نکتہ داں-۱۴۶
۲۰ ستمبر ۲۰۲۵
امریکی شرارت کا احتمال
پاک سعودی مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کی مناسبت سے، میں تیسری مرتبہ اس موضوع پر لکھنے پر مجبور ہوں۔
پاکستان میں، سوشل میڈیا پر، کچھ دبی دبی آوازیں اس معاہدے کی مخالفت میں سوالات اٹھا رہی ہیں
آئیے کچھ اس پر گفتگو ہوجائے۔
* کہا جارہا ہے، کہ پاکستانی فوج، کب تک کرائے کے فوجیوں کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ کیا ایوب کے زمانے میں امریکہ کے ایما پر، سوویت یونین کے خلاف اور پھر ضیا اور مشرف دور میں افغانستان میں یہی کردار ادا کرکے، اپنی معیشیت، معاشرت، افرادی طاقت اور سکیورٹی ضائع نہیں کرتے رہے ؟ دوسرا اعتراض یہ اٹھایا جارہا ہے، کہ ماضی میں، سعودی عرب نے ایران کی مخاصمت میں، یمنی حوثیوں پر بے جا حملہ کیا اور پاکستان کو بھی اس جنگ میں مدد کیلئے طلب کیا ۔ اور پاکستان کے انکار پر، سعودی عرب نے پاکستان کی جانب سرد مہری اختیار کئے رکھی۔
* میری رائے میں ان مثالوں کا اطلاق اور مماثلت اس معاہدے سے نہیں ہوتی۔ یہ اتحاد دونوں ملکوں کے مشترکہ دفاع سے متعلق ہے، کسی تیسرے ملک پر حملہ کرنےسے متعلق نہیں ہے۔اس میں ایسی کوئی شق نہیں کہ ان دو ممالک میں سے کوئی ملک کسی وجہ سے کسی تیسرے ملک پر حملہ آور ہوگا تو دوسرا بھی اس کے ساتھ جنگ میں شریک ہو جائے گا۔
* اس معاہدے کا اصل مقصد دونوں ممالک کے جملہ اثاثوں کی، اہلیت، قابلیت، استعداد کو نہ صرف اکھٹا کرنا، بلکہ ملکر اپنی جملہ عسکری، تکنیکی، علمی، انٹیلیجینس کی معلومات کو بڑھانا، اور توسیع دیکر ہتھیاروں کی تحقیق اور تیاری کی صنعتیں بناکر اسلحہ سازی میں خود کفیل ہونا ہے۔
بظاہر یہ معاہدہ اسرائیل کے قطر پر حملے کا رد عمل نظر آتا ہے، لیکن اس پر کام ، پچھلے کئی سالوں سے جاری تھا۔
اس کی ضرورت کی وجہ، نیتن یاہو، مودی اتحاد ہے۔ ہندوستان ایک طرف خلیجی ممالک سے تجارت کے پس منظر میں پینگیں بڑھاتا ہے، لیکن دراصل وہ اسرائیل کیلئے جاسوسی کا جال پھیلانے میں مصروف ہے اور یہی کچھ وہ افغانستان میں بھی کر رہا ہے۔
انٹیلیجنس کی ان رپورٹوں نے سعودی عرب کو چونکا دیا ۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ کی مکمل آشیرباد سے اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ، شام، لبنان، ایران اور قطر پر حملوں نے سعودی عرب کا امریکی یاد دہانیوں پر اعتماد متزلزل کردیا۔
ظاہری بات ہے اب متبادل پاکستان ہی ہے اور انڈیا سے حالیہ جھڑپ نے سعودی عرب کے پاکستان پر اعتماد کو مستحکم کیا
دوسری اہم وجہ ، نئی سوچ کے حامل شہزادہ محمد بن سلمان کی تاریخ پر گرفت ہے۔ انکی نظر میں ،پچھلی کئی دہائیوں سے ، سعودی عرب امریکہ سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتا رہا ہے۔ سعودی عرب کی حکومتی سطح پر اور انفرادی طور پر، امریکہ میں سرمایہ کاری کا اندازہ بھی کھربوں ڈالروں کا ہے۔ لیکن اس تمام کے باوجود، امریکہ پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل کے حملے پر امریکہ کا رد عمل کیا ہوگا۔
پاک سعودی مشترکہ دفاع کے معاہدے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ سعودی عرب مستقبل کے دفاعی انتظام کیلئے امریکہ کے بجائے چین کی طرف رخ کردے گا۔
جبکہ اس پیش رفت کے بعد، امریکی حکومت مندرجہ ذیل تشویش کا شکار ہوگی :
موجودہ اسلحہ، جو اس وقت سعودی عرب امریکہ سے خرید چکا ہے، اسکی ٹیکنالوجی کی نقل ، امریکہ کو، پاکستان کے توسط سے چین تک پہچنے کا اندیشہ ہوگا۔
مستقبل میں تیل کی تجارت ڈالر کے بجائے کسی دوسری کرنسی میں کرنے کا خوف بھی امریکی منصوبہ سازوں کے پیش نظر ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب ، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ایک لیڈنگ رول ہے۔ اور قوی امکان ہے کہ سعودی عرب کی دیکھا دیکھی، دوسری خلیجی امارتیں بھی، جس میں قطر، کویت، بحرین اور عمان شامل ہیں، اپنا اسلحے اور دفاع کا قبلہ امریکہ سے تبدیل کرکے پاکستان کا رخ کرے ۔ہاں، متحدہ عرب امارات شاید ابھی بھی پرانی ڈگر پر چلتا رہے۔
اس تمام صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے، میرا اندیشہ کچھ اور ہے۔
میری نظر میں، پچھلی ایک صدی پر مشتمل، تاریخ بتاتی ہے، کہ امریکی، اپنے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے تمام دنیا میں، سی آئی اے کے ذریعے کیا کچھ نہیں کرتے رہے۔ ایران میں مصدق کا تختہ الٹ کر شاہ ایران کو لانا، سوئیکارنو کی حکومت کا خاتمہ شاہ فیصل اور ذولفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانا، اور حالیہ وقتوں میں صدام، قذافی اور افغانستان کے معاملات میرے سامنے ہیں۔ مجھے خوف ہے، امریکہ مشرق وسطیٰ کی سونے کی کان کو اس طرح ہاتھ سے جانے نہیں دیگا اور اسکے لئے سی آئی اے اور اسرائیل مشترکہ طور پر کو ئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔
اندیشہ یا تو اس خطے میں نئی جنگ کا ہے یا، خدا نہ کرے دو افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں
ایک شہزادہ محمد بن سلمان اور دوسرا
عاصم منیر۔
امریکہ ان دو افراد کو رستے سے ہٹانے کیلئے، سعودی عرب میں سازش کرسکتا ہے اور پاکستان میں عاصم منیر کو ہٹانے کیلئے فوج کے اندر ہی سے کوئی کاروائی کا کروا سکتا ہے
اللٰہ پاکستان اور سعودی عرب کو امریکہ، اسرائیل اور مودی کے شر سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین
خالد قاضی