نکتہ داں -۱۹۰
٢٣ اپریل ۲۰۲۶
محو حیرت ہوں کہ دنیا، کیا سے کیا ہوجائے گی۔
- قدیم زمانے میں سامان حرب، تلوار، تیر، نیزے، ڈھال یا گھوڑے ہوا کرتے تھے۔ سنگلاخ اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ، جسمانی طور پر مضبوط اور تلوار بازی اور گھڑ سواری میں، دنیا میں دوسرے علاقوں میں رہنے والی اپنی ہم عصر قوموں سے کہیں بہتر تھے۔
حالانکہ ، منگولیا اور ازبکستان کے شہر فرغانہ کے درمیان ۳۰۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں علاقوں میں آباد لوگوں میں، قدر مشترک انکی جسمانی برتری اور حربی مہارت نے، انھیں دنیا فتح کرنے اور اپنی سلطنت کو توسیع دینے کا شوق پیدا کیا۔ ازبکستان کے قبیلوں کا رخ برصغیر کی طرف اور منگولین چنگیز خان اور ہلاکو خان کی سمت اناطولیہ یعنی ایشیاء کوچک اور عراق اور شام کے علاقے تھے۔
برصغیر میں مغلوں نے نہ صرف اپنا تسلط مضبوط کیا بلکہ پورے برصغیر کو متحد کرکے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔
یہی کچھ منگولوں کا بھی شیوہ رہا۔
- گن پاؤڈر کی دریافت نویں صدی میں ایک چینی راہب کا کمال تھی لیکن گن پاؤڈر سے بندوق بننے کے سفر میں پانچ سے چھ سو سال لگ گئے لیکن اس ایجاد نے تلوار ، تیر ، نیزے اور جسمانی برتری کو ختم کرکے رکھ دیا۔ اب میدان جنگ میں دشمن پر بارود برسا کر فتح حاصل کی جانے لگی۔اور جسمانی برتری دھری کی دھری رہ گئی۔
- تجارتی راستوں کی نگرانی ، دفاع ، تجارت کو فروغ دینے اور دنیا کے مختلف حصوں تک رسائی کیلئے، بحری بیڑوں کی اہمیت ۵ قبل مسیح ہی سے دنیا کی ابھرتی طاقتور قوموں میں رائج ہونا شروع ہو رہی تھیں لیکن، باقاعدہ بحری طاقت بننے کی دوڑ میں پرتگالُ۱۵ویں اور ۱۶ صدی میں اور اسپین ۱۶وی اور ۱۷ ویں صدی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اور اس بحری ، عسکری اور اس دور کی ٹیکنالوجی کی برتری، انھیں دنیا پر قابض ہوکر اپنی سلطنت کو توسیع دینے کی غرض سے لاطینی امریکہ لے گئی۔ نتیجتاً اسپین نے، میکسیکو، وسطی اور جنوبی امریکہ اور تمام کیربین علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی، جبکہ پرتگال برازیل پر قابض ہوگیا۔
- لیکن اسی دور میں برطانیہ اور ڈچ بحری بیڑے، اسپین اور پرتگال کی بحری فوج کے خلاف ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے۔ اور ۱۵۸۵ سے ۱۶۰۴ کے درمیان برطانیہ اور اسپین میں بحری برتری کیلئے جنگ جاری رہی اور بالآخر برطانیہ کے بحری بیڑے نے پرتگالی مدد سے، اسپین اور فرانس کی مشترکہ بحری فوج کو ۱۸۰۵ میں اسپین کے کیپ ٹریفلگر کے مقام پر شکست فاش دی۔ اس جنگ کے بعد برطانیہ تمام سمندری راستوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
- اسی دوران، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی، تجارت کے بہانے برصغیر پر قبضہ کرنے کے منصوبے کا آغاز کرچکی تھی۔ ۲۴ اگست ۱۶۰۸ کو مغل شہنشاہ جہانگیر کی اجازت سے تجارت کے بہانے بنگال کی بندرگاہ سورت پر برطانوی بحری بیڑہ لنگر انداز ہوا ۔ شاہی اجازت سے ۱۶۱۱ میں مزولی پٹنم کے مقام پر ایک ٹیکسٹائل فیکٹری قائم کی اور رفتہ رفتہ وہ مقامی سیاست میں بھی دخل اندازی کرتے رہے۔ نتیجے سے ہم سب واقف ہیں لہذا اس کہانی کو دہرانا ضروری نہیں۔
- جولائی سنہُ۱۹۱۴ سے نومبر ۱۹۱۸ تک چلنے والی ورلڈ وار ون کی تہہ میں بھی یورپی ممالک کی کالونیز کے وسائل پر قبضے کی دوڑ، عسکریت پسندی ، انتہا کا نیشلزم اور پھر دفاعی معاہدوں کے تحت ۳۰ مغربی ممالک کی جنگ نے تقریبا ۱۰۰ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک طرف اتحادی ممالک برطانیہ فرانس، روس، اٹلی، امریکہ اور جاپان صف آرا تھے، جبکہ دوسری طرف یورپ کے وسطی ممالک جرمنی آسٹریا، ہنگری، سلطنت عثمانیہ اور بلغاریہ برسر پیکار تھے۔ وسطی ممالک کو شکست ہوئی۔
- ورلڈ وار ۲ ، کا شاخسانہ بھی توسیعی عزائم، بدلے کی بھڑاس اور گریٹ ڈپریشن کے اثرات سے نکلنے کی بیوقوفانہ کوشش تھی۔ ۷۰ ممالک ۶ سال تک دست و گریبان رہے۔
- ایک طرف جرمنی، جاپان، اٹلی کے ساتھ بلغاریہ، ہنگری، رومانیہ، سلواکیہ اور کروشیا تھے جبکہ انکے مقابلے میں اتحادی اقوام تھیں جن میں، امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، کینیڈا، آسٹریا، نیوزی لینڈ انڈیا اور پولینڈ شامل تھے۔
- دونوں عالمی جنگوں کا اثر یہ ہوا کہ عالمی طاقتوں کے زیر اثر انکی کالونیوں میں، آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگیں اور صاف نظر آرہا تھا کہ بزور طاقت مزید قبضہ ناممکن ہے، لہذا ۸۰ ممالک جو دنیا کی ایک تہائی آبادی (۷۵۰ ملین لوگوں پر مشتمل تھے) اور غلامی کی زندگی گزار رہے تھے انھیں آزادی نصیب ہوئی ، جن میں زیادہ کا تعلق، ایشیا، افریقہ، مشرق بعید اور جنوبی امریکہ سے تھا
- لیکن، دنیا کو لوٹنے کا شوق ختم نہیں ہوا تھا اور اب لوٹنے کے نئے طریقے اختیار کر لئے گئے تھے-
۱- آزاد کردہ ملکوں میں نا انصافی کی گئی تاکہ مستقبل میں علاقائی کشیدگی جاری رہے اور مہنگے اسلحے کی فروخت سے مال بنایا جاتا رہے
۲- ملکوں میں غیر نمائندہ حکومتوں کو قائم کرکے پٹھو حکمران لائے گئے تاکہ انکے ذریعے اپنے مطلب کی پالیسیاں بنوا کر انکی معشیت کو کمزور رکھا جائے تاکہ قرض کے ذریعے سود کمایا جاسکے
۳- تیل سے مالامال ملکوں میں جمہوریت کے برخلاف بادشاہت کو مضبوط کیا جائے اور انکے خوف کی ان سے بڑی قیمت وصول کی جاتی رہے۔ اسرائیل کا غیر قانونی قیام بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
۴- اگر کسی ملک میں قوم پرست قیادت آجائے تو امریکی سی آئی اے، بیسویں صدی کے نصف سے ہی، ایسے تمام ملکوں میں، اپنی پروکسیز جس میں وہاں کے فوجی جرنیلوں کے ذریعے انقلاب لاکر عوامی قیادت کا خاتمہ کرکے، اپنے مطلب کی حکومتیں قائم کی جائیں
موجودہ دور میں امریکی سی آئی اے کے کارناموں سے ہر کوئی واقف ہے
اس تمام صورتحال کے پس منظر میں ایران پر، اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملے اور اس سے پہلے، عراق، لیبیا، افغانستان اور وینزویلا میں جو کاروائیاں ہوچکی ہیں انکے پس پردہ مقاصد کو سمجھا جاسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا اور دنیا کے ترقی پسند ممالک اس سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں جبکہ مسلم ممالک، مستقبل کے سکیورٹی خطرات کیلئے کیا لائحۂ عمل اختیار کریں
ایران کے لازوال عزم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ معاشی پابندیاں آپ کو غلام نہیں بنا سکتیں ۔ اگر قوم یکجا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی آپ کے عزم کو نہیں ہرا سکتی۔ آپ کی یاداشت کیلئے، امریکہ نے پاکستان پر بھی دفاعی پابندیاں لگائی تھیں اور ہمارے ایف ۱۶ طیاروں کی قیمت لیکر انھیں دینے سے انکار کیا تھا۔ پاکستان نے ہار نہیں مانی اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کر لی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور قطر وغیرہ مشترکہ طور پر تحقیقی مراکز قائم کرکے، مستقبل کی ضروریات کے مطابق، نہ صرف دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کریں بلکہ اپنے یہاں بری ، بحری اور فضائی ہتھیار بنانے کی فیکٹریاں بھی قائم کی جائیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کیلئے یونیورسٹیاں قائم کی جائیں جو مسلم طلبا کو تحقیق کے مواقع فراہم کریں۔
موجودہ جنگ میں امریکی ناکامیوں کی فہرست طویل ہے۔ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، لیکن وہ اسے کھلا رکھنے میں ناکام رہا اور اسکا بحری بیڑا کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ دکھا سکا۔
ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خلیجی ریاستوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انکے علاقوں سے امریکی فوج نے ایران کے خلاف کاروائی کی، تو وہ انکی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ابنائے ہرمز کے بند ہونے سے برصغیر اور مشرق بعید کے ممالک اپنی فیکٹریوں کا پہیہ چلائے رکھنے اور اپنی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو جائیں گے۔
یورپی ممالک جو امریکہ کے حلیف تھے میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ برطانیہ نے فرانس، جرمنی سمیت یورپی ممالک کی میٹنگ بلا کر الگ دفاعی معاہدہ کرنے کی باگ ڈور کا آغاز کر دیا ہے
جنوبی امریکہ کے ممالک برازیل کی قیادت میں یک زبان ہوکر، امریکہ کی کیوبا کو دھمکیوں پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں
امریکی عوام میں احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمارے ملک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ نیتن یاہو ہے اور امریکی تاریخ کے تمام سروے جو ماضی میں ، حالت جنگ کے دوران امریکی صدر کی مقبولیت میں ہمیشہ آضافے کا سبب بنا کرتا تھا لیکن تاریخ میں پہلی دفعہ، حالیہ جنگ کے خلاف، امریکی صدر کی مقبولیت محض ۳۰ فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے جبکہ ۷۰ فیصد لوگ اس جنگ کے خلاف ہیں
جبکہ امریکی میڈیا پر اسرائیلی کنٹرول اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ نیو یارک میں جنگ کے خلاف اور اسرائیل کو اسلحہ بیچنے کی مخالفت میں نکالے گئے جلوس کے تقریباً سو افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن امریکی میڈیا نے اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
اسرائیل میں بھی جنگ کے خلاف عوامی رد عمل اور احتجاج بڑھتا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں اس جنگ کے نتیجے میں دو منصوبے بہت پیچھے دھکیلے جائیں گے ایک گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اور دوسرا اکھنڈ بھارت
دعا یہ کرنی چاہئے کہ اس جنگ سے مسلم ممالک کے سربراہان اپنے تمام ممالک میں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی آزادی کو فروغ دیکر اپنے ملک کے عوام کو یکجا کریں، اگر اب بھی ہوش نہ آیا تو وقت بڑا ظالم واقع ہوا ہے۔
خالد قاضی
قاضی صاحب آپ کے تبصرہ سے اتفاق ہے ۔ موجودہ جنگ جہاں ایران کو ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں بھت پیچھے دھکیل دے گی وہاں عرب وعجم کی پرانی دشمی کو مزید مستحکم کرے گی ۔ اس طرح استعمار کے دو مقاصد حاصل ہو جائیں گے ۔ اللہ کرے مسلمانوں کی آنکھ کھلے لیکن ایسا لگتا نہیں ہے ۔
یوسف بھائی، میرے خیال میں سعودی عرب اور ایران کے درمیاں بقا باہمی کے تحت معاملات بہتر ہونگے۔ انشااللٰہ
یوسف بھائی میرے خیال میں سعودی عرب کے اختلافات بقائے باہمی کے اصول پر طے پاجائیں گے انشااللٰہ باہمی
قاضی صاحب ، ماشاءاللہ
بہت عالہ اندازِ سوچ اور بہت اچھی طرح سے قارئین کے لیے دلیلی حقیقت بیان کیۓ گیۓ ہیں ۔
میرے نزدیک یہ صرف ایک کالم نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے تحقیق شدہ مقالہ ہے، جو عالمی تاریخی تناظر پیش کرتا ہے، جس میں ماضی کے تنازعات / جنگوں کی کشمکش کو قرون وسطیٰ سے حالاتِ حاضر کے جنگی ماحول سے مناسب طریقے سے ، ساتھ لا کھڑا کیا ہے ۔
خلیل مغل
سر آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ بس کوشش کرتے۔ہیں، اگر دوستوں کو پسند آگیا تو محنت وصول ہوجاتی ہے۔ بہرحال آپکی ہمت افزائی کا بہت شکریہ
آپ کے ہر مضمون کو میں نہایت شوق اور دلجمعی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریروں سے مجھے گوناگوں معلومات حاصل ہوتی ہیں اور آپ کی عمیق تجزیہ نگاری کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد مسرّت کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میری اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں مصروفیات کے باعث وقت میسر نہ آ سکا، تاہم آپ کی یاد دہانی نے مجھے دوبارہ مطالعے کی طرف مائل کیا۔ آپ کا تازہ ترین مضمون نہایت عمدہ اور دلکش ہے۔ آپ نے جس خوبصورتی کے ساتھ واقعات کو زمانی ترتیب میں پیش کیا ہے، اس سے میری معلومات میں مزید وسعت پیدا ہوئی ہے۔
حمزہ صاحب، ذرہ نوازی کا شکریہ۔