NUKTADAAN

Reading: ‏۱۶۳۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا
Reading: ‏۱۶۳۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

‏۱۶۳۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

admin
16 Min Read

نکتہ داں-163

۱۴ نومبر۲۰۲۵

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

۷۳ کے آئین  کی شق ۲۴۳ میں،  ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے، پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کردی گئی ہے۔اس ترمیم کے دور رس نتائج سامنے آئینگے ۔ اس ترمیم کی وجہ سے، عوامی حاکمیت کے تصور اور جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکال دی گئی ہے۔ ۷۳ کا اصل آئین، عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم کو یہ اختیار دیتا تھا کہ، ملک کی فوج کے سربراہ کے انتخاب کیلئے، موجود جرنیلوں میں سے ، سنیارٹی  کا لحاظ کئے بغیر،  جسے چاہے منتخب کرے۔ لیکن ترمیم کے بعد، وزیراعظم کا یہ استحقاق ختم ہوگیا ہے۔ اب اسی شخص کو آرمی چیف بنانا ہوگا جس کی سفارش،  موجود آرمی چیف کرے گا۔ وہ اپنی ہی میعاد میں توسیع کا بھی مشورہ دے سکتا ہے۔ جو وزیراعظم کو ماننا پڑے گا۔وزیراعظم کا آرمی چیف یا فیلڈ مارشل کو ہٹانے کا بھی استحقاق چھین لیا گیا ہے۔ اب اسے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ہی برخاست کرسکتی ہے۔ 

اور میرے لئے افسوس کی بات یہ ہے کہ آئین کی اس ۲۴۳ ویں شق میں تبدیلی پر، کسی بھی سیاسی پارٹی نے بشمول پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف،  کہیں سے کسی قسم کا کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا اور زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ ۲۷ ویں ترمیم قومی اسمبلی سے متفقہ منظور کی گئی اور تحریک انصاف کے واک آؤٹ کرنے سے، ایک بھی نا منظوری کا ووٹ درج نہیں ہوا۔ ایک صورتحال جو میری دلچسپی کا خاص طور پر سبب بنی رہی وہ یہ تھی کہ، پیپلز پارٹی کی تمام  مخالف جماعتیں بمعہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر، پیپلز پارٹی کے نعرے “زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کی تضحیک اور تفنن کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتیں لیکن قومی اسمبلی میں تقاریر کے دوران تمام ممبران ، جو چاہے ۲۷ ویں ترمیم کی مخالفت میں تقاریر کر رہے تھے یا ترمیم کی حمایت  میں، سب نے اپنی تقاریر کی ابتدا، ذوالفقار علی بھٹو کی دور اندیشی، اسکی سیاسی سوجھ بوجھ اور اسکے ۷۳ کے آئین کی متفقہ منظوری کا کریڈٹ دے کر تعریف کرکے کیا، گویا وہ یہ تسلیم کر رہے تھے کہ متفقہ آئین دے کر دراصل بھٹو ابھی تک زندہ ہے۔ اور دوسری طرف، پیپلز پارٹی جو ۷۳ کے آئین کا کریڈٹ لیکر “زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ لگاتی ہے اس نے بھٹو کے کارنامے (متفقہ آئین) کو مارنے یعنی بھٹو کو مارنے میں مکمل ساتھ دیا۔ آج کے بعد، پیپلز پارٹی کو “زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ مارنے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ کہ بھٹو کا انسانی قتل تو جرنیل اور عدلیہ نے کیا لیکن بھٹو کا سیاسی قتل اس وقت بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ 

دوسری طرف عاصم منیر شاید قدرے مطمئن ہوں کیونکہ  اب ان کیلئے ایک لمبی اننگ کھیلنے میں کوئی ممانعت نہیں رہی ۔ بالر بھی ربر اسٹیمپ قسم کے ہیں، ایمپائر بھی قابو میں کرلئے گئے ہیں اور باؤنڈری سے فیلڈرز بھی ہٹا دیئے گئے ہیں ۔ گویا اب ہر بال پر چوکا یا چھکا لگے گا۔ لیکن انھیں یہ خیال نہیں رہے، کہ ایسے میچ کو تماشائی پسند نہیں کیا کرتے۔ بلکہ میدان میں خالی بوتلیں پھینک کر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں۔

تاریخ نے تواتر سے یہ ثابت کیا ہے، کہ بزور قوت، جس نے بھی لمبی اننگ کھیلنے کی ٹھانی، اسکا انجام یا کلین بولڈ ہوکر، یا لیگ بفور وکٹ کے ذریعے یا سلپ پر کیچ ہوجانے سے یا پھر چھکا مارنے کی کوشش میں باؤنڈری پر آسان کیچ دینے کی شکل میں ہوتا رہا ہے۔

ایوب خان کو تو، اسکے مجاور ، بادشاہت پر اکسا رہے تھے۔ لیکن بھٹو نے ایوب کو آئینی صدارت کا جھانسا دیکر، اسے کنوینشن مسلم لیگ کے صدر بن کر الیکشن لڑنے پر آمادہ کیا اور پھر، جب دھاندلی کی وجہ سے ایوب کے خلاف عوامی میدان تیار ہوگیا تو بھٹو نے وزارت سے استعفٰی دیکر ایوب کے خلاف تحریک چلائی اور اسے چلتا کیا۔

یحییٰ خان بھی، مستقل صدر رہنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ مشرقی پاکستان کی قیادت مجیب الرحمٰن کر رہے تھے اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی۔ مجیب الرحمُٰن نے الیکشن چھ نکات کے ایجنڈے پر جیتا تھا اور وہ مشرقی حصے کی مکمل خودمختاری بمعہ کرنسی اور دفاع کے، مشرقی اور مغربی پاکستان کی کنفیڈریشن چاہتے تھے جبکہ  پیپلز پارٹی فیڈریشن کی حامی تھی۔

فیڈریشنوں اور کنفیڈریشن کا فرق یہ ہے کہ کنفیڈریشن کی صورت میں دونوں حصوں کی حکومتیں الگ الگ ہوتیں جبکہ فیڈریشن میں اقتدار ایک پارٹی کو حاصل ہوتا۔ بھٹو کنفیڈریشن اسی طور پر منظور کرنے پر راضی تھے جب پیپلز پارٹی کو مغربی پاکستان پر حکومت کا اختیار دیا جاتا۔ یحییٰ خان محض اپنی صدارت چاہتے تھے اور انکے مارشل لا 70 لیگل فریم ورک آرڈر جس کے تحت الیکشن منعقد کیا گیا اور اسمبلیاں منتخب ہوئیں اس کی شرط تھی کہ ۱۲۰ دنوں کے اندر، اسمبلیوں نے اگر آئین بنا کر منظور نہیں کیا تو اسمبلیاں ختم تصور کی جائیں گی اور مارشل رہے گا۔ پھر دوبارہ الیکشن کروائے جائیں گے۔ گویا الیکشن کا مقصد اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل کرنا نہیں تھا بلکہ یحییٰ خان کے اقتدار میں رہنے پر آئینی طور پر سیاستدانوں کو راضی کروانا تھا۔ یحییٰ خان  کے پلان کا  ثبوت یہ حقیقت ہے کہ ملک دولخت ہونے پر بھی وہ اقتدار چھوڑنے پر راضی نہ تھے اور اسے فوج میں جوان آفیسرز کی بغاوت ہوجانے کے ڈر سے بزور طاقت اقتدار سے اس ہی کے ساتھی جرنلوں نے الگ کیا۔ 

ضیاالحق بھی تمام عمر صدارت میں رہنے کا منصوبہ رکھتے تھے، اس ہی لئے ریفرنڈم کروایا۔ فوجی اقتدار کے خلاف پاکستان سے ہر آواز کو مٹانے ہی کے لئے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا گیا تاکہ اسکے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے کسی سیاستدان میں جرنیلوں سے ٹکرانے کی ہمت نہ رہے ۔ ضیاالحق تمام عمر عہدہ صدارت میں رہنے آئے تھے اور انکا یہ خواب پورا بھی ہوا لیکن دوسری طرح۔ انھیں صدارتی کرسی سے پیار تھا ، لیکن انھیں اپنے ہی ساتھیوں کی خبر نہیں تھی۔ وہ کرسی صدارت کو بقول شاعر کہتے تھے:

رہے  گا  ساتھ  تیرا   پیار ،  زندگی  بن کر 

یہ اور بات، میری زندگی، وفا نہ کرے

 ضیا نے کرسی سے پیار تو ضرور نبھایا لیکن زندگی اور اسکے اپنے ساتھیوں نے وفا نہ کی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

مشرف بھی بہت غرور اور نخوت سے، تمام عمر، کرسی صدارت کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ اسکے لئے چاہے ریفرنڈم کروانا ہو، امریکہ کی چاکری کرنی ہو، طالبان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم ہو، اکبر بگٹی کو شہید کروا دینا ہو، اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن ہو، یا  بینظیر اور  نوازشریف کو واپس پاکستان آکر سیاست کرنے کی اجازت پر اعلانیہ یہ کہنا کہ over my dead body. یہ سب تمام عمر اقتدار کے لالچ ہی کی وجہ سے تھا۔ سیاستدان اپنا کھیل دوسرے طریقے سے کھیلتے ہیں۔ بھٹو نے، ایک ڈکٹیٹر ایوب کو سیاست کا چسکا دیکر اسے فوجی طاقت سے نہتا کیا اور اسکی بیٹی نے، ڈکٹیٹر مشرف کو صدرات کا لالی  پاپ دکھا کر وردی اتارنے پر مجبور کرکے فوجی طاقت سے نہتا کردیا اور آگے کی کہانی سے سب لوگ واقف ہیں۔ راحیل شریف بھی ایکسٹینشن کے خواہاں تھے اور ISI کے ذریعے ہر دوسرے دن اسلام آباد کی سڑکوں پر راحیل کے حق میں پوسٹر نظر آنے لگے تھے۔ وہ تو بھلا ہو سعودیوں کا کہ جنکے ریالوں کے چکر میں راحیل شریف سے جان چھوٹی۔

قمر باجوہ کی خواہش بھی نوکری کی  توسیع ہی تھی۔ نوازشریف کا ریکارڈ توسیع دینے کے معاملے میں بہت خراب تھا اس ہی وجہ سے نوازشریف ہی سے بذریعہ جسٹس کھوسہ، چھٹکارا حاصل کرکے عمران خان کو لایا گیا۔ عمران کو جنرل فیض نے ۲۰ سالہ حکمرانی کی چورن کھلا کر اپنا گرویدہ بنا لیا اور اسکے چارسالہ دور میں تحریک انصاف کی حکومت کے جو کام سیاسی طور پر ہونے چاہئے تھے، وہ جنرل فیض نے بذریعہ ISI، کروا کر، سیاسی طور پر عمران خان کو ناکارہ بنادیا۔ اس تمام عرصے میں ، اگر کوئی بل پاس کرنا ہوتا، بجٹ کا معاملہ ہوتا، یا اور کوئی سیاسی پیش رفت کرنی ہوتی ،مگر جنرل فیض کی وجہ سے  عمران خان سہل پسند ہو گئے۔  اپنی پارٹی رہنماؤں اور سیاسی ساتھیوں کی مدد سے اپنے کوولیشن پارٹنرز سے جڑے رہنے کے بجائے، وہ جنرل فیض کی مدد سے کام چلاتے رہے۔ جب مدت ملازمت ختم ہونے کا وقت آیا تو ، قمر باجوہ اور فیض حمید دو مختلف مچانوں میں بیٹھ کر، اپنے اپنے فوجی دائرہ اختیار کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے لگے۔ یہ صورتحال دیکھ کر آصف زرداری نے عمران خان کے سب مخالفین کو جمع کرکے بازی ہی الٹ دی۔نتیجتاً نہ فیض چیف بن سکا اور نہ ہی باجوہ کو توسیع ملی۔ اور قرعہ فال، عاصم منیر کے نام نکلا جو ریٹائر ہونے کو تھے ۔ اب وہی معاملہ عاصم منیر کے پیش نظر ہے جو ایوب سے لیکر آج تک، ہر چیف کی خواہش ہوتا آرہا ہے۔ فی الحال بظاہر، عاصم منیر اپنی سیٹ نومبر ۲۰۳۰ تک پکی کر ا چکے ہیں اور اسکے بعد تین سالہ توسیع کی مزید گنجائش بھی باقی ہے۔ میں سوچتا رہا کہ جو جھانسہ فیض حمید نے عمران خان کو دیا تھا کہ میرے چیف ہوتے ہوئے تمھارا ۲۰ سالہ اقتدار پکا۔(میرے خیال میں) عاصم منیر نے شہباز شریف کو بھی اسی طرح کے بھرے ہوئے سگریٹ کے چند کش لگوا کر اس قدر مسحور کردیا کہ ،  شہباز شریف نے سویلین وزیراعظم کو آرمی چیف مقرر کرنے کی آخری طاقت، جو اسے آئینی طور پر حاصل تھی اس سے دستبردار ہوگیا۔ لیکن اس بات پر بلاول کیسے راضی ہوگیا ؟ یہ بات میری ناقص عقل کی پہنچ سے باہر ہے۔

لیکن اس سارے انتظام میں، بہت ساری سیاسی کھائیاں پھلاندنی ابھی باقی ہیں۔ 

پنجاب جو ، ن لیگ کا  سیاسی  گڑھ تھا، میں اسکی گرفت بہت ڈھیلی پڑ چکی ہے۔ اور اس وقت بھی انکا اقتدار فارم ۴۷ کا مرہون منت ہے۔ تو کیا اگلے الیکشن میں، پھراسی طرح دھاندلی کی جائے گی ؟

 میں نہیں سمجھتا کہ عوام دوبارہ اس طرح کی دھاندلی برداشت کریں گے۔ ۲۶ ویں اور ۲۷ ویں ترمیم کی وجہ سے عوامی احتجاج کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کے استعفٰی نے اس ماحول کو مزید مضبوط کیا ہے اور وکلاء کا اس احتجاج میں شامل ہونا بعید از قیاس نہیں رہا۔ میری نظریں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بینر تلے ،سکھر کے جلسے پر ہیں ۔ اس میں عوامی شمولیت، آئندہ کی کے سیاسی موسم کا پتہ دیگی۔ اگر پیپلز پارٹی میں ذرا بھی سیاسی شعور باقی ہے، تو سندھ میں ، تحریک تحفظ آئین کے کسی جلسے کو حکومتی سطح پر ناکام کرنے کی کسی بھی کوشش کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ اسے اپنا دشمن سیاسی قوتوں کو نہیں بلکہ مقتدرہ کو سمجھنا چاہئے اور مقتدرہ کے خلاف، ہر مظاہرے اور جلسے کی خاموش حمایت کرنی چاہئے۔ ضیاالحق کے خلاف، اسکے بنائے ہوئے وزیراعظم مرحوم محمد خان جونیجو نے بی بی شہید کے لئے یہی طریقہ اپنایا تھا۔ اس نے  محترمہ کے جلسوں ، جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ محترمہ بینظیر کا لاہور میں تاریخی استقبالیہ جلوس اور جلسہ، جسکی ابھی تک کوئی اور نظیر نہیں مل سکی ، محمد خان جونیجو کی سیاسی دور اندیشی کا نتیجہ تھی۔ 

تحریکوں کی کامیابی کیلئے، سیاسی لوازمات کے علاوہ مالی لوازمات بھی درکار ہوتے ہیں۔ امریکہ تو عاصم منیر پر اپنا پورا داؤ لگائے ہوئے ہے لہذا تحریک نظام مصطفٰی کی طرح امریکی ڈالر  تو آنے والے نہیں۔ 

اب کونسی قوتیں پاکستان میں کسی عوامی تحریک کیلئے فنڈز فراہم کرتی ہیں،  یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔چین کی تاریخ ،کسی ملک کے اندرونی خلفشار کو اپنے فائدے کیلئے  مالی امداد دینے کی کوئی مثال فراہم نہیں کرتی۔ حالانکہ پاکستان میں ہمیشہ سیاسی حکومتیں چین کے قریب ہوتی ہیں جبکہ فوجی حکومتیں امریکی مفادات میں مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔ 

اس تمام پس منظر میں ، عاصم منیر کا انجام، مجھے یحییٰ خان کے انجام سے قریب نظر آتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کا نوجوان طبقہ، چاہے وہ کسی پیشے، کسی فیلڈ اور کسی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، عمومی طور پر، جرنیلوں کی سیاست میں دُر آنے اور سیاسی تماشوں کو منظم کرنے کے خلاف ہے۔ اور فوج میں موجود نوجوان بھی یہی جذبات رکھتے ہیں ۔ 

اس تمام پس منظر میں عاصم منیر کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اپنا نام تاریخ میں امر کرنے کیلئے، فوج کی ، سیاست میں  مداخلت ختم کرکے ، عوام کو اپنے فیصلے آزادانہ کرنے دے ۔ اگر اس نے یہ سب نہ کیا تو، نظیر اکبر آبادی کہہ گئے تھے:

ہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ جتنا ڈیرا ڈانڈا ہے

زر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہے

جب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہے

پھر ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

خالد قاضی

Share This Article
2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے