NUKTADAAN

‏۱۷۳۔ اڑان

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۱۷۳

۲۴ دسمبر ۲۰۲۵

اڑان

۲۳ دسمبر ۲۰۲۵، پاکستان کی معاشی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، یہ وہ دن تھا جب پاکستان کے لاکھوں لوگوں نے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر براہ راست، پاکستان کی قومی ائیر لائن کی نیلامی دیکھی۔ یہ پاکستان کے عوام کیلئے پچھلی ۷ دہائیوں میں ایک انوکھا تجربہ تھا۔ وگرنہ اب تک تو ہم اس بات کے عادی تھے کہ، ایسے معاملات، عوام کی آنکھوں سے اوجھل ہی رکھے جاتے ہیں، جسکی حالیہ مثال، پاکستان کی قیمتی دھاتوں کو نکالنے کا امریکی کمپنیوں سے معاہدہ ہے۔ جسکی تفصیلات کا علم نہ پارلیمنٹ کو ہے نہ میڈیا کو۔

اس نیلامی کے بعد، سوشل میڈیا پر سیاست زدہ معیشت دان، بھانت بھانت کی کہانیاں بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

میں کئی وجوہات کی بنا پر اس عمل کو پاکستان کی معیشت کیلئے ایک معاشی “اڑان” سے تشبیہ دیتا ہوں۔

 آئیے اس معاملے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

۱- سب سے اہم بات یہ کہ حکومتوں کا کام تجارت کرنا نہیں ہوا کرتا۔ حکومتی ائیر لائن چونکہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی ، اسلئے اسے بیوروکریسی ہی کے ذریعے چلایا جائے گا۔ اور ہر دور کی سیاسی یا غیر سیاسی حکومتیں، اپنے اپنے دور میں، کرپشن، بد انتظامی، غیر سنجیدگی اور سیاسی فائدے کیلئے بھرتیاں کرنے کے الزامات سے مبرا نہیں رکھی جاسکتیں۔ میں اپنی ہنسی پر اس وقت قابو نہ رکھ سکا، جب میں نے ایک ایسے معاشی ماہر کا، اس سودے کے خلاف ،  تجزیہ پڑھا جو بھٹو صاحب کی نیشنالائیزیشن کی پالیسی کے سخت مخالف رہے ہیں۔ 

۲-اس ائیر لائن کو چلانے کا، پچھلے گیارہ سال کے خسارے کا تخمینہ 1.87 کھرب روپئے کا ہے۔ محض آپریشنل بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان کے بجٹ کو ۴۰۰ سے ۵۰۰ ارب روپئے کا نقصان ہوا ہے۔سنہ ۲۰۲۲ اس لحاظ سے بدترین تھا جب پاکستانی عوام کے ۸۸ ارب روپئے کے ٹیکس اسے چلانے پر ضائع ہوئے۔جبکہ ۲۰۲۱ میں ۵۰ ارب روپئے، ۲۰۱۳ میں تقریباً ۴۵ ارب روپئے اور ۲۰۱۴ میں ۱۴ ارب روپئے سے زیادہ کا خسارا برداشت کرنا پڑا۔یہ تمام رقم بچوں کی تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر خرچ کی جاسکتی تھی۔مضحکہ بات یہ ہے کہ، کوئی ماہر، پیسے کے اس زیاں کو روکنے کی کوئی ترکیب نہیں بتاتا اور کوئی بھی یہ گارنٹی نہیں دیتا کہ اگر موجودہ حکومت کسی طرح اسے کامیابی سے چلانے میں کامیاب ہو بھی جائے تو آئندہ کی ذمہ داری کون لیتا کیونکہ حکومتی تحویل میں، اسے چلائے گی تو بیوروکیسی ہی۔

۳- بڑے کہہ گئے ہیں کہ “ جسکا کام، اسی کو ساجھے” حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا، کیونکہ سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں اور حکومتیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے کاروباری فیصلوں پر کنٹرول، پلان اور ترجیحات بھی بدلنا لازمی ہیں، جبکہ کاروبار کی کامیابی کیلئے  کاروباری  پالیسی، پلان، کنٹرول اور نظام یکسوئی چاہتا ہے۔

۴- یہ بھی خوش آئندہ بات ہے کہ اسکے مستقبل کے مالک ایک پاکستانی عارف حبیب ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ دار تو سارا نفع پاکستان سے باہر لے جاتا۔ اب پی آئی اے کا نفع پاکستان ہی میں رہے گا اور اس وجہ سے تجارت کے دوسرے مواقع بھی کھلتے رہیں  گے

۵- ہماری حکومتیں، بیرونی سرمایہ کاری پر بہت زور دیتی ہیں، جبکہ بیرونی سرمایہ کار  کو جب یہ معلوم ہوتا ہے، پاکستان کے اندر موجود سرمایہ کار، بدلتی سیاسی صورتحال، سیکیورٹی کی مخدوش حالت اور بھتہ خوری کی لعنت کی وجہ سے خود سرمایہ کاری کی طرف راغب ہونے سے ڈرتا ہے تو وہ کیوں اس بِھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالے۔ اب، اس کامیاب تجربے کے بعد، نہ صرف پاکستانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی  بحال ہوگا۔ جب عارف حبیب کی سربراہی میں قائم کردہ کنسورشیم انشااللٰہ قومی ائیر لائن کو کامیابی سے چلائے گا تو انکی دیکھا دیکھی پاکستان کی سرمایہ کار برادری اور بھی کئی نئے کنسورشیم تشکیل دے گی اور  پاکستان میں صنعتیں قائم کرنے کا راستہ کھلے گا۔ 

۶- ہم پاکستانی بھی موجودہ دور کے مسلسل پروپیگنڈے کے زیر اثر، کاروبار کرنے، پیسہ کمانے اور تجارت کرنے کو عیب، شک اور بری نظروں سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہم دنیا کے بڑے ملکوں کے امیر ترین سرمایہ کاروں مثلاً ایلون مسک، بل گیٹ، انیل امبانی وغیرہ کا ذکر تو کرتے نہیں تھکتے لیکن پاکستان میں اگر کوئی عارف حبیب یا اس جیسا کوئی نظر آئے تو  ہمارا ذہن  سوائے شک کے اور کہیں نہیں جاتا۔

۷- پی آئی اے کے ماضی کے حالات کا بھی بڑے فخر سے ذکر کیا جاتا ہے اور ساٹھ کی دہائی میں، دنیا بھر کی بہترین ائیر لائنوں میں اس کے شمار ہونے کو کامیابی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہ بات یقیناً درست،لیکن پھر یہی حقیقت  پی آئی اے کی اُس وقت کی انتظامیہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی اٹھاتی ہے۔کیونکہ  ساٹھ کی دہائی میں پی آئی اے، دنیا کے فضائی اکھاڑے کا ایک ایسا پہلوان تھی جس کے مقابلے میں کوئی دوسرا پہلوان تھا ہی نہیں۔ جب جب دوسرے پہلوان آتے گئے، پی آئی اے ، ناکامیوں کی کہانی بن گیا ۔ اگر اس وقت کی انتظامیہ واقعی کاروباری معاملات میں  قابل ہوتی تو اسے، نئی  ائیر لائنوں الامارات ، قطر، اتحاد،  سعودیہ، ٹرکش اور ملائشین  ائیر لائنز  کے مارکیٹ میں آجانے سے ناکامیوں کا سامناکیوں کرنا پڑا ؟ اس ناکامی کا دوش بھی سیاستدانوں کو دیا جاتا ہے، جبکہ پی آئی اے کی ابتدا سے لیکر آج تک، اسکے سربراہوں کی فہرست اٹھا کے دیکھ لیں آپکو ، ۹۰ فیصد پاکستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ چیف ملیں گے۔ 

کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن پاکستان میں موجود سیاسی تناؤ، اختلاف سے زیادہ نفرت، اور ایک دوسرے کی اہانت کے ماحول نے ہمیں ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ ہمیں ہر چیز پر شک کرنے، اور اختلاف برائے اختلاف کی لت نے ،بے چین کئے ہوئے رکھا ہے۔ بقول منیر نیازی:

بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں میں، سلگائے ہوئے رہنا

عادت سی بنالی ہے، تم نے تو منیر اپنی

جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے