نکتہ داں-۱۶۵
۱۸ نومبر۲۰۲۵
استثنٰی
پروگرام تو یہ تھا، ملکر، پاکستان کی جیت کا مزا لیں گے، لیکن ہوا یہ کہ بقول شاعر:
چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی۔
جی ہاں بات سیاسی بحث پر ختم ہوئی۔
ہوا یہ کہ دوست نے فون پر مبارک دیتے ہوئے بتایا کہ، دوہا قطر میں، رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں، پاکستان کی اے ٹیم نے انڈیا کی اے کو T 20 میچ میں آٹھ وکٹوں سے شکست دی ہے، آؤ ملکر اس میچ کی جھلکیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ باقی چائے بمعہ لوازمات میرے ذمے۔ تمھار کام بس، بنا کوئی بہانا بنائے، آنا ہے۔
ظاہری بات ہے کرکٹ کی دیوانگی اور وہ بھی انڈیا کے خلاف، ہم فوراً ہی راضی ہوگئے۔ وقت مقررہ پر پہنچے تو یاروں کی محفل جمی ہوئی تھی۔ ابتدا تو انڈین ٹیم نے بڑی زبردست کی تھی لیکن پھر ۹۱ رنز پر ۱ وکٹ کے اسکور کے بعد، انڈین وکٹیں، موسم خزاں میں پتوں کی طرح گرنے لگی اور پوری ٹیم ۱۹ ویں اوور میں ۱۳۶ رنز پر ڈھیر ہوگئی۔پاکستان نے اپنا ہدف بآسانی تیرہویں اوور میں حاصل کرلیا۔
اور پھر چائے کے دور نے موضوع سیاست کی طرف موڑ دیا۔
۲۷ویں ترمیم کے بعد، لوگ مایوس بھی ہیں، غصے میں بھی ہیں اور تشویش کا شکار بھی۔انھیں اپنا غصہ نکالنے کیلئے کوئی اور نہیں تو میں مل گیا۔ بولے قاضی صاحب آپ اپنے یورپ کے قصے چھوڑیں، اس ترمیم پر لکھیں کہ کیا ظلم ہوا ہے۔
میں نے انھیں کہا کہ میں تو دو آرٹیکل لکھ چکا ہوں، کیا آپ نے نہیں پڑھے۔ بولے دو سے کیا ہوگا، آپ کو اس موضوع پر ہر روز لکھنا چاہئے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کیا دلیل دوں، آپ فرمائیں ۔ بولے ۷۳ کا آئین ایک اسلامی آئین تھا۔ کیونکہ آئین میں سب سے اہم شق یہ درج ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون جو قرآن اور سنت کی تعلیمات کے خلاف ہوگا وہ ہر گز آئین کا حصہ نہیں بن سکتا۔ تو یہ پھر استثنٰی کس قرآن اور سنت میں درج ہے جس کی رو سے ۲۷ویں ترمیم میں استثنٰی کا جمعہ بازار لگ گیا ہے۔
میں نے عرض کی کہ آپ اپنی نوازشات کہہ لیں پھر میں اپنی گزارشات پیش کروں گا۔ بولے یہی نوازش کیا کم ہے کہ سب کو استثنٰی سے نوازا گیا ہے۔
میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تو پوری تاریخ ہی استثنٰی سے بھری پڑی ہے، اور ہم لوگ کبھی کسی استثنٰی کے خلاف نہیں بولے بلکہ ہم تو تالیاں بجاتے رہے ہیں ۔ لیکن اب چونکہ اس استثنٰی کو آئین میں لکھ دیا گیا ہے اس لئے آپ چراغ پا ہیں۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔ بولے کیا مطلب ؟ کونسا استثنٰی اور کیسی تالیاں ؟
میں نے انھیں یاد دلایا کہ اس ہی آئین میں شق نمبر چھ بھی درج ہے کہ آئین توڑنے والے کی سزا موت ہے
کیا ہم نے آئین توڑنے والوں کا ساتھ نہیں دیا کہ جنھوں نے “ چونکہ” ہمارے سیاسی مخالفین کی حکومت ختم کی تھی اس لئے انھیں ہماری طرف سے ہر قسم کا استثنٰی بلکہ آئین توڑنے والوں کیلئے تالیاں ۔ میں نے کہا کہ دوستو ایک قانون تحریری ہوتا ہے اور ایک قانون تحریر میں چاہے نہ ہو لیکن وہ نافذ ہوتا ہے اور اس نافذ شدہ آئین پر کبھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی بلکہ اسے زور مرہ کا عمل تصور کرکے نہ صرف درگزرکیا بلکہ اسکی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔ بولے قاضی صاحب یہی آپ کی سب سے بڑی خرابی ہے، آپ سیدھی بات نہیں کرتے، بس پہیلیاں بھجوائے جاتے ہیں۔
میں نے ان سے کہا کہ پاکستان کا شروع دن سے ایک غیر تحریر شدہ قانون بزور طاقت نافذ ہے کہ کسی جرنیل کو، بڑے سے بڑے جرم اور آئین شکنی پر کوئی سزا نہیں دی جاسکتی بلکہ بعد از مرگ اسے سرکاری پروٹوکول میں، توپوں کی سلامی میں ، پرچم میں لپیٹ کر
دفن کیا جائیگا۔ اس پر ہم میں سے کب اور کون بولا ہے۔ کیا ایوب ، یحیی ، ضیا، مشرف نے آئین نہیں توڑا اور کیا ان سب کو سرکاری اعزازات اور پروٹوکول میں نہیں دفنایا گیا ؟
میں نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے سزاؤں کی وکالت کرنے والے ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ سول عدالتوں میں فیصلے آنے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں اور پھر بھی بندے کے بچنے کا امکان ہوتا ہے جبکہ فوجی عدالتوں کے فیصلے جلد آجاتے ہیں۔ میں نے انھیں بتایا یہ سب دلیلیں سول لوگوں کیلئے ہیں۔ جرنیلوں کیلئے نہیں۔ مجھے کوئی بتائے کہ دو سال گزر گئے ہیں لیکن جرنل فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ جو فوجی عدالت ہی چلارہی ہے اب تک کیوں پھنسا ہوا ہے ؟ اس لئے کہ ملزم تھری اسٹار جرنل ہے۔
اس پر آپ کو میں نے غصے میں کبھی نہیں دیکھا ۔
بولے اس کا حل کیا ہے۔ میں نے پورے اعتماد سے جواب دیا ، اس کا حل بالکل ہے اور وہ ہے “عوامی اتحاد”۔ اتحاد اس بات پر، کہ حکومت چاہے پیپلز پارٹی کی ہو ، مسلم لیگ کی، تحریک انصاف کی یا کسی اور کی۔ ناحق ختم کئے جانے پر متحد ہوکر اس جماعت کا ساتھ دیں گے نہ کی تالیاں بجا کر داد دیں گے
الیکشن چاہے پیپلز پارٹی کا، مسلم لیگ کا، تحریک انصاف کا یا کسی اور کا چوری کیا جائے، اسے تسلیم نہیں کریں گے چاہے ناحق مستفید ہونے والوں کا تعلق ہماری پسندیدہ پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔
میں نے کہا ایسی مثالیں ہیں۔ میں پورے وٹوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ مسلم لیگ کے خواجہ سعد رفیق، رانا ثنااللہ کو کہا گیا کہ آپ جیت گئے ہیں ہم نے آپ کو جتوادیا ہے۔ ان دونوں مرد مجاہدوں نے انکار کیا، کہ ہمیں معلوم ہے عوام نے ہم پر اعتماد نہیں کیا اور ہم ہار گئے ہیں ۔ ہمیں تمھاری بخشش قبول نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا رد عمل ہم سب کا ہوگا تو پھر کیسا استثنٰی اور کیسی معافی۔
ہم سب لوگ دراصل پارٹی پالیٹکس میں ملوث ہیں ، جمہوریت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ جس دن، جمہوریت سے ہمارا لگاؤ پکا اور سچا ہوگیا ، اس ہی دن سے نہ کسی کو معافی ہوگی اور نہ کوئی استثنٰی۔
خالد قاضی