Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۰۸۔ نکتہ داں تنگ آمد بہ جنگ آمد
Reading: ‏۲۰۸۔ نکتہ داں تنگ آمد بہ جنگ آمد

‏۲۰۸۔ نکتہ داں تنگ آمد بہ جنگ آمد

admin
13 Min Read
Screenshot

نکتہ داں-۲۰۸

۱۶ ستمبر ۲۰۲۶

تنگ آمد بہ جنگ آمد

حالیہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کی جنگ میں، ایرانی لیڈرشپ اور عوام کے عزم،  استقلال اور قوت مدافعت نے دنیا بھر کے پنڈتوں کو حیرت زدہ کردیا ۔ تاریخ کا علم رکھنے والے، جانتے ہیں کہ قومیں،  جب اپنے وجود کیلئے جدوجہد کریں تو انکی قوت مدافعت وہ کرشمے دکھاجاتی ہے جو رہتی دنیا تک ، لوگوں کیلئے مشعل راہ ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن آج بات ایران کی نہیں پاکستان کی ہورہی ہے۔ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ہم پیشہ لوگوں کے ( بزنس فورم )سے خطاب میں، جس طرح تالیوں کی گونج میں پاکستان میں نظام کے ڈھیر ہونے کی خوشخبری سنائی(تالیاں کسی خوشخبری ہی پر بجائی جاتی ہیں، بری خبر پر نہیں ، لہذا تالیاں بجانے والوں کیلئے یہ خوشخبری ہی کہلائے گی) اور پاکستان کے جملہ مسائل کا حل، صوبوں کی تقسیم کو بتایا تو پورے پاکستان کی سیاسی فزا بدلی بدلی معلوم دی۔ نقوی صاحب کے اعلان کو بے پر کی جان کر، نظر انداز کیا جاسکتا تھا لیکن دوسرے ہی دن، ISPR کے ترجمان جرنل نے نقوی کے اعلان کو سیاسی الوہیت کا درجہ عطا کر دیا۔ دونوں زعماء کے غیر متزلزل انداز تکلم، تحکم  اور استقلال سے بھرپور گفتگو ، اور اپنے کہے پر عمل ہونے پر  مکمل یقین نے، پاکستان میں عمومًا لیکن صوبہ سندھ میں خصوصًا وہ ہی ماحول پیدا کردیا جس ماحول سے ، امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ، ایران گزرا ہے۔

اس غیر متوقع حملے پر سندھ کے رد عمل کی روداد جاننے کیلئے میرے دیرینہ دوست سائیں اللٰہ داد بگھیو سے بہتر شخص اور کون ہو سکتا تھا ، سو میں نے دادو ٹیلیفون کیا۔

سائیں سے ابتدائی سلام دعا کے بعد، میرا سوال یہی تھا کہ آجکل پورے سندھ میں اک بجلی سی دوڑ گئی،  اس کی وجہ کیا ہے۔

سائیں اللٰہ داد بولے، کہ قاضی صاحب،  آجکل ہر کوئی  پاکستان کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے۔ لیکن حقیقتًا پاکستان کیلئے جدوجہد کی ابتدا یا بنگال نے کی یا پھر سندھ نے۔ سنہ ۱۹۴۳ میں سندھ اسمبلی کی پاکستان کے حق میں متفقہ قرارداد سے پہلے پنجاب بھی یونینسٹ پارٹی کی چھتری تلے سر سکندر حیات اور خضر حیات ٹوانہ کی حکومتوں میں اعلانیہ ہندوستان کی تقسیم کی مخالفت کر رہے تھے جبکہ تاریخ یو پی اور سی پی کہ جہاں سے ہجرت کرنے والے کراچی میں آباد ہیں اپنی اسمبلیوں میں کوئی قرارداد نہیں پیش کر پائے تھے۔ اور آجکل کے ہمارے خاکی آقا ، ملکہ برطانیہ کے ہندوستان میں واسرائے کی چلم بھرا کرتے تھے۔ آج کل وہ ہی پاکستان کے مالک اور مختار بنے بیٹھے ہیں اور ہم سندھ کے باسی انکے نہ تین میں نہ تیرہ میں شمار ہوتے ہیں۔

اللٰہ کی پناہ کہ  جو پاکستان کے جملہ مسائل کی جڑ ہیں وہ ہی حل تجویز کر رہے ہیں وہ بھی مشاورت سے نہیں حکماً ۔

سائیں قاضی صاحب ، ایسی صورتحال میں ، پھر سر تو گھومے گا ناں۔

میں نے کہا، بگھیو صاحب مسائل تو ہیں ان سے انکار کس طرح کیا جاسکتا ہے۔

بولے مسائل سے انکار کون کافر کر رہا ہے لیکن تجویز کردہ حل کا مسائل سے کیا تعلق ہے ، یہ مجھے سمجھائیں

ابھی میں کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ بولے، قاضی صاحب بات بہت آسان ہے۔ پاکستان کے مسائل کی وجہ :

  • پاکستان پر ایک لاکھ ارب کا اندرونی اور بیرونی قرضہ
  • پاکستان کا سالانہ تقریبا ۴۰ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ
  • قرضے پر اصل بمعہ  سود کی ادائیگی کیلئے بھی مزید قرضہ لینا پڑتا ہے
  • بجلی  پیدا کرنے والے IPP کی ادائیگیاں الگ مسئلہ ہے

ان جملہ مسائل کا حل ، اپنے خرچے کم اور آمدنی بڑھانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے ناں کہ مزید صوبے بنا کر اپنے انتظامی اور غیر پیداواری اخراجات مزید بڑھاکر۔

وہ بنا رکے بولے جارہے تھے۔ فرمایا، نئے نئے صوبے بنانے سے کیا یہاں جہاز ، موٹر کاریں، مشینیں بننی شروع ہوجائیں گی کہ برآمد کرکے ڈالر کمائے جائیں

انکے استدلال کا میرے پاس کوئی بھی جواب نہیں تھا۔ بولے ہمارے ان خاکی دماغوں کی بات پر اگر یقین کر لیا جائے کہ زیادہ صوبے ترقی کا سبب بنتے ہیں تو پھر افغانستان تو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی اگلی صف میں ہونا چاہئے جہاں ۳۴ صوبے ہیں اور صومالیہ میں ۱۸ صوبے ۔

سائیں اللٰہ داد بولے، سندھ کا یہ غصہ دراصل خاکی حکمرانی اور چھڑی کی من مانی کے خلاف ہے۔ ہم نے پاکستان بنانے میں بھی اس قوم کو لیڈ کیا اور اپنے حلف اور آئین کے خلاف پاکستان کی حکومت اور سیاست میں در آنے کے خلاف مزاحمت کی ابتدا بھی سندھ اور سندھ کی سیاسی لیڈر شپ نے کی ہے، چاہے وہ بھٹو اور بینظیر کی شکل میں ہو یا محمد خان جونیجو کی شکل میں یا پھر آج کے دور میں آصف علی زرداری کی شکل میں۔

اس بات پر میں نے انھیں ٹوکا، کہ سائیں زرداری کے متعلق تو عام خیال یہی ہے کہ، وہ معاملات بگاڑنے کے بجائے بیچ کا راستہ نکال لیتے ہیں چاہے اس کے لئے کچھ ماننا بھی پڑ جائے۔

اس بات پر انکی آواز میں سختی محسوس ہوئی ۔ انھوں نے جواباً کہا کہ زرداری صاحب کا تاریخ میں مقام آجکل کے جھرلو میڈیا اینکر نہیں کریں گے ۔ وقت انکا مقام متعین کرے گا۔ انھوں نے بہت زور دیکر کہا کہ قاضی صاحب یہ میری بات نوٹ کرلیں کہ یہ ضرور ہے، کہ زرداری صاحب جمہوریت کو چاہے جتنی بھی ہے، پٹری پر چلتے رہنےکے حامی ہیں ، وگرنہ معاملات سیاسی خلا کی طرف جائیں گے جسے غیر سیاسی قوتیں مارشل لا کے ذریعے (اس بیانیے پر کریں گی )کہ کیونکہ سیاستدان ناکام ہو گئے اس لئے اب ہم ہی ہیں ۔ زرداری صاحب گو ن لیگ کے سخت خلاف تھے لیکن تحریک انصاف کے بد تہذیبی سے حکومت بنانے کے انکار کی وجہ سے مجبوراً ن لیگ کی حمایت کی۔ اور  مستقبل میں مارشل لا کے خلاف پیش بندی کے طور پر سب سے بڑے سیاسی مورچے (قصر صدارت) اور سیاسی اہمیت کے دوسرے مورچے چیئرمین سینیٹ اور دو گورنرز حاصل کئے۔ صدارت پر براجمان ہونے کا قصد انھوں نے فاروق لغاری (جو پی پی پی ہی سے غداری کے مرتکب ہوئے) کے تجربے کے بعد کیا اور صدر ہوتے ہوئے، صدارتی عہدے کے دانت نکال کر وزیر اعظم کو عطا کر دیئے تاکہ اگر پھر کوئی خاکی شرارت کرے تو صدر بنا آئینی طاقت اور اختیار کے ہو۔ زرداری صاحب نے ایک سرخ لکیر کھینچ رکھی ہے۔ اس لکیر سے پہلے وہ اپنے معاملات سنبھال لیتے ہیں لیکن سرخ لکیر کی طرف کسی کو نہیں بڑھنے دیتے ۔ یہ بات انھوں نے دو بار صدر بن کر دکھائی ، اپنا چیئرمین سینیٹ بنا کر دکھائی، نہروں کے معاملے پر دکھا ئی اور اب، صوبوں کے معاملے پر بھی دکھائی۔ ورنہ، قاضی صاحب اپنی یاداشت پر زور دیں ۔ یہ سارے چڑیاں ، کبوتر اور طوطے اڑانے والے صحافی اور اینکر، اعلانیہ کہتے پھرتے تھے کہ زرداری دوبارہ صدرارت کیلئے پنڈی کو ہرگز قبول نہیں ہیں۔ سینیٹ کا چیئر مین انوارالحق کاکڑ ہی ہوگا اور اس کا فیصلہ پنڈی میں ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ۔

میں گفتگو کا رخ موڑنے کی خاطر کہا کہُ سندھ میں بھی تو ناراضگیاں ہیں۔ کراچی میں لوگ آپکی کارکردگی سے ناراض ہوکر الگ صوبے کی بات کرتے ہیں۔

انھوں نے مجھے فورًا ٹوکا یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی ناں،  فاروق ستار، مصطفٰی کمال اور وسیم اختر ۔ دودھ کی نہریں بہتی تھیں انکے ادوار میں اور شہد ٹپکتا  تھا جام صادق، لیاقت علی جتوئی، مظفر شاہ، ارباب غلام رحیم کے ادوار میں۔ اور کراچی میں جو عمران خان کی تحریک انصاف سے ہار کر فارم ۴۷ کے ذریعے جیتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ جن کے بدولت وہ جیتے ہیں انکے حکم ماننے اور اپنی سیاسی حمایت شاید دوبارہ مل پائے ۔ اور اس سے کون اختلاف کرسکتا ہے کہ ہر نیا آنے والا جرنل انکے ساتھ ایک نیا سلوک کرتا ہے، اس لئے انھوں نے اپنی بقا لسانی تعصب میں تلاش کرلی ہے۔ کراچی میں آباد وہ کسی دوسری لسانی اکائی سے اپنے نعرے کی حمایت نہیں پا سکے اس لئے اب میمن برادری کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں۔ لیکن میمن کاروباری طبقہ انکی بھتے لینے اور ہڑتالیں کروانے کو نہیں بھولے ہیں۔

میں نے انھیں چھیڑتے ہوئے کہا کہ بھگیو صاحب آپ رہتے دادو میں ہیں اور خبریں کراچی کی رکھتے ہیں تو بولے سائیں ہمیں اور بھی بہت کچھ پتہ ہے، لیکن کراچی تو صوبہ سندھ کا تاج ہے اسکی خبر ہمیں کیسے نہیں ہوگی ۔

میں نے پھر چھیڑنے کے موڈ میں پوچھا کہ اور کیا خبریں ہیں آپ کے پاس۔ بولے ، آپ دیکھ لیں کہ جو بھی اس صوبائی منصوبے کا حامی ہے اسکا سیاسی تعلق  پنڈی کے پنگوڑے سے ہوگا۔ صحافیوں اور اینکروں میں صف اول کے منیب فاروقی، مجیب الرحمٰن شامی، محمد مالک، ارشاد بھٹی، منصورعلی خان، نجم سیٹھی اور کامران خان سکہ بند پنڈولے کے پروردہ ہیں۔ سیاستدانوں میں، ایم کیو ایم کی قیادت ، پاکستان استحکام کے علیم خان، یا سیاسی بے روزگار فواد چودھری ، یا پھر سیاسی کاروباریہ محسن نقوی۔ ہے انکے علاوہ کوئی اور قابل قدر شخص ؟

وہ بولتے جارہے تھے، چلیں مان لیتے ہیں مزید صوبے بن گئے ۔ تو کیا پھر انتخابات بغیر دھاندلی کے ہونگے ؟ کیا سیاسی جوڑ توڑ سے ہمارے خاکی پیچھے ہٹیں گے۔ کیا انکی کاروبار سے دلچسپی ختم ہوجائے گی، کیا یہ سیاسی پارٹیوں کو توڑنے، نئی پارٹیاں بنانے سے باز آجائیں گے ؟

اگر یہ در اندازی اسی طرح رہے گی تو کیا فائدہ ہوگا ؟ فائدہ ہوگا۔ انکو فائدہ ہوگا ۔ انکے لئے حکومتوں کو کنٹرول کرنا آسان ہوجائے گا۔ صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنا آسان ہوگا کیونکہ موجودہ صوبائی طاقت بکھر چکی ہوگی ۔ یہ پاکستان کو مصر بنادینے کی امریکی سازش ہے، جسے سندھ کے عظیم عوام نے ناکام بنا کر پاکستان سیاست کو لیڈ کیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی یہ اعزاز سندھ کو حاصل تھا جس نے ضیاالحق جیسے ظالم ڈکٹیٹر کو MRD کی تحریک چلا کر کمزور کیا ۔ باقی دوسرے صوبے وہ مزاحمت نہ دکھا پائے جو سندھ نے دکھائی۔ اور آج کے دور کا تاج بھی تاریخ سندھ کے سر باندھے گی

میں نے اب سائیں اللٰہ داد بگھیو سے اجازت لینے ہی عافیت جانی۔

خالد قاضی

Share This Article
2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے