کتہ داں -۱۳۷
یکم ستمبر ۲۰۲۵
قصہ کراچی کا : قسط نمبر ۳
میری بات کاٹتے ہوئے میرے دوست نے کہا، کہ کوٹا سسٹم بھی تو کراچی پر ظلم ہے، اس کا آپ نے تذکرہ نہیں کیا۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ محترم ، کوٹہ سسٹم تو کراچی کے باسیوں کے کہنے پر لاگو ہوا ہے !
وہ کہنے لگے، کیا مطلب ہے آپ کا ؟ ، MQM کی تو سیاست کا سب سے پہلا مطالبہ ہی کوٹہ سسٹم ختم کرنا ہے، یہ آپ کیسا غلط الزام لگا رہے ہیں۔
میں نے کہا دلبر میرے ،پہلے میری بات کو سمجھو اور پھر جواب دو۔
بولے کیا سمجھوں اور کیا جواب دوں ، بات بالکل صاف ہے کہ ہم سندھ میں کوٹہ سسٹم کے مخالف ہیں
جبکہ آپ بے پر کی اڑا رہے ہیں کہ گویا کوٹہ سسٹم ہمارے مطالبے پر لاگو کیا گیا ہے!
میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے بات تو مکمل کرنے دیں
بولے ، چلیں بتائیں کیا منطق ہے آپ کے پاس۔
میں نے انھیں بتایا کہ اس مخمصے کو سمجھنے کیلئے آپ مندرجہ ذیل حقیقتوں سے انکار نہیں کرسکتے۔
۱-کوٹہ سسٹم کی ابتدا لیاقت علی خان نے ۱۹۴۸ میں پہلی دفعہ لاگو کی تھی۔ وفاقی حکومت میں ملازمتیں تمام قومیتوں کے وجود کو سامنے رکھکر تقسیم کی گئیں تھیں ، گو اس میں توازن درست نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان کیلئے ۴۲% ، پنجاب کیلئے ۲۴%، باقی تین صوُبے (سندھ، سرحد اور بلوچستان ) کا مجموعی صرف ۱۷%، مہاجروں کا جو اس وقت کی پاکستان کی آبادی کا محض دو فیصد تھے کوٹہ ۱۵% مقرر ہوا اور کراچی کا ۲%
۲- لیاقت علی خان کے جانے کے بعد ، اس کوٹے میں وقت کے ساتھ رد و بدل ہوتا رہا اور یحییٰ خان کے زمانے میں ون یونٹ کو چونکہ ختم کیا گیا تھا اس لئے نئے سرے سے صوبوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ، جو کچھ یوں تھا:
پنجاب 50%، سندھ مجموعی 19% (شہری 7.6 %۔ دیہی 11.4%) سرحد کا 11.5%, بلوچستان 6%, آزاد کشمیر 2% گلگت بلتستان 1%
گویا یہ نئی تقسیم صوبائی قومیتوں کی بنا پر ہوئی۔
میں نے ان سے پوچھا کہ قومیتوں ہی کی بنا ہوئیں کہ نہیں
بولے ہاں وجہ تو یہی ہے
میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے عرض کی کہ اگر کراچی اور حیدرآباد کے باسی ، رد عمل کی سیاست کو خیرباد کہہ کر (Pragmatic )یعنی عملی سیاست کو اپناتے ( جسکے لئے گہری سوچ درکار ہوا کرتی ہے)، اور کہتے کہ کوئی دیہی ، شہری تفریق نہیں ہوگی ، سب سندھی ہیں اور پورا سندھ بنا کسی تفریق کے ایک ہے اور اس پورے صوبے کے معاملات میرٹ پر طے ہونگے تو فائدہ کس کا ہوتا ؟
آپ نے رد عمل کی سیاست کے تحت کہا کہ اردو بولنے والے ایک الگ قومیت ہیں اور انھیں الگ تسلیم کیا جائے تو بھائی پھر کوٹہ سسٹم تو لاگو ہوگا ناں۔
آپ کے مطالبے پر یہ مان لیا گیا کہ سندھ میں ایک نہیں دو لسانی اکائیاں بستی ہیں اور ان دونوں لسانی اکائیوں کا عملی اظہار کوٹہ سسٹم کی شکل میں تو ظہور ہونا ہی تھا۔
اب یا تو کوٹہ سسٹم پر اصرار کرکے الگ قومیت سے دستبردار ہوجائیں یا قومیت پر اصرار کرکے کوٹہ سسٹم کو مان لیں ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ قومیت تو الگ ہو لیکن نوکریوں میں میرٹ ہو۔ جہاں قومیت ہوگی وہاں لازماً کوٹہ بھی لاگو ہوگا
اور دوسری اہم بات یہ کہ سندھ میں مجموعی ملازمتوں کا ۸۵ فیصد پرائیویٹ سیکٹر مہیا کرتا ہے، جن میں کارخانے ، پرائیویٹ بینک، مختلف تجارتی ادارے ، کاروباری مراکز وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ۸۵ فیصد نوکریاں میرٹ پر دی جاتی ہیں کوٹے پر نہیں۔ باقی صوبائی حکومت جو محض ۱۵ فیصد نوکریاں دیتی ہے اس میں کوٹا مقرر ہے۔
لیکن کوٹہ سسٹم ایک ایسا ایشو ہے جس میں جذبات کو بھڑکانے اور سیاست کو جمانے کا کام لیا جاتا ہے ۔
اپنا سر کھجاتے ہوئے بولے، کہ یہ بتائیں کہ کراچی شہر کے معاملات کس طرح درست ہونگے
میں نے کہا کہ رردعمل سے نہیں عقل سے ہونگے
بولے، اس سلسلے میں ، آپ کا کیا مشورہ ہوگا
میں نے کہا محترم مشورہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جسے احساس ہو کہ اسے مشورے کی ضرورت ہے، عقلمند لوگ کب کسی کا مشورہ مانتے ہیں
بولے چھوڑیں، آپ بتائیں کہ کیا حل ہے
باقی اگلی قسط میں
خالد قاضی