NUKTADAAN

Reading: ‏۱۸۸۔ پل صراط کا سفر
Reading: ‏۱۸۸۔ پل صراط کا سفر

‏۱۸۸۔ پل صراط کا سفر

admin
14 Min Read

نکتہ داں-۱۸۸

۹ اپریل ۲۰۲۶ 

پل صراط کا سفر

آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، (میڈیا کے مطابق) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اپنے وفد کےُشرکاءُ، اسٹیو وٹکاف اور صدر ٹرمپ کے داماد، جیرڈ کوشنر کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف، پاکستانی فضائیہ کے طیارے، ایرانی وفد،  (جس کی سربراہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بشمول اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں )کے طیارے کو پاکستانی سرحد سے اپنی حفاظت میں لیکر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ 

دونوں اطراف کے شرکاءُ کی فہرست ،ان مذاکرات میں، فریقین کی سنجیدگی کو واضح کرتی ہے۔ اور اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے، کہ دونوں فریق اس جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کوئی راستہ نکالنے کیلئے بہت بے چین ہیں۔

جبکہ دوسری طرف، اسرائیل اس مکالمے کو ناکام کرنے اور سیز فائر میں رخنہ اندازی کیلئے، لبنان پر ،بوجہ ، بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ممکنہ امریکی دباؤ کی وجہ سے، اب لبنان سے بات چیت پر آمادہ ہوا ہے۔  

یہ تمام پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ، جسے اس دلدل میں نیتن یاہو نے پھنسایا وہ اب مکمل سنجیدگی سے، خود کو اس بھنور سے  نکالنا چاہ رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو ماضی میں امریکی صدور  بارک اوبامہ اور جو بائیڈن کے ادوار میں بھی امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے پر اکساتا رہا ہے لیکن دونوں صدور ، اسرائیل کے جھانسے میں نہیں آئے۔ جبکہ صدر ٹرمپ، اپنی اخلاقی کمزوریوں اور خود کو  تاریخ میں بہترین صدر ثابت کرنے کے خبط میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس جنگ میں کود پڑے جس کی ناکامی کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔ وہ ایران کو بھی وینزویلا سمجھ کر چڑھائی کر بیٹھے اور اسرائیل کے پلان ( ایران میں رجیم چینج) کا حصہ بن کر، نہ صرف ایرانی قیادت کی عوامی حمایت میں اضافے کا سبب بنے بلکہ امریکہ کے دنیا کی برتر فوجی قوت ہونے کے تاثر کو ختم کیا اور  سینکڑوں بلین ڈالر کے نقصان کے علاوہ اپنی اور ریپبلکن پارٹی کی عوامی حمایت کو بھی نچلے درجے تک پہچانے کا سبب بنے۔ 

مجھے اس صورتحال میں امام خمینی کا وہ تاریخی جملہ یاد آرہا ہے، جو انھوں نے، ضیاالحق سے سنہ ۱۹۸۱ میں ، ایرانی ریپبلکن پارٹی کے صدر دفتر پر حملے کے بعد( جس میں ۴ وزیر، ۲۷ ممبران پارلیمنٹ اور ۷۰ اعلٰی افسران شہید ہوئے تھے) تعزیت کے جواب میں کہے تھے۔ ضیاالحق نے اتنی بڑی ایرانی قیادت کا ایک حملے میں شہید ہونے کے نقصان پر امام خمینی سے افسوس کیا۔ جواباَ امام خمینی نے فرمایا کہ 

ُ” کسی ملک کے درجنوں لیڈروں کے شہید ہونے  سے اس ملک کا  اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا کسی ایک نا اہل اور غبی شخص کا اس قوم کا حکمران بننے سے ہوتا ہے” – انکا اشارہ ضیاءالحق کی طرف تھا اور آج وہی چیز امریکہ پر بھی ثابت ہو رہی ہے۔ 

گو یہ جنگ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہورہی تھی لیکن اس کا اثر نہ صرف امریکی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سےُ تمام خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی وجہ سے پڑ رہا تھا بلکہ، آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہوگیا تھا اور یہی ایران کی جنگی حکمت عملی کی کنجی بھی ثابت ہوا۔ امریکہ اپنا تمام زور لگا کر بھی نہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکام رہا بلکہ جزیرہ خرگ، جس سے ایران کا ۹۰ فیصد تیل برآمد ہوتا ہے پر قبضہ کرنے کیلئے امریکی فوج اتارنے کا خطرہ بھی  نہ مول لے سکا۔ امریکی افواج کی قیادت نے صدر ٹرمپ کو اس حملے کی ناکامی اور بے پناہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے اندیشے سے خبردار کر دیا تھا اور شاید اسی اختلاف کی وجہ سے نہ صرف صدر ٹرمپ نے فوج کے سربراہ کو برطرف کر دیا بلکہ ۸  سینئر کمانڈروں کو بھی گھر  بھیج  دیا۔

اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کی بقا کو بھی خطرات لاحق تھے، کیونکہ:

  • اگر خدانخواستہ ایران میں رجیم چینج ہوجاتا تو گویا پاکستان کی مغربی سرحد، (جو ایران سے منسلک ہے)، تک مسلم دشمن ممالک اسرائیل اور انڈیا پہنچ چکے ہوتے۔ایران کی ہار دراصل پاکستان کے زوال کا سبب بننے کی ابتدا ہوتی۔ 
  • سعودی عرب، جو پاکستان سے دفاعی معاہدے کا ساتھی بھی ہے ، پاکستان کی  معاشی مشکلات میں مددگار بھی اور پاکستان کے لاکھوں افراد کی سعودی عرب میں خدمات کے عوض سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات زر کا سبب بھی ۔ لیکن اسکے ایران سے تعلقات، بد اعتمادی سے بڑھ کر،  دشمنی تک  کا شکار رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک سے جنگ کے دوران پاکستان کا نہ صرف دوستی برقرار رکھنا بلکہ ایک دوسرے کے خلاف دونوں کو  حدود میں رکھنا بھی پاکستان کی، کمال کی ڈپلومیسی ظاہر کرتا ہے 
  • متحدہ عرب امارات کھل کر اسرائیل اور امریکہ کا ساتھی بنا رہا اور اس ہی وجہ سے اسے  اس خطے میں ایرانی ڈرونز اور بیلاسٹک میزائلوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننا پڑا، لیکن امارات پاکستان کیلئے بھی بہت اہم رہا ہے۔ اس نے  نہ صرف مالی مشکلات میں مدد فراہم کی ہے بلکہ وہ بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان میں سالانہ اربوں ڈالروں کی ترسیلات زر فراہم کرنے کا ذریعہ ہے
  • یہی حال قطر، کویت، بحرین اور اومان کا بھی ہے۔ 
  • امریکہ بھی تاریخی طور پر  پاکستان کیلئے اہم ملک ہے۔ ہماری فوجی قیادت  پچھلے ستر سالوں سے امریکہ کے بہت قریب رہی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ہماری عسکری قیادت کی  سیاسی تربیت امریکہ ہی کے تیار کردہ نصاب کے تحت کی جاتی ہے لہذا موجودہ دور میں ہماری عسکری قیادت کا ذہنی طور پر امریکہ کے قریب ہونا اچھنبے کا سبب نہیں کہا جاسکتا۔ جبکہ  دوسری طرف پاکستان کا معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے،  آئی ایم ایف کی مدد حاصل کر لینا جبکہ آئی ایم ایف کی تمام ڈوریاں امریکہ کے ہاتھوں میں رہتی ہیں۔ 

ان تمام حالات میں، پاکستان کی سیاسی ، عسکری اور سفارتی ، مشترکہ قیادت نے کمال حکمت سے، پاکستان کو ایک معاشی طور پر زوال پزیر ملک کی حیثیت سے نکال کر ، دنیا میں سفارتی طور پر اعلٰی ترین  مقام پر کھڑا کر دیا ہے ۔ آج اس جنگ کے نہ صرف تمام فریقین یعنی امریکہ، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور اومان بلکہ چین، روس، برطانیہ، فرانس، ترکی، مصر  اور دیگر کئی ممالک پاکستان اور اسکی قیادت کی اعلانیہ تعریف کر رہے ہیں۔جبکہ لبنانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے لبنان میں بھی جنگ بندی کیلئے مدد مانگی ہے۔ 

 آج اگر پاکستان کی اس کامیاب سفارت کاری  پر کہیں صف ماتم بچھی ہوئی ہے تو وہ :

  • یا تو اسرائیل ہے، کہ جس نے اس پورے مصالحتی عمل کو ناکام بنانے کیلئے، لبنان پر سیز فائر سے انکار کیا ہے لیکن اب امریکی دباؤ کے تحت لبنان سے مذاکرات پر راضی ہوا ہے 
  • ہندوستان کی مودی حکومت ( گو وہاں کی اپوزیشن ، آزاد میڈیا اور سفارتی اور عسکری ماہرین کھل کر پاکستان کی سفارتی 

کامیابیوں کا اعتراف کر رہے ہیں)۔ ہندوستان کی مودی حکومت کی آہ و زاری کا سبب ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین اور مرکزی ہدف کی ناکامی ہے ۔ ہندوستان کی خواہش تو یہ تھی کہ پاکستان تمام دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر پہچانا جائے۔ لیکن انکے ہدف کے برعکس آج پاکستان ایک امن کا پیامبر ،  سفارت اور مفاہمت کی تصویر اور دنیا کے ممالک کے مسائل کو حل کروانے کی صلاحیت رکھنے والے موزوں ترین ملک کی پہچان کے طور پر تمام عالم میں ایک نئے ستارے کی طرح جلوہ گر ہوا ہے

  • پاکستان کی کامیابی پر ماتم کناں، یا تو وہ یو ٹیوبر ہیں جو بیرون ملک بیٹھ کر اپنا الّوسیدھاکر رہے ہیں اور یا پاکستان میں موجود شخصی محبت میں مبتلا وہ افراد جن کی،  اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت ، انکی  مادر وطن پاکستان سے محبت پر ہاوی نظر آتی ہے۔ 

زندہ قومیں ایسے حالات سے سبق حاصل کرکے اور اپنی خامیوں کی نشاندہی اور  ان خامیوں کو درست کر کے اپنے مستقبل کو تابناک بناتے کی سعی کرتی ہیں۔

میری رائے میں اس پس منظر میں جو سبق، اور جنھیں سبق، حاصل کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہیں:

  • ہماری عسکری قیادت کو ایران کی عسکری قیادت سے سبق حاصل کرکے،ہر قسم کے سیاسی،معاشی اور حکومتی معاملات سے خود کو علیحدہ کر کے  اپنی سو فیصد توجہ دفاع وطن پر صرف کرنی چاہئیں 
  • ہمارے حکومتی قائدین کو، ہمارے معاشی، سیاسی اور عدالتی نظام کو درست کرکے، عوام میں حکومت پر اعتماد بحال  کرنے کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا مشترکہ پلان تشکیل دبنے کیلئے پارلیمنٹ کو متحرک کرنا چاہئے۔
  • ہمارے تمام سرکردہ حزب مخالف کے قائدین کو اس جنگ کے نتائج سے یہ بات سمجھ لینی چاہئے، کہ چاہے آپکے سامنے اسرائیل جیسا ظالم ہی کیوں نہ ہو اور چاہے ٹرمپ جیسا غبی ہی- لیکن  آخرکار معاملات مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوسکتے ہیں ۔ لہذا بطور  پالیسی ، ہر وقت کی تکرار اور لفظی جنگ سے، نہ پہلے کوئی مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں اور نہ مستقبل میں ہونگے۔ لہذا سیز فائر کرکے، مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی مستقبل میں کامیابی کی راہ دکھا سکتا ہے۔ 
  • اس جنگ کے نتائجُ پر غور کریں تو اسرائیل اور امریکہ ، ناکام و نا مراد ثابت ہوئے ۔ ان کا سب سے بڑا نقصان ، اسرائیل اور امریکہ کا ناقابل شکست ہونے کا تاثر تھا۔ انکی معیشیت کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور سینکڑوں بلین ڈالر کا جنگی خرچ انکی معیشیت اور بے روزگاری میں اضافہ کرے گا۔
  • حالانکہ ایران  کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور اس کی قیادت کے بہت بڑی تعداد میں رہنما شہید ہوئے ہیں لیکن اس جنگ کے نتیجے کے طور پر اسکی کامیابی اس بات سے عیاں ہے کہ:
  • ۱- ایرانی رجیم نے نہ صرف خود کو قائم رکھا بلکہ عوام میں مزید یکجہتی پیدا ہوئی۔
  • ۲-ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کا خاتمہ ہوگا
  • ۳- اسکے امریکی بینکوں میں منجمد فنڈز اسے واپس ملیں گے-
  • ۴- آبنائے ہرمز پر اسکا کنٹرول رہے گا اور وہ اپنے جنگی نقصانات وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے راہداری ٹیکس لیکر پورا کرتا رہے گا
  • ۵- اور اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل بند کرنے کی ضمانت دینے پر، امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت دینی ہوگی اور ان تمام اقدامات کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے منظوری لے کر فریقین کو اس معاہدے پر عمل کا پابند کیا جائے گا

آخر میں، ہمیں دل کی گہرائیوں سے اپنی موجودہ ، سیاسی،  سول اور عسکری قیادت کا دل کی گہرائیوں سے انکی کامیابی کا اعتراف کرکے انھیں سلام پیش کرنا چاہئے  

آئیے ہم اپنے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، اپنے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اپنی سکریٹری وزارت خارجہ محترمہ آمنہ بلوچ اور اپنی فوج کے سپہ سالار فیلڈ ماشل عاصم منیر کو تمام قوم کی طرف سے سلام پیش کریں اور ان سے یہ توقع رکھیں کہ وہ آئندہ بھی اپنی ذاتی خواہشوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک اور قوم کی سر بلندی کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرتے رہیں گے ۔ انشااللہ

پاکستان پائندہ باد

خالد قاضی 

Share This Article
6 تبصرے
  • سلام

    جنگِ عظیم دوئم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی
    موجودہ جنگی صورتحال جس نے روس اور یوکرین کی جاری جنگ کو بھی دھندھلا دیا ھے اس پر بہت مَنجہے ھوئے انداز میں آپکا یہ کالم “پل صراط کا سفر “ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کے آئینے میں ایک بہترین سوچ کی عکاسی ھے ۔

    زندہ باد، قاضی صاحب!

    خیر اندیش فاروق احمد

  • Bravo بہترین تحریر!
    حالانکہ مجھے سیاست کا زیادہ شغف نہیں ہے پر میرے رفیق حیات ( جن کا سیاست پر گفتگو اوڑھنا اور بچھونا ہے) کے پرزور اسرار پر پڑھا اور آپ کے تجزیہ کی گہرائی سے متاثر ہوئی۔ اب میں دعا گو ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات مظلوموں کے حق میں کامیاب ثابت ہوں۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے