نکتہ داں-۱۵۳
۷ اکتوبر ۲۰۲۵
بے وقت کی راگنی
یہ جنگ تو ہونی ہی تھی ، لیکن اس قدر جلد چھڑ جائے گی، یہ کسی نے نہیں سوچا تھا۔
قیاس یہی تھا کہ ۲۰۲۷ کے اختتام کے قریب، ہلکی پھلکی، جھڑپیں شروع ہونگی اور رفتہ رفتہ ، جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جائیں گے، لفظی گولہ باری میں شدت آتی جائے گی۔ لیکن ابھی تو نصف حکومتی مدت بھی ختم نہیں ہوئی کہ بی بی مریم نواز نے اچانک ، لفظی بمباری کا آغاز کردیا۔
اہمیت دراصل ان ہی کی شخصیت کی ہے، کیونکہ پنجاب حکومت کی ترجمان محترمہ عظمٰی بخاری محض ایک
” پرفارمر“ ہیں۔ انھیں جو اسکرپٹ ملا، انھوں نے وہ ڈائیلاگ ادا کردئیے۔ میں یہ بات اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ اس قسم کے ڈائیلاگ ڈیلیوری کی محترمہ ایک تاریخ رکھتی ہیں۔ ن لیگ میں تو وہ ۲۰۱۳ شامل ہوئیں اور اپنے اس فن کی وجہ سے حکومت پنجاب کے ترجمان کے عہدے تک پہنچیں۔ن لیگ میں شمولیت میں پہلے محترمہ پیپلز پارٹی میں تھیں اور اس دور میں،بطور پیپلز پارٹئ کی پرفارمر ، بی بی مریم نواز کو لتاڑا کرتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر انکی پریس کانفرنس گردش کر رہی ہے جس میں وہ بی بی مریم نواز کو کونسلر بھی منتخب ہونے کا اہل نہیں سمجھتی تھیں
خیر ، بات ہو رہی تھی کہ ایسا کیا ہوا اور اس ہنگامے کی وجہ سے مریم نواز کے مستقبل کی سیاست پر کیا اثرات
مرتب ہونگے۔
ظاہری بات ہے کہ وجوہات کئی ہو سکتی ہیں، لیکن، غالباً اسکی وجہ یہ ہے کہ::
۱- محترمہ، محض وزارت اعلٰی پر، اکتفا نہیں کرنا چاہتیں، بلکہ مستقبل میں ان کی نظر، وزیر اعظم کے عہدے پر بھی ہے۔
۲- حالیہ سیلاب میں، بلاول بھٹو زرداری نے، پنجاب کا عموماً اور جنوبی پنجاب کا (جو زیادہ متاثر ہوا ہے) خصوصاً دورہ کیا۔
اس دورے میں بلاول محض طائرانہ دورہ اور فوٹو سیشن کروانے کے بجائے متاثرہ کسانوں سے بہ نفس نفیس ملاقاتوں کا اہتمام کروانا چاہتے تھے، جس کیلئے حکومت پنجاب تیار نہیں تھی اور سکیورٹی کلیر نس نہیں دے رہی تھی۔جبکہ پیپلز پارٹی بضد ہوکر، اپنی حفاظت آپ کر کے، کسانوں سے ملکر انکی شکایات سنیں
ان ملاقاتوں کا متاثرین پر اثر ہونا لازمی تھا اور اس کی خفیہ رپورٹ جب محترمہ تک پہنچی ، تو ماتھے پر بل پڑنے لگے۔ وہ تحریک انصاف کے عوامی دباؤ اور تنقیدی حملوں پر پہلے ہی بہت پریشان تھیں، اور اس ناگہانی آفت نے ان کے غصے کی شدت کو سنبھالنے کے بجائے ، انڈیل دیا۔
۳- خبر یہ بھی ہے کہ انکے والد میاں نواز شریف کی طبیعت قدرے خراب ہے اور انکی زندگی کے متعلق ایک بیٹی ہونے کے ناطے وہ بے حد پریشان ہیں، کیونکہ وزیر اعظم کا عہدہ وہ والد کے ہوتے ہوئے ہی پاسکیں گی، انکی (خدا نہ خواستہ) غیر موجودگی، پارٹی پر محترمہ کی گرفت کمزور کردے گی۔
۴- انکے چچا ، شہباز شریف بھی انسان ہی ہیں اور ہر انسان میں خواہشات بھی ہوا کرتی ہیں۔ خواہشات نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد کیلئے بھی
۵- تو گویا، ن لیگ، کئی دھڑوں میں بٹ گئی ہے
۶- ایک دو نہیں ، تین دھڑے۔ تیسرا دھڑا وہ ہے، جو، جدی پشتی ن لیگ کے ساتھ منسلک رہا ہے اور نہ صرف مریم سے بہت سینئر ہے بلکہ اپنے ساتھ ن لیگ کیلئے قربانیوں کی تاریخ بھی رکھتا ہے۔ وہ ن لیگ کے سینئر عہدوں کا خود کو حقدار تصور کرتے ہیں۔
جو بیان محترمہ نے دیا، اور جو انکے کہنے پر پنجاب حکومت کی ترجمان نے دیا، وہ بیانات، بلوچستان ، سندھ اور خیبر پختون خواہ کی قوم پرست جماعتوں کے لیڈران کے بیانات کے ہم پلہ قرار دیئے گئے ہیں۔
اور انکے ان بیانات کا سندھ کی قوم پرست لیڈروں نے انھیں کے لہجے میں جواب بھی دیا ہے۔ میں ان دو طرفہ بیانات کو یہاں دہرانا ضروری تصور نہیں کرتا کیونکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان بیانات کی گونج ابھی تک جاری ہے۔
پیپلز پارٹی نے اس ماحول کو بہت سیریئس انداز میں لیا ہے
ن لیگ اس معاملے کا ٹی وی سکرینوں پر دفاع نہیں کر پا رہی اور میڈیا نے مریم نواز کے اس طرز عمل کی نہایت سختی سے مذمت کی ہے۔
صدر آصف علی زرداری ، اس سارے معاملے پر، ن لیگ کی لیڈرشپ سے بات کرنے کے بجائے،، اس ہائیبرڈ نظام کے خالق اور گارنٹروں کے نمائندے محسن نقوی کو طلب کرکے وارننگ دی ہے۔ جی ہاں وارننگ دی ہے، کیونکہ، زرداری صاحب مفاہمت ضرور کرتے ہیں لیکن اپنی قائم کردہ ریڈ لائن ، کسی کو بھی عبور کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
ظاہری بات ہے، کہ ، یہ وارننگ نہ صرف شہباز شریف کو، بلکہ نواز شریف کے ذریعے مریم نواز تک بھی پہنچ گئی ہوگی اور پھر مریم نواز کی مقرر کردہ پرفارمر بھی سکرپٹ کی تبدیل شدہ شکل میں پرفارم کرتی نظر آئیں گی۔
لیکن، میری مشکل کچھ اور ہے۔
میں، ن لیگ کی پاکستان کے چاروں صوبوں میں پزیرائی کے بجائے سیاسی پسپائی ہوتے دیکھ رہا ہوں۔
ن لیگ کا وجود اس وقت سوائے وسطی پنجاب کے، ہر جگہ چیلنج ہوتا نظر آتا ہے۔ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کے چاہنے والوں نے ن لیگ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور گو مریم نواز بڑی محنت کرتی نظر آتی ہیں لیکن، سیاست میں محنت سے زیادہ دلوں کا اعتماد جیتنا ہوتا ہے۔ لیکن فارم ۴۷ کی وجہ سے وہ اعتماد حاصل کرنے میں مشاکل کا سامنا ہے
سندھ میں کینالوں کے مسئلے سے پیدا کردہ صورتحال نے ن لیگ کے سیاسی زوال کا جو سماں پیدا کیا ہوا تھا، مریم نواز کے اس رویئے نے اس زورال کو مستحکم ترین کردیا ہے
صوبہ خیبر پختون خواہ تو ہے ہی تحریک انصاف کے زیر انتظام اور بلوچستان کے متعلق بھی سب کو معلوم ہے
اس تمام منظر نامے میں، آنے والے الیکشن کیلئے، ہماری مقتدرہ ، یقیناً پریشان ہوگی اور کوئی نیا بلو پرنٹ ، ڈرائنگ بورڈ پر بکھرا ہوا ہوگا۔
بلاول اور انکے والد اس صورتحال کو کس طرح اپنے حق میں بدلتے ہیں، یہ چند مہینوں میں واضح ہو جائے گا
خالد قاضی
Very knowledgable articles i have ever read
Thanks Sir
Excellent
Great analysis
Most of the messages from Nukta Dan are understanding and true analysis of Pakistan history , politics and events happened earlier. We appreciate Khalid kazi sahibs vision and analysis.
He deserves uploads
Thanks Ada
Excellent website. The quality of your contents are exceptional. I can tell a lot of work went into this; your research is very thorough. May you have a great success in this new venture. Ameen!
Thank you Sir
Thank Sir