نکتہ داں۔۱۷۰
دسمبر۔۱۶
۲۰۲۵
بدلتا موسم بیک فوٹ کا ہے
سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں، جاری نظام ایک ہائیبرڈ نظام حکومت ہے۔ میڈیا پر مکمل کنٹرول ہے، اور مجال نہیں کہ الیکٹرونک میڈیا یا اخبار میں کوئی شخص، مقتدرہ کی کسی شخصیت کا نام لیکر کوئی تنقید، یا کوئی تبصرہ کرے لیکن اسکے برعکس، میڈیا ٹاک شوز میں، اس ہائیبرڈ نظام کو ہائیبرڈ نظام کہنے پر کوئی قدغن نہیں، اور سیاسی گفتگو میں شریک ممبران یا ٹی وی اینکر، بلا کسی ہچکچاہٹ یا خوف کے، اس نظام کو ہائیبرڈ نظام کہتے ہیں ، جبکہ ہماری مقتدرہ کا، سرکاری بیانیہ یہی ہے کہ “ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں” اور پھر، ترجمان صاحب تین تین گھنٹے کی “سیاسی” پریس کانفرنس بھی کرتے ہیں۔
حقیقی حاکموں کے خلاف بولنے پرُ یہ بندش اور نظام کو ہائیبرڈ کہنے کی یہ چھوٹ بے وجہ نہیں ۔ بندش اس وجہ سے ہے کہ عوام کو تبصروں اور تنقید کی اجازت دینا، دراصل حاکموں کے خلاف نفرت اور فاصلوں کو بڑھانے کا سبب بنے گی، گویا عوام کی طاقت کا خوف بہرحال ہے ۔ عمران خان کا جرم دراصل یہی ہے کہ وہ نام لیکر بولتا ہے ۔ دوسری طرف، ہائیبرڈ نظام کہنے کی چھوٹ اسلئے، کہ ایک تو، اس سے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس کا دوسرا اہم مقصد ، عوام کو نفسیاتی طور پر، اس نظام ہی کو ، اپنی قسمت سمجھ لینے کیلئے، ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔
لیکن ہمارا ماضی اور حالیہ سیاسی واقعات، اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ مقتدرہ چاہتی تو بہت کچھ ہے، لیکن اسے اپنی ریڈ لائن اور اپنی خواہشات کی فہرست کی “تشکیل نو” کرکے اسے متوازن کرنا پڑتا ہے۔
ابتدا میں تو جب چاہتے تھے، پورے ملک پر قابض ہوجایا کرتے تھے اور پورا ملک مارشل لا ریگولیشن کے تحت چلتا تھا۔بھٹو نے متفقہ آئین بنوا کر ڈکٹیٹروں کے آگے دیوار کھڑی کردی۔ لیکن جرنیل وہ دیوار ججوں کی مدد سے پھلانگتے رہے۔ آئین بن جانے کے بعد ، بار بار دیوار پھلانگنے کی وجہ سے ، کچھ عدالتی ، کچھ وکلاء کی اور نتیجتاً ، عوامی مزاحمت نے، دوسرے راستے تلاش کرنے پر اکسایا۔ اس کے علاوہ، سسٹم کے اندر سے جرنل کیانی کی صورت میں، رخنہ اندازی اور وکلاء کی مزاحمت نے مقتدرہ کو کچھ کمزور کیا۔ دراصل ضیا دور کے بعد ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ، پورے ملک پر نہیں، ہاں، حکومت پر قبضہ ہوگا۔ پہلے چیف ایگزیکٹو کے طور پر اور پھر صدر بن کر قبضہ کریں گے۔ یہ تجربہ مشرف نے خوب کیا، لیکن سیاستدان پھر سیاستدان ہیں ۔ صدر زرداری نے جرنل کیانی کی چھتری تلے، نواز شریف کے اشتراک سے مشرف سے استعفٰی دلوایا اور مشرف کو بڑی ہزیمت اٹھانا پڑی ۔
گویا ، ابتدا ہی سے جاری ، اس سیاسی دھینگا مشتی میں ، دونوں نظاموں کے غدار ، اپنے اپنے ذاتی فائدے کی خاطر،مخالف نظام کی مدد کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
یحیٰی خان نے اپنے فائدے کیلئے، ایوب کے خلاف احتجاجی تحریک سے فائدہ اٹھایا لیکن اسے اسکی قیمت ادا کرنی پڑی۔ پہلی یہ کہ اسے ون یونٹ توڑنا پڑا اور دوسری یہ کہ “ون مین ، ون ووٹ” کا اصول منظور کرنا پڑا۔ حالانکہ یہ دونوں مطالبے ڈکٹیٹرشپ کے نظام حکومت کے خلاف تھے، گویا بیک فوٹ پر جانا پڑا۔ ضیا کو ملک پر قبضے کرنے کیلئے مذہبی جماعتوں اور مسلم لیگ نے مدد فراہم کی۔ بدلے میں چند وزارتیں مل گئیں۔
نوازشریف کا پہلا دور ضیا کی احسان مندی میں گزرا۔ ضیا کے جانے کے بعد، بے نظیر اور نواز کی حکومتوں کو چلنے ہی نہیں دیا گیا اور ان دونوں مخالف سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے سے لڑوا کر اپنا الّو سیدھا کیا جاتا رہا۔اب سیاسی قوتوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا تھا کہ، اس لڑائی کا فائدہ سیاسی قوتوں کو نہیں بلکہ غیر سیاسی قوتوں کو ہے۔ “میثاق جمہوریت “ پر دستخط دراصل اس ہی احساس کی عملی شکل تھی۔
یہ وہ دور تھا جب حکومت اور نظام پر، سیاسی قوتوں کا عمل دخل “کچھ“ بہتر تھا۔ مقتدرہ ملک پر قبضہ بذریعہ مارشل لاء کرنے کا کارڈ پہلے ہی کھو چکی تھی ، جبکہ اسکا دوسرا حربہ یعنی حکومت پر صدر بن کر قبضہ کرنے کا دروازہ بھی ایک سیاستدان صدر ، آصف علی زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت میں ہمیشہ کیلئے بند کر دیا۔سوچنے کی بات یہ ہے، کہ پچھلے ڈکٹیٹروں نے زور زبردستی کر کے پارلیمنٹ سے، ۱۹۷۳ کے پارلیمانی آئین میں موجود، وزیراعظم کے تمام اختیارات صدر کو منتقل کر دیئے تھے۔ اس وقت، نہ کوئی کسی طرف سے مطالبہ تھا، نہ کوئی تحریک جاری تھی کہ آئین کو پارلیمانی بنانے کیلئے تمام اختیارات صدر کی بجائے وزیراعظم کو منتقل کئے جائیں۔ لیکن صدر زرداری نے اپنی سیاسی دواندیشی سے صدر کے عہدے کیلئے مقتدرہ کی کشش کو ختم کردیا ۔صدر زرداری کے اس تاریخی عمل سے، مقتدرہ کی خواہشوں کی فہرست سے صدارتی عہدہ بھی خارج کرنا پڑا۔ میرے اس موقف کی دلیل یہ ہے کہ اس دور کے بعد، اب زور، مدت ملازمت میں توسیع پر رہ گیا ہے۔ کیانی، راحیل، باجوہ اور اب موجودہ سربراہ مقتدرہ ، اپنے اپنے لحاظ سے اپنی مدت ملازمت میں طوالت کیلئے سارے نظام سے کھیلتے رہے ہیں اور ان میں، فیض حمید تو اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے کچھ بھی کرنے پر تلا ہوا تھا۔
خواہشوں کی لسٹ اور بھی ہے، لیکن ان پر بھی مقتدرہ کو بیک فوٹ پر جانا پڑا ہے۔
- کیا صدر آصف علی زرداری کی دوبارہ صدارت منظور تھی ؟ نہیں تھی۔ لیکن وہ صدر بن گئے
- کیا چیئرمین سینیٹ انوارالحق کاکڑ کو نہیں بنانا چاہتے تھے ؟ جی اسی کو بنانا چاہتے تھے لیکن نہیں بنا سکے۔ اور اب چیئرمین یوسف رضا گیلانی ہے
- کیا بی بی مریم کے ساتھ تصویر اس لئے بنوائی گئی تھی، کہ چولستان میں نہریں نہ بنیں ۔ جی نہریں کھودنے کیلئے ہی تصویر بنائی گئی تھی۔ لیکن اس خواہش کو بھی فہرست سے نکالنا پڑا۔
- کیا اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرکے ، صوبوں کے حصے میں کٹوتی نہیں چاہتے تھے ؟ جی چاہتے تھے لیکن اب یہ بات بھی خواہشوں کی
- فہرست سے نکال دی گئی ہے
- کیا صوبوں کو مزید تقسیم کرکے، مرکز کو مضبوط کرنے کی خواہش نہیں تھی ؟ جی تھی، لیکن اب آپ ۲۸ ویں ترمیم کا ذکر کم ہی سنیں گے اور نہ ہی میڈیا پر صوبوں کی تقسیم کی بحث
- ایک بحث یہ بھی شروع ہوئی کہ صدر زرداری ہٹانے اور صدارتی اختیارات بڑھائے جائیں گے
- کیا کراچی کو مرکز کے تحت کرنے کی خواہش نہیں ہے ؟ جی بالکل ہے۔ لیکن اس کا ذکر بھی اب آپ کم سنیں گے۔
بعض دفعہ، بات اشاروں میں کی جاتی ہے اور سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں۔ مثلاً مشرف نے آتے ہی، میڈیا کو ایک تصویر جاری کی جسمیں وہ
خوبصورت کتے کو ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے۔ یہ پیغام پاکستانیوں کیلئے نہیں، امریکہ کیلئے تھا، کہ میں تمھارے کام کا بندہ ہوں
ایک تصویر باجوہ کے ریٹائر ہونے کے بعد اخبارات میں شائع ہوئی ، جس میں نئے چیف عاصم منیر کے برابر باجوہ کی نشست رکھی گئی تھی۔ یہ پیغام بھی اپنے اندر کئی معانی چھپائے ہوئےتھا
اب فیلڈ مارشل کا نیشنل کھیلوں کی آڑ میں کراچی آنا اور بلاول بھٹو کے ہاتھوں سندھی ٹوپی اور اجرک پہننا بھی شاید کچھ پیغام دے رہا ہے۔ اگر سندھ کا گورنر یا وزیر اعلٰی اجرک اور ٹوپی پہناتا تو اسے معمول کی کاروائی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن بلاول ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے، حکومت سندھ کا سربراہ نہیں ہے اور اسکے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں ہے۔
میں شاید اپنے موضوع سے ہٹ گیا !
اگر سیاستدان چند چیزیں کرلیں، تو تمام نظام بہتر ہو سکتا ہے اور ملک میں حقیقی جمہوریت آسکتی ہے
۱- ملک کی افواج کے تمام سرابراہوں کی مدت ملازمت ۳ سال اور مدت ملازمت میں توسیع کی آئینی طور پر ممانعت کردی جائے (چاہے ملک حالت جنگ ہی میں کیوں نہ ہو)
اگر کسی افسر کا فوج سے آئی ایس آئی میں تبادلہ کیا جائے گا تو فوج سے اسکی نوکری ختم تصور کی جائے گی اور وہ دوبارہ فوج جوائن کرنے کیلئے نااہل ہوجائے گا
۳- نیب کے ادارے کو ختم کرکے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا جائے جسے ملک کے ہر ذمہ دار، چاہے سول ہو یا خاکی اور چاہے وزیر اعظم ہو یا سربراہ افواج۔ عدلیہ ہو یا بیوروکریسی ہر ایک کے خلاف اگر کوئی کرپشن کی شکایت ہے، تو بنا کسی رکاوٹ کے، تحقیق کا اختیار ہو۔ اور ملک کا ہر شخص انکی تحقیق میں معاونت کا پابند ہو۔
۴- ملک کی اعلٰی عدالت میں ججز کی تعیناتی ، پبلک کی ہیئرنگ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ، کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔
میری ناقص دانست میں ان تجاویز پر اگر عمل کر کیا جائے تو پاکستان پٹری پر چل پڑے گا
اے نگار وطن تو سلامت رہے
مانگ تیری ستاروں سے بھر دینگے ہم
تو سلامت رہے تو سلامت رہے
خالد قاضی