NUKTADAAN

Reading: ‏۱۴۷۔ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا  لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
Reading: ‏۱۴۷۔ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا  لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

‏۱۴۷۔ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا  لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

admin
6 Min Read

نکتہ داں۔ ۱۴۷

۲۱ ستمبر ۲۰۲۵

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا 

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

کسی بھی منزل، تک پہنچنے کیلئے پہلی شرط تحریک ہے۔ اور تحریک کو متواتر جاری اور زندہ رکھنے کیلئے، ارادے کی پختگی، عزم و  استقلال اور  عوام کے جذبے کی شمع کو جلائے رکھنا نہایت ضروری ہے

اسی ہی جذبے کے تحت، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے، اپنے قائد عمران خان کو آزاد کرانے کیلئے، عوام میں جذبات کی تجدید کی خاطر اعلان کیا کہ ۲۰ ستمبر ۲۰۲۵ رات ۹ بجے، عمران خان کے ہر چاہنے والے کو اپنے گھر کی چھت پر، چڑھ کر اذان دینی چاہئے۔ اگر یہ عمل،  ملک کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر قصبے کے، گلی کوچوں میں، بہ یک وقت ادا کیا جائے گا ،تو  یقیناً یہ ایک بہت بڑی روحانی اور سیاسی مشق ہوگی۔ اس میں لوگوں کی وسیع شرکت اس بات کا اعلان ہوگی، کہ پاکستان کے عوام، پاکستان میں جاری نظام کو جعلی سمجھتے ہیں، وہ اس حکومت پر اعتماد نہیں رکھتے اور وہ اس دور میں جاری جبر اور زبردستی کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا احتجاج رکارڈ کر وا رہے ہیں۔

اس عمل کو کوئی بھی ذی شعور، غیر جمہوری نہیں کہہ سکتا بلکہ اس عمل کی تائید اور اس میں شامل ہوکر اذان دینے والے کو پر امن احتجاج کی بہترین علامت ہی کہا جانا چاہئے

لیکن ، ایسا ہو نہیں رہا، بلکہ اس عمل کے متعلق، اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں

میرے خیال میں، یہ طریقہ احتجاج درست تو ضرور ہے لیکن اس احتجاج کا عنوان اور وقت ، قابل اعتراض ضرور ہے۔

اپنی بات کو واضح کرنے کیلئے، میں مثال دونگا، کہ پاکستان کے دشمن ملک انڈیا نے اپنا پہلا ایٹمی  تجربہ بعنوان “مسکراتا بدھا” ۱۸ مئی ۱۹۷۴ کو  کیا تھا۔ دوسرا تجربہ مئی ۱۹۹۸ میں کیا۔ جس کے جواب میں، پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو ایٹمی دھماکہ کیا اور ہر سال اس دن کو ہم سب  “یوم تکبیر” کے نام سے مناتے ہیں۔

اگر ہندوستان میں کوئی شخص ، ۱۸ مئی کو یوم تکبیر کے نام پر، کوئی تحریک چلائے گا تو انڈیا میں اسے پاکستانی ایجنٹ کہا جائے گا چاہے اسکی تحریک کتنی ہی جمہوری کیوں نہ ہو۔

یہاں بھی کچھ ایسا ہی مخمصہ ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ ۲۰ ستمبر قادیانی فرقے کیلئے ایک بہت اہم دن ہے ۔ پاکستان بننے کے بعد، قادیان سے جو انڈیا میں تھا، قادیانی ہجرت کرکے پاکستان آئے

۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ کو، انھوں نے اپنا نیا قبلہ کہئے یا ہیڈ کواٹر کا نام دیں وہ ربوہ کو مقرر کیا۔ اور اس دن کی مناسبت سے کئی دوسری تقریبات بھی ۲۰ ستمبر ہی کو منعقد کی جاتی ہیں اور نام بھی شان نور  ، وہیں سے ہے

جب سوشل میڈیا نے اس طرف توجہ دلائی تو، تحریک انصاف کے متعدد لیڈران، اپنے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر، یا سوشل میڈیا پر وڈیو پیغامات پر اس مشق سے لاتعلقی کا اظہار کر تے نظر آتے ہیں 

تو ہونا کیا چاہئے ؟

میرے خیال میں، یہ ایک بہت اچھا پروگرام تھا، لیکن اس کی ٹائمنگ اور عنوان درست نہیں تھا۔ جب غلطی کا اندازہ ہوگیا تو، مرکزی لیڈر شپ تمام ملک کی صوبائی قیادت کو  فورا” کسی بھی تردید یا لاتعلقی کے اعلانات کرنے سے حکماً منع کرتی۔ مرکزی لیڈرشپ خود نئی تاریخ کا اعلان کرکے، نئے عنوان کے ساتھ اس مشق کو ادا کرتی۔ اس سے ہوتا یہ کہ تحریک انصاف کے متعلق یہ رائے قائم نہ ہوتی کہ یہاں پر ہر کوئی عمران خان ہے ، اس میں کئی دھڑے اور کئی گروپس ہیں جو بنا کسی مرکزیت کے،” شتر بے مہار “ بنے ہوئے ہیں 

میں تحریک انصاف کے چاہنے والوں کو پاکستان کی جمہوری تحریک کا ایک قیمتی اور مضبوط اثاثہ سمجھتا ہوں اور ہر جمہوریت پسند شخص ، جمہوریت کی منزل کو پانے کیلئے جمہوری اثاثے کی نگہبانی کرنا چاہے گا جمہوری اثاثہ  بکھرنے سے جمہوریت  کی امید بھی بکھرنے لگے گی۔ 

اگر تحریک انصاف نے اذان دینے کے اس جمہوری اور روحانی عمل کو نئی تاریخ اور نئے ولولے سے دوبارہ جاری کرنے کا ارادہ کیا تو میں تمام جمہوریت پسند لوگوں کو، انکا تعلق چاہے کسی بھی دوسری سیاسی پارٹیوں سے کیوں نہ ہو، کو  دعوت دوں گا کہ اگر وہ فارم ۴۷ کے خلاف ہیں، اگر وہ اس ہائبرڈ سسٹم کے خلاف ہیں تو وہ تحریک انصاف کو چاہے ووٹ نہ دیں لیکن زور آوروں کو یہ پیغام ضرور دیں کہ ہم تمھارے محکوم نہیں ہیں اور نہ رہیں گے لہذا آئیں اور اذان دیکر یہ پیغام دیں کہ ہم پاکستانی “کوئی غلام ہیں کیا ؟”  

، میں تو اذان ضرور دوں گا کیونکہ: 

مجھے ہے حکم اذاں ، لا الٰہ اللّٰہ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے