NUKTADAAN

Reading: ‏۱۴۰۔ سندھ کو ڈیموں سے چڑ کیوں ہے حقیقت یا فسانہ قسط -۲
Reading: ‏۱۴۰۔ سندھ کو ڈیموں سے چڑ کیوں ہے حقیقت یا فسانہ قسط -۲

‏۱۴۰۔ سندھ کو ڈیموں سے چڑ کیوں ہے حقیقت یا فسانہ قسط -۲

admin
6 Min Read

نکتہ داں-۱۴۰

۸ ستمبر ۲۰۲۵

سندھ کو ڈیموں سے چڑ کیوں ہے

حقیقت یا فسانہ قسط -۲

کالا باغ ڈیم کے متعلق سوائے پنجاب ، باقی تین صوبوں کے اختلافات کو سمجھنے کیلئے، تاریخ کو ٹٹولنا ضروری ہے۔ لیکن اس سے بھی پہلے ، کچھ حقیقتوں کا ادراک کر لینا چاہئے، جو کچھ یوں ہیں:

•⁠  ⁠اس پر تو کسی کو اختلاف نہیں ہوگا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی بیشتر آبادی کے رزق کا دارومدار زراعت سے وابستہ ہے۔ اور زراعت کیلئے مختلف فصلوں کیلئے  سارا سال پانی کی ضرورت ملک کے تمام صوبوں کو رہتی ہے۔

•⁠  ⁠⁠پاکستان کے تقریباً تمام صوبے، اپنے پانی کی ضروریات کا زیادہ تر انحصار دریائے سندھ کے پانی پر کرتے ہیں۔ 

•⁠  ⁠⁠یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب چونکہ دریائے سندھ کی گزرگاہ کے بالائی حصے پر واقع ہے، اس لئے پنجاب کو  دریا کے پانی کو کنٹرول کرنے کے تمام مواقع میسر ہیں

•⁠  ⁠فوجی جرنیلوں اور سول بیوروکریٹس کو، ریٹائر منٹ پر زرعی زمینیں نوازنے کا جو کام  ⁠ایوب خان نے،شروع کیا تھا وہ آج تک جاری ہے۔

•⁠  ⁠⁠پچھلے ستر سالوں سے پاکستان کی زرعی زمینوں کی اس بندر بانٹ نے، تقریباً تمام کارآمد زرعی زمینوں کے اسٹاک کو ختم کردیا ہے۔ اور ضیا دور کے بعد، جرنیلوں کو چولستان میں زرعی زمینیں الاٹ کی گئیں۔

•⁠  ⁠⁠چولستان، ریگستانی علاقہ ہونے کی وجہ سے، ان زمینوں کی افادیت اور قیمت دوسری زرعی زمینوں کے مقابلے میں کم ہے۔

•⁠  ⁠⁠ان زمینوں کی افادیت اور قیمت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ چولستان میں کسی نہ کسی طرح پانی پہنچایا جائے، چاہے اس کیلئے ، کسی اور کی زرعی زمین کو بنجر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

•⁠  ⁠⁠تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد، خشک موسم میں، کوٹری بیراج کے بعد دریائی گزرگاہ ، ریت کا میدان بن جاتی ہے

•⁠  ⁠⁠یہ سمجھ لیا گیا کہ شاید سندھ کوٹری بیراج تک ہے، حالانکہ، سمندر کوٹری بیراج سے تقریباً 200 میل کے فاصلے پر ہے، اور کوٹری سے لیکر زیریں سندھ کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بنجر ہورہی ہے بلکہ سمندر کی لہروں کے کٹاؤ سے لاکھوں ایکڑ زمین ناقابل کاشت ہو چکی ہے

تاریخ کے اوراق جو تفصیل بتاتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں

۱- جس طرح کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا خواب شاعر مشرق نے ۱۹۳۰ میں دیکھا یا پیش کیا۔ بالکل اس طرح کالاباغ کا خواب۱۹۵۳ میں دیکھا گیا۔ 

۲- کالاباغ کے پروجیکٹ کا ابتدائی اعلان ۱۹۸۴ میں فوجی ڈیکٹیٹر جنرل ضیا کے دور حکومت میں کیا گیا۔ اور ۱۹۸۷ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے اس کام کی ابتدا کی گئی۔تین صوبوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔

۳-کالا باغ بنانے کی دوسری کوشش دوسرے ڈکٹیٹر جرنل مشرف کے دور میں زور شور سے شروع ہوئی ۔

۳-کالا باغ ڈیم کہ جس پر سوائے پنجاب کے باقی صوبوں کو اختلاف ہے، اسکی وجہ کالا باغ ڈیم کا محل وقوع ہے۔ اس ڈیم کا محل وقوع، پہاڑی سلسلے کے ختم ہوکر میدانی علاقے کی ابتدا کی جگہ پر ہے اور یہاں سے، پانی بھی زخیرہ کیا جاسکتا ہے(گو دوسرے ڈیموں کی زخیرہ کرنے کی صلاحیت سے کم) بجلی بھی پیدا ہوگی اور میدانی علاقہ کی وجہ سے نہریں نکال کر دریائے سندھ کے بہاؤ میں کٹوتی کرکے، پانی چولستان میں جرنیلوں کی زمینوں کو آباد کرنے کیلئے لیجایا جاسکتا ہے

باقی دو ڈیم یعنی دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم (جنکی بجلی کی پیداواری قابلیت اور پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت کالا باغ سے زیادہ ہے پر کسی صوبے کو اختلاف نہیں)چونکہ پہاڑی علاقے میں ہیں اور وہاں پانی بھی زخیرہ کیا جاسکتا ہے اور بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے نہریں نہیں نکالی جاسکتیں ۔ 

۴- کالا باغ ڈیم بنانے کیلئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی تیسری کوشش بھی اب ہائیبرڈ نظام میں فیلڈ مارشل کے ایما پر کی جارہی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے، جرنل عاصم منیر اور بی بی مریم نواز نے تصویریں کھنچوا کر ، چولستان کی جرنیلی زمینوں کیلئے نئی نہروں کا جو منصوبہ شروع کیا تھا وہ صوبہ سندھ کے عوام کے بھرپور احتجاج کے بعد واپس لینا پڑا۔

تکلیف دہ بات یہ ہے، کہ برسات اور سیلاب کی صورتحال کو، صوبوں میں نفرت پھیلانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور سیلاب جو ہندوستان کی جانب سے اور پنجاب میں بارشوں سے آیا اسے کالاباغ ڈیم سے جوڑنے کی بھونڈی کوشش دو وزیر اعلٰی (پنجاب اور خیبر پختون خواہ ) کر رہے ہیں

ماہرین کے مطابق، اگر کالاباغ ڈیم ہوتا بھی تو اس سیلاب کو نہیں روک سکتا تھا۔ کہاں میانوالی اور کہاں وسطی پنجاب 

فتنہ پھیلانے کا گناہ قتل سے زیادہ ہے۔ جبکہ ہماری مقتدرہ اپنے فائدے کیلئے ملک میں نفرت اور فتنہ فروغ دینے پر مصر نظر آتی ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے