نکتہ داں -۲۰۰
۲۰ اگست ۲۰۲۶
دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ ، مسئلہ دل نہ بنا
عمران خان کی، اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر، ن لیگ کے دو وزیروں کے ابتدائی رد عمل تو بہت مثبت آئے، لیکن اسکے بعد، اس فیصلے پر نہ صرف تنقید سامنے آئی ہے بلکہ، اس فیصلے کے خلاف، سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے سے، مختلف سوالات ذہن میں مچلا رہے ہیں۔
* تو کیا یہ فیصلہ، عدالت کا آزادانہ فیصلہ تھا اور کیا عدالت نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیا ہے ؟ اس لحاظ سے تو یہ بڑی امید افزا صورتحال ہے۔ لیکن یاد ماضی عذاب ہے یارب ۔ اس ہی لئے : *دل ہے کہ مانتا نہیں*
* دوسرا سوال یہ ہے، عمران خان کس کا درد سر ہے۔ ایسٹیبلشمنٹ کا، کہ جس نے اسکی جیت چھین کر، فارم ۴۷ کے ذریعے، ن لیگ اور ایم کیو ایم کی جھولی بھردی اور یہ بات جرنیلوں کی انا کیلئے ناگوار ہے کہ انکے نکالے ہوئے سیاستدان کو، اسکے حق علاج سے بھی، کیسے نوازا جارہا ہے ؟ لہذا ن لیگ کے ذریعے اس فیصلے کو تبدیل کروایا جائے
* یا پھر یہ ن لیگ کا اپنا خوف ہے کہ جس سے انکی “کانپیں ٹانگ” رہیں ہیں اور ان کے وزراء ٹی وی اینکروں کے سوالوں سے خجل خوار ہو رہے ہیں۔
وجہ جو بھی ہو، ن لیگ وہی غلطی کر رہی ہے جو عمران خان نے کی۔
عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد ، اسمبلیوں سے استعفٰی دیکر، اور اپنی دو صوبائی اسمبلیاں توڑ کر اپنے راستے مفقود کر لئے۔ جبکہ اس وقت ن لیگ عدلیہ کے فیصلے پر خوشدلی سے عمل نہ کرکے، خود کو ایک شکست خوردہ فریق تسلیم کروا رہی ہے جو اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ مسلم لیگ کا دفاعی پوزیشن اختیار کرنا، انکی سیاست کو پانی میں چینی کی طرح تحلیل کر رہا ہے۔
نوازشریف (جو خود بھی قانوناً سزا یافتہ قیدی ہوتے ہوئے لندن کے پرائیوٹ اسپتال میں زیر علاج رہے ہیں) کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوش دلی سے من و عن عمل کروانا چاہیے اس سے آپ اپنی سیاسی ساکھ اور وقار میں اضافہ کریں گے ورنہ ہر آنے والا دن، آپکے سیاسی قد کو گرا رہا ہے
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی