نکتہ داں- ۱۶۴
۱۶ نومبر ۲۰۲۵
ناکام کوشش
کونسی نئی بات تھی، جو برطانیہ کے صفحہ اول کے اخبار اکانومسٹ نے، عمران خان اور بشری بی بی کے متعلق شائع کردی ہے۔ یہ تمام کہانیاں، تو عرصے سے، پاکستانی اخبارات، ٹیلیویژن کے ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔ انکے درست ہونے یا غلط ہونے سے عمران خان کے چاہنے والوں پر اب تک نہ کوئی فرق پڑا ہے اور نہ آئندہ پڑنے کا امکان ہے۔ اسکی وجہ پاکستان کے نوجوان طبقے میں وہ فرسٹریشن ہے جو جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اور انتخابات کے نتائج کو بدلنے کی وجہ سے اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے عمران کی “ ناں “نے نوجوانوں کے دل موہ لئے ہیں۔ اور پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں جس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہے، کی کرپشن کی سچی یا جھوٹی داستانوں نے نوجوان طبقے کو نفرت کے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ سوائے عمران خان کے، اور کوئی انکے اعتماد کے قابل نہیں رہا ہے۔
لیکن اکانومسٹ اخبار جو بظاہر اپنی خبروں، تجزیوں اور رپورٹوں کے سچے اور کھرے ہونے کی شہرت رکھتا ہے اسے، اس وقت، دنیا کے دوسرے تمام جھمیلوں سے نظریں ہٹا کر، اچانک کیوں عمران خان اور بشری بی بی یاد آگئے۔ جو کہانیاں بیان کی گئیں ہیں ، پاکستانی قوم کیلئے کسی انکشاف کا درجہ تو نہیں رکھتیں کیونکہ یہ تمام کہانیاں تھوڑی بہت اونچ نیچ کے ساتھ ، بیان ہوتی رہی ہیں ۔ اور ان کہانیوں کا اثر ہر ایک ، اپنے اپنے سیاسی جھکائو کے مطابق لیتا رہا ہے۔ میرے خیال میں اکانومسٹ کی اس رپورٹ کو شائع کرنے کی ٹائمنگ ہی اسکے شائع کرنے کے مقصد کوواضح کرتی ہے۔
کون نہیں جانتا کہ ۲۷ ویں ترمیم کے پاس ہونے سے تمام جمہوریت پسند لوگ، اس ترمیم کو فوج کے سیاسی قبضے کو آئینی طور پر تسلیم کرنا سمجھتے ہیں، اس عمل کو حکومت اور اسکے حامیوں کے جرنل عاصم منیر کے آگے ہتھیار ڈالنے اور اسکی طاقت کو اپنے ووٹوں سے آئین میں درج کرنا تصور کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ، آج پاکستان کے طول و عرض میں اگر کوئی قابل نفرت شخص ہے تو وہ عاصم منیر ہے۔
میری رائے میں ۲۷ ویں ترمیم کی سب سے بری تبدیلی وزیراعظم کو اپنی صوابدید پر، کسی تین سٹار جرنل کو (بنا سنیارٹی کے لحاظ کے )چیف آف آرمی مقرر کرنے کا اختیار تھا وہ اب وزیراعظم سے لیکر آرمی چیف کو دیدیا گیا ہے۔ مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے کہ میڈیا پر زیادہ شور عدلیہ کے اختیارات میں رد و بدل پر ہورہا ہے۔ وزیراعظم کو آرمی چیف مقرر کرنے کے اختیار سے دستبردار کردینے والی شق پر شاید کسی کو بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ۔
اس ہی لئے اکانومسٹ نے اس وقت یہ رپورٹ شائع کی ہے۔
صدر ٹرمپ کیلئے ونڈرفل مین عاصم منیر ہے جبکہ پاکستان میں وہ سب سے ناپسندیدہ شخص۔ صدر ٹرمپ پریشان ہیں کہ اسکی پاکستان میں ریٹنگ کسطرح بڑھائی جائے، کیونکہ ہمارا کام اس ہی نے کرنا ہے۔ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کا زیادہ جھکاؤ چین کی طرف ہوتا ہے۔ جبکہ جرنیل ہی امریکہ کی چاکری کرتے آئے ہیں۔
عاصم منیر کی نفرت ، عمران خان کی محبت کی وجہ سے ہے۔ لہذا عمران خان کی محبت میں کچھ کمی کرنے کیلئے اس پرانی کہانی کو اس وقت سامنے لایا گیا ہے۔ بعض لوگ اسکے پیچھے ISI کا ہاتھ تلاش کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ISI اگر اکانومسٹ سے یہ کام کروانے کی صلاحیت رکھتا تو درجنوں رپورٹیں جو اکانومسٹ پاکستانی فوج اور ISI کے خلاف آئے دن لکھتا رہتا ہے وہ کبھی شائع نہ ہوتیں۔ میں اسکے پیچھے بہت زیادہ طاقتور ہاتھ دیکھتا ہوں جو چاہتا ہے کہ عاصم منیر کی پاکستان میں ریٹنگ تبدیل ہو اسکی پسندیدگی میں اضافہ ہو۔ وہ ہاتھ ٹرمپ حکومت کا ہوسکتا ہے اور کسی کا نہیں۔ لیکن کیا مقصد حاصل ہوسکا ؟
جی بالکل بھی نہیں !
خالد قاضی