نکتہ داں-۱۷۹
۲۶ جنوری ۲۰۲۶
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
آواز میں درد بھی تھا اور شکایت بھی ۔ مجھے سلام کرتے ہی بولے، قاضی صاحب آپ ہیں کہاں، ایسی بھی کیا بے حِسی، آپ تو بالکل غائب ہو گئے ہیں۔ میں، انکی بات سمجھنے کی کوشش میں بولا ، سر میں ایک ہفتے کیلئے فلوریڈا گیا ہوا تھا۔ خیر تو ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ آپ مجھ پر بے حسی کا الزام لگا رہے ہیں۔بولے سبحان اللٰہ ! ۷۱ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اربوں کی املاک اور سامان جل گیا اور آپ فرما رہے ہیں کہ ایسا کیا ہوا ؟ انکی اس بات پر، میں انکا مدعا سمجھ پایا۔ میں نے کہا جی ہاں گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ یقیناً ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہر دل اس پر افسردہ ہے۔ بولے، محض افسردگی سے کیا ہوتا ہے، آپ کو اس واقعے پر لکھنا چاہئے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔ انکی اس بات پر میں کچھ دیر خاموش رہا۔پھر بولا، کہ محترم، پورا سوشل میڈیا، اخبارات، ٹی وی کے اینکرز، سیاسی جماعتیں ، تاجر برادری، سب ہی تو بول رہے ہیں ، کیا یہ سب کچھ آپکو کافی نہیں لگتا ؟ بولے یقیناً سب ہی بول رہے ہیں لیکن اس کا کیا فائدہ ہوگا ۔ چند دن ذکر ہوگا پھر سب بھول جائیں گے ، اس وقت تک، کہ پھر کوئی اور حادثہ انھیں دوبارہ پھر اسی طرح کچھ دن کیلئے مصروف رکھے ۔
میں نے، انھیں بیٹھنے کو کہا اور پانی کا گلاس انکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، میرے پیارے بھائی، دراصل، میں نے جان بوجھ کر اس واقعے پر قلم اٹھانے سے گریز کیا ہے۔ کیونکہ میں اس پر لکھنے کو ایک لاحاصل مشق تصور کرتا ہوں۔ میری اس بات پر وہ اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے بولے، لاحاصل مشق ؟
میں نے ہاتھ جوڑ تے ہوئے انھیں سمجھایا کہ دیکھیں کیا اس حادثے پر، سب لوگ یک سو ہیں ؟ یا محض الزام تراشی، سیاست بازی، بری الذمہ ہونے کی کوشش، تہمت بازی، سیاسی ایجنڈے کے حصول اور مایوسیاں بیچ رہے ہیں ۔ مجھے تو ہر طرف سے یہی محسوس ہوا ہے کہ “چور مچائے شور” ۔ بولے ، قاضی صاحب آپکی بات میری سمجھ سے بالا ہے۔ اگر جو آپ نے فرمایا ہے اس پر یقین کرلیں تو پھر ذمہ وار کون ہے ؟
میرا جواب تھا “ہم سب بحیثیت قوم”
بولے یہ کیا بات ہوئی، قوم تو بیچاری خود پریشان ہے اور آپ اس ہی کو ذمہ وار ٹہرا رہے ہیں۔
جواباً میں نے انھیں سمجھانے کی غرض سے شعر سنایا، کہ :
“وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔”
انکی بے چینی بھانپتے ہوئے ، میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ آپ میری بات بس کچھ دیر کیلئے خاموشی سے سنیں ۔
میری گزارشات میں سر فہرست بات یہ تھی، کہ اس واقعے سے جڑا ، ہر ذمے وار، دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہے جبکہ اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنے کی اس میں اخلاقی جرات نہیں ہے۔ اور یہی ہماری قومی خرابی بھی ہے۔
- یہ پلازہ ۱۹۸۰ میں تعمیر ہوا، جس میں ابتدائی طور پر ۵۰۰ دکانیں بنائی گئیں۔
- اسکی لیز کی تجدید میں بھی تاخیر کی گئی اور اس میں نہ صرف پلازہ کا مالک گل حسن کھنانی بلکہ اس وقت کے میئر بھی ملوث تھے
- ایک غیر قانونی آرڈیننس کے ذریعے، تمام بڑی بلڈنگوں کی ٹعمیراتی اور حفاظتی خامیوں کو فائر اور سیفٹی ریگولیشن کے خلاف ، ریگولرائز کیا گیا۔
- غیر قانونی طور پر ایک فلور کا اضافہ کرکے، دکانوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ کردی گئی یعنی ۵۰۰ سے بڑھا کر ۱۲۰۰ دکانوں کی جگہ بنائی گئی، جس کی وجہ سے باہر نکلنے کے دروازوں کی تعداد بھی کم ہوئی۔
– سیفٹی کے لوازمات کا ناں تو بلڈنگ کے مالک، نہ دکانداروں ، نہ حکومتی محکموں اور نہ صوبائی حکومتوں نے خیال کیا۔
- پچھلے تقریباً پچاس سالوں سے، شہری محکموں ، میئر حضرات اور صوبائی حکومتوں نے شہر بھر کی فائر بریگیڈ کی استعداد میں اضافے اور بہتری کے کوئی اقدامات نہیں کئے۔
- عوام کی تربیت نہ کرنے کی تو ہماری قوم نے قسم کھائی ہوئی ہے، کیونکہ اس آگ پر قابو نہ پانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جلتے ہوئے پلازہ کے اطراف ہزاروں لوگ جمع تھے اور اس کے علاوہ، ڈبہ نما ایمبولینسوں نے بھی راستے بلاک کئے ہوئے تھے، جسکی وجہ سے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو پہچنے میں دیر لگی۔
- اور سانحے کے بعد، وہ تمام سیاسی رہنما، جماعتیں اور انکے میئر حضرات، جو اس پلازہ کی تعمیر یعنی ۱۹۸۰ سے لیکر ۲۰۲۶ تک، گل پلازہ کی غیر قانونی تجدید، توسیع، اور تعمیراتی خامیوں کو ریگولرائز کرنے اور گل پلازہ کی حفاظتی ریگولیشن سے صرف نظر کئے جانے کے جرم میں شامل رہے تھے اور اب تک ہیں، وہ سب ایک دوسرے کو مورد الزام ٹہرا رہے ہیں اور کوئی بھی اپنے دور کی کوتاہی کا جواب نہیں دے رہا۔میری ایماندازانہ رائے یہ ہے کہ کراچی کی نابگفتہ حالت کے ذمہ دار پچھلے پچاس سالوں میں تقریباً سب سیاسی جماعتیں اپنا اپنا حصہ ڈالتی رہیں ہیں۔ اس میں جماعت اسلامی ، MQM, PPP, PML N سب ذمہ وار ہیں۔ آپ حساب لگا لیں ، جو جتنی دیر کراچی کا میئر رہا ، اتنا زیادہ وہ ذمہ وار بھی ہے۔
- اور اس پورے سانحے کے بعد، ایک اور بڑا سانحہ یہ ہے کہ اس اندوہناک واقعے کی آڑ میں ، اٹھارویں ترمیم کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی گئی۔
اٹھارویں ترمیم کے ذکر پر موصوف بولے، ہاں واقعی یہ ایک عجیب کوشش ہے۔ جبکہ زور تو یہ دینا چاہئے کہ اٹھارویں ترمیم کے ثمر نچلی سطح تک پہنچائے جانے کی قانون سازی کیجائے نہ کہ اسے رول بیک کیا جائے۔ قاضی صاحب اس حرکت کے کیا محرکات تھے ؟ یہ قومی اسمبلی میں مصطفیٰ کمال اٹھارویں ترمیم کے خلاف کیوں بولے ؟
میں نے انھیں کہا بھائی ، مصطفی کمال خود نہیں بول رہا۔ اسے بلوایا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان میں دو درجن صوبے بنوانا ، اسکی ضرورت نہیں ، کسی اور کی ہے۔اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ موصوف اپنے بیان پر جوابی بیانات کے بعد پردہ اسکرین سے بمعہ خالد مقبول کے جو MQM کے سربراہ ہیں ، غائب ہوگئے ہیں اور وضاحتیں کرنے کی ذمہ داری فاروق ستار کے سپرد ہے۔
امریکہ پاکستان کو مصر بنانا چاہتا ہے، جہاں جمہوریت صرف بلدیاتی کاموں تک ہو۔ باقی حکومتی سربراہ، فوج کا سربراہ ہی ہو ، جو بحیثیت صدر ، امریکہ کی چاکری کرتا رہے
مشرف کے وقت میں چودھری افتخار کی مدد سے یہ ہدف حاصل کر بھی لیا گیا تھا۔ مشرف نے وردی میں صدارتی الیکشن لڑا تھا اور جیت بھی گیا تھا۔
یہ تو دعا کریں بی بی کو جس نے دانا ڈال کر مشرف سے وردی اتر وائی اور اسکی سزا کے طور پر شہید کی گئیں
مشرف کو صدارتی محل سے زرداری اور نوزشریف نے ملکر نکالا۔
ہم نہ سیاست سمجھتے ہیں اور نہ ذمہ داری لیتے ہیں
ہاں نفرت اور تعصب ہم لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
اگر پاکستانی قوم کا عمومی مزاج اسی طرح رہا تو یقین مانیں گل پلازہ جیسے واقعات ہوتے رہیں گے، کیونکہ:
“وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔”
خالد قاضی
ڈیر قاضی صاحب
کراچی کے حالیہ اندوہ ناک واقعہ پر آپکا کالم دیر سے آیا مگر درست آیا وجہ آپ نے خود بیان فرمادی ھے ۔
کراچی کی نابگفتہ بہ حالت کی بنیادی وجہ ھماری قومی خرابی کرپشن ھے آپ اس معاشرتی ناسور کے بارے میں بھی لکھیں اور حل بھی تجویز فرمائیں تو عین نوازش ھو گی ۔ شکریہ
شکریہ سر
آپکی تجویز نوٹ کرلی ہے۔ انشااللٰہ جلد ہی اس موضوع کو زیر بحث لائیں گے
جزاکُاللٰہ