NUKTADAAN

Reading: ‏۱۷۱۔  قومی اتحاد کی ضرورت
Reading: ‏۱۷۱۔  قومی اتحاد کی ضرورت

‏۱۷۱۔  قومی اتحاد کی ضرورت

admin
10 Min Read

 نکتہ داں۔۱۷۱

۲۱ دسمبر ۲۰۲۵

 قومی اتحاد کی ضرورت

یقیناً وہ کام جو اسرائیل، پچھلے ڈھائی سال کی بمباری، ناکہ بندی اور بربریت کے ذریعے نہ کر پایا، وہ کام اسرائیل اور امریکہ، پاکستان آرمی کے ذریعے کروانے کے خواہشمند ہیں۔ جی ہاں، امریکہ اور اسرائیل کی خواہش ، حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی فوج، انکے لئے یہ کام کر ڈالے۔ اس ہی لئے تو، ٹرمپ کی نظروں میں دنیا بھر میں سب سے محبوب ترین فیلڈ مارشل ہمارے عاصم منیر ہیں۔ 

اسرائیل، اپنی  بے  پناہ عسکری برتری، امریکہ کی بھرپور حمایت اور چنگیزی بربریت کے باوجود ،حماس کو شکست دینے سے قاصر ہے۔ اس صورتحال سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ، دنیا کے کسی بھی خطے میں ، عسکری برتری  ، باوجود وسائل کی فراوانی اور اسلحے کے زور پر، وہاں کے عوام  کی حمایت کے بغیر، حاصل کرنا ناممکن ہے۔ تاریخ اس کی کئی مثالیں پیش کرتی ہے۔

سابقہ مشرقی پاکستان ہو، روس اور امریکہ کی افغانستان کو قابو کرنے کی کوششیں ہوں، روس کے یوکرین پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی ہو، یا بلوچستان میں ناراض بلوچ اور خیبر پختون خواہ کے قوم پرست رہنما۔ ان سب کے خلاف عسکری کامیابی اس وجہ سے حاصل نہیں کی جاسکی کہ ان تمام علاقوں کے عوام فوج کے خلاف ہیں۔ 

یہی کچھ غزہ میں بھی ہوا۔ اسرائیل کے میزائل، فوجی طیاروں سے بمباری، مضبوط فوج ، تکنیکی برتری اور امریکہ کی حمایت، سب ملکر بھی، حماس کو غیر مسلح نہیں کرسکے۔حماس کے ناقابل شکست ہونے کی واحد وجہ، غزہ کے فلسطینیوں  کی حماس سے وابستگی  اور اسکی حمایت ہے۔ 

ٹرمپ کے ۲۰ نکاتی  پروگرام میں سب سے اہم نکتہ، حماس کو غیر مسلح کرنے کا پلان ہے اور بلّی کے گلے میں یہ گھنٹی باندھنا فیلڈ مارشل کے ذمے ہے

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ ہمارا ہر ڈکٹیٹر، امریکہ کا حکم بجا لاتا رہا ہے، لیکن میری سوچ کے مطابق عاصم منیر ایسا نہیں کریں گے یا ایسا کر نہیں پائیں گے۔  ایوب، ضیا اور مشرف کی مثال دی جاسکتی ہے، کہ وہ سب  امریکہ کے آگے سربسجود ہوکر ہر حکم بجالائے لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تینوں ڈکٹیٹر، ملک پر قابض تھے، انھیں اپنی حکومت کیلئے بین الاقوامی حمایت درکار تھی۔ موجودہ دور میں ، پاکستان کی حکومت جرنل عاصم کے زیر نگیں ضرور کہی جاسکتی ہے،لیکن  ملک  مارشل لا کے زیر اثر نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر پارلیمنٹ بھی ہے، کابینہ بھی اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں۔ فوج کے اندر بھی، اپنے پرانے تجربات کی روشنی میں  یہ خیال موجود ہے کہ، پاکستان کی عسکری قیادت پہلے ہی سیاست کیوجہ سے عوام سے دور ہو چکی ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور عین ممکن ہے کہ فوج کے جوان افسران بھی اس حکمت عملی کے خلاف ہو جائیں۔  مسلم ممالک میں بھی ، عوامی سطح پر اس عمل کو کبھی بھی پزیرائی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ 

دوسری طرف امریکہ ، اپنے مقصد کے حصول کیلئے، پاکستان کے ساتھ چھڑی اور گاجر والا کھیل، کھیل سکتا ہے۔ مکمل اطاعت کے ثمر کے طور پر، پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواب دکھائے جاینگے ۔ امریکہ خود کبھی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔ وہ یا تو خلیجی ممالک کو راغب کرکے سرمایہ کاری کروائے گا یا ورلڈ بینک سے قرضوں کی صورت سرمایہ کاری ہوگی۔ لیکن پاکستان میں سکیورٹی کی ہر لمحے بگڑتی صورتحال میں ، کون سرمایہ کاری پر راضی ہوگا، یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ تمام باتیں تو گاجر کے زمرے میں تھیں، اب گفتگو کی جائے چھڑی کی۔ 

ظاہری بات ہے، امریکی خواہش یہی ہوگی کہ پاکستانی فوج اسکے بتائے ہوئے احکام بخوشی اور مستعدی سے بجا لائے، جس طرح ہمیشہ سے بجا لاتی رہی ہے۔ لیکن، ماضی اور حال میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ ماضی میں تو پاکستانی عوام کو کمیونزم کے خلاف، اسلام کے نام پر، مولویوں کا منہ ڈالروں سے بھر کر ، وعظ ،فتووں اور بیان بازیوں کے ذریعے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا تھا، اور پھر روس کی افغانستان پر چڑھائی نے تو یہ کام اور آسان بنادیا، جبکہ ۹/۱۱ کے بعد، مشرف نے دہشتگردی کو روکنے اور القاعدہ کو ختم کرنے کے بہانے ، امریکی خدمات انجام دیں ۔ لیکن موجودہ صورتحال میں عوام کو جھانسا دینے کا کوئی بھی عذر موجود نہیں ہے۔ اس معاملے کے فریق، یا تو حماس اور فلسطینی عوام  ہیں یا اسرائیل۔ باقی تو سب اپنے فائدے کیلئے بروکر بنے ہوئے  ہیں اور امریکہ سب سے بڑا بروکر۔ تو پاکستانی فوج کس لئے اس کوئلے کی دلالی میں ساتھ دیکر اپنے کپڑے بھی کالے کرے اور منہ پر بھی کالک ملے۔ لیکن یہ سوچ تو ہماری ہے۔ امریکی سوچ تو بالکل الٹ ہے۔ اپنے اس کام کیلئے پاکستان کے انکار پر ، معاشی طور پر تنگ کیا جاسکتا ہے ۔ جس میں پاکستانی مال پر ٹیرف کا اضافہ، اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے  پاکستان کی گوشمالی کرنے کے حربے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ یورپین یونین کے ذریعے بھی کوشش کی جاسکتی ہے کہ، یورپی ملکوں میں پاکستانی درآمدات کی خصوصی حیثیت ختم کروا کر پاکستانی برآمدات میں کمی کی جائے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یورپی ممالک، امریکہ کے دباؤ میں آکر یہ کام نہیں کریں گے اور حالیہ دنوں میں فلسطین کے مسئلے پر، امریکی دباؤ کے خلاف جو  اپنی  آزادانہ پالیسی اپنائی ہے اسے جاری رکھا جائے گا۔ 

پاکستان کو اس صورتحال سے کیسے نبٹنا چاہئے ؟ 

میری رائے میں، عمران خان کے خلاف مختلف عدالتی اور سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی وجہ سے جرنل عاصم منیر کو  جس عوامی ناپسند دیدگی کا سامنا ہے اسے کچھ کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے اگر وہ اس معاملے پر امریکہ کو اعلانیہ” ایبسلیوٹ لی ناٹ “ کہدیں۔ لیکن فوجی جرنل اور سیاستدان میں یہی فرق ہوتا ہے۔ عاصم منیر ایسا کبھی بھی نہیں کریں گے۔ کبھی بھی نہیں ! 

تو اس معاملے سے پھر کس طرح نمٹا جائے ؟

بہت آسان طریقہ ہے۔ اور یہ طریقہ کوئی انوکھا بھی نہیں، کیونکہ ہر جمہوری ملک اپنے مسائل کو اس ہی طریقے سے حل کرتا ہے ۔ یعنی اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں کھلی بحث کیلئے پیش کیا جائے۔ تمام   سیاسی پارٹیاں اس موضوع پر کھل کر بات کریں ۔ اور اس بحث و تمحیص کے بعد پارلیمنٹ جو متفقہ فیصلہ کرے اس پر حکومت ڈٹ کر ثابت قدمی سے کھڑی ہوجائے ۔  

جہاں تک معاشی معاملات ہیں انکا حل حکومتی خرچ پر کنٹرول کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہماری فضول خرچیاں ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ 

پاکستان میں سیاسی استحکام کی جتنی اس وقت ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے نہیں تھی لیکن حکومت کے اقدامات ، معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے ، جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ حکومت اور مقتدرہ کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ “خوف عمران” ہے۔ اور وہ اس خوف میں، عدلیہ کی مدد سے،  کبھی عمران کو چودہ سالہ قید اور پھر توشہ خانہ کیس میں ۱۷ سال کی قید دلوا رہی ہے اور حکومتی خوف کی علامت وزیر اطلاعات کا یہ بیان ہے کہ عمران خان کی ۱۷ سالہ قید کی ابتدا، عمران خان کی ۱۴ سالہ قید کے خاتمے کے بعد شروع ہوگی۔ اس بیان پر نہ صرف افسوس کیا جاسکتا ہے بلکہ حکومتی بوکھلاہٹ پر ہنسی روکنا بھی مشکل لگتا ہے۔ کہیں سے کوئی تحمل بردباری اور صبر کا رویہ نظر نہیں آرہا کہ جس سے سیاسی اندھیرے میں کوئی روشنی کی کرن نظر آئے۔ مجھے اس وقت مرحوم نواب زادہ نصر اللٰہ خان کی قد آور شخصیت یاد آرہی ہے جو سیاست کے میدان میں ہمیشہ امید کی کرن ثابت ہوا کرتے تھے۔ ایسے چراغ قصہ پارینہ بن چکے ہیں، حالانکہ موجودہ دور میں ایسی ہی شخصیات کی ضرورت ہے

چراغ طور جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے

نقاب رخ سے ہٹاؤ بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے