانی سیاست سے نوجوان طبقے کو متنفر کردیا۔

مندرجہ بالا تمام باتیں، کوئی انکشاف نہیں ہیں، بلکہ سیاست کا ہر طالبعلم اس حقیقت سے واقف بھی ہے اور اس موضوع پر ایک رائے بھی رکھتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے، ہمارے اہل علم، اہل سیاست اور میڈیا کے نمائندے ،  پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے اور ملک کو سول حکمرانی کے دائرے میں واپس لانے کے طریقوں پر، ہر عوامی فورم، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کھل کر مثبت بحث کرکے، عوامی شعور میں اضافے کا احتمال کریں۔

آج ، میرا قلم اس ہی موضوع کو زیر بحث لانے پر مرکوز ہے ۔

میری ناقص رائے میں، پاکستان کو جمہوری پٹری پر واپس لانے کیلئے، یہ ضروری ہے، کہ ہماری وفاقی سیاسی جماعتیں، اپنے صوبائی دائروں سے نکل کر، پاکستان کے چاروں صوبوں میں اپنی عوامی حمایت اور نمائندگی کو وسیع تر کرنے کا لائحۂ عمل  اپنائیں۔

کہنے کو تو پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی وفاقی پارٹیاں ہیں، لیکن محض برائے نام۔

مسلم لیگ کا گڑھ پنجاب ہے، پیپلز پارٹی سندھ میں مقید ہے، تحریک انصاف، خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے شہری علاقوں تک محدود ہے اور جماعت اسلامی حالانکہ ہر جگہ ہے، لیکن کہیں بھی نہیں !

جبکہ بلوچستان کے عوام ، اپنے نمائندے، منتخب کرنے کے اختیار سے محروم ہیں۔ انھیں بتا دیا جاتا ہے کہ تمھارے نمائندے وہ نہیں جنھیں تم ووٹ دیتے ہو۔ تمھارے نمائندے وہ ہیں جنھیں ہم جتوا دیتے ہیں۔

پاکستانی انتخابات کے نتائج، تاریخی طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ، عوام اپنی رائے، تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ انکا سیاسی انتخاب بدلتا رہا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی ایام ، مسلم لیگ کے گرد گھومتے تھے پھر مارشل لا کے اندھیروں نے ملک کو لپیٹ لیا۔ پیپلز پارٹی ایک تبدیلی کی کرن بن کر ابھری اور ملک کے چاروں صوبوں پر چھا کر ایک حقیقی وفاقی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔پھر ریشہ دوانیوں کا دور شروع ہوا اور پنجاب جو پیپلز پارٹی کا گھڑ تھا، وہاں کے معصوم لوگوں کو تعصب کے نام پر، “جاگ پنجابی جاگ” کے نعرے کے زیر اثر جگایا گیا اور رفتہ رفتہ وفاقی جماعتوں کو سکیڑنے کے عمل کا آغاز ہوا۔ پھر جب مسلم لیگ بھی چاروں صوبوں کی نمائندگی کرنے لگی تو اس کے نیچے سے بھی زمین سرکانے کا بندوبست بذریعہ سپریم کورٹ کیا گیا۔

اب جبکہ مسلم لیگ دوبارہ اقتدار میں ہے اور وہ وفاقی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے، لیکن اسکے حالیہ اقدامات کی منطق کو، مجھ جیسے سیاست کے طالبعلم کی عقل اور فہم ، سمجھنے سے قاصر ہے۔

وفاقی جماعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک کے چاروں صوبوں کے عوام کے مفادات، ضروریات اور احساسات کو مساوات کی بنیاد پر دیکھے نہ کہ اپنے سیاسی گڑھ میں کنویں کے مینڈک کی طرح محدود رہے ۔

پنجاب کی وزیر اعلٰی مریم نواز ،  ملک کے وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ کی پوری سیاسی قیادت ، اپنی پارٹی کے سندھ میں سیاسی طور پر مضبوطی سے قدم جمانے کے ایک بہت بڑے  سنہری موقعے کو ضائع کرچکے ہیں ۔ مسلم لیگ کی قیادت ، سیاسی منطق سے قطعاً  نابلد نظر آئی ہے اور انکی ناقص کارکردگی  نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سنبھالنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔اور اس سارے معاملے میں نوازشریف تو گویا ہوتے ہوئے بھی اپنا وجود کھو بیٹھے ہیں۔ 

میرا اشارہ، سندھ میں، نہروں کے معاملے پر، طویل عوامی احتجاج ، اور اس سے  پیدا ہوئی صورتحال کے دوران،سندھ میں مسلم لیگ کی قیادت، سیاسی میدان سے بالکل غائب نظر آئی۔ انکے صوبائی صدر بشیر میمن اور پیپلز پارٹی سے ناراض وڈیرے جو مسلم لیگ کا سایہ ڈھونڈتے ہیں، اپنی اوطاقوں ، ڈیروں اور عوامی اجتماعات سے بالکل غائب نظر آئے۔ اور دوسری طرف مریم نواز، کہ جنھوں نے جنرل عاصم منیر کے ساتھ نہروں کی تعمیر کا افتتاح کرکے تصویریں بنوائیں تھیں، اس سارے سیاسی زلزلے میں کہیں بھی اپنا موقف بیان کرتی دکھائی نہیں دیں جبکہ مسلم لیگ کے سالار نوازشریف بھی خاموشی کا روزہ رکھے نظر آئے۔ جبکہ، صوبائی منافرت بڑھانے کا کام ، پنجاب حکومت کی ترجمان محترمہ عظمیٰ بخاری بڑی مستعدی سے ادا کرتی رہیں۔ اس ہنگائمہ خیز ڈرامے کا ڈراپ سین تب ہوا جب  پیپلز پارٹی کے دباؤ میں آکر مسلم لیگی حکومت کو  نہروں کی تعمیر کو نہ صرف موخر کرنا پڑا بلکہ انکی تعمیر کو تمام فریقوں کی منظوری سے منسلک کرنا پڑا۔ 

ارے بھائی اگر ماننا ہی تھا تو خود آگے بڑھ کر نوازشریف لاڑکانہ میں جلسہ کرکے اعلان کرتا کہ سندھ کا فائدہ مسلم لیگ کا فائدہ ہے اور سندھ کا نقصان مسلم لیگ کا نقصان ہے ، اس لئے مسلم لیگ وہ کام نہیں کرے گی جوسندھ کے عوام کو منظور نہیں ہوگا ۔ اس طرح وہ کریڈٹ خود لیتی اور انکے صوبائی صدر بشیر میمن اور دوسری قیادت اپنے بِلوں سے   باہر آکر عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں ہوتے اور پیپلز پارٹی مخالف وڈیروں کو بھی سندھ کے عوام میں کچھ پزیرائی ملتی اور آنے والے انتخاب میں مسلم لیگ سندھ میں بہتر نمائندگی حاصل کر پاتی۔

لیکن مسلم لیگ نے شاید عقل استعمال نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس کا مظاہرہ اس نے حالیہ بجٹ میں کر دکھایا۔ بجٹ میں تمام صوبوں کے ترقیاتی منصوبے آئین کے مطابق، صوبائی حکومتوں کے تحت تکمیل کئے جائیں گے، سوائے صوبہ سندھ کے۔ سندھ کے ترقیاتی بجٹ نہ صرف کم ہے بلکہ جو ہے اس پر بھی وفاق کی اجارہ داری۔ 

ملک کی تمام شاہراہوں کی تعمیر CPEC کی فنڈنگ سے کی جاچکی ہے سوائے حیدرآباد سکھر ہائی وے کے۔ اس اہم ہائی وے کیلئے، CPEC کے فنڈ باقی نہیں بچتے اور دادو کے سائیں اللٰہ داد بگھیو کے بقول، لوگ جب پنجاب سے گزر کر سندھ کی ہائی وے پر آتے ہیں تو انھیں سڑک خستہ حال ملتی ہے اور اس کی وجہ مسلم لیگ کا سندھ سے تعصب نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی نا اہلی سے جوڑا جاتا ہے۔

لیکن اطلاعات کے مطابق۔ پیپلز پارٹی کے دباؤ کی وجہ سے اب یہ مطالبات بھی مان لئے گئےہیں تاکہ بجٹ پاس ہو سکے۔

تو حضور ایسے اقدامات سے مسلم لیگ کی م پنجاب ہی میں رہے گی سندھ میں اسکی  پزیرائی ناممکن ہے۔

مسلم لیگ کی قیادت کو بالغ نظری اور دور اندیشی سے لیکر سندھ کے مطالبات  پیپلز پارٹی کے دباؤ کے تحت نہیں بلکہ خود اپنے ایما پر منظور کرکے ، سندھ میں اپنے قدم جمانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔

آج کی تحریر، مسلم لیگ پر ، آئندہ تحریر میں  پیپلز پارٹی کے متعلق گزارشات ہونگیں کہ وہ پھر دوبارہ ماضی کی طرح کس طرح ملک کے باقی تین صوبوں میں اپنی مقبولیت بڑھائے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے