NUKTADAAN

Reading: ‏۱۴۴۔ ہر لمحے بدلتی دنیا
Reading: ‏۱۴۴۔ ہر لمحے بدلتی دنیا

‏۱۴۴۔ ہر لمحے بدلتی دنیا

admin
8 Min Read

نکتہ داں- ۱۴۴

  ۲۰۲۵ْْ  ستمبر۱۸

ہر لمحے بدلتی دنیا

 

لگتا ہے، اسرائیل کے قطر پر حملے نے، مشرق وسطٰی میں قائم حفاظتی بندوست میں دراڑیں ڈالدی ہیں۔

اب تک خلیجی ممالک اور سعودی عرب اپنی اپنی، بادشاہتوں اور اپنی اپنی مملکتوں کے تحفظ کیلئے امریکہ پر بھروسہ کئے ہوئے تھے۔ ان ممالک، کی (  انکے ممکنہ دشمن، ایران  اور اسرائیل) سے  امریکہ، انکی مکمل حفاظت کرے گا اور اسی لئے انھوں نے اپنے تمام انڈے امریکہ کی چھابڑی میں ڈالے ہوئے تھے۔ جبکہ امریکہ خلیجی ریاستوں کے، ایران اور اسرائیل  کے خوف کو، انکی دولت لوٹنے، ہتھیار فروخت کرنے اور امریکہ میں ان ممالک کی، سرمایہ کاری  کروا کر اپنی معیشیت کو مستحکم کرنے،  کیلئے استعمال کر رہا تھا۔

خلیج کی تمام ریاستوں اور سعودی عرب میں، امریکہ نے اپنے فوجی اڈے اس ہی غرض سے قائم کئے ہوئے تھے۔ 

گو، سعودی اور خلیجی ریاستوں کے، پچھلی دہائیوں کے حکمران، شھید ذولفقار علی بھٹو کے ایما پر، اپنے تیل کی دولت کی مغربی ممالک سے، صحیح قیمت کی وصولی کی وجہ سے پاکستان سے بہت قریبی تعلق استوار کیے ہوئے تھے اور وہ پاکستانی عسکری قوت کو بھی اپنے استحکام کا ذریعہ سمجھتے تھے۔لیکن، پاکستان میں، کئی دہائیوں سے جاری سیاسی ابتری  نے، پاکستانی معیشیت پر بہت برا اثر ڈالا ۔ اپنے ملک کو معاشی ابتری سے نکالنے کیلئے، پاکستان کی ہر آنے والی حکومت، خلیجی ممالک کی مالی معاونت کیلئے انکے دروازے پر گاہے بگاہے پہنچنے لگی۔ پاکستان کے اس رویے کی بنا پر خلیجی ممالک کے پرانے حکمرانوں کی جوان اولاد، پاکستان کو ایک بوجھ سمجھنے لگے۔ 

اس صورتحال سے نکلنے کیلئے، مشرق وسطیٰ کی نوجوان قیادت، نئی سوچ  کے ساتھ،  نئی سیاسی بساط بچھانے  لگی۔ اس لئے، جوان خلیجی قیادت نے، اپنے آبأ کی سوچ کے برخلاف، ہندوستان سے ،  معاشی اور عسکری تعلقات بڑھانے شروع کئے اور اپنی دفاعی ضرورتوں کیلئے صرف امریکہ سے رجوع کرنے کو بہتر جانا۔ 

پاکستان کی عسکری قوت کو وہ محض اپنی حکمرانی اور شاہی خاندان کی ذاتی حفاظت کیلئے ہی ضروری سمجھتے تھے۔

لیکن اسرائیل کے قطر پر، حالیہ حملے، اور اس پر امریکہ کے ایک واجبی سے ردعمل نے، قدرتی طور پر ایک خوف پیدا کردیا ۔ قطر نے فوراً دوحہ میں، ایک عرب اور اسلامی ممالک کی کانفرنس بلائی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔کانفرنس کا بظاہر مقصد، اسرائیل کے حملے کی مذمت، اور غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نسل کشی اور ظلم پر احتجاج کرنا تھا۔ لیکن محض اعلامیے ہی جاری کیے گئے۔

 اس کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی،  ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی شمولیت تھی۔ حالانکہ ، ایران قطر پر، امریکی اڈے پر میزائل حملہ کرچکا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی تھی، لیکن اسرائیل کے حملے کے خلاف تمام مسلم ممالک بیانیے کی حد تک متحد نظر آئے

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ایک عملی حکمران ہیں۔  کچھ لوگ ان سے اختلاف کرتے نہیں تھکتے، لیکن اس بات پر متفق ہونا پڑے گا کہ وہ محض باتوں کے بجائے، عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ سعودی نظام حکومت میں جدت،  معاشی استحکام لانے اور سعودی معیشت کا  تیل پر انحصار کم کرنے کیلئے انکے اقدامات کی اہمیت اور سعودی کلچر میں ایک جوہری تبدیلی کی ضرورت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا اور یہ  مشکل کام  ( جو قدامت پسند معاشرے میں ناممکن لگ رہا تھا) انھوں نے کر دکھایا۔ پاکستان سے دفاعی معاہدہ کرنے کا موجودہ اقدام بھی انکی ہی دوراندیشی اور فہم و فراست کا ثبوت ہے۔ 

دنیا کی ہر پل بدلتی صورتحال، میں دراصل، اس معاہدے کی، پاکستان سے زیادہ سعودی عرب کو ضررورت ہے۔

میرا سیاسی ذہن ، اس معاہدے کے دور رس نتائج دیکھتا ہے۔

یہ معاہدہ، اگر کسی پر بجلی بن کر گرا ہے تو وہ مودی سرکار ہے۔ مودی جو اپنی بڑی معیشیت کی بنا پر اس خطہ ارض کے سیاسی  عوامل پر اثر انداز ہونے اور علاقے کے دفاع میں اپنی حیثیت منوانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے، وہ اس معاہدے کی وجہ سے خون کے آنسو رو رہا ہوگا

پورے خلیج میں پاکستان کا سیاسی قد کئی گنا بڑھ گیا ہے اور 

سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے عوام میں ، پاکستانی عوام کیلئے دوستانہ جذبات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقعے سے صحیح فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت پاکستان ، پاکستان کے تمام صوبوں کے ہر ضلعے میں فوری طور پر ووکیشنل ٹریننگ اسکول کھولے تاکہ خلیجی ممالک کیلئے تجربہ کار افرادی طاقت فراوانی سے مہیا کی جاسکے۔

مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مشترکہ دفاعی صنعت میں بھی پیش رفت کی جانی چاہئے

سعودی ائیر فورس کی ٹرینگ میں بھی دونوں ممالک میں تعاون بڑھے گا

سعودی اور پاکستان تاجر و صنعتکار مشترکہ صنعتی اور تجارتی اشتراک عمل کو فروغ دے سکتے ہیں

لیکن یہ سب حاصل کرنے کیلئے، پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال  اور سیاسی طور پر استحکام کی شدید ضرورت ہے۔جو کہ ابھی تک نظر نہیں آرہا۔ سوشل میڈیا پر ہمارا رویہ ، بحیثیت قوم، نہایت غیر سنجیدہ، ہتک آمیز اور باعث شرمندگی ہے۔ اس معاہدے پر بھی لوگ ، اپنی سیاسی مخاصمت سے باز آتے نظر نہیں آرہے۔ یہ معاہدہ کسی سیاسی شخصیت کیلئے نہیں ، کسی حکومت کیلئے نہیں، یہ پاکستان کے فائدے کیلئے ہے

ہاں کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا تم بھی اس کی ہر بات پہ خوش ہو تو میرا جواب ایک بات پر نفی میں ہی ہوگا۔

مجھے اخبارات میں وہ تصویر بالکل پسند نہیں آئی، کہ جس میں، سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ہمارے عاصم منیر کھڑے ہوئے نظر آئے۔ حالانکہ پاکستانی وفد میں ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی گئے ہوئے تھے، انھیں تصویر میں ہونا چاہیے تھا لیکن انکی جگہ ایک بائیس گریڈ کا سرکاری ملازم کھڑا ہوا تھا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی ہتک تھی بلکہ سعودی شہزادوں کی بھی شان گھٹ گئی۔

ڈوریاں کھیل تماشے میں، خیانت نہ کریں

پتلیاں رقص کریں، ہم پہ حکومت نہ کریں

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے