نکتہ داں۔۱۴۳
۱۶ ستمبر ۲۰۲۵
کئی پہلو کرکٹ کے
اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، کہ برصغیر میں، کرکٹ کے کھیل سے نہ صرف محبت کی جاتی ہے، بلکہ کئی لوگوں پر اس کھیل کا جنون سوار رہتا ہے۔ اور خاص طور پر، اگر ٹاکرا ہند و پاک کی ٹیموں کے درمیان ہو، تو دونوں اطراف کے عوام اسے اپنی ناک کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اور یہی وہ عنصر ہے جو کھیل کو کھیل سمجھنے کے بجائے، اسے دشمنی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
میں اس موضوع پر، دو مختلف زاویوں سے بات کرنا چاہوں گا۔
ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ، ظاہری بات ہے میری سو فیصد ہمدردیاں سبزبانوں کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ انکی جیت کی تمنا، آرزو اور دعا کرتا رہتا ہوں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے، کہ کامیابی کیلئے صرف تمنا، آرزو اور دعا کافی نہیں ہوتی۔
گو پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں قدرتی طور پر کرکٹ کے ہیرے چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن ان ہیروں کو دریافت کرنا، انکی تراش خراش کرنا اور پھر انھیں پالش کرکے عملی میدان میں اتارنا ایک حکمت اور پلاننگ کا تقاضہ کرتا ہے۔یہ کام ، ایک لگن ،ایک تسلسل ایک وژن اور شفافیت کے بغیر ناممکن ہے۔ جبکہ پچھلی کئی دہائیوں سے، پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی محض حکومت وقت کی ذاتی پسند یا اپنے معتمد افراد کو نوازنے کیلئے تحفتا” کرکٹ بوُرڈ کا سربراہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ
۔پاُکستان کرکٹ بورڈ میں جوہری تبدیلیاں کرکے اسے ایک خالص پروفیشنل انداز میں چلایا جائے
۔ پاکستان میں کرکٹ کو اسکول لیول سے شروع کرکے اسے ضلعی، صوبائی اور پھر قومی سطح تک منظم کیا جائے۔
۔پاکستان میں پچز بین الاقوامی معیار کی بنائی جائیں تاکہ ہمارے کھلاڑی نہ صرف اپنے میدانوں میں بلکہ، بینالاقوامی پچز پر بھی مقابلے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔
یہ سب کچھ کیا جاسکتا ہے، اگر اسکی خواہش ہو۔
ہمارا عمومی قومی مزاج کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے اکیڈمک انداز سے، گفت شنید کرنے کے بجائے، ایک دوسرے پر الزام تراشی، ہتک اور پھر مسائل قالین کے نیچے ڈال کر بھول جانے کے ہیں اور ہماری عزت نفس، اگلی شکست کے بعد دوبارہ کچھ دنوں کیلئے جاگ جائے گی ۔ اور وہی کہانی اسی طرح دوبارہ دہرائی جاتی رہے گی۔
کیا پاکستانی کرکٹ کی نشاط الثانیہ دوبارہ نہیں لائی جاسکتی اور کیا اپنی ٹیم کو ایک بہترین ٹیم بنانے کیلئے یہ سب کچھ نہیں کیا جاسکتا ؟
اگر ہم ، پیچھے مڑ کر دیکھیں تو 70 کی دہائی تک، انڈین ٹیم کرکٹ میں وہ مقام نہیں رکھتی تھی جو اسے آج حاصل ہے۔ لیکن اس کیلئے ایک سنجیدہ کوشش کی گئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
مجھے آج ائیر مارشل نور خان بہت یاد آرہے ہیں۔ اس عظیم انسان کو جو بھی ذمہ داری تفویض کی گئی اسے انھوں نے کمال حکمت، تدبر اور جانفشانی سے انجام دیا ۔ کیا آج پاکستان میں نور خان کے پائے کی کوئی شخصیت موجود نہیں ؟
میری دانست میں، کرکٹ بورڈ کے معاملات سنبھالنا ایک کل وقتی ذمہ داری ہے اور اس کام کو انجام دینے کیلئے، کرکٹ بورڈ کو “پخ” سمجھ کر کسی من پسند کو دیدینا کوئی دانشمندی نہیں۔
ہندوستان سے حالیہ بد ترین شکست اس بات کی متقاضی ہے کہ ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی ، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔
چند سال پہلے، پاکستان سپر لیگ کی ابتدا کرکے، اس وقت کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کئی نئے کرکٹرز کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا۔ لیکن پھر حکومتی تبدیلی نے، نجم سیٹھی کو بھی تبدیل کردیا۔
امید کی جارہی تھی کہ عمران خان کی حکومت، کم از کم کرکٹ بورڈ میں ایسی جوہری تبدیلیاں لائے گی کہ جس سے ہماری کرکٹ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکے۔ لیکن معاشی، سیاسی ، خارجی اور انتظامی معاملات کی طرح، کرکٹ کے مسائل بھی جوں کے توں رہے۔وائے ناکامی
اب بات کی جائے، ہندوستانی ٹیم کے گزشتہ روز کے رویے پر۔
میری دانست میں، انڈین ٹیم کا میدان میں اپنے مقابل پاکستانی ٹیم سے غیر دوستانہ رویہ، دراصل حکماً تھا۔ ٹیم کو مودی سرکار کے احکامات تھے کہ وہ پاکستان کے کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملائیں۔ یہ رویہ، دنیا میں، پاکستان کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ہتک اور بے عزتی کا سبب بنا ہے۔
مودی مزاج ،پر سیاست سوار ہے۔ یہ اسکے اندر کا چھوٹا پن ہے، جو اسکے وجود پر چھایا ہوا ہے۔ میرے خیال میں یہ واقعہ ہندوستان کی نسلیں یاد کر کر کے شرمندہ ہوتی رہیں گی۔ کیونکہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ملکوں میں دوستی یا دشمنی ابد تک نہیں رہا کرتی
آج کے دشمن کل کے دوست بن سکتے ہیں۔ یورپ کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ میری دانست میں، پاکستان کی وزارت خارجہ کو اس معاملے کو دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اٹھا کر، ہندوستان کے کوتاہ ذہن کو آشکار کرنا چاہئے۔
خالد قاضی