نکتہ داں-۱۵۴
۱۱ اکتوبر ۲۰۲۵
کامیابی کا راز گفت و شنید میں پوشیدہ ہے
الحمد للّٰہ غزہ میں بسنے والے، بے یار مددگار ، معصوم لیکن بہادر لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان ، امریکی سرپرستی میں معاہدے کے بعد، ان پر اسرائیلی فوج کی بمباری رکی، اور کھانے پینے کی اشیاء میسر آئیں۔
رنج سے خوگر ہوا انساں، تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
اس جنگ کے دو فریق تھے۔ ایک اسرائیل کی تاتاری فوج اور دوسری طرف حماس کے جرات مند اور دلیر مجاہدین، کہ جنھوں نے اپنی تمام تر بے سروسامانی کے باوجود، ایک قہار، ظالم اور انسانیت سے مبرّا دشمن، کہ جو ہر قسم کے اسلحے، گولہ بارود اور جدید ترین ساز سامان سے لیس تھا، کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا۔ غزہ کے فلسطینی ، دو سال تک خون میں نہاتے رہے۔ معصوم بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور جوانوں کی جان کی قربانی دیتے رہے لیکن ان کے ایمان، عزم اور امید میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔
اس جنگ کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک زاویہ نگاہ یہ ہوسکتا ہے کہ دو سال پہلے، حماس کے شروع کردہ، اسرائیل کے (زور زبردستی ضبط کردہ علاقے ) پر حملہ کرکے مغربی متعصب میڈیا کے مطابق ۱۲۰۰ افراد کو لقمہ اجل بنانے، ۲۵۱ اسرائیلیوں کو یرغمال بنا کر لیجانے سے حماس نے کیا حاصل کیا ؟، سوائے غزہ کی تباہی، ٦٧٠٠٠ بے گناہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین اور نہتے لوگوں کی شہادت، لاکھوں انسانوں کے زخمی ہونے اور حماس کی لیڈرشپ کے سینکڑوں لیڈروں کی شہادت کے ۔
لیکن اس پورے معرکے کو سمجھنے کیلئے ایک دوسرا زاویہ نگاہ بھی ہے
آئیے نظر ڈالیں کہ اس جنگ میں حماس نے کیا پایا اور اسرائیل نے کیا کھویا ۔
۱- حماس کے اس اچانک حملے نے، مسلم دنیا کے علاوہ، تمام عالم میں، حماس کے خلاف ایک بد ترین نفرت پیدا کردی۔
۲- اسرائیل کے رد عمل کے طور پر، بمباری، ناکہ بندی، اور فلسطین کے عام شہریوں کے بنا تفریق ہلاکتوں نے ساری دنیا کی سوچ میں اسرائیل، فلسطین اور حماس کے متعلق، نقطہ نظر میں ایک جوہری تبدیلی پیدا کردی ہے۔
۳- اسرائیل کی حکومت، وزیروں کے بیانات، اور اسرائیلی افواج کے بے رحمانہ رویئے نے دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور دنیا بھر میں آسٹریلیا، مشرق بعید کے ممالک، بر صغیر، مشرق وسطٰی، افریقہ، مشرقی و مغربی یورپ کے ممالک، کینیڈا، جنوبی امریکہ کے ممالک اسرائیل کے اس قدر خلاف ہوگئے ہیں کہ ۱۱ ممالک نے اپنے سفیروں کو اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے۔ خود امریکہ کے نوجوان طبقے اور یونیورسٹی کے طلبأ نے کھل کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا اور پوری دنیا کے ہر خطے میں لاکھوں لوگوں نے اسرائیل کے خلاف جلوس نکالے اور جلسے کئے۔ اور نتیجتاً لوگوں کی عمومی رائے کے آگے مختلف جمہوری ممالک نے فلسطین کی ریاست کی نہ صرف حمایت کی، بلکہ اقوام متحدہ کے ۱۹۳ ممبر ممالک میں سے آج ۱۴۵ ممالک فلسطین کی آزاد اور خود مختار ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ اس سفارتی کامیابی کا سہرا حماس کی صبر آزما جدوجہد کا ثمر ہے۔
٤-خود امریکہ میں رائے عامہ عموماً اور نوجوان نسل اور طلبأ برادری خصوصاً امریکی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف کھل کر سامنے آگئی ہے
۵-رائے عامہ پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے PEW کے سروے کے مطابق، ۳۹ فیصد امریکنوں کی رائے میں، اسرائیل نے حماس کی کاروائی کے خلاف، رد عمل میں زیادتی کی ہے۔جبکہ ۵۰ فیصد امریکیوں نے ، اسرائیلی فوج کی کاروائیوں کے خلاف اپنی رائے دی۔ یہاں تک کہ ۵۹ فیصد امریکیوں نے، اسرائیل کے متعلق اپنے ماضی کی اسرائیل نواز رائے سے اجتناب کرتے ہوئے، اپنے خیالات تبدیل ہونے کا اندیہ دیا۔
جبکہ ٦٠ فیصد امریکیوں، نے اسرائیلی اقدامات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔
٦- ڈیموکریٹ پارٹی اور آزاد نمائندوں نے پہلی دفعہ، اسرائیل کو فوجی امداد دینے کی مخالفت کی ۔
۷- امریکہ کی آبادی، جو ہمیشہ اسرائیل کی کھل کر حمایت کیا کرتی تھی، نے سروے کے مطابق اس سوال پر کہ آپ اسرائیل کے حامی ہیں یا فلسطین کے ؟
جواباً ۳۵ فیصد لوگوں نے فلسطین کی حمایت کی جبکہ اسرائیل کے حامیوں کی تعداد سکڑ کر ۳٤ فیصد رہ گئی ہے جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد ۵۰ فیصد سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔
غور طلب بات یہ ہے، امن کا راستہ، جنگ سے نہیں، گفت شنید ہی سے نکلتا ہے۔
چاہے کوئی ملک کتنا طاقتور کیوں نہ ہو ۔ اسکی پالیسیاں کتنی ہی شدت پسند کیوں نہ ہوں۔ اور اس کے مقابلے میں چاہے کتنے حق گو اور جانثار لوگ کیوں نہ ہوں۔ امن محض جنگ کو جاری رکھنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ امن کیلئے، اپنی انا کو قربان کرکے، مزاکرات کی میز پر آنا ہی پڑتا ہے ورنہ دونوں طرف کا نقصان ہی نقصان ہے۔
یہ بات، میں اس لئے کہہ رہا ہوں، کہ ہمارے ملک میں بھی پچھلے دو سال سے، ایک سیاسی جنگ جاری ہے۔ٹہراؤ ، استحکام اور باہمی نقصان سے بچاؤ کا راستہ گفت شنید میں ہے، نہ کہ اپنی سیاسی قوت کو تھکا دینے والی حکمت عملی میں۔ عقلمند لیڈر، اپنے مختلف مخالفوں کو ایک ہونے کا موقع نہیں دیگا ، جبکہ محض جذباتیت سے ہر ایک کو للکارنے کی پالیسی آپکے مخالفوں کو متحد رکھے گی۔
حکومت چاہے فارم ٤٧ والی کیوں نہ ہو، جرنیل کتنے ہی ظالم کیوں نہ ہوں، ان کو اکھٹا تو آپ کے طرز سیاست نے کیا ہوا ہے۔
مجھے یاد ہے جب، PTI اور حکومت کے درمیان ، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے ایما پر گفتگو کے دو دور مکمل ہوئے تو راولپنڈی میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور فورا” جنرل عاصم منیر کو تحریک انصاف کی لیڈر شپ سے ملاقات کی حاجت ہونے لگی۔ ملاقات کے بعد، اسکی اہمیت کم کرنے کیلئے بیان بھی جاری ہوا۔
میری سیاسی سمجھ، موجودہ، ہائیبرڈ نظام کو بہت کمزور تصور کرتی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید کریں
میں اپنی سوچ کے ثبوت میں چند دن پہلے کی پیشرفت کا حوالہ دونگا۔
ن لیگ اور PPP میں محترمہ مریم نواز اور پنجاب حکومت کی ترجمان، عظمٰی بخاری کے بیانات کی وجہ سے تلخی پیدا ہوئی۔
ن لیگ نے اس معاملے کو ہلکا لیا۔ لیکن جیسے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کہ زرداری صاحب مفاہمت ضرور کرتے ہیں لیکن اپنی شرائط پر اور اپنی مقرر کردہ ریڈ لائن سے کسی کو، چاہے وہ مقتدرہ ہی کیوں نہ ہو، کراس کرنے کی اجازت نہیں دیتے
وہ اسلام آباد چھوڑ کر کراچی آگئے، وہاں مقتدرہ کے نمائندے محسن نقوی کو طلب کیا اور اس معاملے پر اپنی سنجیدگی کا اشارتاً اظہار انھوں نے کراچی کو بھی خیرباد کہہ کر نوابشاہ میں ڈیرے ڈال کر کیا ۔
اس نظام کے کمزور ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ فوراً نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور راولپنڈی کے نمائندے محسن نقوی نوابشاہ بنفس نفیس پہنچے اور زرداری صاحب کی قدم بوسی کرکے منایا اور اسی دوران ، وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول سے ٹیلیفون پر بات کرکے، انھیں یقین دلایا کہ اب پنجاب حکومت کی طرف سے بیان بازی نہیں ہوگی۔ اس تمام واقعے کو، میڈیا پر ہائی لائیٹ کرنے کی ممانعت کے احکامات آبپارہ سے جاری کئے گئے اور ہم نے دیکھا کہ اس واقعے کی کوئی خاص رہورٹنگ نہیں کی گئی۔
اس ہائیبرڈ نظام کو ختم کیا جاسکتا ہے، اگر سیاسی قائدین اپنی انا کو پس پشت ڈال کر، مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور مقتدرہ کو اکیلا کرنے کیلئے، آپس میں ایک دوسرے کیلئے جگہ بنائیں ۔
یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن ہوش سے، جوش سے نہیں
خالد قاضی
Very knowledge article