نکتہ داں۔۱۷۴
۳۰ دسمبر
سنہ۲۰۲۵
دل ہی دشمن ہے ، مخالف کے گواہوں کی طرح
ستمبر ۱۶۔ ۲۰۱۰ ایک اندوہناک دن تھا، جب الطاف حسین کی قیادت میں، MQM کے بانی ارکان میں شامل ڈاکٹر عمران فاروق جو لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھےُ کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔ پاکستان میں انٹیلیجنس ایجنسیز کا یہی خیال تھا کہ یہ قتل MQM کی اندرونی سیاست کا پیش خیمہ تھا اور الطاف حسین کے حکم پر یہ واردات کی گئی ہے ۔پاکستان میں موجود MQM کی پوری سیاسی قیادت نے یک زبان ہوکر ، اس وقت ،الطاف حسین کا دفاع کیااور الطاف حسین کو بری الذمہ قرار دیتے رہے۔MQM کی قیادت کا یہ دفاعی موقف ،ستمبر ۲۰۱۵ سے، الطاف حسین سے لاتعلقی میں بدل گیا، جب لاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کے متنازعہ ٹیلی فونک خطاب کے بعد انکے سیاست کرنے پر پابندی عائد کردی۔
ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ محترمہ شمائلہ فاروق اپنے دو بیٹوں کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں لندن میں زندگی گزارتی رہیں ۔
پچھلے چند سال وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا رہیں اور ۱۹ دسمبر ۲۰۲۵ کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔ انا للٰہ و انا الیہ راجعون
انکی تدفین کراچی میں ہوئی۔
سیاست کے طالبعلموں کیلئے MQM ایک کیس اسٹڈی کا طالب ہے ۔ تاکہ اس بات کی تحقیق کی جاسکے کہ وہ کونسے محرکات تھے کہ جن کی وجہ سے MQM کو پاکستانی سیاست میں لا متناہی عروج حاصل ہوا لیکن ۳ دائیوں میں ہی وہ عروج رفتہ رفتہ تنزلی کا سفر طے کرتے ہوئے موجودہ دور میں مکمل زوال تک پہنچ گیا ہے۔
سنہ ۲۰۱۳ میں، گراچی کے سابق میئر مصطفٰی کمال جو MQM کے سینیٹر تھے ، نے اچانک سینیٹ سے استعفٰی دیا اور دوبئی شفٹ ہوگئے۔ انکے اس عمل کا اعلانیہ انکا موقف ذاتی وجوہات تھا لیکن سیاسی مبصرین اس استعفے اور دوبئی روانگی کو الطاف حسین سے سیاسی اختلافات کا پیش خیمہ قرار دیتے تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے پس منظر میں، مصطفٰی کمال کی ترک سیاست کے اس اعلان کو “جان بچاؤ” مہم قرار دے رہے تھے۔ مارچ ۲۰۱۶ کو، جب پاکستان میں آرمی چیف جرنل راحیل شریف تھے، مصطفٰی کمال دوبارہ پاکستان میں وارد ہوئے۔ انھوں نے آتے ہی الطاف حسین سے سیاسی قطع تعلق کا اعلان کرکے، اپنی الک سیاسی جماعت “ پاک سر زمین پارٹی” بنانے کا اعلان کیا۔ سیاسی مبصرین اس نئی پیش رفت کو جرنل راحیل کی سرپرستی میں آئی ایس آئی کا ڈرامہ قرار دیتے تھے۔ تمام حکومتی اور میڈیا کی کوریج کے باوجود پاک سر زمین پارٹی ، اردو بولنے والوں میں وہ توجہ حاصل نہیں کر پائی جو ہماری مقتدرہ کو الطاف حسین کے مقابلے میں درکار تھی۔ اس وقت MQM کئی دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی اور انکے اس انتشار کے نتیجے میں ۲۰۱۸ کے الیکشن میں انتخابی معرکے میں محض ۷ سیٹں حاصل کر پائی۔ اس شکست کے پس منظر میں MQM کے تمام دھڑے ۲۰۲۳ میں دوبارہ متحد ہوئے اور پاک سر زمین پارٹی بھی اپنا وجود ختم کرکے ، متحدہ قومی مومنٹ پاکستان میں شامل ہوگئی۔
اس تمام اتار پچھاڑ کی وجہ سے، کراچی اور حیدرآباد کے عوام ، جو MQM کے ووٹر ہوا کرتے تھے، MQM سے مایوس ہوکر PTI کی طرف مائل ہو گئے ۔
لیکن ۲۰۲۲ میں عدم اعتماد کی تحریک کے تحت عمران خان کی حکومت برخاست ہونے، عمران خان کے مقتدرہ کے خلاف بیانات دینے اور عمران خان کی شخصیت، مقتدرہ کے خلاف عوامی نفرت کی علامت بن جانے کی وجہ سے ۲۰۲۴ کے انتخابات، مقتدرہ کیلئے ایک ایسا چیلینج ثابت ہوئے جسے عوام نے اپنے ووٹ سے شکست دیدی۔ لیکن فارم ۴۷ کی مدد سے اس شکست کو فتح میں تبدیل کردیا گیا ، گویا MQM کی لاٹری نکل آئی اور گزشتہ الیکشن میں ۷ سیٹیں جیتنے والی MQM کو فارم ۴۷ کی بدولت تین گنا زیادہ یعنی ۲۱ سیٹیں ملیں۔
متحدہ کا مخمصہ :
متحدہ کے قائدین جانتے ہیں کہ انکی مقبولیت وہ نہیں ہے جو انتخابی نتیجے میں نظر آتی ہے۔
انکے پلے پچھلی چالیس سالہ سیاست میں کوئی ایسی کامیابی بھی نہیں جس کے ذکر سے وہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکیں
نوجوان اردو بولنے والا ان سے بیزار نظر آتا ہے ، لہذا مستقبل کی سیاست کیلئے MQM کے پاس دو ہی ہتھیار رہ گئے ہیں جس سے وہ MQM کے وجود کو باقی رکھ سکیں۔
ان میں پہلا ہتھیار لسانی تعصب کا بھرپور پرچار ہے ۔ کیونکہ تعصب ایسا مرض ہے جو مثبت سوچنے کی صلاحیت مفقود کر دیتا ہے۔ اور تعصب کے پجاریوں کو نفرت کے نشے کا عادی بنا کر، ان سے کوئی عمل بھی کروا سکتا ہے۔
انتخابی معرکے میں کامیابی حاصل کرنے کا دوسرا ہتھیار “ مقتدرہ کی مکمل تابعداری “ ہے اور مصطفٰی کمال کا الطاف حسین کے خلاف حالیہ بیان ، اس ہی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔
الطاف حسین کے خلاف بیانات میں جو زبان مصطفٰی کمال نے استعمال کی ہے وہ دنیا کی بے ثباتی، اور تعلقات کی ناپائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
کبھی غنچہ، کبھی شعلہ، کبھی شبنم کی طرح
لوگ ملتے ہیں بدلتے ہوئے موسم کی طرح
خالد قاضی