NUKTADAAN

Reading: ‏۱۳۲۔ سیاسی بلوغت ناپید ہے
Reading: ‏۱۳۲۔ سیاسی بلوغت ناپید ہے

‏۱۳۲۔ سیاسی بلوغت ناپید ہے

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۱۳۲

۲۲ اگست ۲۰۲۵

سیاسی بلوغت ناپید ہے

آپ کی یاد داشت کیلئے، کچھ پرانی اور کچھ تازہ خبریں، پیش خدمت ہیں۔ 

۱- پہلی خبر  یہ کہ جنوری ۲۰۲۵ میں تحریک انصاف کے چیئرمین، بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی کہ انکی جنرل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے۔

حالانکہ اس سے پہلے۔ عمران کے، “صرف” مقتدرہ سے بات کرنے کے ہر مطالبے کو راولپنڈی، بہت حقارت سے رد کردیا کرتا تھا۔ 

۲- بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کا سبب، اسپیکر قومی اسمبلی کی کوششوں سے، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان، بات چیت کا تیسرا دور تھا۔جی ہاں دو دور پہلے ہوچکے تھے اور تیسرے میں حکومت کے مطالبے پر تحریک انصاف کو اپنا تحریری چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرنا تھا۔

۳- آئی ایس پی آر کے ترجمان، جرنل احمد شریف چودھری نے بیرسٹر گوہر اور جرنل عاصم منیر کی ملاقات سے انکار تو نہیں کیا لیکن اس ملاقات کو ڈاؤن پلے کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ ایک سرسری سی ملاقات تھی اور اسکا کوئی طے شدہ ایجنڈا نہیں تھا۔

۴- اور پھر ہوا یہ کہ اچانک تحریک انصاف کی ٹیم، عمران خان کے حکم پر،حکومت کے ساتھ  مزید بات چیت ختم کرکے، اپنے پچھلے موقف “یعنی کوئی بات نہیں ہوگی” پر ڈٹ گئی۔

عمران خان نے ایسا کیوں کیا؟ کیا اسے پنڈی اور لاہور معاہدے کے مندرجات کا پتہ چل گیا یا انھیں بتایا گیا تھا !

۵- اور اب تازہ بہ تازہ خبر کہ، امریکہ سے واپسی پر، جرنل عاصم منیر برسلز جاتے ہیں۔ 

وہاں کسی پاکستانی تاجر کی دعوت پر پاکستانیوں سے خطاب ہوتا ہے

برسلز ہی میں، پاکستان سے گئے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ سے ( بقول سہیل وڑائچ) ملاقات ، یا بات چیت ہوتی ہے اور اس ملاقات کے دوران یا پاکستانیوں سے خطاب کے دوران، جرنل صاحب ، کسی کا نام لئے بغیر فرماتے ہیں، کہ ۹ مئی کے واقعات پر بنا معافی مانگے ، کوئی معافی تلافی نہیں ہوسکتی۔

۶- لیکن اس خبر کے شائع ہونے کے دو دن بعد ہی، جنرل احمد شریف چودھری بحیثیت آرمی ترجمان، اعلان کرتے ہیں کہ آرمی چیف کی طرف سے نہ کسی معافی کی بات کی گئی اور نہ سیاست کا ذکر ہوا۔بلکہ وہ کسی بھی انٹرویو کا انکار کرکے، سارا ملبہ سہیل وڑائچ پر ڈال دیتے ہیں۔

ان خبروں سے کیا نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔

میں اس سے پہلے بھی، کئی مرتبہ ، اپنی کم مائیگی کا کھل کر اعتراف کرچکا ہوں کہ نہ تو میری کوئی چڑیا ہے جو اڑ کر خبریں لاکر دیتی ہو اور نہ فال نکالنے والا کوئی طوطا۔

میں تو تاریخ کے آئینے میں، مستقبل کو دیکھنے کی سعی کرتا ہوں جو درست بھی ہوسکتی ہے اور اسکے  غلط ثابت ہونے کا بھی احتمال ہے۔

میری سیاسی سمجھ بوجھ، یہ کہتی ہے، کہ فروری ۲۰۲۴ کے الیکشن سے پہلے، راولپنڈی اور لاہور میں جو ڈیل ہوئی تھی، اس میں دونوں اطراف کے مطالبات تھے ، یہ کوئی یکطرفہ ڈیل نہیں تھی۔ اس میں دونوں فریقوں کیلئے ریڈ لائی متعین کی گئی تھیں اور کسی فریق کو لائن عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ 

