NUKTADAAN

Reading: ‏۱۳۵۔ “ *قصہ کراچی کا* “
Reading: ‏۱۳۵۔ “ *قصہ کراچی کا* “

‏۱۳۵۔ “ *قصہ کراچی کا* “

admin
9 Min Read

نکتہ داں -۱۳۵

۳۰ اگست ۲۰۲۵

۲

“ *قصہ کراچی کا* “

روشنیوں کے شہر ، کراچی کے باسی، میرے ایک قریبی، بہت ہی بے تکلف اور محترم دوست نے مجھے گھیرتے ہوئے کہا: “قاضی بھائی، ہر مسئلے پر اپنا موقف بیان کرتے رہتے ہیں، لیکن آپکو کراچی نظر نہیں آتا۔ یار کراچی پر بھی کچھ لکھو اور ارباب اختیار کی گوشمالی کرو ۔” 

میں نے انھیں مسکراتے ہوئے کہا :

 “پپو یار تنگ نہ کر” 

فرمانے لگے ، یہ کیا بات ہوئی ، آپ جان چھڑا رہے ہیں۔ پیدا تو آپ بھی کراچی ہی میں ہوئے ہیں لیکن پھر کراچی کے معاملات سے ایسی بے اعتنائی کیوں ؟ 

میں نے انھیں چھیڑتے ہوئے کہا، کہ دوست، کراچی والوں کی کیا بات کی جائے ، وہ پاکستان کی سب اجناس میں ( بزعم خود)، سب سے عقلمند جنس ہیں  

کہنے لگے، کیا مطلب ؟  بیچارے ہر طرف سے رگیدے جارہے ہیں اور آپ بھی ان کی بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔

میں نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی، کہ یہ بات محض کراچی کیلئے مخصوص نہیں ، بلکہ اصولاً،  جب بھی کوئی کمیونٹی ، اپنا سیاسی لائحۂ عمل،  Reactionary  ہو کر کرنے کی عادت میں مبتلا ہوجائے، تو انکے حالات ایسے ہی  ہوا کرتے ہیں ، جیسے کراچی کے باسیوں کے ہیں۔ سمجھدار لوگ، فیصلے بہت سوچ بچار کے بعد کرتے ہیں ، “ردعمل “ کے طور پر نہیں کیا کرتے ۔ 

کہنے لگے کہ مجھ سے سیدھی بات کریں، بات کو گورکھ دھندا نہ بنائیں

میں نے مسکراتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑا اور قریب بیٹھنے کو کہہ کر بات کا آغاز  یوں کیا :

کراچی کے مسئلے کو سمجھنے کیلئے، بات ابتدا سے شروع کرنی پڑے گی۔

میرے خیال میں کراچی کی سیاسی تاریخ سمجھنے کیلئے، مندجہ ذیل واقعات کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔

۱- ہندوستان میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر ، نوزائیدہ ملک میں آنے والوں کے  ُاس دور کے  لیڈر ، قائداعظم تھے، مولانا مودودی نہیں تھے۔ مسلمانان ہند نے جدوجہد مسلم لیگ کے پرچم تلے کی تھی ، جماعت اسلامی کے پرچم تلے نہیں ! جماعت  تو اس وقت پاکستان بنانے کی مخالفت کر رہی تھی۔ پھر ہندوستان سے آکر، کراچی میں بسنے والوں نے ، مسلم لیگ سے تعلق کیوں توڑ دیا ؟ پاکستان آکر، ان نوواردوں نے مسلم لیگ  کے بجائے جماعت اسلامی سے سیاسی تعلق جوڑکر ،  اپنا تمام “سیاسی اثاثہ” ضائع کردیا ۔ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر نہیں کیا گیا، بلکہ کراچی کے باسیوں کی “رد عمل” کے سیاسی فیصلوں کی ابتدا تھی ۔ 

لیاقت علی خان کی شہادت اور پھر کچھ عرصے بعد، کراچی سے دارالخلافہ ،کی تبدیلی، کراچی کے باسیوں کی مسلم لیگ سے بد دلی کا سبب بنی۔اور انھوں نے اپنا ناطہ جماعت اسلامی سے جوڑ لیا، جو حزب اختلاف کی بڑی طاقت تو ضرور تھی  لیکن، اقتدار کے ایوانوں تک،  اسکی رسائی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ 

اس وقت کی ، ایوبی حکومت، کراچی کی معاشی اہمیت سے آشنا تھی، لہذا،  حکومت نے سونے کی اس چڑیا کو مرکز کے تحت کرکے، اسکے وسائل پر قبضہ کرنا شروع کردیا  اور آج تک کراچی کا 60 فیصد رقبہ کنٹونمٹ کے زیر انتظام ہے اور کراچی والے گالیاں کسی اور کو دیتے ہیں

۲-جماعت کے زیر اثر رہنے سے کراچی کے نووارد باسیوں نے،  نہ صرف اپنے سیاسی اثاثے کو ضائع کیا بلکہ، جماعت کی حزب اختلافی  کاروائیوں کا حصہ بن کر، وہ ایوب کے مارشل لائی  دور میں زیر عتاب بھی رہے۔ ایوب کے دھاندلی سے بھرپور الیکشن کی جیت کے بعد، گوہر ایوب کی سربراہی میں کراچی کے لوگوں کا جو قتل عام ہوا، کراچی کی موجودہ قیادت اس واقعے کو  بالکل بھلا چکی ہے اور اپنے سیاسی وجود کو قائم رکھنے کی خاطر، وہ” مقتدرہ “کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرتی نظر آتی ہے۔

۳-ایوب کے زوال کے بعد، کراچی کے ترقی پسند لوگ، پیپلز پارٹی کا حصہ بنے لیکن قدامت پسند لوگوں نے جماعت اسلامی ہی کو اپنا سیاسی  محور بنائے رکھا۔ 

۳- سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی لیکن پیپلز پارٹی کے وزیر اعلٰی ممتاز بھٹو اور گورنر رسول بخش ٹالپور کی، سیاست سے نا آشنائی اور رواداری سے عاری فیصلوں نے، سندھ کے شہری اور دیہی باسیوں کے درمیان  جو خلیج  جماعت اسلامی کی قیادت میں  پیدا کی، وہ کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی گئی۔

۴- ممتاز بھٹو کی وزارت اعلٰی میں سندھ اسمبلی میں جو لسانی بل ، جس بھونڈے انداز میں پاس کیا اس پر اردو بولنے والوں کا ردعمل قدرتی تھا لیکن اس رد عمل میں ، تشدد ، جلاؤ گھیراؤ اور لاقانونیت میں جماعت اسلامی اور سندھ کی حکومت، دونوں  برابر کی مجرم تھیں۔

جماعت کا سب سے بڑا جرم، اس معاملے میں لسانی نفرت کا پرچار تھا اور ممتاز بھٹو کے زیر اثر پولیس کے اقدامات اور گورنر رسول بخش ٹالپور کے بزدلانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

۵- وفاقی حکومت جو اس وقت، ملکی ، علاقائی اور عالمی مسئلوں سے نمٹ رہی تھی اس کی آنکھیں بہت دیر میں کھلیں ، لیکن جب کھلیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے مندرجہ ذیل فوری اقدامات کئے

۶- ممتاز بھٹو کو وزارت اعلٰی سے فوراْ (جی ہاں فوراً) برطرف کرکے، غلام مصطفٰی جتوئی کو وزیر اعلٰی نامزد کیا۔۷۶۔ متنازعہ لسانی بل کو فوراً منسوخ کرکے نیا بل پاس کیا جس میں اردو اور سندھی دونوں زبانوں کو  سندھ کی سرکاری زبان بنایا گیا

۷۔ ایک غیر تحریر شدہ قانون کے تحت یہ اصول طے کیا کہ سندھ کا گورنر اردو بولنے والا سندھی ہوگا اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کو گورنر مقرر کیا گیا۔

۸۔ ہنگاموں میں تباہ ہونے والی مارکیٹ کی جگہ لیاقت مارکیٹ تعمیر کی گئی اور اسکا افتتاح بھٹو خود کرنے آئے اور لوگوں کا دل جیتنے کیلئے لیاقت آباد میں جلسہ بھی کیا لیکن وہاں جماعتی کارکن ایک طے شدہ منصوبے کے تحت بھٹو کی ہتک کرنے کیلئے اسے جوتے دکھا تے رہے ۔ یہ حرکت بھی “رد عمل” کی سیاست کا ایک بہت بڑا مظہر تھی۔

۹۔ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عباسی شہید اسپتال بھی اس ہی وقت قائم کیا گیا تھا۔

۱۰۔مقتدرہ کی جانب سے کراچی کے وسائل پر جرنیلوں کے قبضے کیلئے ضروری  تھا کہ سندھ کی آبادی ایک دوسرے سے دست گریبان رہے اور اس ہی  اختلاف کو بہانہ بنا کر رینجرز کو کراچی میں گھسیڑا گیا تاکہ پولیس کے متوازی طاقت جرنیلوں کے کام کو آسان بنائے رکھے۔

۱۱۔ایوبی دور سے ہی کراچی کے معاملات کو کراچی کے باشندوں سے لاتعلق رکھنے کے عمل نے وہ ماحول پیدا کردیا گیا تھا کہ کراچی ایک سیاسی بغاوت کیلئے تیار تھا 

۱۲۔اس ہی ماحول کا فائدہ اٹھانے  اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے سیاسی زور کو توڑنے  کیلئے،ہماری مقتدرہ کی مکمل چھتری کے زیر سایہ MQM کی  ِبنا ڈالی گئی اور سندھ کی شہری اور دیہی  آبادی میں تفریق اور نفرت کی  بنیاد جو کہ جماعت اسلامی ڈال چکی تھی، MQM کے ہاتھوں  نفرت کے اس  پودے کو ایک تناور درخت،  نہ صرف سندھ کے دیہی باشندوں کے خلاف بنایا  بلکہ دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے کراچی میں آباد تمام لسانی اکائیوں کے خلاف نفرت، تشدد کو بھی اکسایا گیا

یہ تمام کاروائیاں بھی  “رد عمل” کی سیاست کا شاخسانہ ہیں۔

خالد قاضی

باقی کل

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے