NUKTADAAN

Reading: ‏۱۵۵۔ حقِ حکومت کی کُنڈی
Reading: ‏۱۵۵۔ حقِ حکومت کی کُنڈی

‏۱۵۵۔ حقِ حکومت کی کُنڈی

admin
4 Min Read

نکتہ داں۔۱۵۵

١٤ اکتوبر ۲۰۲۵

حقِ حکومت کی کُنڈی

اکتوبر ۱۹۹۹ کی بغاوت کے بعد، (ہر ڈکٹیٹر کی طرح)، جنرل مشرف نے بھی اپنی غیر قانونی حکومت کو، قانونی لبادہ پہنانے کیلئے، دسمبر ۲۰۰۰ اور پھر اگست ۲۰۰۱ میں لوکل باڈیز الیکشن منعقد کروائے۔ لیکن یہ اقدام اسکی اپنی حاکمیت کو کوئی قانونی ڈھال فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ اس ہی لئے، اپنی صدارت کو دوام دینے کی غرض سے، اپریل ۲۰۰۲ میں اس نے (آئین سے ما ورا )، ریفرنڈم کا انعقاد کیا۔ چونکہ پاکستان کا آئین  پارلیمانی طرز کا ہے، اس لئے پارلیمان کا انتخاب اکتوبر ۲۰۰۲ میں کروانا اس کی مجبوری تھا۔  تمام تر، غیر قانونی حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود، وہ اپنی بنائی ہوئی کنگز پارٹی ق لیگ کو اکثریت نہ دلا سکا۔ اور PPP ، پارلیمان میں اکثریتی پارٹی بن کر ابھری۔ اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے، مشرف نے مختلف حربوں سے، دو درجن کے لگ بھگ ، PPP کے ممبران جو PPP کے  ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے، انھیں پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے پر مجبور کیا ۔ ان ممبران نے مشرف کی کنگز پارٹی ق لیگ کی حمایت کی اور میر ظفراللٰہ جمالی وزیر اعظم منتخب کروائے گئے۔

اسی طرح کے اقدامات سے، سندھ میں بھی، ارباب رحیم کو وزیر اعلٰی بنایا گیا۔

دو دہائیاں گزرنے کے بعد، جو نا انصافی PPP کے ساتھ ہوئی تھی، اسی ہی غیر جمہوری عمل کو دہرانے میں اس وقت PPP خود ملوث ہو رہی ہے۔

یہ کیسے جمہوری لوگ ہیں۔ کہ جو اپنے ہی اوپر کی گئی زیادتی کو بھلا کر، مقتدرہ کی ایما پر، خیبر پختون خواہ میں ایک سیاسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں معاونت کر رہے ہیں۔

گورنر خیبر پختون خواہ، جناب فیصل کریم کنڈی، ایک اچھے سیاسی پس منظر کے حامل انسان ہیں اور انکے اعمال نامے میں اپنی سیاسی جماعت PPP کے ساتھ کبھی بھی کوئی بے وفائی ریکارڈ پر نہیں ہے۔ لیکن شاید اپنی قیادت کے حکم پر وہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلٰی کی تبدیلی کے ایک سیاسی عمل میں بظاہر رکاوٹ تو نہیں لیکن اس میں تاخیری حربہ ضرور استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

انکی دلیل نہایت کمزور ہے۔ پہلے انکا بیان تھا کہ مجھے ابھی تک امین گنڈاپور کا استعفٰی وصول نہیں ہوا، پھر انکا موقف یہ سامنے آیا کہ ایک نہیں دو استعفے موصول ہوئے ہیں۔

جب علی امین گنڈاپور نے اعلانیہ کہہ دیا کہ میں عمران خان کے حکم پر مستعفی ہو گیا ہوں اور جب، نئے وزیراعلٰی کے انتخاب کے دوران وہ  نہ صرف خیبر پختون خواہ اسمبلی میں موجود تھے بلکہ انھوں نے سہیل آفریدی کے حق میں اپنا ووٹ بھی دیا ہے تو پھر گورنر فیصل کریم کنڈی صاحب کس دلیل کی بنا پر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

جمہوریت محض زبانی جمع خرچ سے نہیں لائی جاسکتی ۔ جمہوریت کے لئے سب سے اہم عنصر جمہوری رویئے اپنانے کا ہے۔ آپ عمران خان اور تحریک انصاف سے سو اختلاف کریں لیکن یہ اختلاف انکے حق حکمرانی (جو عوام نے انکو  اپنے ووٹوں کے ذریعے تفویض کیا ہے) کو ان سے نہیں چھین سکتے۔

فیصل کریم کنڈی کو، تحریک انصاف کے حق حکمرانی کے دروازے کی کنڈی بند کرنے کا اختیار کس قانون نے دیا ہے ؟ بہتر یہی ہے کہ عوام کے حق حکمرانی کا دروازہ بنا کسی قفل اور بنا کسی کنڈی کے، ہمیشہ کھلا رہے۔

تب ہی اس ملک میں جمہوریت قائم ہو سکتی ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے