نکتہ داں-۱۸۱
۳ فروری ۲۰۲۶
آدھا بھرا گلاس
۱۵ جنوری ۲۰۲۶ کو بلاول بھٹو زرداری نے، قصر صدارت، اسلام آباد میں، غیر ملکی سفیروں، میڈیا کے نمائندوں، کاروباری شخصیات اور دیگر ممتاز شخصیات کے اجتماع کے سامنے، سندھ میں سنہُ ۲۰۰۸ سے ۲۰۲۵ کے دوران پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں (بقول انکے) ، جو ترقی ، بہتری اور جو تبدیلیاں آئی ہیں، اس پر تقریباَ ڈیڑھ گھنٹے ، طویل پریزنٹیشن پیش کی۔
پاکستانی سیاسی تاریخ، (اس اجتماع سے پہلے)، ہمارا سیاسی کلچر، ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اب تک ہم نے، مخالفوں کی ہتک، بد تہذیبی، الزام تراشی اور بد زبانی کے، تو کئی مظاہرے دیکھے ہیں لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہمارے سیاسی کلچر میں اس طرح کی مثبت روش اگر پروان چڑھے تو اس سے ملک کا سیاسی مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔لیکن بلاول نے اپنی پریزینٹیشن کو،صرف کامیابیوں کے ذکر تک محدود رکھا۔ جن جن شعبوں میں پیپلز پارٹی کوئی پیش رفت نہ دکھا سکی، بلکہ مکمل طور پر ناکام رہی، ان تمام شعبوں کیلئے نہ کوئی مستقبل کا پلان پیش کیا گیا ، بلکہ ذکر ہی سے اجتناب کیا گیا۔ میڈیا پر یہ پریزنٹیشن براہ راست (live) دکھائی گئی اور ، اس کے بعد۔ کئی دنوں تک، اس پریزنٹیشن پر، مذاکرے اور مباحثے ،ملک کے اخبارات، ٹی وی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پر ہفتے بھر تک جاری رہے۔
میں اس ساری مشق کو مندرجہ ذیل پیرائے میں دیکھتا ہوں:
- یہ انداز سیاست ترقی یافتہ اور مضبوط جمہوری ممالک میں تو عرصے سے رائج ہے، لیکن پاکستان میں یہ پہلا واقعہ تھا۔ امید کی جانی چاہئے کہ، دوسری سیاسی پارٹیاں بھی ، جو حکومت میں ہیں، وہ اس ہی طرح ، میڈیا پر، اپنی کامیابیوں، اپنے ارادوں اور اپنی ناکامیوں کا ذکر بھی کھلے دل سے کرکے، آئندہ کی حکمت عملی سے عوام کو آگاہ کریں گی۔ اس طرح مختلف سیاسی جماعتوں میں ایک مثبت مقابلے کا آغاز ہوگا اور انکی کارکردگی کو جانچنے میں آسانی ہوگی۔
- یہ بات خصوصی طور پر نوٹ کی گئی کہ،الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر، پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر جو اختلاف اور تنقید کی گئی وہ بھی خاصہ وزن رکھتی تھی اور جن جن شعبوں میں نہ صرف ناکامی ، بلکہ تباہی کا شکوہ کیا گیا ، اس کے جواب کیلئے پیپلز پارٹی کوئی قابل قبول جواب پیش کرنے سے قاصر ہے۔
- جن شعبوں میں کامیابیوں کا دعویٰ حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا گیا ، ان کو کسی اینکر پرسن، صحافی یا سوشل میڈیا پر غلط ثابت نہیں کیا جاسکا۔ مثلاّ ۲۰۲۲ کے سیلاب سے بے گھر ہونے والوں کیلئے ۲۱ لاکھ گھروں کی تعمیر ، (جن میں ۱۳ لاکھ گھر بن کر، غریب خاندانوں میں تقسیم بھی کئے جاچکے ہیں ، دو ڈھائی لاکھ پر کام جاری ہے اور بقیہ ۶ لاکھ گھر اگلے ڈیڑھ دو سالوں میں تعمیر کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ ان اعداد و شمار کو ، کسی بھی جانب سے غلط ثابت نہیں کیا گیا۔ اس عمل کا مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ تعمیر شدہ گھروں کی ملکیت کے کاغذات، گھر کی خاتون خانہ کے نام کرکے کاغذات اسے دیئے گئے۔
- صحت کے شعبے میں سندھ حکومت نے مختلف موذی امراض کیلئے مفت علاج کی جو سہولت مہیا کی ہے ان سے نہ صرف سندھ کے عوام ، بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام بھی مستفید ہورہے ہیں۔ اس دعوے کو بھی کہیں سے بھی جھٹلایا نہیں جاسکا
- تھر کے کوئلے سے، تھر کی صورتحال یکسر بدل دی گئی ہے۔ وہاں کے رہائشیوں کو روزگار میں اولیت دینا، وہاں کی خواتین کو، ترقی کے مواقع میں شامل کرکے تھرکول مائنز میں مختلف عوامل جن میں خصوصاً ہیوی ٹرک کی ڈرائیونگ کی تربیت دے کر، انکے اعتماد میں اضافہ کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
- حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد ، زچہ و بچہ کی اموات کے تناسب کو کم کرنے کا دعویٰ بھی قابل ستائش ہے، لیکن ناکامیوں کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔
- پیپلز پارٹی سندھ میں پچھلے ۱۷ سالوں سے اقتدار میں ہے لیکن، سندھ کا بچہ تعلیم کے زیور سے اتنا آراستہ نہیں ہوا جتنا کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں ہوا ہے۔ گو یقیناً اعلیٰ تعلیم میں یونیورسٹیوں کی تعداد ۳۰ تک پہنچی ہے لیکن ابتدائی تعلیم کے شعبے میں خلا بہت بڑا ہے اور اسکولوں کی عمارت، فرنیچر، غسل خانے کی سہولت اور مناسب تعلیمی ماحول اب بھی ناپید نظر آتا ہے۔
- صوبے میں پینے کا صاف پانی آبادی کے ایک مختصر حصے ہی کو حاصل ہے، عام اور غریب کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔ کراچی کے شہریوں کو ٹینکروں سے پانی خریدنا پڑتا ہے اور پانی کی فراہمی کا K-IV منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ یہی صورتحال شہر میں بسوں کے منصوبوں کی بھی ہے
- سندھ کے شہروں میں رہائشی عمارتوں، شاپنگ پلازہ اور مارکیٹوں کی تعمیر، بنا کسی اصول، کسی ضابطے یا کسی پلان کے بے ہنگم ہوتی رہی ہیں اور اب تک ان معاملات کو درست کرنے، کنٹرول میں رکھنے کا اور آئندہ کی منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی۔
- دو ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی کیلئے نہ فائر بریگیڈ کا ، نہ شہری دفاع کا، اور نہ ہی حادثات کے دوران کوئی ریپڈ فورس کا کوئی انتظام ہے اور نہ کوئی سوچ۔ وزیر اعلٰی سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں، گل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی پر اپنے پالیسی بیان میں، شہیدوں کیلئے امداد کا ذکر بھی کیا، دوکانداروں کے نقصان کے ازالے کی بات بھی کی، پلازے کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ بھی کیا، لیکن، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا کوئی پلان ، کوئی منصوبہ اور کوئی سوچ پیش نہیں کی۔
- لیاری ۱۹۷۰ سے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر واری رہا ہے، لیکن ترقی کیلئے پچھلی نصف صدی میں لیاری کی باری کا انتظار نہایت لاچاری سے آج تک جاری و ساری ہے ۔
- میثاق جمہوریت، جسکا کریڈٹ پیپلزپارٹی فخر سے لیتی ہے کے مطابق ، اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئرمین ، قائد حزب اختلاف کو مقرر کیا جانا تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی، سندھ اسمبلی میں، اس اصول پر عمل کیوں نہیں کرتی ؟
- اٹھارویں ترمیم، کہ جسکا کریڈٹ بھی یقیناً پیپلز پارٹی ہی کو جاتا ہے، لیکن اٹھارویں ترمیم کے اصل مقصد کو حاصل کرنے کے درمیان بھی پیپلزپارٹی ہی حائل ہے۔ یعنی صوبے کی آمدنی نچلی سطح ، ڈسٹرکٹ لیول تک ابھی تک کیوں نہ جاسکی ؟
- صوبے میں روزگار کیلئے، پیشہ ورانہ تربیت یافتہ نوجوان پیدا کرنے کیلئے پولیٹیکنک اسکولوں کے قائم کرنے کا نہ کوئی منصوبہ پیش نظر ہے نہ ہی کوئی سوچ۔
- تعلیمی اداروں میں پرائمری اسکول سے لیکر میٹرک تک طلبا کو شہری دفاع کو نصاب میں شامل کرکے پڑھانے اور عملی طور پر تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔
شہری دفاع کے موضوع پر دو اہم واقعات جو تاریخ کا حصہ ہیں انکا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں۔
۱- سنہ ۱۹۶۵ کی جنگ کے دوران، میں ۱۳ سالوں کا تھا۔ جنگ کے دوران ہمارے اسکول کلیٹن روڈ کراچی میں، تمام طلبا کو شہری دفاع سے منسلک ادارے کے افراد نے لیکچر دیا، ہمیں، حادثے سے نمٹنے، اپنے بچاؤ اور دوسرے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے طریقے بتائے اور دشمن کے طیاروں کی بمباری سے خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آگاہ کیا۔ میرے خیال میں یہ تمام معلومات پورے ملک کے تعلیمی نصاب کا حصہ ہونی چاہئیں۔
۲- ۱۹۷۱ کی جنگ کے بعد، ذولفقار علی بھٹو نے، ملکی دفاع میں نوجوانوں کو بھی شامل کرنے کیلئے، کالج کے طلبا کو گیارویں اور بارہویں جماعتوں کے دوران، بنیادی فوجی معلومات اور تربیت سے آراستہ کرنے کا انتظام کیا تھا ۔ اس ٹریننگ کو حاصل کرنے پر ۲۰ اضافی نمبر دیئے جاتے تھے۔ فوجی پریڈ، بندوق کا استعمال اور فوجی بننے کی بنیادی معلومات اور تربیت دی جاتی تھیں۔ اس کے عوض ہمیں فوجی بوٹ بھی دیئے گئے تھے اور میں وہ فوجی بوٹ نہ صرف تربیت کے دوران بلکہ عام زندگی میں بھی اپنی فوجی ٹھرک نکالنے کیلئے پہن کر گھومتا تھا۔ مجھے اس تربیت کا یادگار واقعہ جسے دیکھنا میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں، بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں مہران انجینئرنگ کالج جو اب یونیورسٹی ہے، میں فرسٹ ایئر میں تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ کل صبح آٹھ بجے تیار رہنا ، تمھیں فوجی مشقیں دکھا نے لیجایا جائے گا۔ ہم بصد شوق تیار ہوکر پہنچ گئے۔ ہمیں فوجی ٹرک میں بٹھا کر، ہمارے کالج سے کئی میل دور ویرانے پہاڑی علاقے میں لیجایا گیا۔ ویاں ایک بہت بڑے ٹیلے کے اوپر جہاں سے دور دور تک صاف دیکھا جاسکتا تھا ، پر کرسیاں لگائی کئیں تھیں اور وہاں مختلف کالجوں کے طلبا جمع تھے۔ ہمیں ایک فوجی (شاید وہ حوالدار تھے) نے بریف کیا کہ آج کی فوجی مشقیں فوجیوں کو جنگ کی تربیت دینے کیلئے ایک فیک جنگ ہے۔ وہاں دور دور دشمن کے مورچوں کے نشانات بھی لگے ہوئے نظر آئے۔ یہاں سے دشمن کی طرف فوجیوں نے حملہ کیا۔ لیکن اس حملے سے پہلے دشمن کے مورچوں پر بمباری کی گئی۔ توپیں ہماری پشت پر کوئی میل بھر دور تعینات تھیں ۔ وہاں سے وہ گولے داغتیں اور گولے ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے ، آگے دشمن کے مورچوں کو تباہ کر رہے تھے۔ کوئی نوے فیصد گولے نشانے پر لگے۔ جب توپ کا گولہ ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتا تو ایک عجیب سنسناہٹ کی آواز آتی اور پھر اگلے ہی لمحے، دھماکہ سنائی دیتا اور ہم دشمن کے نشان زدہ مورچے کو تباہ ہوتا دیکھ رہے تھے۔ گولہ باری کے بعد، ہمارے فوجیوں نے دشمن پر ہلہ بول دیا اور باقاعدہ فائرنگ کرتے ہوئے وہ آگے بڑھے۔ اس مشق کا ایک ناپسندیدہ لیکن ناگزیر پہلو یہ بھی تھا کہ کوئی اپنا فوجی بھی اپنے ہی کسی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن کر زخمی ہوجاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ تمام تر احتیاط کے باوجود ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور اس مشق میں بھی ایک فوجی زخمی ہوا تھا جسے فوری طور پر طبی سہولت مہیا کی گئی۔
اس مشق کو دیکھنے کے بعد قاضی صاحب یوں اترا اترا کر پورا قصہ سب کو بتاتے تھے جیسے خود کوئی معرکہ فتح کرکے آئے ہوں۔ یہ تربیت بھٹو دور میں تو جاری رہی لیکن ضیائی دور میں اس میں کچھ کمی دیکھی گئی جبکہ مشرف نے آتے ہی اس عمل کو بند کردیا اور مشرف کے بعد کسی حکومت کو اس مثبت تربیت کو دوبارہ جاری کرنے کا خیال نہیں آیا۔
تو بات ہورہی تھی آدھے بھرے گلاس کی۔ پیپلزپارٹی اپنے دور کی حکومت کی کارکردگی کو آدھےبھرے ہوئے گلاس سے تشبیہ دیتی ہے جبکہ اسکے مخالفین اسے خالی گردانتے ہیں۔ لیکن بقول بلاول بھٹو زرداری کے یہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے ۔ اگر انکی بات کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو، عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ باقی آدھا گلاس کب بھرے گا، کیونکہ اب تک نہ کوئی ایسا منصوبہ نظر آتا ہے اور نہ کوئی پلان۔ جبکہ پیپلز پارٹی سے امید رکھنے والے فیض احمد فیض کی یہ غزل پڑھ کر اپنے دلوں کو طمانیت عطا کرتے رہتے ہیں
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو
وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
خالد قاضی
Nice analysis but every development is related to Funds and political stability Moreover to be in pace with population burst is difficult .if v consider
2%increase in karachi population for this increase u
need hospitals,roads,schools and transport.ONe
point is that building codes must be strictly imposed
You are 100% correct Sir