NUKTADAAN

Reading: ‏۱۸۷۔امریکہ کی، ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کی کوشش، تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ نہ بن جائے !
Reading: ‏۱۸۷۔امریکہ کی، ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کی کوشش، تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ نہ بن جائے !

‏۱۸۷۔امریکہ کی، ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کی کوشش، تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ نہ بن جائے !

admin
5 Min Read

نکتہ داں- ۱۸۷

۳۰ مارچ۔ ۲۰۲۶

امریکہ کی، ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کی کوشش، تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ نہ بن جائے !

 پرشین گلف کے شمالی حصے اور مملکت ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ “خرج”،  جس کا مجموعی رقبہ تقریباً ۲۵ مربع کلو میٹر ہے، اپنی خصوصیات کی وجہ سے دنیا کی نظروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جزیرہ خرج ، کی خصوصیات میں مندرجہ ذیل چیزیں اہم ہیں:

  • ایران کے ساحل سے اسکا فاصلہ تقریبا ۱۵ میل ہے۔ 
  • اس جزیرے میں صاف پانی کے درجنوں کنویں اسے رہنے کیلئے سازگار بناتے ہیں
  • اسکے اطراف سمندر بہت گہرا ہے، جسکی وجہ سے خام تیل لیجانے والے سپر ٹینکرز، اس کے قریب لنگر انداز ہوسکتے ہیں
  • ایران کی معاشی رگ اس جزیرے سے وابستہ ہے کیونکہ، دس سپر ٹینکرز کو  بہ یک وقت بھرنے کی صلاحیت،  اسے ایران کی تیل کی پیداوار کی ۹۰ سے ۹۵ فیصد آمدنی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔
  • مندرجہ بالا خصوصیات والے یہ ٹرمنلز،  شاہ ایران کے وقت، امریکی کمپنیوں نے تعمیر کئے تھے۔
  • اندرون ملک ، تیل کی مختلف فیلڈز کو طویل پائپ لائنوں کے ذریعے،  اس جزیرے میں تعمیر کردہ وسیع و عریض  تیل کے ٹینکوں سے منسلک کیا گیا ہے۔
  • اس جزیرے کی یہ خصوصیت، اس کی ایک بڑی خرابی بھی بن گئی ہے۔ کیونکہ ایران کا ۹۰ سے ۹۵ فیصد تیل اسی چھوٹے سے جزیرے سے درآمد ہوتا ہے، جنگ کے دوران اسے تباہ کرنے سے، ایران کی معیشیت زمیں بوس ہوسکتی ہے۔
  • موجودہ دور میں ایران پر تیل درآمد کرنے کی امریکی پابندیوں کی وجہ سے ، اس جزیرے کی درآمدی صلاحیت کا ۹۰ فیصد تیل چین کو درآمد ہوتا ہے
  • گو ایران سے برآمد کردہ تیل، چین کی محض تقریباًُ ۱۳ ٪ ضرورت پوری کرتا ہے۔ چین اپنی ضرورت کا ۴ سے ۸ فیصد تیل وینزویلا سے،  جبکہ ۲۰ ٪ ضروریات روس سے درآمد کردہ تیل سے پوری کرتاہے۔   

امریکہ کا منصوبہ اس جزیرے پر قبضہ کرکے، نہ صرف ایران کی معاشی گردن پر پیر رکھ کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے، بلکہ چین کی معاشی رفتار کو روکنے کیلئے اسکی ضرورت کے تیل کی ترسیلات پر اپنا کنٹرول قائم کرنا بھی ہے۔ ویزویلا پر تو امریکہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کروا چکا ہے اور ایران پر حملہ بھی رجیم چینج کے لئے تھا، جو اب تک ناکام رہا ہے

اس پس منظر میں، گزشتہ روز، صدر آصف علی زرداری کا اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کا  آخر شب دورہ ( جو اخبارات میں رپورٹ ہوچکا ہے) کا چینی اور پاکستان کی مشترکہ حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں، عالمی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے گفتگو کو اچک لینے کی صلاحیتوں کے پیش نظر، ضروری سمجھا گیا کہ مشاورت، چینی نیٹ ورک کے ذریعے چینی سفارت خانے سے کی جائے۔ 

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر ٹرمپ کے جزیرہ خرج پر حملے کرنے کے ممکنہ احکامات پر عمل کرنے کیلئے ، پینٹاگون مکمل تیار ہے۔ جبکہ دوسری طرف ، ممکنہ طور پر، روسی اور چینی انٹیلیجنس ایجنسیاں ، ایران کو ہر امریکی پیش رفت سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

ان مجموعی حالات میں،  ایران کا ہدف ، نہ صرف جزیرہ خرج کا دفاع کرنا ہے، بلکہ ، زیادہ سے زیادہ امریکی فوجیوں کو جانی نقصان پہنچانا ہے، کیونکہ امریکی فوجیوں کی لاشوں کی امریکہ ترسیل ہی ٹرمپ کو اس شیطانی عمل سے باز رکھنے کا سبب بن سکتی ہیں ۔

اس سارے منظر نامے میں یورپ کہاں کھڑا ہوگا ؟

خلیج کی ریاستوں کے امیر کیا لائحۂ عمل اختیار کریں گے ؟

 کیا وہاں عوام  بغاوت  تو نہیں کریں گے ؟ یاد رہے کہ بحرین میں ہنگامے ہوچکے ہیں۔ 

روس،  افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے ہاتھوں   اپنی ہزیمت کا بدلہ کس طرح لے گا ؟ 

اور چین اپنی توانائی کی ضروریات کو خلل ڈالنے کے عوامل کو کس طرح روکے گا ؟ 

کہیں بھی ذرا سی غلطی اور  ذرا سے غلط اندازے، دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں ۔ 

آئیں رب کریم سے گڑگڑا کر دعا کریں کہ وہ ہر ظالم کو نیست و نابود کرے، ہر مظلوم کی غیب سے مدد فرمائے اور ہر شیطان کو ناکام و نامراد کرے۔ آمین یا رب العالمین

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے