نکتہ داں-۱۲۸
۱۰ اگست ۲۰۲۵
لوہے کے چنے
تقریبا” مہینے بھر کی غیر حاضری کی وجہ، سیر سپاٹا تھا۔ اپنی دنیاوی ذمہ داریوں سے، عہدہ برآ، ہو جانے کے بعد، خواہش تھی کہ یورپ کی سیر کی جائے۔ بیگم نے، نہ چاہتے ہوئے بھی ساتھ نبھایا، وہ *”سفر سے Buffer”* کے نظریے کی حامی ہیں۔
ارادہ ہے کہ ۶ ملکوں کے اس سفر کے تجربات اور مشاہدات، قسط وار، دوستوں کی نذر کروں گا، لیکن، زیر نظر تحریر کا مقصد کچھ اور ہے۔
امریکہ، چین کی ہر لمحہ پھیلتی ، سفارتی، معاشی ، تجارتی اور عسکری قوت سے خائف ہے لہذا چین کو حدود میں رکھنے اور دنیا کے اس خطے کے فوجی توازن کو اپنے مطابق قائم رکھنے کیلئے، ہندوستان پر پچھلی دو دہائیوں سے مہربان ہے- امریکہ چونکہ اس خطے میں پاکستان سے پچھلے ستر سالوں سے، بنا کسی رد و کد کے اپنی پالیسیوں پر عمل کرواتا رہا ہے۔اور پاکستان کے خاکی اور کالے انگریز حکمران، ہر امریکی حکم، (اپنی غیر قانونی حکومتوں کی سرپرستی کی قیمت پر)، ہمیشہ بجا لاتے رہے ہیں لہذا امریکہ کو ناں سننے کی عادت نہیں رہی۔ جبکہ ہندوستان میں اور خرابیاں چاہے ہزار ہوں، لیکن انکا جمہوری نظام اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی مطلق العنان، اپنی مرضی سے، حکومتی پالیسی ، ِ بنا کسی رکاوٹ ، ِبنا کسی سوال اور بنا کسی پارلیمانی اجازت ، اپنے طور پر جاری نہیں رکھ سکتا۔ جبکہ امریکہ اپنے سفارتی اہداف کے حصول کیلئے، ہندوستان کو، پابند کرنا چاہتا ہے کہ وہ روس سے تجارتی روابط نہ رکھے۔ ہندوستان روس سے قدرے سستے تیل کی درآمد کو، اپنے ملک کی توانائی کی ضرورتوں کیلئے ضروری تصور کرتا ہے۔ یہ بات تو وجہ اختلاف تھی ہی، لیکن ہند و پاک کی حالیہ مڈ بھیڑ، اور اسکے نتائج نے، امریکہ کے تاجر صدر کو سوچنے پر مجبور کیا کہ چین کا مقابلہ کرنے کیلئے، جس ملک پر ہم سارا داؤ لگا رہے ہیں، وہ نہ ہمارا حکم تسلیم کر رہا ہے اور نہ اس کی فوج نے، حالیہ جھڑپ میں کوئی بہتر کاررگردگی دکھائی۔ گویا “ان ِتلوں میں تیل نہیں”
یعنی، مودی، ٹرمپ، “لوو افیئر “، بنا کسی اعلانیے کے ختم ہوچکا ہے۔
امریکہ کی معاشی قوت، گزشتہ کئی دہائیوں سے، دنیا کے بکھیڑوں میں عسکری شمولیت کی وجہ سے، کمزوری کی طرف گامزن ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسری بار صدر بننے کے لئے جس پروگرام کو اپنا انتخابی نعرہ بنایا تھا وہ “Make America Great Again” تھا۔ اس میں امریکہ پر قرض کو کم کرنے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے، امکانات کی تلاش تھی۔ پاکستان پر امریکی تاجر صدر کی نظر پاکستان پر اس وجہ سے جم گئی ہے کہ، اس وقت پاکستان میں جاری سیاسی نظام ، امریکہ کیلئے بہت سازگار ہے۔ وگرنہ پاکستان میں چھپی معدنیات کا علم جتنا امریکی حکام کو ہے وہ پاکستان کو بھی نہیں۔ پاکستان کے سمندر میں چھپی تیل اور گیس کی دولت، اور پاکستان کے شمالی علاقوں اور بلوچستان میں معدنی دولت کا تمام علم امریکی فیصلہ سازوں کو بہت پہلے سے ہے۔
آپ کی یادداشت کیلئے عرض کروں کہ، عمران خان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں سمندر میں تیل کی موجودگی کا اعلان، ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ اور امریکی کمپنی ، بنا کسی پیش رفت ، محض بہانہ بنا کر واپس چلی گئی تھی۔ میری نظر میں اسکی اصل وجہ، پاکستان میں بظاہر جمہوری حکومت اور معاہدے میں موجود شرائط کا پبلک ہونے کا خطرہ تھا۔ کیونکہ ریکوڈک منصوبے میں عدالتی مداخلت امریکہ کی نظر میں تھی۔ اس ہی لئے، ۲۶ویں ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی، تاکہ، اعلٰی عدالتوں میں قانون کی حکمرانی کے طالب ججوں کا راستہ بند کرکے، نوکری پیشہ ججوں کا تقرر کیا جائے۔
۹ مئی کے متعلق، PTI رہنماؤں اور کارکنوں کو دی گئی حالیہ سزائیں اس سوچ کو تقویت دینے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ پاکستان کے جج، قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی ملازمت اور مراعات کو قائم رکھنے کیلئے، نوکری پیشہ لوگ ہیں۔
پاکستان میں رائج نظام کے مطابق، ، جمہوریت محض دکھاوے کی رہ گئی ہے اور تمام اہم فیصلے، پارلیمنٹ کے بجائے، راولپنڈی میں کئے جاتے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف حکومت، اپنا وقت پورا کرنے کی شرط پر، جمہوری عمل سے بخوشی دستبردار ہوتی جارہی ہے۔ حالیہ دنوں میں وزارت داخلہ جو پہلے ہی، راولپنڈی کے نمائندے محسن نقوی کے ذمہ ہے، حاضر سروس میجر جرنل نور ولی کا بطور ایڈیشنل سکریٹری تقرر اس رائے کے ثبوت کیلئے کافی ہے۔
اس تمام پس منظر میں، گزشتہ ماہ، امریکی صدر کا عاصم منیر کو ظہرانے پر بلانا سمجھ میں آتا ہے اور خبریں یہ بھی ہیں کہ اگلے ماہ، عاصم منیر واشنگٹن یاترا کیلئے دوبارہ جارہے ہیں۔
گویا، پاکستان کے معدنی وسائل یا امریکہ کے زیر استعمال ہونگے یا، پنڈی کے پانڈؤں کے زیر قبضہ۔
لیکن برا ہو آصف زرداری کا، کہ جس کی جاری کردہ ۱۸ویں ترمیم، ملک کی معدنی دولت میں صوبائی رضامندی اور اس میں صوبائی حصے کے حق کوتسلیم کرتی ہے اور ملک کے سالانہ وسائل پر صوبائی حصے میں بھی اضافے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ پنڈی پانڈوں کا زور ۱۸ ویں ترمیم کو ختم کروانے پر ہے۔اس ہی لئے ۲۷ویں ترمیم (کہ جس کے مندرجات کا اب تک کسی کو نہیں پتہ) کا چرچا، آئے دن سننے میں آتا ہے۔
پیپلزپارٹی جو، نہ صرف آئین کی خالق ہے بلکہ ۱۸ویں ترمیم کے اجرا کو بھی اپنے جمہوری کارناموں میں شمار کرتی ہے، کو کارنر کرنے کیلئے، آجکل سوشل میڈیا بہت چابکدستی سے استعمال ہورہا ہے۔ حال ہی میں زرداری کے متعلق ایک وڈیو، (جس کی تیاری میں ، فلمی، قلمی اور تکنیکی مہارت ببانگ دہل بول رہی ہے کہ تیاری ایک خطیر رقم خرچ کی گئی ہے)، سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔
میری سیاسی سوچ، کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی حالیہ ملاقات، کا ایجنڈا حکومتی معاملات نہیں ، بلکہ ان ہی معاملات پر تشویش ظاہر کرنے پر تھا۔ اور معاملات کی اہمیت اور نزاکت کے پیش نظر ، اس ملاقات کے شرکأ کی تعداد بہت مختصر تھی۔
حکومت کی نمائندگی وزیر اعظم شہباز شریف ، نوازشریف کے نمائندے و نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار اور ن لیگ کے سیاسی دماغ رانا ثنااللٰہ تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے ۳ رکنی وفد میں بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور سینئر رہنما شیری رحمان شریک ہوئیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے، کہ کیا ۱۸ویں ترمیم، کا خاتمہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے ممکن ہے ؟
میرے خیال میں یہ کوشش ناکام جائے گی۔
اسکی وجہ وہ سیاسی بیداری ہے جو عمران خان کی حکومت ختم کرنے اور عمران خان کو پابند سلاسل کرنے کی وجہ سے ظہور پزیر ہوئی ہے۔ اور عسکری و حکومتی مشترکہ کوششوں کے باوجود یہ بیداری ختم نہیں کی جاسکی۔ اس بیداری کے مشاہدے ماضی قریب میں بھی نظر آچکے ہیں۔ مثلًا، اپنی طرف سے تو مریم نواز اور عاصم منیر نے تصویریں کھنچوا کر، پنجاب میں نہروں کی تعمیر کا افتتاح کردیا تھا، لیکن سندھ کے عوام کے عزم اور بنا تشدد کی جدوجہد نے پنڈی پانڈوں کو بیک فوٹ پر بھیج دیا۔
یہ تو معاملہ صرف ایک صوبے کا تھا۔ ۱۸ویں ترمیم تو ملک کے چاروں صوبوں کے فائدے کیلئے ہے۔ اس ترمیم کے دفاع کیلئے نہ صرف سندھ بلکہ، خیبر پختون خواہ ، گلگت بلتستان ، فاٹا، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بھی شدید عوامی مزاحمت ہوگی اور یقیناً مرکزی پنجاب بھی ۱۸ویں ترمیم کے دفاع میں کھڑا نظر آئے گا۔لہذا ۱۸ویں ترمیم لوہے کے چنے ثابت ہوگی انشااللٰہ
خالد قاضی