نکتہ داں- ۱۶۱
۵ نومبر ۲۰۲۵
آئینی مارشل لا، بشکل ۲۷ویں ترمیم !
پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے، اسے دنیا کے ممالک میں عزت کا مقام دلانے اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے، ضروری تو یہ ہے کہ، ایسے فیصلے کئے جائیں کہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہو۔ اور معاشی استحکام کی منزل ، سیاسی استحکام کے بغیر ناممکن ہے۔
سیاسی استحکام کا حصول بنا مشاورت ، اکیلے چلنے سے کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بقول شاعر:
دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔
۔ اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑانے سے، یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ شروع دن سے وہ قوتیں جو ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کے شروع ہونے سے قبل کی آخری ساعات تک، ملکہ برطانیہ کی بادشاہت کے تحفظ کے حلف کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے، وہ بین الاقوامی طاقتوں کے آلہ کار بن کر، ملک پر قابض ہو گئے ۔ان میں خاکی اور سول بیوروکریسی دونوں شامل تھیں جبکہ عدلیہ نے چند سہولتوں کے عوض ، ان دونوں قوتوں کی معاونت، بڑی ڈھٹائی اور بے حیائی سے کی اور اب تک کرتی آرہی ہے ۔
لیکن وقت اور دنیا کی بدلتی صورتحال نے پاکستانی عوام کے شعور میں اضافہ کیا اور جمہوریت کی امنگ ان کے دلوں میں جاگی۔
بادشاہت اور ڈکٹیٹرشپ اپنی حکمرانی کے دوام کیلئے، لوگوں کے درمیان مفاہمت، یگانگت اور ایکے کو کبھی برداشت نہیں کرتے۔ جبکہ آئین ایک ایسی دستاویز ہے جو مختلف قومیتوں ، مختلف ثقافتوں اور مختلف صوبوں کے عوام کو ، باہمی رضامندی سے طے کئے گئے معاہدے (آئین ) کے تحت جوڑ کر ، انھیں بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کے خلاف ایک قوت بنا کر مدافعت فراہم کرتاہے۔ ڈکٹیٹروں کو آئین کبھی نہیں بھاتا اور اس ہی لئے کئی ڈکٹیٹر آئین کو کاغذوں کے چند ٹکڑے کہتے رہے ہیں ۔ اور ، حکومت پر بندوق کی طاقت کے ذریعے قبضہ کرکے، ڈکٹیٹرز سب سے پہلے آئین کو معطل کرتے چلے آئے ہیں۔
چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں آئین کی اہمیت واضح ہو چکی ہے اس لئے جرنیلوں کیلئے آئین سے مفر ممکن نہیں رہا۔ لیکن اقتدار کی ہوس ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
جرنیلوں کی اس ہوس کو بین الاقوامی طاقتیں بھی شہ دیتی ہیں۔ تاکہ جرنیلوں کے غیر قانونی قبضے کی حمایت کے عوض، وہ اپنے علاقائی اھداف حاصل کر سکیں۔ یہی بدقسمت کہانی پاکستانی سیاست کا مقدر بنی ہوئی ہے۔
تو اب کیا ہونے جارہا ہے ؟
جرنیل نہ صرف اقتدار کی ہوس میں دیوانے ہوچکے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی تمام معدنیات ، انڈسٹری، شہری اراضی اور جملہ مالی وسائل پر ، بنا شرکت غیرے ، قابض ہونے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ وہ بھی آئینی ترمیمات کے ذریعے۔ اس منصوبے کو سجھنا مشکل نہیں ہے۔
ظاہری بات ہے وہ خود سامنے آکر اپنے اھداف، بزور طاقت حاصل نہیں کرسکتے ، اسکے لئے انھیں کسی سویلین حکومت کی ضرورت ہے۔ اس کا حل انھوں نے ایک غیر نمائندہ پارٹی کو جو عوام کی حمایت نہیں رکھتی، اسے فارم ۴۷ کے ذریعے کامیاب کروا کر، حکمران بنا دیا ہے۔ اور اس غیر نمائندہ حکومت کے ذریعے جرنیل وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انھیں پاکستان کے تمام وسائل پر اختیار عطا کردے۔
مجھے حیرت ہے، مسلم لیگ ن کے رہنما نوازشریف پر۔ کیا یہ سب کچھ اس کی آشیرباد سے ہورہا ہے ؟ کیا یہ سب ووٹ کو عزت دینے کا سبب بنے گا؟
آئیے ہم ایک ایک کر کے، تمام فریقین پر گفتگو کریں۔
ٹی وی ٹاک شو میں، جب میں نے ن لیگ کے رہنما ، رانا ثنا اللہ، جو ایک سیاسی کارکن اور سیاسی ذہن رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں، کو، فرمائشی فیلڈ مارشل کی تعریف کرتے ہوئے انھیں، اسلامی تاریخ کے جلیل القدر جرنل، خالد بن ولید کے ہم پلہ قرار دیا تو میں سمجھ گیا کہ ن لیگ، پنجاب میں اپنی ذلت آمیز ناکامی کا ادراک رکھتی ہے اور اس ہی لئے وہ اپنی حکومت کی بے ساکھی (عاصم منیر) کی اس قدر تعریف کرنے پر مجبور نظر آتی ہے۔ لیکن بطور سیاسی طالبعلم ، میں ن لیگ کے اس فیصلے سے، ن لیگ میں دراڑ پڑتی دیکھتا ہوں۔ ن لیگ میں سیاسی ذہن رکھنے والے کئی رہنما ۲۷ ویں ترمیم کی وجہ سے، شاید علیحدگی حاصل کریں۔ ن لیگ میں ، مریم نواز گروپ اور شہباز شریف گروپ تشکیل پاچکے ہیں، اب یہ ایک دوسرے کو ناکام ثابت کرنے کیلئے، ن لیگ کی کشتی میں خود ہی سوراخ کرتے رہیں گے۔
اب بات کی جائے پیپلز پارٹی کی۔ بلاول بھٹو اس سے پہلے پاس کی گئی ۲۶ ویں ترمیم کے آئین کا حصہ بننے کا علی الاعلان کریڈٹ لیتے رہے ہیں، لیکن، بلاول اور مولانا فضل الرحمٰن نے ۲۶ ویں ترمیم کی کئی تجویز کردہ کئی شقوں کو نہ مان کر ہٹوایا بھی تھا۔۲۶ ویں اور ۲۷ ویں آئینی ترامیم کا تقابل اس لئے کر رہا ہوں کہ دونوں ترامیم کے سامنے آنے پر، بلاول کا رد عمل مختلف ہے۔ ۲۶ ویں آئین کے برخلاف، ۲۷ ویں ترمیم کی تجاویز حکومت نے نہیں، بلاول نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے عام کیں ورنہ حکومت تو اس ترمیم کو بھی پیکا قانون کی طرح خاموشی سے منظور کروانا چاہ رہی ہے۔ بلاول نے ٹویٹ کرکے اس ترمیم کی تجاویز کو عام کردیا تاکہ تمام مکتب فکر کے لوگ اس پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ دوسرا فرق یہ کہ، ن لیگ نے اس ترمیم کو کسی پارٹی پلیٹ فارم میں بحث کیلئے نہیں پیش کیا بلکہ یہ چند لیڈروں کا فیصلہ ہے، جبکہ بلاول نے اپنے ٹویٹ میں یہ واضح کیا کہ فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کریگی۔ میرے خیال میں بلاول کے دونوں اقدام ، اس ترمیم کے خلاف عوامی رد عمل بیدار کرنا ہے۔ تیسری اہم بات، پیپلز پارٹی کے تین رہنماؤں نے اس ترمیم کے خلاف اعلانیہ اختلاف ریکارڈ کروایا ہے۔ سینٹر رضا ربانی، سینیٹر شیریں رحمان اور ممبر قومی اسمبلی شازیہ مری کا اختلاف خبروں اور ٹیلیوژن پر نشر ہوچکا ہے۔ ۶ نومبر کا دن واضح کردے گا کہ پیپلز پارٹی کس طرف کھڑی ہوتی ہے(واضح رہے کہ ۶ نومبر کو پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہے)۔ اگر پیپلز پارٹی اپنی سیاسی وراثت یعنی جمہوریت کے ساتھ کھڑی رہتی ہے، تو آئندہ کا سیاسی مستقبل یقیناً تابناک ہوگا ورنہ، پیپلز پارٹی کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے کہ مقتدرہ کی جانب سے، اس پر وار ہونا ہی ہے ، چاہے وہ ۲۷ویں ترمیم کی معاونت کریں گے یا مخالفت۔ مخالفت کی صورت وہ اپنا سیاسی وجود برقرار رکھ پائیں گے وگرنہ مقتدرہ کے مستقبل کے ایجنڈے میں غیر سیاسی الیکشن ہیں (یہ میری پیشین گوئی ہے)اور وہ سیاسی جماعتوں کو بالکل ختم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
اب ذکر کچھ مولانا فضل الرحمٰن کا۔ میرے خیال میں مولانا ، خیبر پختون خواہ میں ، علی امین گنڈا پور کے ہاتھوں اپنی شکست کو نہیں بھولے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی بقا ، اس ترمیم کی مخالفت ہی میں پائیں گے
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان کے متعلق میرا سیاسی ذہن مطمئن ہے کہ وہ ۲۷ ویں ترمیم کی مخالفت کریں گے
مہاجر قومی موومنٹ کو معلوم ہے کہ وہ فارم ۴۷ کی پیداوار ہیں ۔ انھیں اپنی بقا ترمیم کی حمایت ہی میں نظر آتی ہے۔
جماعت اسلامی اس وقت ایک شدید دھچکے سے گزر رہی ہے۔ سینیٹر مشتاق کے جماعت کو خیرباد کہنے سے جماعت کا نوجوان کارکن، اپنی قیادت کے متعلق شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے ،جب وہ ملک کے حالات کا ۲۷ویں ترمیم کے پس منظر میں ، سینیٹر مشتاق کی آل پارٹیز کانفرس میں دلیرانہ تقریر کو سنتا ہے جس میں جرنیلوں، حکومت اور بین الاقوامی معاملات پر سینیٹر مشتاق کے خیالات واضح ہوتے ہیں اور اس کے مقابلے میں جب وہ اپنے امیر حافظ نعیم کے بیانات پڑھتا ہے جو صرف سندھ حکومت کے ٹریفک چالانوں تک محدود نظر آتے ہیں تو اسکے تذبذب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
آخر میں ذکر ہمارے فرمائشی فیلڈ مارشل کا۔
پاکستان میں اس وقت اگر پسندیدگی اور ناپسندیدہ شخصیت کی ترتیب مرتب کی جائے تو بقول عالمی پریس کے، کہ بظاہر ٹرمپ کی پسندیدہ شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے ملک کے عوام کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت شمار کئے جاتے ہیں۔
حالانکہ پاکستان کے دفاع میں چینی طیاروں اور میزائلوں نے اپنا لوہا منوالیا ہے، جبکہ چینی اسلحہ قدرے سستا بھی ہے اور ہم مشترکہ طور پر بھی اسلحہ بنا رہے ہیں ، پھر اچانک امریکہ سے دور مار میزائل خریدنے اور امریکہ کے ہماری فرمائش کو فوری منظور کرنے کے پیچھے ، امریکی صدر کا لالی پاپ، بصورت کک بیک تو نہیں ؟ کیونکہ چین کک بیک کے معاملے میں خشک شمار ہوتا ہے۔
عاصم منیر، ۲۷ ویں ترمیم کے ذریعے، جمہوری وزیر اعظم کو آرمی چیف کو مقرر کرنے کا اختیار ختم کروانے کے درپے ہیں۔ وہ پاکستان کی تمام معدنیات کا حصہ صوبوں کو دینے کے مخالف ہیں، وہ ججوں کو حکومتی لونڈی بنانے کے درپے ہیں، وہ صوبوں کو ۱۸ ویں ترمیم کے صوبائی حصے کو نچلی سطح تک پہنچانے کے بجائے ان سے وہ حق ہی چھین لینا چاہتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ ان اقدامات سے عوامی رد عمل آئے گا، اسے کنٹرول کرنے کیلئے وہ انگریزوں کا بنایا ہوا ایڈمنسٹرٹر میجسٹریٹ کا ظالمانہ نظام دوبارہ لاگو کرنا چاہتے ہیں
کیا وہ یہ سب کر سکیں گے ؟
میری رائے اس کی نفی کرتی ہے۔ اللٰہ کرے میری خوش فہمی سچ ثابت ہو۔ لیکن اس کے لئے عوام کو باہر نکلنا پڑے گا، اگر آج بھی گھر بیٹھے رہے تو ہمیں کسی اور سے شکوہ کرنے کا حق نہیں ہے
خالد قاضی