نکتہ داں۔ ۱۳۴
۲۷ اگست ۲۰۲۵
کلہاڑا
یہ مانا، کہ حکومت فارم ۴۷ والی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ، حکومت نے، عدالتوں نے، انتظامیہ نے، الیکشن کمیشن نے، حکومتی میڈیا نے اور سب سے بڑھکر مقتدرہ نے، ہر طریقے سے، تحریک انصاف کے رہنماؤں، کارکنوں اور اسکے ووٹروں کے سیاسی راستے میں کانٹے بچھائے، روڑے اٹکائے اور غیر قانونی ہتھکنڈے اپنائے۔
لیکن یہ بات ماننے والی نہیں ہے، کہ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
اس سے پہلے، کئی سیاسی پارٹیوں کو اس طرح اور اس سے کہیں زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سر فہرست پیپلز پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ، اے این پی اور سندھ اور بلوچستان کی کئی قد آور سیاسی شخصیات کو بھی قید و بند اور حکومتی جبر کا مقابلہ کرنا پڑا۔
غورطلب بات یہ ہے کہ سیاسی قیادت وہ کونسا سیاسی راستہ اختیار کرے کہ، جس سے حکومت وقت اور مقتدرہ کیلئے سیاسی مشاکل بھی پیدا ہوں، اور سیاسی قیادت اپنے اور اپنے کارکنوں کیلئے راہ نکال کر، حکومت وقت کو مجبور اور کمزور کرتی رہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی جنگ اپنی پچ پر لڑی جائے، ناں کہ حکومت اور مقتدرہ کی بچھائی ہوئی پچ پر۔
اس بات کو سمجھنے کیلئے، کچھ دیر کو آپ خود کو مقتدرہ یا حکومتی پوزیشن پر تصور کریں۔ بحیثیت حکمران، آپ کی مخالف سیاسی جماعت، جس سے آپ خائف اور پریشان ہیں کیونکہ وہ آپکے لئے پریشانی پیدا کرتی ہے آپ نے انھیں فکس اپ کرنا ہے۔ تو آپ کیا کریں گے ؟
آپ کے مخالف اگر کسی صوبے کے حکمران ہیں، اور انھیں آپکی مخالفت کرنے کیلئے صوبائی حکومت کے ذرائع بھی میسر ہیں تو آپکی خواہش ہوگی کہ کسی طرح، انکی حکومت کو ختم کیا جائے۔ اس کیلئے آپ اس کے ممبر بھی توڑنے کی کوشش کریں گے، اس صوبے میں گورنر راج بھی شاید لاگو کریں تاکہ کسی نہ کسی طرح آپکی مخالف پارٹی کی حکومت ختم ہوسکے
دوسری بات ، اگر قومی اسمبلی میں آپکے مخالفین ، اپنی رکنیت کا فائدہ اٹھا کر، آپکے اور آپکی حکومت پر تنقید کرتے ہیں آپ کی ہر کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انکی تقاریر اخبارات اور ٹیلیویژن پر نمایاں ہوتی ہیں جس سے آپکی اور آپکی حکومت کی سبکی ہوتی ہے تو آپ کی کیا خواہش ہوگی ؟ آپکی خواہش ہوگی کہ کسی طرح آپکے مخالفین کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہوجائے اور وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے سے محروم ہوجائیں۔
اچھا، کچھ دیر کیلئے یہ تصور کریں، کہ، پچھلے الیکشن کا اگر تحریک انصاف بائیکاٹ کر دیتی تو اس وقت ، سیاسی صورتحال کیا ہوتی ؟ اگر ایسا ہوتا تو، تحریک انصاف کے چاہنے والے کروڑوں لوگ، مایوس ہوکر، گھروں میں بیٹھے رہتے اور مقتدرہ کو فارم ۴۷ میں تبدیلیاں لاکر جعلی حکومت بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ گویا تحریک انصاف نے الیکشن میں حصہ لیکر پورے سسٹم کو دنیا بھر میں ننگا کرکے رکھدیا۔
اچھا سیاسی فیصلہ وہ ہوتا ہے کہ ہر حالت میں حکومت کے سامنے آکر، عوام کو حرکت میں لایا جائے ۔ اس ہی طریقے سے حکومت کمزور سے کمزور ہوتی جائے گی۔
میری ناقص رائے میں تحریک انصاف تو وہ فیصلے کر رہی ہے جو ن لیگ اور مقتدرہ چاہتی ہے اور جو ، حکومت کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف نے جب اپنی دو( پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی )اسمبلیوں کو توڑا اور اپنی حکومتوں کو ختم کردیا تو اسکا سیاسی فائدہ ن لیگ اور مقتدرہ کو ہوا۔ اسمبللیوں سے استعفٰی کا فائدہ بھی مقتدرہ کو ملا۔ اب اگر آپ قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں سے مستعفی ہونگے اور ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے تو آپ خود حکومت کو واک اوور دے رہے ہیں۔
سیاسی مقام محض عوامی حمایت سے حاصل نہیں ہوتا ، غلط سیاسی فیصلے، عوام میں مایوسی کا سبب بن کر، آپ کی حمایت میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی بھی لا سکتے ہیں۔گویا اپنے ہی، پیر پر کلاڑھا مارا جارہا ہے
یہ بات ، کوئی کس طرح، عمران خان کو سمجھائے ؟
خالد قاضی