NUKTADAAN

Reading: ‏۱۳۸۔ قصہ کراچی کا قسط۔۴
Reading: ‏۱۳۸۔ قصہ کراچی کا قسط۔۴

‏۱۳۸۔ قصہ کراچی کا قسط۔۴

admin
2 Min Read

نکتا دان۔۱۳۸

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۵

قصہ کراچی کا قسط۔۴

میں نے کہا محترم مشورہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جسے احساس ہو کہ اسے مشورے کی ضرورت ہے، عقلمند لوگ کب کسی کا مشورہ مانتے ہیں

بولے چھوڑیں، آپ بتائیں کہ کیا حل ہے

میں نے انکا بازو پکڑ کر قریب لاتے ہوئے کہا کہ بھائی ، بات سمجھنے کی یہ ہے کہ کراچی کو دیہی سندھ نہیں کوئی اور لوٹ رہا ہے کراچی کا معاشی دفاع ہم آپس میں لڑ کر نہیں کرسکتے ، ہاں ملکر یہ معرکہ سر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے دونوں طرف لوگ تیار تو کیا اس متعلق سوچنے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ میری ناقص رائے میں ، سندھ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے علمی اور ادبی مدبریں ، تاریخ دان، سیاستدان اور ماہرین قانون افراد کا ایک گرینڈ جرگہ بلانا چاہئے۔ جس میں، پہلے سندھ کے مشترکہ معاشی، سیاسی ، تعلیمی اور ثقافتی مسائل کی فہرست ترتیب دی جائے

پھر اس صوبے کے معاشی اور انتظامی حالات بہتر بنانے کیلئے متفقہ  اھداف مقرر کئے جائیں اور پھر غور اور فکر کرکے ان اھداف کو حاصل کرنے کیلئے مشترکہ لائحۂ عمل وضع کیا جائے۔ لیکن اس کیلئے سب سے پہلے دلوں میں رواداری، کشادگی اور محبتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کام موجودہ ماحول میں بہت مشکل نظر آتا ہے لیکن ناامیدی کفر ہے

جس روز کراچی کے باسیوں نے اپنے اصل معاشی دشمن کی نشاندہی کرلی تو سمجھیں آپ کے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس وقت تو ماحول یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت تو کیا، سوائے ہتک، بے عزتی اور بدکلامی کے اور کچھ نہیں کیا جا رہا 

اللٰہ ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے اور ایک دوسرے کیلئے دلوں میں گنجائش پیدا ہو 

آمین یا رب العالمین 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے