نکتہ داں۔۱۶۸
۱۰ دسمبر ۲۰۲۵
یورپ گردی-۳ (ایمسٹرڈیم نہروں کا شہر)
پیرس سے ایمسٹرڈیم روانگی کیلئے ٹرین اسٹیشن جاتے ہوئے، ہمارے ٹور ڈائیریکٹر مسٹر اولی نے ایسٹرڈیم کا جو تعارفی نقشہ کھینچا، اس سے تجسس کا پیدا ہونا یقینی تھا۔ انکے بقول، یہ دنیا کا واحد شہر ہے کہ جسکے طول و عرض میں تواتر سے ، نہروں کا اک مکڑی نما جال بچھا ہوا ہے۔ ۶۰ میل لمبی یہ نہریں، نہ صرف ذریعہ مواصلات ہیں بلکہ نکاسی آب اور واٹر مینیجمنٹ کے علاوہ، سیاحوں کیلئے بھی تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں ، اس ہی لئے ایمسٹرڈیم کو “وینس آف دی نارتھ” بھی کہا جاتا ہے۔ شہر کی مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو جاری رکھنے کیلئے، ان نہروں پر ایک ہزار سے زیادہ پل تعمیر کئے گئے ہیں ۔ ایمسٹرڈیم میں سفر کی سہولت کیلئے ٹرام بھی ہے، بس اور میٹرو کے علاوہ فیری بھی ۔ لیکن یہاں کے باسیوں کی پسندیدہ سواری، جو،گردوپیش کے مختصر فاصلوں کیلئے استعمال ہوتی ہے وہ سائیکلنگ ہے۔یہاں سائیکلیلوں کی تعداد ، یہاں کی آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ساڑھے آٹھ لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں، سائیکلوں کی تعداد آٹھ لاکھ اسّی ہزار ہے۔ دنیا کے دوسرے شہروں کے اندر ٹریفک کے اصول، پیدل چلنے والوں کو رائیٹ آف کراسنگ دیتا ہے، لیکن ایمسٹرڈیم میں سائیکل کے سوار کا حق ہے کہ اسکو پہلے راستہ دیا جائے، نہ کہ پیدل چلنے والوں کو۔ اس ہی لئے مسٹر اولی نے ہمیں ایمسٹرڈیم میں سڑکیں عبور کرتے وقت سائیکل سواروں کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ اور کہا کہ اگر کوئی سائیکل آپ سے ٹکرا گئی تو قصور آپکا تصور کیا جائیگا، نہ کے سائیکل سوار کا۔
پیرس سے ایمسٹرڈیم کا ۵۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر، یورو ٹرین میں ساڑھے تین گھنٹے کے لگ بھگ گزرا۔
ہر شہر میں آمد کی ابتدا عموماً ہوٹل میں ہوتی ہے، لیکن، اس مرتبہ بیگ بس ہی میں چھوڑ کر، ٹرین اسٹیشن سے پیدل سیدھا دریائے ایمسٹیل جو ایمسٹرڈیم کے وسط سے گزرتا ہے، روانہ ہوئے۔ سائیکل سواروں سے بچتے بچاتے یہ پندرہ منٹ کا سفر شوق آوارگی کا سبب بن رہا تھا۔ کشتی ہمارے انتظار میں تھی، وہاں کے مقامی گائیڈ، مسکرا کر ہمیں کشتی میں خوش آمدید کر تے ہوئے ، ڈچ قوم کی تاریخ، انکی سمندروں پر راج کرنے کی صلاحیت، تجارت اور زراعت کرنے کے طریقوں اور وہاں کی معاشرتی خوبیوں اور خامیوں کا دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں ذکر کرتا رہا۔ یہ دریائی سفر، ایمسٹرڈیم کی اہم ، تاریخی ، مذہبی، تجارتی، ثقافتی اور معاشرتی اہمیت کی عمارتوں کا نظارہ کراتے اس طرح گزرا کہ وقت کا احساس ہی نہیں رہا۔ اس دریائی گزرگاہ کے دونوں طرف ڈچ امراء اور رؤساء کی خوبصورت رہائشگاہوں کے علاوہ تاریخی عمارتوں کا ، جن میں قابل ذکر ، ۱۸۶۷ کا قدیم پرتعیش ایمسٹل ہوٹل کہ جس میں ٹہرنا دنیا بھر کے امراء اپنا فخر سمجھتے ہیں کو دور سے دیکھا۔ راستے میں، ڈچ نیشنل اوپیرا اینڈ بیلیٹ، رائل تھیٹر سینٹر سے بھی گزر ہوا ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ ۱۴۹۳ میں، سپین اور پرتگال سے نکالے ہوئے یہودی یہاں آکر آباد ہوئے اور صدیوں سے یہ علاقہ ، جیوئش کوارٹر کہلاتا ہے ۔ ہماری کشتی ہمیں، فلمی دنیا کی عالمی تاریخ اور اسکے نودرات سے متعلق آئی فلم میوزیم کے قریب بھی لے گئی، جس میں ساٹھ ہزار فلموں کی تصاویر، پوسٹرز، اور فلم بنانے کی ابتدا سے لیکر، موجودہ زمانے کے جدید آلات عوام کی دلچسپی اور ریسرچ کیلئے محفوظ کئے گئے ہیں۔
نیمو سائنس میوزیم جسے ۱۹۲۳ میں، سائنس سے متعلق اشیأ کو محفوظ کرنے اور طالبعلموں کے شوق آگہی کی جلا کیلئے قائم کیا گیا تھا وہ بھی اس گزرگاہ سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ یہ میوزیم نیدرلینڈز کا سب سے اہم میوزیم ہے اور ہر سال ساڑھے سات لاکھ کے قریب لوگ تسکین علم و آگہی کیلئے اس میوزیم کا رخ کرتے ہیں۔
یورپی ممالک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے تاریخی مقامات کی نہ صرف حفاظت کرتے ہیں بلکہ ، وقت کے ساتھ ساتھ جدت پیدا کرکے اسے، زمانے کی ضرورت کے مطابق ڈھال دیتے ہیں۔ دریائے ایمسٹیلُ پر قائم قدیم میگر برگ یا “سکینی برج” جو سنہ ۱۶۹۱ میں تعمیر ہوا، وہ اسقدر تنگ تھا کہ ایک وقت میں دو شخص بمشکل اس پل سے گزر پاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس پل میں توسیع کی جاتی رہی۔ پہلی مرتبہ ۱۸۷۱ کو اسے وسیع کیا گیا، لیکن ۱۹۳۴ میں کی گئی توسیع، موجودہ حالت میں آج تک موجود ہے۔ یہ پل اپنی جگمگاتی روشنیوں اور رومانوی ماحول کی وجہ سے سر شام، نوجوان جوڑوں کو اپنی چاہتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے اور رات گئے تک ، نوجوانوں کی ٹولیاں اس علاقے کو اپنے اپنے انداز میں سجائے رکھتی ہیں۔
یورپ کے تمام ممالک، اپنے علمی، ادبی، سائنسی، اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کے علاوہ آرٹ اور فنون لطیفہ کے میدان میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ وہ اپنے فنون لطیفہ کے مایہ ناز آرٹسٹوں کی تکریم، انکے شاہکاروں کی عوام تک رسائی اور حفاظت کا انتظام، جا بجا میوزیم قائم کرکے کرتے ہیں۔ یورپ کا شاید ہی کوئی شہر ہو، جہاں آرٹ اور فنون لطیفہ کا کوئی میوزیم نہ ہو۔
اس ہی لئے ، دریائی سفر کے اختتام پر، اب ہمارا رخ، Rijki Museum رشکی میوزیم اور اس ہی کے جوار میں Van Gogh museum تھا . ان میوزیم میں ڈچ نیشنل آرٹ کا خزانہ محفوظ ہے۔ اس میں Vermeer ڈچ پینٹر کے شاہکار دیکھنے کو ملے۔
میوزیم کی سیر کے بعد، اب ہماری منزل ہوٹل تھا تاکہ آنے والے دن کے پروگراموں سے لطف اندوز ہونے کیلئے، اپنی توانائی کو ریچارج کرسکیں۔ لیکن اس سے پہلے پیٹ پوجا بھی ضروری تھی۔ اس کا انتظام ہم نے ہوٹل کے قریب ، ایک عربی ریسٹورینٹ میں پیزا کھا کر کیا۔ پیزا حلال بھی تھا اور لذیذ بھی۔
پاکستان کے ٹرک، بسیں اور رکشہ، اپنے خوبصورت نقش و نگار کی وجہ سے آرٹ کی دنیا میں انفرادیت رکھتے ہیں۔ ایسٹرڈیم کی انفرادیت وہاں کی فلاور بائیسکل ہیں جو لوگوں کی اداسی دور کرنے اور زندگی کی رمق پیدا کرنے کا ذریعہ شمار کی جاتی ہیں ۔ اس کی ابتدا ایک امریکی نژاد آرٹسٹ نے اپنی بیمار بیوی کی دلجوئی کیلئے اس پیغام کے ساتھ کی کہ”Love is the care”( پیار ہی مرہم ہے)۔ہمیں بتایا گیا کہ اس طرح کی تقریباً ۳۰۰ سائیکلیں ، شہر کے مختلف مقامات پر لوگوں کی دلجوئی کیلئے آرٹسٹ سجائے رکھتے ہیں ۔
اگلے دن، ہماری پہلی منزل، دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے منفرد فلاور مارکیٹ تھی۔ یہ پھول بازار دراصل ایک نیلام گھر ہے، جہاں روزانہ تقریبا ۳۵ مرتبہ مختلف پھولوں کی نیلامی ہوتی ہے اور اس نیلام گھر کے ۳۰۰۰ ہزار کاشتکار ممبران، اپنے پھول نیلام کرنے آتے ہیں۔ یہ نیلام گھر ، دراصل ایک بہت بڑے ھال پر مشتمل ہے جسکا رقبہ ۲۴۷ ایکڑ (مربع میٹر۹۹۹۰۰۰) پر مشتمل ہے۔ گویا یہ ھال ۲۰۰ فٹ بال کی فیلڈز کے رقبے پر قائم ہے۔ پھولوں کی تازگی قائم رکھنے کیلئے یہاں درجہ حرارت، نمی، اور بیکٹیریا سے پاک ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور اس نیلام گھر کے ۲۶۰۰ کارندے روزانہ چیونٹیوں کی مانند کام کرتے نظر آتے ہیں اور انکی اس تگ و دو کے نتیجے میں روزانہ تقریباً ۴۳ملین مختلف اقسام کے پھولوں کی تجارت ہوتی ہے۔ یہاں دنیا کے بیشتر ممالک کو نہ صرف پھول برآمد کئے جاتے ہیں، بلکہ مختلف ممالک سے یہاں پھول درآمد بھی کئے جاتے ہیں۔ اس فلاور مارکیٹ کے مناظر کو بیان کرنا لفظوں کے بس کی بات نہیں ۔ صرف مشاہدہ ہی وہ صورت گری کر سکتا ہے جو اس مارکیٹ کا حق ہے۔
فلاور مارکیٹ کے سحر سے ہم ابھی نکلے بھی نہ تھے کہ، ہمارا رخ، ایمسٹرڈیم سے ۵۴ میل کے فاصلے پر واقع ایک خوبصورت قصبے ڈیلفٹ Delft کی طرف موڑ دیا گیا۔ یہ خوبصورت قصبہ ، اپنی نہروں، آرکیٹیکچر، پھولوں اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحوں کیلئے کشش کا سبب بنا رہتا ہے۔ اس قصبے کی گلیوں سے گزر کر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہم کسی حسین فلم کے کرداروں کی طرح کسی خوبصورت منظر کے سیٹ سے گزر رہے ہوں۔ نہر کا شفاف پانی، اس میں تیرتے پھولوں کی قطاریں، دونوں اطراف خوبصورت گھر اور گھروں سے بھی خوبصورت، ان گھروں کے مکین۔ دل نے چاہا کہ بس یہیں کے ہو جائیں ۔ ہم اس ماحول میں گم ہوا ہی چاہتے تھے کہ بیگم کی ڈانٹ نے ہمارا دھیان اچک لیا۔ فرما رہی تھیں کہ ادھر ادھر نہیں، سامنے دیکھ کر چلیں۔ لاچار بندہ کیا کرتا، وہی کیا جو حکم ملا !
اس قصبے کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ نیدرلینڈ کے شہرہ آفاق آرٹسٹ جوہینز ورمیر کی جائے پیدائش ہےُ۔ اس نے اسی قصبے میں اپنی شہرہ آفاق پینٹنگز بنائیں۔ اسکے علاوہ یہاں دو قدیم چرچ بھی ہیں اور سفید اور نیلے رنگ میں پینٹ کی گئی پوٹری بھی یہاں کی پہچان ہے۔ قصبے کے درمیان کھلا بازار، جہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں ، ہر قسم کے ثقافتی تحفوں اور کھانے پینے کی اشیأ سے بھری پڑی تھیں۔ یہاں کا فش سینڈوچ بہت ہی اعلٰی تھا ۔ اسے کھانے کیلئے بینچ پر بیٹھنے کیلئے ہمیں پہلے سے بیٹھی ہوئی خاتون جو مقامی تھیں سے اجازت لی۔ خاتون، نہایت ملنساری سے پیش آئیں ۔ انکا بااخلاق رویہ ہمیں پیرس اور ایمسٹرڈیم کا فرق سمجھا گیا ۔ اس قصبے کی رونق، یہاں کی یونیورسٹی کی بھی مرہون منت ہے۔ ان تمام یادگار لمحوں کو سمیٹتے ہوئے ہم اپنے ہوٹل واپس پہنچے ، کیونکہ میرے کزن خلیل مغل کے توسط سے آج کی شام، ایمسٹرڈیم کی پاکستانی نژاد کمیونٹی کے سرخیل اور کاروباری شخصیت جناب جمیل خان کے ساتھ گزارنی طے تھی۔ محترم وقت مقررہ پر ہوٹل پہنچے اور ہمیں ایمسٹرڈیم کی شاہراہوں پر اپنی لگژری کار دوڑاتے ہوئے ، روٹرڈیم اور اس کے گرد و نواح کی خوب سیر کرائی۔ راستے میں اور دوران عشائیہ ان سے سیر حاصل گفتگو رہی۔ انکا تعلق سندھ سے ہے اور سندھ و پنجاب کی حدود کے یہ شہری، چند دہائیاں پہلے معمولی سی رقم جیب میں لئے ایمسٹرڈیم پہنچے۔ یہاں آمد کے بعد انھوں نے محنت مزدوری اور پھر تجارت کو اپنا شغف بنایا۔ انکی تجارت کی ابتدا، اپنی فیملی ممبران کے ساتھ ، پاکستان کی چادریں اور تولیے بیچنے سے ہوئی اور رفتہ رفتہ ترقی کرکے آج وہ تین کمپنیوں کے مالک ہیں جو وہ اپنی اہلیہ، دو فرزندوں اور ایک بیٹی کی مدد سے کامیابی سے چلارہے ہیں۔ اس وقت وہ ایمسٹرڈیم کے گھریلو استعمال کی اشیأ کے سب سے بڑے سپلائر ہیں اور انکے کئی ویئر ہاؤسز نہ صرف نیدرلینڈ بلکہ تمام یورپ میں مال سپلائی کرتے ہیں۔ منکسر المزاجی اور کمیونٹی کی خدمت انکی پہچان ہے۔ اور کرکٹ سے انکو والہانہ عشق۔ کسی بھی بڑے میچ کے دوران وہ کاروبار بھلا کر میچ سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ لندن محض کرکٹ میچ دیکھنے جاتے رہے ہیں۔ ان سے ملکر، مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور انکی شخصیت کا سحر لئے میں سوچتا رہا کہ انسان کی سچی لگن، ایمانداری اور خلوص دل سے لوگوں کی مدد، نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت کی کامیابی کی بھی ضامن ہوتی ہے۔
گو لیدرلینڈ کے مکیں، سولھویں اور سترھویں صدی میں ایک قزاق قوم کے طور پر پہچانے⊥ جاتےتھے لیکن فنون لطیفہ میں بھی انھیں ہمیشہ کمال حاصل رہا ۔ وقت اور علم کے ساتھ، انکی تجارتی اور سائنسی صلاحیتوں کے طفیل آج انکا شمار، دنیا کی متمول ترین قوموں میں ہوتا ہے۔ اسکی وجہ انکی جدت طرازی ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور تجارتی مہارت پر ہے۔ تیرہ ہزار سے کچھ زیادہ مربع میل کا یہ ملک، جو رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی ۵۰ ریاستوں کی کسی چھوٹی سی ریاست کے رقبے سے بھی کم ہے، وہ اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کے طفیل، دنیا بھر میں، پھولوں کی تجارت میں اوّل، ڈیری پروڈکٹ میں نمبر دو اور کھانے پینے کی اشیأ کی درآمد میں بھی بہت آگے ہے۔ اس ملک کو تجارتی حب بنا دینے کی وجہ سے، روٹرڈیم کی بندرگاہ ، دنیا کی تمام بڑی صنعتوں کی تجارت کا مرکز بنا ہوا ہے ۔
ہم کہ پچھلے ستر سالوں سے، ڈکٹیٹروں اور سیاستدانوں کے تجربات کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں کب تک اسی بھنور میں پھنسے رہیں گے ؟
یہ سب سوچتے ہوئے پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور آنکھ اس وقت کھلی جب مجھے یاد آیا کہ آج جرمنی مسخر کرنا ہے۔
باقی آئندہ
خالد قاضی
Very interesting and knowledgeable .
Thanks