نکتہ داں-۱۵۸
۲۴ اکتوبر ۲۰۲۵
یورپ گردی۔ ۱ (لندن یاترا)
جب، اللٰہ کے فضل و کرم سے ، آپ نے اپنی زندگی کے تقریباً تمام اہم مراحل، پورے کرلئے ہوں، جب آپکا وقت، پوتے، پوتیوں اور نواسے ،نواسیوں کی شوخیوں اور شیخیوں، سے لطف اندوز ہوکر گزر رہا ہو۔ جب آپ حج اور عمرے کے فرائض بھی پورے کرچکے ہوں، تو ماضی کی کچھ حسرتیں، آپکی امنگوں کی تاروں کو چھیڑنے لگتی ہیں۔
ایسے ماحول میں ،مسلسل، بے کلی کی کیفیت میں رہنا، خود کو بوڑھا کر دینے کے مترادف ہے ۔ جبکہ میری بیاض میں، بڑھاپے اور جوانی کا تعلق عمر سے نہیں، بلکہ، زندگی گزارنے، کے اسلوب اور آپکے رویئے سے ہے۔ اس تمام پس منظر میں جب میں نے یورپ گردی کی خواہش کا اظہار، بیگم سے کیا، تو انھوں نے مجھے اللٰہ اللٰہ کرنے کے مشورے سے نوازا۔میں نے جواباً کہا، “بھلی لوکے” ہم دونوں، اللٰہ اللٰہ ہی تو کرنے چلیں گے۔ اللٰہ کی بنائی ہوئی دنیا کو دیکھنا، اللٰہ اللٰہ کرنا ہی تو ہے۔بہرحال، پچھلی چار دہائیوں سے زیادہ کی رفاقت کی وجہ سے، بیگم کو راضی کرنا، ہم سیکھ چکے ہیں، سو وہ مرحلہ آسانی سے عبور کرلیا۔
۱۹۹۲ میں اپنے خاندان کے ہمراہ مصر اور ترکی کی سیر نے، مجھے یہ سبق سکھایا ہے کہ، اپنے طور پر کسی ملک کی سیر کرنے سے بہترہے، کہ کسی عمدہ شہرت رکھنے والی ٹورسٹ کمپنی کے ساتھ گروپ ٹور کیا جائے۔ اس طرح، کم وقت میں زیادہ مقامات دیکھنے اور کئی جھنجھٹوں سے بھی گلو خلاصی ہو جاتی ہے۔ لہذا لندن کی معروف ٹورسٹ کمپنی EF Tours سے رابطہ کرکے، تین ہفتوں پر مشتمل، چھ ملکی، یورپ یاترا کی بکنگ کروالی۔ ٹوور گروپ نے، ۱۹ جولائی سے اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا، لیکن اپنی بھتیجی کی خواہش پر، جو اپنے خاندان کے ساتھ لندن میں مقیم ہے، ہم دو دن پہلے ہی آ دھمکے۔
لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ کی رونقیں، امریکہ آتے جاتے،، ٹرانزٹ کے طور پر ، متعدد بار ، دیکھنے کا تجربہ تو تھا ہی، لیکن اس دفعہ ، رنگ کچھ اور ہی نظر آیا تھا۔ یہ شاندار ائیرپورٹ ایک بہتے دریا کی روانی کی مانند، بنا کسی ہڑبونگ اور رکاوٹ کے ،روزانہ مجوعی طور پر دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ، آنے والے مسافروں کو خوش آمدید ، جانے والے مسافروں کو خداحافظ اور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف روانہ ، ٹرانزٹ مسافروں کو سہولت اور تفریح طبع فراہم کرتا ہے۔ یہاں آپکی سہولت کیلئے، آرام دہ کرسیاں بھی موجود ہیں، کھانے پینے کے ریسٹورانٹ بھی اور ڈیوٹی فری خریداری کیلئے درجنوں دکانیں بھی ! یہاں کی گھما گھمی میں ، وقت دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
میں دنیا کے دسیوں ملکوں، اور درجنوں شہروں کے ہوائی اڈوں کے ایمیگریشن سے گزرنے کا تجربہ رکھتا ہوں، لیکن اس مرتبہ، ہیتھرو ائیرپورٹ کی ایمیگریشن اس وجہ سے منفرد نظر آئی کہ یہاں بنا کسی پوچھ گچھ کے، ہم لندن کی ایمگریشن سے گزر کر آگئے۔ یہ سہولت، یورپ، امریکہ اور ایشیا کے چند ممالک کیلئے ہے۔
ان ممالک کے مسافروں کی ایمیگرشن ،ایک خودکار نظام کے تحت، پاسپورٹ کو اسکین کرکے، بنا کسی ایمیگریشن آفیسر کے ہوجاتی ہے۔ یہ خوشگوار تجربہ زندگی میں مجھے پہلی دفعہ حاصل ہوا۔
لندن میں پہلا دن تو سفری تھکاوٹ دور کرنے اور بھتیجی اور اسکے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے گزرا۔
ہماری رہائش ، ڈینو بی یس ریجنٹ پارک ہوٹل ،جو وسطی لندن میں، لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے دس منٹ کی چہل قدمی پر واقع ہے, تھی۔
گروپ سے ملاقات، چونکہ عشائیے پر طے تھی اور ٹور کی ابتدا اگلے دن، لہٰذا ہم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے، گوگل کے توسط سے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کا رخ کیا۔ گراؤنڈ پہنچ کر معلوم ہوا کہ، وہاں انگلستان اور انڈیا کی وومن ٹیم کا T 20 کا میچ جاری تھا اور میچ کے دوران ، گراؤنڈ ٹوور ممنوع۔ لہذا ہم نے میچ کے اگلے دن شام کا، ٹوور بک کروایا اور پیدل ہوٹل کے گردو نواح کی سیر کرتے رہے۔
۲۰۰۰ سالہ تاریخ کا حامل، شہر لندن ، جو اپنے پہلو میں، درجنوں، تاریخی،ثقافتی، علمی، ادبی، مذہبی، فنی، تعمیراتی، فنون لطیفہ، کھیلوں اور انسانی ارتقا کی سیکڑوں تاریخی نشانیاں اور خزانے، اپنے حصار میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں آکر محسوس ہوا کہ تاریخ کے ان خزانوں کو، گورا نہ صرف سنبھالنے کا ہنر جانتا ہے بلکہ تاریخ کے خزانوں کو کاروباری منفعت میں ڈھالنے کے فن سے بھی وہ بخوبی آشنا ہے۔ اس شہر کو محض دو دنوں میں دیکھنااور سمجھنا ایسا ہی ہے، جیسے ایک مختصر سا خواب بیان کرنا۔ سو اس خواب کی داستان ہم سنائے دیتے ہیں۔
ہوٹل میں عشائیہ ، گروپ ڈائریکٹر اور ٹوور ممبران کے ملنے ملانے کی وجہ سے ترتیب دیا گیا تھا۔ ہمارے گروپ کے تمام ۳۴ ممبران امریکی شہری تھے، جن میں مسلمان محض میں اور میری بیگم تھے۔ چار رکنی خاندان کوریا کے پس منظر کا حامل تھا، باقی سب گورے اور چند کالے ہمسفر تھے۔ نصف درجن ٹین ایجرز، دس کے قریب ادھیڑ عمر، اور باقی سب نوجوان ممبران پر مشتمل اس کارواں میں سب سے، بزرگ ہم دونوں میاں بیوی ہی تھے۔ اس اعزاز پر میرا سر فخر سے اونچا ہوگیا۔ لیکن، افسردگی اس وقت ہوتی ، جب ہم دونوں کو، محض ویجی فوڈ پر گزارا کرنا پڑتا اور جام و سبو کی کھنکھناہٹوں سے دھیان ہٹانے کی ضرورت محسوس ہوا کرتی تھی۔ایسے وقت میں، ہماری بے کسی کا، چند شرارتی مسکراہٹیں ، تعاقب کرتی محسوس ہوا کرتی تھیں۔
فور سٹار ہوٹل کے ناشتے کا اہتمام، جس سلیقے اور خوبصورتی سے کیا جاتا ہے، اسے بیان کرنے کی صلاحیت ، میں اپنے اندر کم پاتا ہوں۔ لہذا انواع اقسام کے ہر طرف پھیلے ، لذیذ و ذائقہ دار پکوان ، بتانے سے نہیں ، چکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور یہ تجربہ ہمارے ۲۱ روزہ سفر کے دوران، مختلف ہوٹلوں میں، تھوڑی بہت کم و بیشی کے ساتھ روزانہ ، دن کے ابتدائیے کا حصہ بنا رہا۔
یورپ کے مختلف ممالک، آج کل کے دور میں، ایک دوسرے کے ساتھ ، شیر و شکر نظر آتے ہیں لیکن آج سے دو صدیاں قبل، یہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔خون کے پیاسے ہوکر، پھر شیر و شکر ہوجانے کا سفر پچھلی ڈیڑھ دو صدیوں میں طے ہوا ۔ انسانی ارتقأ کی یہ داستان ہم برصغیر کے باسیوں کیلئے بھی سیکھنے اور سمجھنے کا مواد فراہم کرتی ہے، لیکن شاید بر صغیر کی اقوام ایسی ذہنی بالیدگی سے ابھی کوسوں دور ہیں ، شاید انھیں بھی یورپی ممالک کی سوچ اپنانے میں ابھی ایک صدی اور لگے۔ دشمنی کے تاریخی پس منظر میں سنہ ۱۸۰۵ میں انگلستان نے فرانس اور اسپین کے مشترکہ بحری بیڑے کو بحر او قیانوس میں اسپین کے ساحلوں کے قریب ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کی قیادت میں شکست فاش دی تھی۔ اس فتح کی یاد میں لندن کا ٹریفیلگر اسکوائر نہ صرف لندن شہر کی پہچان، بلکہ اس شہر کے ثقافتی اور سیاسی ،میلوں اور جھمیلوں کو زندہ رکھنے کا مقام بھی فراہم کرتا ہے۔ ایڈمرل نیلسن کے یادگاری عمود کے چاروں کونوں پر کانسی سے تیار کردہ دیو قامت چار شیروں کے مجسمے ٹریفلگر اسکوئر کا نشان امتیاز ہیں۔ اس اسکوائر کے ایک طرف، نیشنل گیلری آف آرٹ کی خوبصورت عمارت ہے، جسے، اس طائرانہ سفر میں ہم نہیں دیکھ پائے۔
لندن شہر کا سب سے بالائی مقام لڈ گیٹ ہل ہے۔ پچھلی چند دہائیوں تک لڈ گیٹ ہل کا علاقہ انگلستان کی صحافتی اور ادبی سرگرمیوں کا دل کہلاتا تھا۔ یہاں نہ صرف مختلف اخبارات کے دفاتر اور چھاپا خانے اور کتابوں کی خرید و فروخت کے مراکز تھے بلکہ دیگر تجارتی سرگرمیوں کیلئے بھی یہ علاقہ مشہور تھا۔ لیکن موجودہ دور میں لڈ گیٹ ہل کی پہچان، سینٹ پال کیتھڈرل ہے۔ یہ عمارت کسی دور میں لندن کی سب سے اونچی عمارت کہلاتی تھی۔
سترھویں صدی کی اس عمارت کی تکمیل میں ۶ صدیاں لگیں ۔ اس کی خوبصورتی لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس کے گنبد کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین گنبدوں ، میں ہوتا ہے۔
سینٹ پال کیتھڈرل، انگلستان کی شاہی اور حکومتی اعلٰی شخصیات کی اموات پر جنازوں کی رسومات ادا کرنے کا مقام بھی ہے۔ اور یہیں، پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی بھی منعقد ہوئی تھی۔
سینٹ پال کیتھریڈل کے بعد ہماری بس کا رخ ویسٹ منسٹر ایبے کا چرچ تھا۔ اس تاریخی عمارت کی خصوصیت یہ ہے کہ سنہ ۱۰۶۶ سے، انگلستان کے ہر نئے بادشاہ کی تاج پوشی کی تقریب اسی عمارت میں منعقد ہوتی چلی آئی ہے۔ یہ انگلستان کے بادشاہوں ، امرأ اور عظیم شخصیتوں جن میں ولیم شیکسپئیر اور نیوٹن جیسے مرتبے کے اشخاص شامل ہیں، کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔ موجودہ خوبصورت عمارت کا آغاز ۱۲۴۵ عیسوی میں کنگ ہینری سوئم نے شروع کروایا۔ پھر وقفے وقفے سے اس عمارت میں مختلف بادشاہ، اپنے اپنے ادوار میں اس عمارت میں اضافہ کرواتے رہے اور موجودہ عمارت کی تکمیل ۱۵۰۳ میں ہوئی ۔ خوبصورتی اور فن تعمیر کی وجہ سے یونیسکو نے اس عمارت کو دنیا کا ثقافتی ورثہ ڈکلیئر کیا ہے۔
