NUKTADAAN

Reading: ‏۱۶۲۔ ستائیسویں ترمیم اور اسکے بعد
Reading: ‏۱۶۲۔ ستائیسویں ترمیم اور اسکے بعد

‏۱۶۲۔ ستائیسویں ترمیم اور اسکے بعد

admin
15 Min Read

نکتہ داں-162

۱۱ نومبر ۲۰۲۵

۲۷ ویں ترمیم اور اسکے بعد۔

میں ناشتے کی میز پر تھا، کہ گھنٹی بجی۔ دیکھا تو میری بہو فیس ٹائم پر تھیں۔سلام کے بعد، اسکا پہلا سوال یہ تھا کہ چچا آپ کیا کر رہے ہیں اور کیا مصروفیت ہے ؟ جواباً میں نے کہا کہ کوئی خاص نہیں، آپ بولو۔ کہنے لگی ایک کام ہے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ عمر(بڑا پوتا) کے اسکے اسکول میں، لے گو(LEGO) مقابلہ ہے۔ چھوٹا (حسن)اپنے ابو کے ساتھ، فٹبال میچ کھیلنے گیا ہوا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دوسری گاڑی کی چابی نہیں مل رہی اور عمر کو اسکول سے دوپہر ایک بجے اٹھانا ہے۔ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، بے فکر ہو جاؤ میں لے آؤں گا۔حالانکہ ہفتہ چھٹی کا دن ہوتا ہے، لیکن یہاں کے اسکول، طالبعلموں کی مثبت تفریح کیلئے، کوئی نہ کوئی پروگرام بنائے رکھتے ہیں اور مختلف ذوق اور شوق رکھنے والے بچوں کی( عمر اور پسند کے مطابق) انکی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔

اسکول کے بڑے سے ہال میں ایک میلے کا سا سماں تھا اور تقریباْ ڈیڑھ دو سو بچے ، چار چار کے گروپس میں، اپنے استادوں کی زیر نگرانی، “لے گو” کے پلاسٹک کے ٹکڑوں سے مختلف ماڈل تیار کر رہے تھے۔ عمر، اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ، ایک  ٹریکٹر نما گاڑی بنا رہا تھا جو نہ صرف چلتی تھی بلکہ مختلف کام بھی انجام دیتی تھی۔

عمر گریڈ 6 میں ہے۔

عمر کو واپس لاتے ہوئے، راستے میں، ڈرائیونگ کے دوران میں،سوچتا رہا کہ دنیا کی قومیں اپنی نسلوں کا دھیان آگے بڑھنے میں لگائے رکھتی ہیں اور ہماری قوم ترمیمات کے ذریعے، آگے بڑھنے کے بجائے، ملک کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

میرے مطابق، ہم لوگوں میں خرابی یہ بھی ہے، کہ ہم سب اپنے اپنے خول اور اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے اوپر اٹھ کر نہیں دیکھتے۔ ہر ایک نے اپنے اطراف ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے اور اس لکیر کے باہر کی کوئی چیز ، چاہے کتنی ہی معقول کیوں نہ ہو، ہمیں قبول نہیں ہوتی۔ اور اپنی نامعقول باتوں کی توجیہ بنانے میں ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

میری کوشش ہے کہ ۲۷ ویں ترمیم کے پاس ہوجانے کے مراحل کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا ذکر کروں۔

چونکہ آج یہ ترمیم سینیٹ سے پاس ہوچکی ہے اور اسکے خدوخال واضح ہیں اس لئے، ماتم بھی، بنا کسی رد و کد کے،  کیاجاسکتا اور تعریف میں بھی کنجوسی نہ کی جائے ۔

بلاول کی ٹویٹ نے ایک امید بندھائی تھی، کہ حکومت تو خاموشی سے  پیکا قانون کی طرح کام دکھانا چاہتی تھی لیکن بلاول کی ٹویٹ سے یہُ ترمیم دائرہ عام میں مباحثے کیلئے دستیاب ہوگئی۔

دوسری خوشی اس امر پر ہوئی کہ مسلم لیگ کے تو ممبران پارلیمنٹ بھی اس ترمیم کے خد وخال سے ناواقف تھے لیکن، پیپلز پارٹی نے فوراً اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلالیا تاکہ، مشترکہ غور خوض کے بعد کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔ اور بلاول کی پریس کانفرنس نے تو دل میں جمہوریت پر ایمان کے جھنڈے گاڑ دئیے۔  جب اعلان ہوا کہ، سوائے آرٹیکل ۲۴۳ کے دوسرے تمام نکات نامنظور۔ اور یقین مانیں کہ دل بلیوں اچھلنے لگا جب پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی، جسکے چیئرمین اور کوئی نہیں، پیپلز پارٹی کے فاروق نائیک تھے تشکیل دی گئی ، تاکہ دیگر امور بھی طے کئے جاسکیں۔ یہی جمہوری طریقہ بھی ہے اور ۷۳ کا آئین اور ۱۸ویں ترمیم، جس پر پوری قوم متفق ہے، اس ہی جمہوری طریقے سے منظور کی گئی تھیں۔ لیکن ہوا کیا ؟

 کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔

مجھے نہیں معلوم، کہ شہید ذولفقار علی بھٹو اور شہید بی بی بے نظیر بھٹو کی روحیں، بلاول کی کارکردگی پر کس طرح ماتم کناں ہونگیں؟

وہ جمہوریت، جسکی بھٹو شہید نے عوام کے دلوں میں، بنیاد رکھی اور جسکے دفاع کیلئے شہید بی بی زندگی کو خطرات کے باوجود وطن واپس لوٹیں ، اور عوامی بالادستی کو قائم رکھنے کی بنیاد، جو پیپلز پارٹی کی پہچان ہے، اسے کس طرح ۲۷ ویں ترمیم نے نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے۔

آئیے اس گہرے زخم کو کریدیں ۔ 

عوامی بالادستی کا سب سے بڑا ثبوت، وزیراعظم کا وہ اختیار ہے کہ وقت آنے پر، وہ کسی بھی تھری اسٹار جرنل کو، بنا کسی سنیارٹی کے، بری فوج کا سربراہ منتخب کرسکتا ہے اور بری فوج کے سربراہ کو اسکی مدت ملازمت کے دوران، جب چاہے، اپنی صوابدید پر،  عہدے سے  سبکدوش کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ 

یہ دونوں اختیار وزیراعظم نے آرمی چیف یا فیلڈ مارشل کے قدموں میں رکھ دئیے ہیں۔ اب وہ اس ہی جرنل کو آرمی چیف مقرر کرنے کا پابند بنادیا گیا ہے جس کی موجود آرمی چیف سفارش کرے گا۔

گویا اس طرح عاصم منیر نے، اپنے سابقہ جرنلوں کے وزیر اعظم یا اپوزیشن سے گٹھ جوڑ کرکے اپنے ہی سربراہ کے خلاف سازش کرنے کا دروازہ بند کردیا ہے، لیکن ، وہ یہ بھول گئے ہیں کہ، لالچ اور ہوس اب دوسرے راستے اختیار کرے گی جو افواج کے نظم وضبط کے خلاف زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

پاکستان  کی  زمینی، فضائی اور سمندری دفاع کے تینوں شعبے، اپنے اپنے دائرہ عمل میں، آزادانہ فیصلے کرتے آرہے ہیں۔ انکے درمیان، رابطے   ہم آہنگی اور اشتراک عمل کا کام، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹافس کمیٹی کے توسط سے بخوبی انجام دیا جاتا رہا ہے۔ اصولی طور پر اسکی سربراہی باری باری ہر شعبہ دفاع کے چیف کو سنبھالنی چاہئے لیکن یہ ذمہ داری زمینی افواج کے سینئر ترین کمانڈر کے ذمے ہی  رہی ہے۔اس ترمیم نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹافس کے عہدے کو ختم کرکے باقی فضائی اور سمندری فوج کے سربراہوں کو آرمی چیف کا ماتحت بنا دیا ہے 

تاریخی طور پر ،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افواج کے تینوں شعبے ، اپنے اپنے دائرہ اختیار میں، کسی دوسرے چیف کی مداخلت قبول نہیں کرتے۔اور  اپنے اپنے دائرہ عمل میں، انکے درمیان مسابقتی دوڑ ،کا نتیجہ بہتر کارکردگی کی صورت میں عیاں ہوتا چلا آیا ہے۔

ملک کی سمندری اور فضائی افواج کو بری فوج کے ماتحت ہو جانے سے، کارکردگی اور مورال پر کیا اثرات ہونگے اس پر کسی نے غور کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔

ملک کے نیوکلیر اثاثے اور انکی نگرانی، نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے ذمے ہے اور اسکا سربراہ بھی وزیراعظم ہے۔ اب یہ ذمہ داری بھی بری چیف کے سپرد کردی گئی ہے۔ 