راولپنڈی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ حکومت مخالف پارٹی سے کوئی رابطہ کرے اور اسکے بدلے حکومت ، پنڈی کے بجٹ کے مطالبات من و عن پورے کرے گی، پنڈی کے کاروباری معاملات میں حکومت حتی الامکان تعاون فراہم کرے گی،  داخلی صورتحال کا کنٹرول بھی پنڈی کے متعین کردہ فرد کے ذمے  ہوگا اور خارجہ معاملات بھی مل جل کر طے کئے جائیں گے۔ جبکہ سسٹم کو بچانے اور چلانے کیلئے دونوں فریق آپس میں مکمل تعاون کریں گے۔

آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اب تک یہی کچھ ہورہا ہے۔

اسی معاہدے کے تحت، جنرل عاصم منیر کی بیرسٹر گوہر سے ملاقات کو ڈاؤن پلے کیا گیا اور آجکل دوبارہ، اس ہی معاہدے کے تحت، اپنے برسلز میں کئے ہوئے کو ماننے سے انکار کیا جارہا ہے۔

میری سیاسی سوچ، یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ 

امریکہ میں، گفت شنید کے دوران، امریکی حکام نے پاکستان میں سیاسی استحکام کا مطالبہ کیا ہوگا، کیونکہ امریکی انوسٹمینٹ بنا سیاسی استحکام کے ممکن نہیں۔ اس ہی لئے برسلز کے تاجر کی خدمت لی گئی، اور سہیل وڑائچ کو جو پہلے ہی، محسن نقوی کے ذریعے جرنل عاصم منیر سے ٹائم لینے کی کوشش میں تھے۔ برسلز آنے کا سگنل دیا گیا۔ لیکن برسلز میں جو کچھ کہا گیا وہ معاہدے کے خلاف تھا۔ لہذا تردید لازمی قرار پائی۔

اگر سب کچھ ایسا ہی ہے، تو مجھے سیاسی طور پر پنڈی کا پلڑا ہلکا لگتا ہے۔ عوام کے اندر جو انکار کا جذبہ ہے، وہ حکومت اپنے فائدے میں استعمال کرسکتی ہے۔ پنڈی کو حدود میں رکھنے کیلئے، اگر تحریک انصاف اور حکومت آپس کے معاملات طے کرلیں تو ، یقیناً پنڈی کو بیک فوٹ پر لایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں رکاوٹیں دو ہیں۔

۱- تحریک انصاف دوراندیشی کا ثبوت دیکر مستقبل پر نظر رکھے۔ کیونکہ :

اس کا ووٹ بینک اب بھی مضبوطی سے  اسکے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ 

تحریک انصاف اپنے مطالبات منوا کر حکومت کو اپنا وقت پورا کرنے دے- مطالبات میں سب سے پہلے آئین میں  ترامیم ،تمام پارٹیاں گفت شنید کرکے کریں۔ جس میں اوّل یہ ہو کہ آرمی چیف صرف سنیارٹی پر طے ہوگا اور اسکی مدت ملازمت آئین میں صرف ۳ سال رکھی جائے اور بذریعہ آئین ملازمت میں جنگ کی صورتحال میں بھی کوئی توسیع قطعا ممنوع ہو۔ 

عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی قومی اسمبلی کی منظوری سے ہو اور اس کے لئے قابلیت ، دنیا میں قائم اصولوں کے مطابق ہو تاکہ نوکری پیشہ ججوں کا دروازہ بند کیا جاسکے۔

انٹیلجنس ایجینسیز کے اہلکار، قانون کی خلاف ورزی  کرنے پر جوابدہ ہوں۔ اور تمام لاپتہ افراد کو قانون کے سامنے پیش کرکے انھیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا پورا اختیار دیا جائے

عبوری حکومت قائم کرنے کا نظام ختم کردیا جائے کیونکہ عبوری حکومت اور  آئی ایس آئی ، مل کر الیکشن کمیشن پر زور زبردستی سے نتائج تبدیل کرواتی آئی ہے۔

بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے چننے کی مکمل آزادی ہو۔

۲- اس نئے نظام کو لاگو کرنے میں دوسری سب سے بڑی رکاوٹ شہباز شریف کی شخصیت ہے۔ شہباز شریف صرف نام کا شہباز ہے حالانکہ اس  میں تابعداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی ضرورت شہباز شریف جیسے وزیر اعظم کی نہیں بلکہ اس وقت پاکستان کی ضرورت مرحوم محمد خان جونیجو جیسے وزیراعظم کی ہے کہ جس نے ضیاالحق جیسے ڈکٹیٹر کے سامنے اپنے تمام اختیارات کو استعمال کیا۔

کیا ہماری تمام سیاسی قوتیں ، بالغ نظری کا ثبوت دیں پائیں گی ؟ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے