NUKTADAAN

Reading: ‏۱۷۲۔ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشان
Reading: ‏۱۷۲۔ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشان

‏۱۷۲۔ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشان

admin
7 Min Read

نکتہ داں۔۱۷۲

۲۳ دسمبر ۲۰۲۵

کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ

آج کل ہمارے فیلڈ مارشل صاحب کے وارے نیارے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ “ اللٰہ جب دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے”

ایک وقت وہ تھا کہ ISI کے چیف کے عہدے سے اپنی تعیناتی کے آٹھ ہی مہینوں بعد ہٹا دئیے گئے ۔یہ کسی بھی آئی ایس آئی کے چیف کی سب سے  کم مدت کی تقرری تھی اور انکا اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں اتنی کم مدت میں ہٹایا جانا، فوجی سرکل میں،  کسی تھری اسٹار جرنل کی اہانت تصور کیا جاتا ہے۔ حافظ کا حافظہ یہ سبکی ابھی تک نہیں بھلا سکا۔  پھر، فوج کی سربراہی کیلئے جنرل باجوہ اور جرنل فیض حمید کی دوڑ کے نتیجے میں جو دھول اڑی، اس کا نتیجہ، جرنل عاصم منیر ، جو ریٹائرمنٹ کی عمر کے قریب تھے،  کے نام  سربراہی کا  قرعہ فال نکل آیا۔

  مطلوبہ نتائج والے  2024الیکشن کروانے کی ضرورت انکو بھی تھی اور اس پس منظر میں ن لیگ کے تو وہ “ پیا” بن گئے۔ اس ہی لئے انتخابات کے نتیجے کے بعد، جاتی امرا میں ڈھول کی تھاپ پر شریف برادران اپنے کارکنوں کے ہمراہ “ شکر ونڈاں رے، میرا پیا مینوں ملن آیو” کی تھاپ پر رقص کرتے رہے ہیں جبکہ  وزیراعظمُ شہباز شریف، فیلڈ مارشل کی مدح سرائی کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ سونے پر سہاگہ انکے لئے ہندوستان نے پیدا کردیا۔ جی ہاں ۔ ہندوستان کی طرف سے شروع کی گئی چار روزہ چپقلش کا جو جواب عاصم منیر صاحب نے دیا، وہ ہندوستان کے چودہ طبق روشن کرگیا۔ اس دوران پاک فوج کے درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت، تینوں بری ، فضائی اور بحری افواج کی مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے وضع کردہ،   فن حرب نے، نہ صرف ہندوستان کی دنیا بھر میں تذلیل کروائی  ، بلکہ تمام عالم کو پاکستانی افواج کا،  عمومی طور پر پسندیدہ لیکن ہماری فضائی فوج کا گرویدہ بنا دیا اور اس بارات کے دولہے فیلڈ مارشل عاصم منیر ٹھہرائے گئے کہ جسکے وہ حقدار بھی تھے۔

دنیا کے کامیاب ترین بزنس مین، اپنے پروجیکٹ منیجر کا چناؤ بہت دیکھ بھال کر کرتے ہیں۔ پروجیکٹ کو کامیابی سے چلانے کیلئے صلاحیت کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ سپورٹ بھی ضروری ہوا کرتی ہے۔

امریکہ کے ” تاجر صدر”  ٹرمپ کو، دنیا بھر میں مختلف امریکی پروجیکٹ چلانے کیلئے، باصلاحیت شخص درکار تھا ۔ ٹرمپ کو، 

  • مشرق وسطی میں خلیجی ممالک کےُ وسائل پر، سکیورٹی کے نام پر قبضہ کرنے، 
  • فلسطین میں حماس کو نہتا کرنے کا جو کام اسرائیل ڈھائی سال کی بربریت کے ذریعے  نہ کرسکا وہ ھدف حاصل کرنے، 
  • امریکہ کی چین سے تجارتی جنگ کی وجہ سے، چین نے اپنی قیمتی دھاتوں کی امریکہ برآمد پر جو پابندی لگائی ہے، اسکا توڑ تلاش کرنے، اور
  • غزہ میں اسرائیلی پلان کےمطابق سکیورٹی فراہم کرنےکیلئے “ آل ان ون “ شخص فیلڈ مارشل عاصم منیرنظرآئے۔

ظاہری بات ہے، پروجیکٹ منیجر بنا انٹرویو تو متعین نہیں کیا جاسکتا۔

لہذا ابتدائی بات چیت کے لئے وائٹ ہاؤس میں لنچ پر انٹرویو کیلئے طلب کیا گیا ۔ جانچ پڑتال اور بات چیت سے اطمینان حاصل ہونے کے بعد،  تعیناتی ہوچکی لیکن بات مشاہرے کی بھی ہے۔ عاصم منیر صاحب اپنی ذات کیلئے نہیں ، پاکستان کیلئے فائدہ چاہتے تھے۔ جس میں دفاعی سازوسامان کی فراہمی، پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر کرنے کیلئے امریکی سرمایہ کاری اور بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر امریکی حمایت کی طلب  در پیش تھی۔ 

 آپ نے دیکھا کہ ان مطالبات میں دو مطالبات تو فوراً ہی مان لئے گئے۔ پہلا مطالبہ ہندوستان کے خلاف سفارتی محاذ پرامریکی حمایت  حاصل ہوئی

ایف ۱۶    طیاروں کی اپ گریڈنگ کیلئے ٹیکنالوجی اور پرزہ جات کی ترسیل ۶۸۶ ملین ڈالر کے عوض منظور ہوئی۔ لیکن ہمارا تیسرا مطالبہ امریکہ کی فہرست میں اہمیت نہیں رکھتا۔ امریکہ پاکستانُ کو معاشی طور پر کبھی بھی مستحکم دیکھنا پسند نہیں کرتا ۔ اگر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی سکت مل گئی تو پھر امریکی خارجہ پالیسی کے تحت احکامات کون سنے گا۔ اس ہی لئے امریکہ اس سمت ہماری طرف نہیں بلکہ انڈیا کی طرف زیادہ مائل ہے۔ یعنی 

“کہیں پہ نگاہیں۔ کہیں پہ نشانہ “

۲۰۲۳ تک امریکی کمپنیوں نے تقریباً ۵۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہندوستان میں کی۔ اور آئندہ ۵ سالوں میں سرمایہ کاری کی مالیت کئی گنا بڑھ جانے کے اعلانات ہو چکے ہیں۔ 

مائیکرو سوفٹ آئندہ ۵ سالوں میں ساڑھے سترہ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرچکا ہے۔ جبکہ ایمازون نے ۳۵ بلین ڈالر کے معاہدے کئے ہیں مزید یہ کہ  گوگل کا منصوبہ ۱۵ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہے۔ یہ سرمایہ کاری آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کو ترقی دینے کے علاوہ، الیکٹرونکس، سیمی کنڈکٹرز، فارماسوٹیکل کمپنیوں اور روز مرہ کے استعمال اور  خورد و نوش کی کمپنیوں جن میں وال مارٹ، پیپسی، کوکاکولا اور میک ڈونلڈ شامل ہیں نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے

سوچنے کی بات یہ بھی ہے، کہ ہم دوسروں کو دوش دینے سے پہلے اپنا گھر تو درست کرلیں۔ دہشت گردی کے ماحول میں کون سرمایہ دار اپنا سرمایہ لگائے گا ؟ ہماری مقتدرہ کو ہر مسئلے کو طاقت کے زور پر حل کرنے کی پالیسی ترک کرنی پڑے گی۔ مسائل کا حل طاقت سے نہیں بلکہ افہام تفہیم اور گفت شنید کے عمل سے ہی لوگوں کے جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہماری معاشی ترقی ، سیاسی گھٹن کے ماحول میں حاصل نہیں کی جاسکتی ۔

دوسرا اہم قدم یہ ہوگا کہ ہم پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ٹیکنیکل اسکولوں کا جال بچھائیں تاکہ ہر پیشے کے ہنر مند  پیدا کئے جاسکیں۔ اور ملک کے تمام کارخانوں اور ورکشاپ پر سند یافتہ کاریگر متعین کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف کو چاہئے کہ ملک میں سند یافتہ ہنر مند  تیار کرنے پر دھیان دیں۔ اور مقتدرہ کے ایما پر صحافتی اور سیاسی گھٹن پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔ 

وما علینا الی البلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے