نکتہ داں-۱۴۸
۲۲ ستمبر ۲۰۲۵
کرنے کی باتیں
آج کل سوشل میڈیا پر حارث رؤف کے دوبئی میں انڈین تماشائیوں کو اشاروں اشاروں میں جواب پر ہم مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
صحیح مسرت کا مقام تب ہوتا جب ان کو جواب، آپ اپنے بلے ، اپنی گیند ، اپنی فیلڈنگ اور ان پر اپنی اخلاقی برتری سے دیکر، پوری دنیا کو یہ باور کراتے کہ ہم میں اور ہندوستان کے مودی پرستوں میں یہ واضح فرق ہے۔
ہمارے اس طرح کے رویے سے ، ہم نے تو خود کو، انڈیا کی بد تہذیب ٹیم کے برابر کردیا۔ اب ہم میں اور ان میں تہذیب کا فرق ختم ہوگیا، جبکہ کھیل میں ہم ہار گئے۔ ہاں اپنی ہار سے دھیان ہٹانے کیلئے جھوٹی شان کا سہارا لیا جاسکتا ہے، لیکن وہ عارضی ہوگا، کیونکہ ، ہمیں پھر سیمی فائنل یا فائنل میں انڈیا کے مدمقابل آنا ہے۔
اس وقت ہم اپنی ہار کا کن اشاروں میں جواب دیں گے ؟
کوئی مجھے بتائے جناب
خالد قاضی