یہ ایک بہت خطرناک فیصلہ ہے۔ اسکے نتائج پوری قوم بھگت سکتی ہے۔ 

آپ کی تینوں افواج کے سربراہاں ، حکومت وقت کو جوابدہ تھے۔ اس ترمیم کے بعد، سمندری اور فضائی افواج کے سربراہان حکومت کو نہیں، بری فوج کے سربراہ کے آگے جوابدہ ہو جایئنگے۔

اسکے بعد، آپکے نیوکلئیر اثاثے بھی ایک شخص یعنی آرمی چیف ہی کے اشارہ ابرو کے منتظر ہونگے۔ اس پس منظر میں ، مجھے جرنل عاصم منیر کیلئے ٹرمپ کا لنچ ، اس قوم پر بہت بھاری ہوتا نظر آرہا ہے اور ٹرمپ کی طرف سے فیلڈ مارشل کی جابجا تعریفیں کیا رنگ لائیں گی، یہ سوچ کر دل  دہل جاتا ہے۔

اور ان تمام اختیارات کے ساتھ ساتھ بونس یہ کہ، تمام عمر،  فیلڈ مارشل کے ٹائیٹل کو سینے سے سجائے، اپنے کسی عمل کے مواخذے کیلئے عدالتی دائرے سے آزاد رہیں گے۔ ۲۷ویں ترمیم کی اس شق کے ہوتے ہوئے، فیلڈ مارشل اگر کل مارشل لا لگادیں تو کوئی عدالت انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی گویا ۲۷ویں ترمیم نے آرٹیکل 6 کے اثر کو ضائع کر دیا ہے۔ اور انکو عہدے سے برخاست کرنے کا اختیار بھی اب وزیراعظم کے پاس نہیں رہا۔ پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ہی انھیں ہٹا سکتی ہے۔ یعنی، نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔

اور اس سارے نذر نیاز کے عوض، آصف علی زرداری بحیثیت صدر پاکستان ، تمام عمر، اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے کسی بھی  عمل کے مواخذے سے آزاد ہونگے۔

واہ رے بلاول واہ

جو ترمیمات عدلیہ کے دائرہ اختیار میں کی گئیں ہیں انھیں میں ایک مختلف پس منظر میں دیکھتا ہوں۔

میری رائے میں اگر اس وقت عدلیہ پر قدغن لگائی جارہی ہے تو مجھے کوئی بتائے کہ، ماضی میں، آزاد حیثیت میں عدلیہ نے کونسے قابل فخر فیصلے کئے ہیں۔ ڈکٹیٹروں کے ہر فیصلے کی توثیق اسی عدلیہ نے کی، جرنلوں کو آئین میں تبدیلی کا اختیار دیا، جرنل کو وردی میں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت دی اور ڈکٹیٹروں کے ہر غیر قانونی عمل میں معاون کا کردار ادا کیا اور پنجاب کے ججز نے بھٹو کو پھانسی دینے میں کردار ادا کیا۔بے نظیر کی گورنمنٹ بر طرف کرنے کے عمل کی توثیق کی اور ان ہی الزامات پر نواز شریف کی حکومت کو برطرف کرنے کے عمل کو خلاف قانون قرار دیا۔ اگر اس پس منظر میں، آئینی معاملات کیلئے اگر آئینی عدالت بنائی جاتی ہے جس کے ممبران تمام صوبوں سے برابر برابر لئے جائینگے تو اس میں کیا برائی ہے۔ 

بڑی بڑی صنعتوں اور تجارتی فرموں کے ٹیکس چوری کے مقدمات پر سپریم کورٹ اسٹے آرڈر جاری کرکے سالہا سال ان کیسوں کو لٹکائے رکھتی ہے اور فیصلہ ہی نہیں کرتی۔ اگر ایسے تمام کیسوں کے معاملات میں اسٹے آرڈر کو غیر معینہ مدت تک رکھنے کے بجائے ایک سال میں طے کرنے کا پابند کیا گیا ہے تو کونسی غلط بات ہے۔

میری رائے میں، ہائیکورٹ میں تقرری کے مرحلے کو شفاف بنانا ضروری ہے اور ہائیکورٹ کیلئے، محض حکومتی نامزدگی نہیں ہونی چاہئے بلکہ کوئی بھی امیدوار خود بھی اس کیلئے اپلائی کرنے کا اہل ہو، لیکن اس کی اہلیت دنیا میں رائج طریقہ کار ، جس میں پارلیمنٹری کمیٹی کے سامنے پیش ہونا بھی شامل ہے اور کوئی بھی شخص اس تقرری کو چیلنج کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔ ان تمام مراحل سے گزر کر جب کوئی ہائیکورٹ کا جج مقرر ہوجائے تو پھر سنیارٹی کے اصول پر طے شدہ فارمولے کے تحت سپریم کورٹ تک ترقی کی جانی چاہئے۔

عدالتی استثنٰی وزیراعظم کیلئے بھی تجویز کیا گیا تھا لیکن شہباز شریف نے یہ شق واپس لے لی۔ مجھے ماضی کی تاریخ کو نظر میں رکھتے ہوئے اس فیصلے پر افسوس ہوا ہے۔ کیونکہ اب تک ناحق وزیراعظم ہی عدالتوں کے ذریعے قتل کئے گئے، بر طرف کئے گئے، نا اہل کئے گئے۔ اس پس منظر میں وہ عدالتی استثنٰی کے مستحق ہیں ۔ اسکے علاوہ اور کسی کو استثنٰی نہیں ملنا چاہئے۔ 

سوشل میڈیا پر اس ترمیم کے متعلق مختلف قسم کے تبصرے، کارٹون اور مزاحیہ جملے گردش کر رہے ہیں۔ ان پوسٹوں میں مجھے سب سے زیادہ افسوس اور غصہ ان پوسٹوں پر آیا کہ جس میں ۷۳ کے آئین کا جنازہ ، ۷۳ کے آئین کی قبر اور اس پر کتبہ دیکھا۔ اس قسم کی پوسٹیں میرے خیال میں مقتدرہ کی طرف سے جان بوجھ کر پوسٹ کی جارہی ہیں۔ ان پوسٹوں کا مقصد ، قوم میں مایوسی پھیلانا، ان ترمیموں کو اپنا مقدر سمجھ لینا، “اسٹیٹس کو”  قبول کرنا ہے۔ میری سرشت میں ناامیدی گناہ ہے، پاکستانی قوم زندگی اور جہد سے بھرپور قوم ہے۔ اس نے اس سے پہلے بھی ڈکٹیٹروں کو شکست دی ہے اور آج بھی وہ انھیں کٹہرے میں لا سکتے ہیں ۔ آج بھی قوم عظیم لیڈروں، جن میں وکلاء ، صحافی، پارلیمنٹرین مفکر ، تعلیم کے شعبے کے علاوہ ،  زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ ان میں چند نام میرے ذہن میں آرہے ہیں جن میں سر فہرست سینیٹر مشتاق ، وکلاء منیر ملک , رابعہ باجوہ اور علی احمد کرد، سیاستدان مصطفٰی نواز کھوکھر ، محمود خان اچکزئی، ایمل ولی خان ، صحافیوں میں حامد میر، مظہر عباس ، وسعت اللٰہ خان اور کئی نام ہیں ۔ یہ وقت گھر بیٹھے رہنے کا نہیں بلکہ اپنے اختلاف، ناراضگی کا بے خوفی سے اظہار کا وقت ہے۔ 

اس وقت خاموشی گناہ ہے اور بولنا فرض۔

‎بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

‎بول زباں اب تک تیری ہے

‎تیرا ستواں جسم ہے تیرا

‎بول کہ جاں اب تک تیری ہے

خالد قاضی 

Share This Article
2 تبصرے
  • آپنے بھی خوب دل شکن خاکہ بنایا ہے اپنے تہیں لیگو سمجھ کر ! اب اسے چلانا بھی ہوگا ؟ گو کہ افسوسناک حقائق اور اندیشے بھی شاملِ گفتگوں ہیں .
    ان سیاست دانوں کی عقلیں کیوں دنگ رہ گئیں اس کی وجہ کیا ہے ؟ کیوں ایک وائٹ ہاؤس کے لنکچ نے سب ہی سیاست دانوں کو لائن حاضر رکھا ہے ؟
    اب جب بقول آپ کے فیلڈ مارشل مارشللاُ بھی لگا کر بچ سکتا ہے تو پھی کہاں کی پارلیمان اور کہاں کی سیاست ؟

    اس لین دین میں صدر پاکستان کی تہ حیات استہثنہ کے کچھ اور کیا حاصل ؟ کیا قوم اسے یوں ہی حاضم کر پاۓ گی ؟

    آپ کو بحثیت باوقار اور با جرت تخزیہ نگار ہونے کے ناطے ، اس سارے معاملے میں سے کچھ سلور لائٹنگ جمہوریت کے حق میں نکال دکھانی ہوگی ، جس کا انتظار ہے گا !

    • محترم، پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے ہی مدو جذر سے بھری ہوئی ہے۔ اگر حالات کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں تو حالات کا مقابلہ بھی کرنے والے سیاستدان تھے اور اب بھی ہیں۔ میں نے چند کے نام بھی گنوا دیئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے