نکتہ داں۔۱۷۵
یکم جنوری ۲۰۲۶
سنہ ۲۰۲۶ کا سیاسی زائچہ
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
سنہ ۲۰۲۵ خیرباد کہہ گیا اور ۲۰۲۶ نئے امکانات اور نئی امیدوں کے ساتھ وارد ہوچکا ہے۔اس لئے ابتدا اس دعا کے ساتھ کہ نیا سال، آپ سب کیلئے، آپ سب کے اہل و عیال اور اقربا کیلئے، پاکستان کیلئے ، عالم اسلام کیلئے اور مجموعی طور پر تمام دنیا کیلئے امن ، آتشی اور بھائی چارے کا سال ثابت ہو۔ آمین یا رب العالمین۔
سنہ ۲۰۲۵ کیسا رہا ؟ اسے جانچنے کا پیمانہ ، ہر مزاج، ہر سیاسی سوچ اور وابستگی کا شخص اپنے اپنے پس منظر اور اپنی اپنی محبتوں کے زیر اثر کرے گا۔ کسی کیلئے یہ سال پاکستان کی اقتصادی ، معاشی اور سیاسی استحکام کی منزل کیلئے پہلا قدم ثابت ہوا ہوگا، کسی کیلئے غریب کا غریب سے غریب تر ہوجا نا ہوگا۔ کوئی اسے سیاسی اور صحافتی حبس میں اضافے کا سال کہے گا ، کسی کیلئے ، سیاسی کارکنوں کی زندگی تنگ کردینے کا سال ہوگا، کوئی اسے ہماری عدالتی تاریخ کو مزید سیاہ کردینے کی بات کرے گا، کسی کو اس سال جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور سیاست پر فوجی بوٹ کے نشانات مزید واضح ہوتے دکھائی دیں گے
اگر خدا لگتی کہی جائے تو ان میں کوئی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لے رہا۔
ہاں اگر کہیں قومی اتفاق رائے نظر آئے گا تو وہ مودی سرکار کی پاکستان پر یلغار کے جواب میں ہماری فوج کا عمومی، جبکہ ہماری فضائیہ کا خصوصی جواب دینے اور ہندوستان کے غرور کو ملیامیٹ کردینے کے عمل کی سچائی پر سب متفق نظر آئیں گے۔
بین الاقوامی تناظر میں اس واضح فتح کی وجہ سے، پاکستان کو بے پناہ توجہ ملی ہے ۔ اب اس توجہ کو معاشی اور اقتصادی بہتری کیلئے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اس کے جواب کیلئے ہمیں ۲۰۲۶ میں ہوتے اقدامات کو دیکھنا پڑے گا۔
مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر، پاکستان کے سیاسی حالات بدستور غیر مستحکم اور پر آشوب نظر آتے ہیں۔
۱- پاکستان کی موجودہ حکومت، اپنے قانونی اور اخلاقی جواز کی کمزوری اور حزب مخالف کی جماعتوں سے کسی مثبت گفت و شنید نہ ہونے کی وجہ سے بدستور دباؤ کا شکار رہے گی۔
۲- حکومت کیلئے نئی مشکلات ، مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی شکل میں، زیادہ قوی نظر آتا ہے۔ امریکہ کے غزہ پلان کیلئے حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے پاکستانی خدمات کے انکار کی صورت میں IMF کی طرف سے پاکستان پر امریکی اقتصادی دباؤ میں اضافہ صاف نظر آرہا ہے۔
۳- فروری ۸ سے محمود خان اچکزئی کی زیر قیادت پہیہ جام ہڑتال میں عوامی شمولیت اور حکومت کا رد عمل، حالات میں تیز تبدیلی کا محرک ثابت ہوسکتے ہیں
۴- صدر اور فیلڈ مارشل کی تا عمر عدالتی جوابدہی سے آزادی کا قانون، وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کیلئے بڑا سلوگن بنتا جائے گا۔
۵- مندرجہ بالا عوامل کی موجودگی اور فیلڈ مارشل کی ۵ سالہ طویل قیادت، دراصل فوج کی نوجوان قیادت میں ، مقتدرہ کے پچھلے ۷۰ سال سے سیاست میں ملوث رہنے کے خلاف، سوچ پیدا ہونے کا سبب بنُ سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں سیاسی خلفشار بڑھا، تو عین ممکن ہے، کہ فوج کے اندرونی دباؤ کے نتیجے میں سیاستدانوں اور مقتدرہ کے در میان ایک ڈائیلاگ وقوع پزیر ہو اور اسکے نتیجے میں، باہمی رضامندی سے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت متعینہ عرصے کیلئے تشکیل دی جائے، جسکے ذمے نہ صرف اقتصادی معاملات کو سنبھالنا بلکہ ایک مکمل غیر جانبدارانہ شفاف الیکشن کرواکر ، جیتنے والی جماعت کو اقتدار سونپنا شامل ہو سکتا ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ یہ تمام اقدامات ۲۰۲۶ ہی میں ہو پائیں لیکن، پاکستان کی سیاسی سمت اسی طرف رواں نظر آتی ہے
اب بات کی جائے موجودہ حکومت اور سیٹ اپ کی۔
کہا جاتا ہے آئندہ کیلئے وزیراعظم بننے کے دو مضبوط امیدوار بی بی مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ہیں ۔
میری رائے اس سے کچھ مختلف ہے۔ میں اس دوڑ کو تاریخی پس منظر میں دیکھتا ہوں۔ ہمارے جرنلوں کی خواہش اقتدار پر مکمل تصرف چاہتی ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کو بھی رکھنا دراصل انھیں بھٹو کے بنائے ہوئے آئین کی مجبوری کے طور پر ماننا پڑتا ہے۔ انکی خواہش ہوتی ہے کہ وزیراعظم میر ظفراللٰہ خان جمالی، چودھری شجاعت، شوکت عزیز ، انوارالحق کاکڑ یا شہبازشریف جیسا ہو جو مقتدرہ کے مہرے کی طرح کام کرتا رہے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار محمد خان جونیجو کی طرح نہ کرے ۔ لہذا وزیراعظم کے ایسے پیکر میں نہ مریم نواز ، فٹ آتی ہیں اور نہ بلاول بھٹو زرداری۔ لہذا، جب تک یہ سسٹم چلے گا، شہباز شریف ہی کی قیادت میں چلتا رہے گا۔
پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر شخص کی خواہش یہی ہوگی کہ پاکستان سیاسی طور پر مستحکم ہوسکے تاکہ اقتصادی استحکام کی منزل کی طرف بڑھنا آسان ہوجائے۔
آئیے رب العزت سے دعا کریں کہ :
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹا ئیں یہاں ایسی بارشیں برسا ئیں
کہ پتھروں سے بھی روئید گی محال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال
کوئی ملول نہ ہو، کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو
خالد قاضی