نکتہ داں-۱۴۲
۱۲ ستمبر ۲۰۲۵
بنگلہ دیش کےمستقبل کی تصویر کیا ہوگی ؟
میرے قریب ترین اور بہت عزیز دوستوں میں اکثریت کا شمار جماعت اسلامی کے ہمدردوں میں ہوتا ہے۔ میں ان سب کے خلوص، صبر اور رواداری کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میری تحریروں کو، پڑھ کر، وہ جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، اگر یہی رویہ، پاکستان میں عام ہو جائے، تو پاکستان سیاسی طور پر جنت نظیر بن جائے۔
ایسے ہی ایک دوست نے، جو آجکل انگلستان میں اپنے فرزند کے پاس لمبی چھٹیاں گزار رہے ہیں، نے مجھے ایک خبر کا تراشہ ارسال کیا، جس میں
ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے الیکشن میں، اسلامی جمیعت طلبأ کے پورے پینل کی شاندار کامیابی کا ذکر تھا۔اس الیکشن میں طلبأ کی پرجوش شمولیت کا اندازہ اس حقیقت سے ہوجاتا ہے کہ، ۷۸ فیصد طلبأ نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
جواباً” میں نے بھی انھیں مبارکباد دی۔ گو میں، جماعت اسلامی کی سیاست کا کوئی خاص مداح نہیں، لیکن اس خبر نے مجھے بھی دل سے بہت خوش کیا۔
میری خوشی کی وجہ یہ بھی ہے، کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش پاکستان کے متعلق بہت برادرانہ جذبات رکھتی ہے اور آنے والے وقت میں، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک جوہری تبدیلی کے امکان سے، ہندوستان کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنے گی۔
تاریخ کے جھر وکے میں جھانکنے سے، ایک تضاد یہ بھی نظر آتا ہے، کہ ذولفقار علی بھٹو تو، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے فوراً بعد ہی بنگلہ دیش سے برادرانہ تعلقات قائم کرنے کیلئے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا چاہ رہے تھے، لیکن انکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کسی نے نہیں، بلکہ جماعت اسلامی پاکستان نے ہی حائل کی ہوئی تھی
مجیب الرحمٰن بھی بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بردرانہ تعلقات، کے حامی تھے، لیکن انکی راہ میں ہندوستان حائل تھا۔ جب بھٹو صاحب نے بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا تو ڈھاکہ کی سڑکوں پر بنگالی بھائی، جوق در جوق، (بنا کسی سرکاری انتظام کے) انکے راستے میں استقبال کیلئے موجود تھے۔ یہ مناظر، انڈیا پر بجلی بن کر گرے اور انڈین قیادت نے فورا” مجیب الرحمٰن سے سفارتی رابطہ کرکے، بھٹو اور بنگلہ دیشی عوام کے اس ملاپ کو رکوایا۔ چونکہ مجیب تازہ تازہ ہندوستان کا احسان زدہ تھا نتیجتاً بھٹو صاحب کی واپسی کے سفر میں ڈھاکہ کے ائیرپورٹ جانے والے تمام راستے بند کردئیے گئے اور سڑکوں پر ہو کا سماں تھا۔
یحییٰ خان کے مشرقی پاکستان پر، فوجی آپریشن کے دوران مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی ، ہمارے جرنیلوں کی B ٹیم بنی ہوئی تھی۔ اس نے متحدہ پاکستان کی ایوبی حکومت کے دوران ایک دہائی کی نا انصافیوں پر تو خاموشی اختیار کئے ہوئے رکھی، لیکن، فوجی کاروائی کے دوران پاکستانی فوج کا مکمل ساتھ دیا۔ بنگالی بھائیوں جو(انکے مطابق) آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، جماعت اسلامی کے اس عمل کو بنگلہ کاز سے غداری کے مترادف جانا۔ اس ہی لئے، وہ نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی غدار ٹھہرائی گئی۔
اگلی نصف صدی، میں عموماً ، لیکن شیخ حسینہ واجد کے دور اقتدار میں خصوصاً ، جماعت اسلامی نے جو ظلم اور جبر، نہایت صبر اور استقامت سے سہا ، اس کا پھل اسے آج مل رہا ہے۔
میری سیاسی سوچ، جماعت اسلامی کی اس مقبولیت کو، حسینہ واجد کے ظلم کا عوامی رد عمل گردانتی ہے۔ اگر پاکستان کی ماضی کی، محترمہ بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کی طرح، حسینہ واجد بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو حکومتی سطح پر ظلم کا نشانہ نہ بناتی تو شاید بنگلہ دیش کے عوام کی حمایت ، جماعت کو اسقدر حاصل نہ ہو پاتی جو آج ہوئی ہے۔
کیا جماعت اسلامی اپنی موجودہ مقبولیت کو قائم رکھ سکے گی ؟
اس سوال کے جواب تک پہچنے کیلئے، ہمیں بنگال کے عوام کی ثقافت، معاشرت اور تاریخ کو سمجھنا پڑے گا۔
بنگال کے عوام، کا سیاسی اور سماجی شعور، میرے نقطہ نظر سے، ہم پاکستانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تعلیمی طور پر بھی وہ ہم سے آگے ہیں اور ثقافتی طور پر بھی ہم سے کہیں روشن خیال ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان کی جدوجہد ابتدا بھی بنگال سے ہوئی اور انکا حصہ بھی سب سے زیادہ تھا۔
پاکستان کے فوجی حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد بھی انکی سیاسی بلوغت ظاہر کرتی ہے۔ اور شیخ حسینہ کے جبر، ظلم اور استبداد کے خلاف عوام کا اٹھہ، کھڑے ہونا بھی انکی حالیہ سیاسی بلوغت اور جمہوریت سے انکی کمٹمنٹ کی عکاس ہے۔ یہ سب خصوصیات ہم پاکستانیوں میں خال خال ہی ہیں۔
اسکے برعکس، جماعت اسلامی، اپنی دینی، ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی تشریح و ترویج ، بنیاد پرستی کے آئینے میں کرتی نظر آتی ہے۔
میرے خیال میں تاریخی طور پر بنگال بنیاد پرستی سے ہمیشہ فاصلے پر نظر آیا ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت، بنگالی سماج کے ان عوامل سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے، مستقبل کا جواب بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔
خالد قاضی