NUKTADAAN

Reading: ‏۱۹۰۔ ۱۸ ویں ترمیم بمقابل مجوزہ ۲۸ ویں ترمیم
Reading: ‏۱۹۰۔ ۱۸ ویں ترمیم بمقابل مجوزہ ۲۸ ویں ترمیم

‏۱۹۰۔ ۱۸ ویں ترمیم بمقابل مجوزہ ۲۸ ویں ترمیم

admin
10 Min Read

نکتہ داں-۱۹۱

۳ جون ۲۰۲۶

۱۸ ویں ترمیم  بمقابل  مجوزہ ۲۸ ویں ترمیم

ہماری فوجی قیادت، ابتدا ہی سے، پاکستان پر، فوج کے حق حکمرانی کی دعویدار رہی ہے اور اس ہی وجہ سے ایوب خان نے  بنیادی  جمہوریت “بی ڈی” سسٹم  متعارف کرواکر، تمام اختیارات ، بحیثیت صدر پاکستان ،  اپنے قبضے میں لے لئے۔

ذولفقار علی بھٹو نے وقت آنے پر اس عمل کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور ایوب خان کی معزولی کے بعد جرنل یحییٰ حکومت سے،  ایک شخص ایک ووٹ کا مطالبہ منظور کروایا۔ ۱۹۷۰ کے الیکشن کے بعد سے اب تک، تمام الیکشن ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر ہی ہوتے رہے ہیں۔ ۱۹۷۳ کا متفقہ آئین پاکستان کے حالات کے مطابق پارلیمانی طرز پر بنایا  گیا اور حکومت کے تمام انتظامی اختیارات پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے اکثریتی نمائندے وزیر اعظم کو منتقل کر دئیے گئے۔

لیکن پھر، ضیا لالحق اوراس کی بی ٹیم نے  پارلیمنٹ ، بذریعہ سازش اور بزور طاقت توڑ دی ، جبکہ متفقہ آئین کو چند بے وقعت کاغذ کے ٹکڑے کہا گیا۔ لیکن ضیا کو ایم آر ڈی  کی تحریک کے سبب، مجبوراً غیر جماعتی انتخابات کروانے پڑے۔ ضیا نے جعلی ریفرنڈم ( جسکی آئین میں کوئی گنجائش نہ تھی) کروا کر خود ، صدارتی عہدے پر غیر آئینی قبضہ کیا اور غیر جماعتی پارلیمنٹ سے بزور طاقت ۸ ویں ترمیم منظور کروائی ، جس کے تحت ۷۳ کے اصل آئین کے بر عکس انتظامی کنٹرول دوبارہ صدر کے اختیار میں چلاگیا یہاں تک کہ صدر اپنی صوابدید پر جب چاہے، پارلیمنٹ کو توڑ سکتا تھا۔ بینظیر کی دو مختصر حکومتوں اور نوازشریف کی دو مرتبہ حکومت سے بے دخلی کا سبب یہی ۸ویں ترمیم تھی۔ جسے بعد میں نوزشریف نے بینظیر کی حمایت سے”اٹھاون ٹو بی”  سے پاک کردیا۔ لیکن جرنل مشرف نے دوبارہ، مارشل لا لگا کر،  نہ صرف جعلی ریفرنڈم کے ذریعے ضیا کی پیروی کی، بلکہ ۱۷ ویں آئینی ترمیم پاس کروا کر،  اسمبلی توڑنے ، آرمی چیف، اور صدرارتی  عہدوں ںپر  بیک وقت براجمان رہنے کی گنجائش نکالی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، جب جب فوجی ڈکٹیٹر حکومت پر قابض رہے ہیں، تو وزارت خزانہ انکے زیر استعمال رہی ہی ہے، لیکن، جب جب بظاہر جمہوری حکومتیں آئیں، اس دوران بھی فوج نے شرائط اور دباؤ کے تحت وزارت خزانہ سیاسی قیادت کو نہیں لینے دی، بلکہ اپنے منظور کردہ ، بیوروکریٹ، عالمی بینک کے نمائندے یا اپنے منظور نظر ٹیکنوکریٹ کو دلوائی ہے۔ بینظیر کو حکومت بھی اسی شرط پر دی گئی تھی کہ وزیر خزانہ وی اے جعفری ہوگا۔ اور حفیظ شیخ کو بھی زبردستی لگوایا گیا۔ لیکن جب جب جمہوری حکومتوں کو کچھ سیاسی استحکام نصیب ہوا تو انھوں نے سیاسی وزیر خزانہ لگائے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا جبکہ ن لیگی حکومتوں میں، سر تاج عزیز، اسحٰق ڈار مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ رہے ۔ عمران خان، کے دور میں اسد عمر اور حماد اظہر وزیر خزانہ تھے لیکن جرنل باجوا کے دباؤ پر ، عمران خان نے حفیظ شیخ، شوکت ترین کو بعد میں وزارت خزانہ تفویض کی۔جبکہ مشرف دور میں شوکت عزیز اور سلمان شاہ وزیر خزانہ رہے۔موجودہ فارم ۴۷ کی حکومت کو بھی مفتاح اسماعیل یا اسحٰق ڈار کے بجائے زبردستی اورنگزیب کو وزیر خزانہ بنانا پڑا۔

وزارت خزانہ اور فوج کا یہ لوو افیئر ہی دراصل ۲۸ ویں ترمیم کا پیش خیمہ ہے۔

پنڈی کی فصیلوں سے یہ آہ و زاری سنی جاسکتی ہے کہ “برا ہو آصف زرداری کا “ کہ جس نے ۱۸ ویں ترمیم کے ذریعے ، کرسی صدارت پر براجمان ہوتے ہوئے بھی ، نہ صرف تمام صدارتی اختیارات پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو، ۷۳ کے متفقہ آئین کی روح کے مطابق لوٹا دیئے بلکہ اس نے برا یہ بھی کیا، کہ پاکستان کے خزانے سے مرکز اور صوبائی حصہ جو پہلے ۵۵ اور ۴۵ فیصد تھا کو یکسر بدل کر، مرکز کا حصہ گھٹا کر ۴۲،۵٪  اور صوبوں کا حصہ بڑھا کر۵۷،۵٪  کردیا۔ اسی لئے جرنل باجوہ نے اپنے اقتدار کے دوران ۱۸ویں ترمیم کو مجیب الرحمٰن کے ۶ نکات کے ہم پلہ کہا تھا۔

ہماری مقتدرہ، فوج اور خزانے کی یہ دوری برداشت نہیں کر پارہی۔

اور اسی ہی لئے، انکی تجویز یہ بھی ہے کہ پاکستان میں موجودہ دور  کی ٹکسال یعنی کراچی اور مستقبل کی ممکنہ ٹکسال گوادر کو مرکز کے زیر انتظام کر دیا جائے تاکہ مالی وسائل پر مکمل اختیار مرکز کے پاس رہے۔ اس ھدف کو حاصل کرنے کیلئے، پروپیگنڈے کی فیکٹریاں صبح شام سوشل میڈیا پر مصروف عمل ہیں۔ سوشل میڈیا پر “رفتار” کی بعنوان ڈاکومینٹری اس پروپیگنڈے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اور جاننے والے جانتے ہیں کہ “رفتار” کس کی چھتری تلے کام کرتا ہے

لیکن اس سارے پس منظر میں، حیرانگی اس بات پر ہے کہ ۱۸ ویں ترمیم کو پیپلز پارٹی کے کارنامے کی بجائے اسے ایک سازش بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اس ترمیم کو ۲۸ویں ترمیم کے ذریعے رول  بیک کرنے میں کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ زرداری صاحب فوج کے دباؤ میں آکر ہتھیار ڈال دینگے ، کبھی انھیں ہٹائے جانے کی افواہ پھیلائی  جاتی ہے اور کبھی انکے اور سندھ حکومت کے خلاف کرپشن کیسوں کو کھولنے کی بات کی جاتی ہے۔ جیسے ۱۸ ویں ترمیم کا فائدہ محض سندھ کو ہے۔ کیا پنجاب ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کا حصہ نہیں  بڑھا ؟ ۔ پنجاب کی سیاسی طاقتیں جس میں ن لیگ سب سے اہم ہے، کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ کیا ن لیگ کو فوج کی مدد کے بنا کبھی  دوبارہ پنجاب سے الیکشن جیتنے کی امید نہیں رہی ہے کہ وہ فوج کی آلہ کار بن کر اپنی حمایت سے منظور کردہ ۱۸ ویں ترمیم کو ۲۸ویں ترمیم پاس کروا کر ختم کرنے پر راضی ہے۔ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت، مرکز کے وسائل کو پنجاب ہی کے وسائل سمجھتی ہے اور ۲۸ویں ترمیم کو پنجاب کیلئے ہی فائدہ مند سمجھ رہی ہے۔ خیبر پختون خواہ کی حکومت بھی اس معاملے پر خاموش ہے اور اس کیلئے صرف عمران کی رہائی ہی کی اہمیت ہے اور بس۔ جبکہ بلوچستان میں بھی اس معاملے پر خاموشی نظر آتی ہے۔رہی بات متحدہ قومی موومنٹ کی، تو اس نے اپنی سیاسی حیات قائم رکھنے کیلئے  ،  نفرت اور تعصب کی آکسیجن کا سہارا  تلاش کرلیا ہے جبکہ حافظ نعیم بھی ایم کیو ایم  ہی کے نقش قدم پر چلتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے آقاؤں سے یہی حکم موصول ہوا ہے

اس تمام معاملے کا ایک عالمی پہلو بھی ہے۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ امریکہ، تمام مسلم دنیا پر، یا مطلق العنان بادشاہت، یا ڈکٹیٹرشپ چاہتا ہے۔ صرف پاکستان ہی ایسا مسلم ملک ہے جسکے عوام جمہوریت پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ پچھلے  پچاس سالوں کے تجربے کے بعد، انھیں ۷۳ کے متفقہ آئین کی اہمیت کا بھی احساس ہو چکا ہے۔ فوج بھی اب مارشل لا کے تجربوں سے سیکھ چکی ہے کہ عوام کے جذبہ جمہوریت کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے، اب پاکستان میں آئینی ڈکٹیٹرشپ اور وسائل پر مرکز (یعنی فوج) کا مکمل اختیار حاصل کرنے کا پلان ہے۔ ۲۸ ویں ترمیم کا مقصد یہی ہے اور اسی لئے جرنل عاصم منیر، مائی فیورٹ فیلڈ مارشل  کہلائے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے، کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی تمام سیاسی طاقتیں مشترکہ طور پر ۲۸ ویں ترمیم کی مخالفت بیک آواز کریں اور اسے صرف پیپلز پارٹی کی ذمہ داری یا پیپلز پارٹی کے سر کا درد نہ سمجھیں۔ اور میڈیا کے ممتاز اراکین بھی محض خبر کی تلاش میں ہی سرگرداں نہ رہیں بلکہ عوام کی سیاسی بلوغت میں اضافے کیلئے کھل کر بات کریں۔

وما علینا الی البلاغ

خالد قاضی

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے