NUKTADAAN

Reading: ‏۱۶۹۔ خاک ہو جائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک
Reading: ‏۱۶۹۔ خاک ہو جائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک

‏۱۶۹۔ خاک ہو جائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک

admin
7 Min Read

نکتہ داں۔۱۶۹

دسمبر  ۱۲۔۲۰۲۵

خاک ہو جائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک

۱۱ دسمبر ۲۰۲۵، پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا، کیونکہ اس دن، سابق جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل اور فوجی عدالت کے ذریعے ۱۴ سال قید کی سزا کو، ہمیشہ، فوج کے اندر خود احتسابی کے نظام کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔ 

فیض حمید پر چار الزامات تھے جو فوجی عدالت میں ثابت ہوئے، جسکے بعد تمام قانونی کاروائیوں کے بات وہ ملزم سے مجرم قرار پائے اور انکے جرم کی پاداش میں انھیں ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

گو، انکے جرائم کی مکمل تفصیل نہیں بتائی گئی لیکن، آئی ایس پی آر کے مطابق انھیں مندرجہ ذیل چار جرائم کا مرتکب پایا گیا۔

  • انکا پہلا جرم، ریٹائرمنٹ کے بعد، آرمی رولز کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا تھا۔اس متعلق قیاس آرائی یہی کی جاسکتی ہے کہ موصوف کو ریٹائرمنٹ کے بعد، عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاسی حمایت میں، فوج میں اپنے تعلقات کا ناجائز استعمال قرار دیا گیا ہے ، جبکہ عہدے پر موجودگی کے دوران، جو سیاسی مداخلت کی جاتی رہی اسکا ذکر نہیں ہے۔
  • دوسرا جرم، آرمی سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی تھا۔ اس جرم کے متعلق، میں کوئی قیاس آرائی کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ، مجھے اس بات کا کوئی علم  نہیں کہ وہ کونسی آفیشل سیکرٹ تھی جسے فیض حمید نے افشا کیا اور وہ راز کس کو بتائے۔ آیا وہ کوئی فوجی راز تھے یا غیر فوجی راز۔
  • تیسرا جرم اختیارات کا ناجائز استعمال تھا۔ قرین القیاس یہی کہا جاسکتا ہے کہ، اپنے ذاتی فائدے کیلئے، کرپشن اور سیاسی قطع و برید کے مرتکب پائے گئے تھے۔ 
  • چوتھا جرم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال  کرکے لوگوں کو نقصان پہنچانا تھا-اس جرم کے متعلق وثوق سے ٹاپ سٹی کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے کیلئے، اسلام آباد میں رہائش پذیر، کراچی کے بزنس مین کے گھر پر دھاوا بول کر، اسے  دہشتگردی کے جرم میں گرفتار کرکے اسے رہائی کے عوض زمین کے کاغذات اپنے نام کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

اب اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو ٹاپ سٹی کا واقعہ سنہ ۲۰۱۷ میں ہوا اور اس وقت موصوف، بحیثیت میجر جرنل، ISI میں بطور ڈائریکٹر جنرل ، کاؤنٹر انٹیلیجینس کے عہدے پر فائز تھے اور دہشتگردی کو روکنے کے یہ ذمہ دار ، کسی کی زمین ہتھیانے کیلئے، اپنے عہدے کا ناجائز استعمال دہشت گردی کرکے کاغذات اپنے نام کروانا چاہتے تھے۔ سوچنے کی بات یہ ہے، کہ ہماری ملٹری انٹیلیجینس اور فوج کے قائد جرنل باجوہ،  انکے ان اعمال سے بے خبر رہے اور انھیں جون ۲۰۱۹ ISI کے چیف کے عہدے پر ترقی دیدی۔ گویا ۲۰۱۷ میں کئے گئے جرم کے متعلق جرنل باجوہ پچھلے دو سال سے ناواقف تھے ۔اور مزید پریشانی اس بات پر ہوتی ہے کہ، جرم کرنے کے چار سال بعد، ۶ اکتوبر ۲۰۲۱ کو انھیں کور کمانڈر پشاور کے عہدے پر ترقی دیکر، آئندہ آرمی چیف بننے کیلئے ضروری شرط کو پورا کیا گیا۔ 

اب ہم اس پیش رفت کو آرمی انٹیلیجنس کی نا اہلی یا لا پرواہی کہنے کی ہمت تو نہیں رکھتے لیکن ہمیں یہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ اگر، عمران خان ، جرنل باجوہ اور فیض حمید کے درمیان خلفشار  پیدا نہ ہوتا تو ,آج یعنی دسمبر ۲۰۲۵ میں ، فیض حمید پاکستانی فوج کے آرمی چیف اور عمران خان وزیراعظم ہوتے۔ ایسے وطیرے کے شخص کا، فوج کا سپہ سالار بن جانا، جسکے اعمال نامے میں، ۲۰۱۸ کا الیکشن چرانے، لوگوں کو ناجائز گرفتار کرکے انکی زمینیں ہتھیانے ، فوج کے راز فاش کرنے ، طالبان سے حکومت سے بالا بالا ڈیل کرکے انھیں دوبارہ پاکستان میں قدم جمانے کی اجازت دینے کے جرائم شامل ہوں، 

تو ایسے شخص سے پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرنے کی کیا گارنٹی دی جاسکتی ہے۔ 

دوسری اہم بات، یہ کہ اپنے جرائم کے دوران فیض حمید فوج کا سپہ سالار نہیں تھا ۔ آرمی چیف قمر باجوہ تھا، کہ جس نے جان بوجھ کر یا انجانے میں فیض حمید کی جانب نہ صرف اپنی آنکھیں بند کئے رکھیں بلکہ اسے ترقی بھی دیتا گیا۔ یہ خیال، پاکستان کے سب سے مضبوط ادارے کے (بنا کسی سول نگرانی کے )معاملات از خود چلائے رکھنے پر بہت بڑا سوال  پیدا کرتا ہے۔ زیادہ پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی موجودہ فوجی قیادت، اس تمام انکوائری کے بعد بھی، جرنل باجوہ کو کلین چٹ دے رہی ہے۔ بلکہ جرنل عاصم منیر نے اپنے چیف آف آرمی اسٹاف بننے کی کچھ ہی دنوں بعد، شہدا کیلئے منعقد ایک تقریب میں جرنل باجوہ کو اپنے قریب نشست دے کر یہ یہ خاموش اشارہ دیدیا تھا، کہ جنرلز ، کبھی کٹہرے پر نہیں لائے جاسکتے۔

فیض حمید کو سزا ، کورٹ مارشل میں بیان کردہ جرائم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ضد، لالچ اور اقتدار کی ہوس کیلئے، فوج کے ڈسپلن کو توڑنے کا شاخسانہ ہے۔

اگر ایسا سب کچھ نہیں ہے تو پھر فوج کے بیان کردہ “خود احتسابی کے نظام” کو ، کہ جسکو جرائم کا پتہ ۵ سال بعد جاکر ہوا وہ بھی اس لئے کہ جرنلوں میں عہدہ حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی، تو اس پس منظر میں، ہم ہاتھ جوڑ کر یہی عرض کریں گے کہ::

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے