NUKTADAAN

Reading: ‏۱۲۶۔ یہ محض چہ میگوئیاں ہیں
Reading: ‏۱۲۶۔ یہ محض چہ میگوئیاں ہیں

‏۱۲۶۔ یہ محض چہ میگوئیاں ہیں

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۱۲۶

۱۳ جولائی ۲۰۲۵

یہ محض چہ میگوئیاں ہیں

میرے دل سے پیوستہ، اور عزیز ترین،  چچازاد بھائی کے اچانک انتقال پر، چند دن کیلئے کراچی آنا ہوا۔ دماغ انکی رحلت کے غم میں ماؤف تھا۔ انکی تجہیز و تکفین کے دوران ہی، کسی نے مجھ سے پوچھا، کہ قاضی صاحب، کیا زرداری بھی جارہے ہیں ؟ میں نے جواباً انکے چہرے پر درود پڑھ کر پھونک دیا۔

میں ان محترم کو الزام نہیں دے سکتا، کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ، انکی پریشانی کی تصدیق کر رہی ہے۔

لیکن، چند حقیقتیں  اور بھی ہیں۔ 

* پچھلی کئی دہائیوں سے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔

* موجودہ دور، ساٹھ اور ستر کی دہائی نہیں ہے۔ 

* ⁠عوامی شعور عموماً، اور عمران خان کی حکومت بدری کے بعد خصوصاً ، بہت بڑھ گیا ہے

* ⁠سوشل میڈیا ایک بے قابو گھوڑے کی شکل اختیار کرچکا ہے

* ⁠ملک کی معاشی صورتحال، مزید، اٹھک پھٹک  کی ہر گز اجازت نہیں دیتی

* ⁠اور سب سے بڑھ کر یہ، معاملہ زرداری کا ہے اور انھیں ہٹانا اتنا آسان نہیں ہے۔

زرداری صاحب کے متعلق، عموماً تاثر یہی پھیلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فائدے کیلئے، کسی بھی حد تک جاکر، معاملات طے کرسکتے ہیں۔ میری رائے اس تاثر سے مختلف ہے۔ زرداری صاحب، افہام تفہیم کے قائل ضرور ہیں، لیکن،وہ معاملات،  اپنی شرائط پر طے کرتے ہیں ، نہ کہ مقتدرہ کی بات مان کر۔اس حقیقت کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ 

* انھوں نے سزا یافتہ ہوئے بغیر،  ۱۱ سال سزا، کاٹی۔ کیا اس وقت بے نظیر سے بے وفائی کے عوض،  آزادی اور مراعات کی پیشکش نہیں کی جاتی رہیں تھیں ؟

* ⁠کیا مقتدرہ انھیں پہلی مرتبہ بھی صدر کے عہدے پر دیکھنا پسند کرتی تھی ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ مقتدرہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آفتاب شعبان میرانی کو کرسی صدارت  پربراجمان دیکھنا  چاہتی تھیں

* ⁠کیا پہلے دور صدارت کی مدت کے دوران انھیں ہٹانے کیلئے کئی  سازشیں نہیں کی گئیں ؟ میمو گیٹ کا وار ، اسی سازش کی بہت بڑی  کڑی تھا۔اور اس وقت نوازشریف، میثاق جمہوریت پر دستخط کو بھلا کر، کوٹ اور ٹائی لگا کر سپریم کورٹ افتخار چودھری کی عدالت میں ، فوج کے ایما پر پہنچ گئے تھے۔

* ⁠جب جنرل راحیل شریف کی جمہوریت کے خلاف ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر، زرداری نے اعلانیہ جرنلوں کو دھمکیاں دیں تو اس کے رد عمل میں بھی نوازشریف ایک دفعہ پھر فوج کے ساتھ کھڑے  رہے اور زرداری سے پہلے سے طے شدہ عشائیے پر نہیں آئے۔

* ⁠زرداری کے پہلے دور صدارت کے دوران پاکستان کا جھرلو میڈیا، ہر دوسرے دن، زرداری کے صدارت سے ہٹائے جانے کی تاریخیں دیا کرتا تھا اور جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان حالات میں چوبیس گھنٹے زرداری، اسلحہ کے ساتھ رہتا تھا، کہ اگر فوج نے غیر قانونی کاروائی کی، تو صرف مردہ حالت ہی میں انھیں صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

* ⁠حالیہ الیکشن کے دوران بھی، ہمارے میڈیا کے پالتو صحافی ، جو طاقتور چڑے کے ارادوں کو، اپنی چڑیا کی خبر رسانی کا نام دیکر، عوام میں مایوسی پھیلانے کے ماہر ہیں، بڑے تحکم اور اعتماد سے اعلان کیا کرتے تھے کہ، زرداری کو مقتدرہ کبھی بھی صدارتی کرسی پر نہیں بیٹھنے دے گی اور سینیٹ کا چیئرمین ، انوارالحق کاکڑ کو بنائے جانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ لیکن نہ صرف زرداری صاحب دوبارہ صدر بنے، بلکہ چیئرمین سینیٹ بھی اپنے معتمد ترین جیالے، یوسف رضا گیلانی کو بنایا۔ 

* ⁠لیکن میرے حساب سے، زرداری کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ کچھ اور ہے۔ انکے اس تاریخی کارنامے کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے، ہمیں تاریخ کے جھروکے میں جھانکنا پڑے گا۔ گو ۱۹۷۳ کا متفقہ آئین، ایک جمہوری آئین تھا اور اس میں اختیارات کا ارتکاز وزیر اعظم اور کابینہ کے تحت تھا، لیکن جرنل ضیا اور جرنل مشرف نے اپنی ذات کے فائدے کیلئے، آئین کا حلیہ بگاڑ کر، اسے پارلیمانی کے بجائے صدارتی آئین بنا ڈالا، جہاں حکومت کے تمام اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے بجائے صدر کے زیر اثر تھے۔ اپنے پہلے صدارتی دور میں، پاکستانی آئین کو دوبارہ پارلیمانی بنانے کا سہرا زرداری صاحب کو جاتا ہے۔ جب وہ صدر منتخب ہوئے تو ضیا اور مشرف کے زیر استعمال  جملہ اختیارات انکے زیر اثر تھے لیکن انکی جمہوری سوچ نے، صدر ہوتے ہوئے، اپنے تمام اختیارات ۱۸ ویں ترمیم منظور کرواکر وزیراعظم اور کابینہ کو منتقل کردئیے۔انکا یہ کارنامہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری لفظوں میں یاد کیا جائے گا

ان تمام تاریخی حقائق کے باوجود، کیا زرداری صاحب عوام میں احترام اور عزت سے دیکھے جاتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔

اسکی وجہ بہت سادہ ہے، انکے متعلق غالب سے معذرت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ

یہ مسائل سیاست، یہ ترا مقام  زرداری

تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ “کرپٹ” شمار ہوتا

تو پھر ان افواہوں کو پھیلانے کا مقصد کیا ہے ؟

میں حتمی طور پر تو نہیں ، لیکن، قیاس یہ رکھتا ہوں، کہ امریکہ بہادر، پاکستان میں اپنے معاملات ون ونڈو کے ذریعے چلانے کا عادی ہوچکا ہے، اور وہ ایک مرتبہ پھر، پاکستان کو مشرف دور کی طرح، مصر بنانے کا قائل ہے۔ جہاں حکومت کا وزیراعظم بھی ہوتا ہے، کابینہ بھی ہوتی ہے لیکن عنان حکومت صدر کے پاس ہوتی ہے اور وہ فوجی وردی میں ملبوس بحیثیت چیف آف آرمی اسٹاف اپنا اختیار استعمال کرتا ہے۔

۲۷ ویں ترمیم بھی شاید اسی پلان کےتحت تھی۔

صدر ٹرمپ کی امریکی پروٹوکول کے خلاف ، ہمارے عاصم منیر پر واری جانا، بنا مقصد نہیں ہوسکتا۔ جبکہ اس ظہرانے کی نہ کوئی تصویر شائع ہوئی، نہ کوئی تفصیل سامنے آئی اورنہ کوئی بیانیہ جاری کیا گیا۔

زرداری صاحب کو، دباؤ میں لانے کیلئے، نوازشریف کی عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی خبر بھی اس ہی لئے اڑائی گئی تھی۔

اگر یہ سب کچھ ہوجاتا تو ن لیگ کو کیا ملتا ؟ محض پنجاب کی وزارت اعلٰی ؟ وہ تو اس وقت بھی ہے ! 

اس ہی لئے، ن لیگ کے سیاسی دماغ، سینیٹر عرفان صدیقی اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے رانا ثنااللٰہ نے ان تمام افواہوں کی تردید کرکے سازشوں کا قلع قمع کیا اور نتیجتاً پاکستان کا سٹاک ایکسچینج تاریخی بلندیوں کو چھونے لگا۔

سمجھنے کی بات یہ ہے، اگر ہم ملک کو اقتصادی طور پر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا۔

لیکن یہ بات، ہمارے خاکی کھلاڑیوں کو کون سمجھائے ؟

اور دوسری طرف وہ لائحۂ عمل جو پچھلے چار سالوں میں مکمل ناکام ہوچکا ہے، اسی کو جاری رکھنے پر اصرار ، یہ عمران خان جیسا عقلمند ہی کرسکتا ہے، اور کوئی نہیں 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے