نکتہ داں۔۱۴۱
۱۰ ستمبر ۲۰۲۵
ریموٹ کنٹرول
حفیظ اللّہ نیازی، نہ صرف عمران خان کے فرسٹ کزن ہیں بلکہ وہ انکے بہنوئی بھی ہیں
اس قریبی تعلق کی بنا پر، وہ عمران خان کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔ حفیظ اللٰہ نیازی سے میری ملاقات، چند سال قبل، نیو ائیر نائٹ کے موقعے پر، ایک مشترکہ دوست کے گھر ، عشائیے پر ہوئی۔ بہت بھرپور ملاقات تھی۔ مجھے اس ملاقات کے دوران، انکی سیاسی بصیرت، انکی گفتار اور انکے مختلف تاریخی واقعات کے چشم دیدہ تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
پہلے پہل تو دونوں نیازی، ایک ہی سیاسی کشتی کے سوار رہے۔اور سنہ ۲۰۰۲ کے الیکشن میں، حفیظ اللٰہ صاحب کافی عرصے، میانوالی میں مقیم رہے اور عمران کی الیکشن کمپین میں مرکزی کردار ادا کیا ۔
لیکن، وقت اور واقعات نے، دونوں نیازیوں کے سیاسی راستے جدا جدا کردئیے اور اس وقت حفیظ اللہ نیازی، عمران خان کی سیاست کے بہت بڑے نقاد ہیں۔چند روز پہلے انھوں نے جنگ اخبار میں شائع شدہ اپنے کالم میں یہ انکشاف کیا کہ، عمران خان اپنے خاندان کے کسی فرد کو، اپنی سیاسی زندگی کا حصہ بنانے اور وراثت کی سیاست کے بالکل خلاف تھے اور ہیں۔
عمران خان کی تمام بہنوں کا سیاست سے تعلق ویسے بھی، واجبی سا تھا اور انکی بہنوں نے عمران خان کی سیاست میں کبھی بھی دلچسپی نہیں لی۔
۳۰ اکتوبر ۲۰۱۱ کے لاہور میں ایک بہت بڑے اور کامیاب جلسے کے بعد، لوگوں کی تحریک انصاف کی حمایت اور دلچسپی کی وجہ سے، عمران کی بہنیں بھی اپنے بھائی کی سیاست میں کامیابی پر خوش نظر آئین جو کہ ایک فطری عمل تھا لیکن عمران خان سے رشتے کی وجہ سے سیاست میں در آنے کی خواہش کسی نے کبھی بھی نہیں کی۔
بھائی کے وزیر اعظم بننے پر بھی، خان کی بہنوں نے سیاست یا حکومتی معاملات سے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور یہی عمران خان کی بھی خواہش تھی۔
عمران خان کی حکومت ختم ہونے اور پھر گرفتاری کے بعد، انکی ایک بہن علیمہ خان کو (سیاست کی محبت میں نہیں بلکہ بھائی کی محبت میں)، خان کی رہائی کی جدوجہد کا حصہ بننے پر مجبور کیا۔
تحریک انصاف اور اسکی لیڈر شپ، عمران خان کے قید میں ہونے اور حکومتی اور مقتدرہ کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حربوں کی وجہ سے ، بظاہر، دراڑیں پڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کو یکجا اور متحد رکھنے کیلئے، کسی ایسے فرد کی اشد ضرورت ہے کہ جس پر تمام لیڈر شپ متفق بھی ہو اور متحد بھی ۔
لیکن دوسری طرف، مقتدرہ اور حکومت کی خواہش یہی ہوگی کہ، تحریک انصاف اسی طرح مختلف افراد کی مختلف آرا ، مختلف نقطہ نظر اور مختلف لہجوں میں بیان بازی کر کر کے، بکھرتے ہوئے نظر آئیں
میرے سیاسی ذہن کی” اختراع” یہ کہہ رہی ہے، کہ مقتدرہ کی خواہش یہ ہے، کہ تحریک انصاف کو ایسی کوئی شخصیت تو ضرور ملے، کہ جس کے اطراف تحریک انصاف کی تمام لیڈر شپ متحد ہو، لیکن ، دراصل اس شخصیت کی چابی مقتدرہ کے ہاتھ میں ہو اور وہ اسے ریموٹ کنٹرول سے اپنے قابو میں رکھیں۔
اس ہی لئے،(شاید) علیمہ خان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ علیمہ خان کی، تحریک انصاف کی لیڈر شپ اور عوامی حمایت میں اضافہ ہو اور اسے تحریک انصاف کی نہ صرف وراثت ملے بلکہ اس وراثت کی عوامی قبولیت بھی مل جائے۔
ظاہری بات ہے، کہ ، بنا مظلومیت کے ، یہ مقام حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔
مجھے، (اللٰہ معاف کرے) علیمہ خان کے دونوں بیٹوں کی ۹ مئی کے واقعے کے دو سال بعد، گرفتاری ( حالانکہ عملی سیاست میں انکا کوئی کردار نہیں ہے) اور پھر علیمہ خان پر، انڈے پھینکنے کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ، اس سازش میں علیمہ خان بھی شریک ہیں ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری مقتدرہ کو علیمہ خان کو کنٹرول میں رکھنا آسان نظر آتا ہے اور تحریک انصاف کا حالیہ فیصلہ کہ جس میں، نہ صرف ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا بلکہ، قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں سے بھی استعفٰی دلوایا گیا اس ہی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حکومت اور مقتدرہ کو اسی طرح کے فیصلے ہی تو درکار ہیں تاکہ انھیں آسانی سے واک اوور ملتا رہے
واللٰہ عالم
خالد قاضی
[