اب سواریوں کو ہماری بس، لندن کی پہچان بنے ہوئے دیگر تاریخی مقامات کی طائرانہ سیر کراتی گزری اور بس کے تمام مسافرین اپنے اپنے موبائل فون سنبھالے ان لمحات کو قید کرتے رہے۔ ہمارا گزر، لندن کے مشہور زمانہ بگ بین کی گھڑی سے ہوتا ہوا، مختلف مقامات سے گزرا۔ جن میں ٹاور آف لندن ، لندن ٹاور برج، لندن آئی، شامل ہیں۔ اسکے بعد ہمارا پڑاؤ ، شاہی خاندان کی لندن میں رہائش گاہ بکنگھم پیلس تھا۔ بکنگھم پیلیس کے خوبصورت باغات، اور اس محل کی خوبصورت عمارت ، تمام سال لاکھوں سیاحوں کو، اپنی طرف کھینچے لے آتی ہے۔ ان سیاحوں میں میری طرح اور بھی کروڑوں لوگ شامل ہیں کہ جو، ان عمارتوں ان باغات اور ان خوبصورت مقامات کی چمک دھمک میں برصغیر ، افریقہ اور دنیا کے دیگر ملکوں سے لوٹی ہوئی دولت کی کا عکس، مزید پیسے خرچ کرکے دیکھنے آتے ہیں۔
تاریخ میں قلعے ، سلطنتوں کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ ترقی ،جدت اور جنگی دفاع کے نئے طریقوں نے قلعوں کی افادیت ختم کردی ہے ۔ موجودہ زمانے میں قلعے محض تاریخی شان و شوکت کے نشان کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن لندن کے اطراف ایک قلعہ ایسا بھی ہے جو پچھلے ایک ہزار سال سے اب تک مستعمل ہے۔ لندن شہر سے تقریباً ۲۵ میل کی مسافت پر، یہ تاریخی قلعہ بنام ونڈسر کیسل واقع ہے۔ ہماری اگلی منزل یہی تاریخی قلعہ تھا۔ ۵۰۰۰ ایکڑ سے زیادہ پر محیط یہ قلعہ دنیا کے سب سے بڑے اب تک مستعمل قلعوں میں واحد قلعہ ہے۔ اس قلعے کی خصوصیت اس کی تعمیری خوبصورتی کے علاوہ یہ ہے کہ یہ پچھلے ایک ہزار سالوں سے شاہ برطانیہ کی سرکاری رہائشگاہ ہے۔ اس میں کئی شاہی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے اور ملکہ برطانیہ دوئم کی آخری آرام گاہ بھی یہی قلعہ ہے۔ اس قلعے کی تعمیری خوبصورتی، اسکے خوبصورت کمرے اور انکی آرائش و زیبائش دیدنی ہے۔ سیاحوں کے لئے یہاں خاص طور پر بازار بھی قائم ہے جو مختلف قسم کی ثقافتی اور یادگاری اشیأ سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں لذت کام و دہن کے لوازمات بھی بہت ہیں اور ہمارا ظہرانہ ان حقیقتوں پر مہر ثبت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہاں سے فارغ ہوکر، ہماری منزل ہوٹل تھی۔ ہوٹل پہنچ کر ہمارے گروپ کے دوسرے ساتھی ، اپنی اپنی ثقافت ، اپنے اپنے ذوق اور اپنے اپنے شوق کی تکمیل کیلئے، لندن کی گلیوں میں گم ہو گئے ۔ ہم بھی اپنے شوق کی تکمیل کیلئے، لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کے ٹوور کی ٹکٹ بک کروا چکے تھے، اس لئے کچھ دیر سستانے کے بعد ہم اس تاریخی گراؤنڈ کی سیر کو روانہ ہو گئے۔ کرکٹ کا گھر کہلانے والے اس گراؤنڈ میں کھیلنے کا اعزاز ، دنیائے کرکٹ کے ہر کھلاڑی کے دل کی آواز ہے ، اس کا تعلق چاہے کسی بھی ملک سے کیوں نہ ہو، اسے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلنا ایک خواب محسوس ہوتا ہے۔ دو صدیوں سے زائد عمر کا یہ گراؤنڈ ، ۳۰۰۰۰ ہزار تماشیوں، کو کرکٹ کے کھیل سے لطف اندوز ہونے کی سہولت بہم پہنچاتا ہے۔ اس کا جدید دور کا جے پی مورگن میڈیا سینٹر، ، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی بناوٹ اور محل وقوع دیکھنے والوں کو ایسا پینوریمک منظر دیتی ہے ، کہ وہاں بیٹھ کر پچ آپکو بہت واضح اور قریب نظر آتی ہے۔ کسی بھی کھیل کے دوران سوائے متعلقہ افراد کے، میڈیا سینٹر، میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس سینٹر کو صرف ٹوور کے دوران ہی اندر سے دیکھا جاسکتا ہے۔اس گراؤنڈ کا کرکٹ میوزیم، دنیائے کرکٹ کا قدیم ترین میوزیم ہے اور یہاں کئی تاریخی نوادرات ، کرکٹ کی تاریخ سے شوق رکھنے والے افراد کو دلبستگی فراہم کرتی ہیں۔ لیکن اس ٹور کے دوران جو خاص چیز میرے علم میں آئی وہ، ہندوستان کے لوگوں کی کرکٹ سے لگن تھی۔ اس ٹوور میں تقریباً پچاس افراد تھے اور ان ۵۰ میں غیر ہندوستانی محض چار۔ دو ہم میاں بیوی اور دو ساؤتھ افریقن اور انکا تعلق بھی ہندوستان ہی سے تھا۔ گو ہم بھی کرکٹ کے دیوانے ہیں لیکن ہندوستانی لڑکے اور لڑکیوں کا شوق اور ذوق دیدنی تھا۔
اس ٹوور سے فارغ ہوکر، اب ہم تقریبا ًْ نڈھال ہو رہے تھے، لہٰذا فوراً ہوٹل کا رخ کرکے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے۔ اس وجہ سے بھی، کہ اگلے روز پیرس روانگی تھی۔
خالد قاضی
Looks like we are visiting to the place s beautifully described of this tour.
شکریہ بھائی
اردو کی اچھی گرفت رہی اس کالم میں کیونکہ سفر نامہ لکھنا اور وہ بھی ایک بہتے دریا کی طرح اچی کاوش ہے، میں نے جولائی 2025 میں مسلمہ یورپ کی سیر وتفریح کی اور 5500 کم محیط سفر تھا SUV میں، اٹلی کے اضلاع میں، روم وینس فلورینس میلان لیک کومو ٹیرانو، سوئٹزرلینڈ سینیٹ مورٹز اور ڈیووس، لیخ ٹنشائن، جرمنی کے شہر میونخ اسٹوٹگارٹ ہائڈلبرگ، آسٹریا کے شہر ویانا اور وہاں سے کروز میں سلواکیہ کے شہر بارتسلاوا، مگر آپ کی طرح لکھنے کی صلاحیت نہیں یادداشتوں کو الفاظ کے پیرائے میں بند کرنے کی۔، اللہ تعالٰی اپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
ہمت افزائی کا شکریہ
ماشااللہ خالد بھائ پرُمغز سیاسی نکتہ دانی کے بعد اتنا دلچسپ سفر نامہ لکھنے پر مبارك باد ۔ چیدہ چیدہ مقامات کی تصاویر تو آپ نے ضرور لی ھونگی اگر ھو سکے تو وہ بھی شامل کریں عین نوازش ھوگی ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا ۔
سر مشورے کا شکریہ۔ لیکن تصاویر آپکو جب سفر نامہ مکمل ہوکر کتابی شکل میں آئے گا تب ملیں گی
.Excellent! More power to you, Kazi Bhai
Thank you for encouragement
ماشاءاللہ ۔ آ پ نے اچھا سفرنامہ۔لکھا ںے۔
ہمت افزائی کا شکریہ