نکتہ داں-۲۰۹
۱۸ ستمبر ۲۰۲۶
ایک زاویہ نظر ، یہ بھی ہے
کل، اپنے آبائی گاؤں، شہباز قلندر کی نگری، سہون شریف ، کے پرائمری اسکول کے ایک محترم استاد سے ، میری گفتگو ہوئی۔
میرے اس سوال پر، کہ سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر، عوام و خواص کی طرف،سے بہت شدید موقف آنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے ؟
قدرے توقف کے بعد، انھوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب، پاکستانی قوم کی عموماً اور سیاستدانوں کی خصوصاً ابتدا ہی سے یہ غلطی ہوئی ہے، کہ جرنلوں کو، انکے ہر غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام پر، جگہ (space) دیتے آئے ہیں اور اس ہی وجہ سے جرنیلوں کو پیر پھیلانے کا موقع ملا ہے اور آج یہ وقت آگیا ہے کہ جرنیل اس ملک اور ملک کے نظام سیاست کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں ۔
ہمارے جرنیلوں کا طریقہ بالکل تاج برطانیہ والا ہوگیا ہے وہ خود بات نہیں کرتے،بلکہ (محسن نقوی نما) اپنے وائسرائے ، یا ، پیادے سیاستدانوں یا پھر میڈیا کے جُھرمکھنوں کے ذریعے پاکستان کی خود دار قوم کو یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، ہونی ہوکر رہے گی یہی ہمارا فیصلہ ہے اور بس۔
انکے سامنے نہ اسمبلیوں کی کچھ حیثیت ہے اور نہ عوامی رائے کی۔گویا یہ بادشاہ ہیں اور ہم انکی مفتوحہ قوم۔
مقتدرہ کا یہی توہین آمیز رویہ ، دراصل اس شدید غصے اور بیچینی کا سبب بنی ہے۔
میں نے انکی بات کی وضاحت چاہی تو مجھے چھیڑتے ہوئے بولے۔کہ سائیں قاضی صاحب آپکے آرٹیکل پڑھ کر تو میں یہ سمجھا تھا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ آپ کو ازبر ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے ان سے ، انکے بیان کی توجیہ پر زور دیا ۔
تو انکا جواب تھا، سائیں غور کریں اگر پہلے ہی دن سے پاکستانی سیاستدانوں اور عوام کا:
* ایوب خان کے مارشل لاء پر یہ متفقہ موقف ہوتا کہ، تم ہو کون اور کس قانون کے تحت تم نے مارشل لا لگایا ہے۔
* اگر وہ یحییٰ خان کے صدرارتی لیگل فریم ورک آرڈر کو پہلے دن ہی سے ماننے سے انکار کردیتے۔
* اگر وہ ضیا الحق کو پہلے احتساب پھر انتخاب کے جھوٹ کے تحت انتخاب ملتوی کرنے کی اجازت نہ دیتے
* اگر وہ ضیاالحق کے ریفرنڈم کو ماننے سے انکار کرکے اسکی صدارت کو غیر قانونی قرار دیکر چیلنج کر دیتے۔
* اگر پاکستانی عوام اور تمام سیاسی پارٹیاں ضیا الحق کے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کرتے وقت جونیجو کا ساتھ دیتے اور اس کے لئے احتجاجاً آواز بلند کرتے۔
* اگر شہید بینظیر ۱۹۸۸ میں ISI کی دھاندلی کے باوجود ، انتخاب جیت کربھی، غلام اسحٰق خان کی شرائط مان کر ، اقتدار نہ لیتیں۔
* اگر عوام اور سیاستدان، جمہوری حکومتوں کو، غلام اسحٰق کے تین مرتبہ اور فاروق لغاری کی ایک مرتبہ برطرفی کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجاتے ۔
* اگر مشرف کے مارشل لا اور اسکے ریفرنڈم کو ماننے سے انکار کر دیتے۔
* اگر پوری قوم، متحد اور یک آواز ہوکر، کسی بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کرکے احتجاج کرتی۔
تو جر نیلوں کو پیر پھیلانے کا موقع نہ ملتا اور انھیں ملک پر، کبھی سامنے آکر اور کبھی در پردہ حکومت کرنے کی ہمت نہ پڑتی۔
یہ ملک پاکستان کی ۲۴ کروڑ عوام کا ہے ان ۲۰ یا ۲۵ جرنیلوں کی جاگیر نہیں ہے۔
انکی اس بات پر میرا موقف یہ تھا کہ “ سر پھر قصور وار سیاستدان بھی تو ہوئے”۔
اس پر انکا استدلال مختلف تھا۔ انکے بقول، ہماری مقتدرہ ، کی کامیابی یہ ہے کہ، اس نے پچھلے ۸۰ سالوں میں ، میڈیا کے ذریعے مستقل ،متواتر اور بڑی شدت سے پروپیگنڈا کر کر کے سیاستدانوں اور سیاست کو ایک قبیح عمل بنا کر پیش کیا ہے اور سیاست کرنے کو عوام الناس کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے، حالانکہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں سیاستدانوں ہی کے ہاتھوں ترقی کی اس منزل پر پہنچی ہیں ، انکی ترقی میں انکی افواج کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ہماری مقتدرہ نے ایک منصوبے کے تحت، کرپشن کے الزام کو ہتھیار بنا کر، ملک کی تقریباً تمام سیاسی قیادت کو، مبالغے کی حد تک کرپٹ بنا کر پیش کیا ہے ۔ اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ الزامات پروپیگنڈے کیلئے ہوتے ہیں، سزا دلوانے کیلئے نہیں۔ انکے اس عمل کی وجہ سے عوام مختلف سیاسی جماعتوں میں اس طرح بٹ گئے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی کا چاہنے والا اپنے علاوہ تمام لوگوں کو نہ صرف کرپٹ گردانتا ہے بلکہ ان سے سیاسی تعصب اور نفرت کرتا ہے
عوام کا یہی مزاج، ہماری مقتدرہ کی جیت کا سبب بنا ہوا ہے۔
انھوں نے دلیل کے طور پر سندھ ہی کی مثال دی۔
انکے مطابق، سندھ کے عوام کا ،مزید صوبے بنانے اور پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام کو بدلنے کے جرنیلوں کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے پر ، سندھ کے عوام کو سراہنے کے بجائے، ہر طرف سے ، انکی اس جرات کو صوبائی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر مقتدرہ کے جھر مکھنے اینکر، سندھ کے عوام کے اس ، مخالفانہ رد عمل کو پیپلز پارٹی یا وڈیروں کی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ میڈیا کی اس شاطرانہ حرکت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی خراب کارکردگی کے باوجود سیاسی طور پر مضبوط ہوگئی ہے۔
اس پر میرا سوال تھا، کہ عوام اس تجویز کردہ تبدیلی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
انھوں نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا ، کہ پھر آپ میری بات ہی نہیں سمجھے۔ جرنلوں کے تجویز کردہ اس حل کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث بعد میں کریں گے۔ ہم تو اپنی اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ابتدا ہی میں ہوئی اور بار بار دہرائی جاتی رہی ہے کہ جرنل کہیں اور ہم مان جائیں۔
جب انکی مرضی ہو، ملک کے دونوں بازوؤں میں برابری کا اصول بنا کر وسائل تقسیم کریں۔ جب چاہیں اپنی حاکمیت کیلئے ون یونٹ بنا کر ملک کی چار لسانی ، ثقافتی، تہذیبی میراث کی نفی کرنے کیلئے ، ملک کی مختلف قومیتوں کے درمیان زبردستی نفرتوں کے بیج بوئیں۔ پھر جب چاہیں وسائل کی تقسیم کا نظام بدل کر آبادی کے مطابق لے آئیں۔ یہ اختیار نہ انکا ہے، اور نہ انکا ہونا چاہیے۔
انکا یہ کام ہی نہیں ہے۔ یہ کام سیاستدانوں کا ہے اور سیاستدانوں نے، اپنے باہمی اختلافات کے باوجود، بار بار گفت شنید کرکے اختلافات کو حل کیا ہے۔ پاکستان کا متفقہ آئین اس کی سب سے بڑی مثال ہے، پانی کی تقسیم کا فارمولہ ، اٹھارویں ترمیم، NFC ایوارڈ ، سب سیاستدانوں کے کارنامے ہیں۔
ہم انکی عزت بھی کریں گے انکو سر آنکھوں پر بھی بٹھائیں گے ، لیکن شرط یہ ہے کہ جب یہ آئین اور قانون کے مطابق اپنا دائرہ عمل ملک کے دفاع تک محدود کر دیں ۔
سندھ کا احتجاج، جرنیلوں کے پاکستان کے نظام حکومت میں دُر آنے، انکے حکومتی اور عدالتی معاملات میں مداخلت اور سیاست اور انتخابی نتائج میں اپنی مرضی سے رد و بدل کرنے کے اختیار کے خلاف ایک رکا ہوا لاوا ہے، جو صوبوں میں چھیڑ چھاڑ کے اس عمل کی وجہ سے اچانک پھٹ پڑا ہے۔
چاہئے تو یہ، کہ پنجاب کے دانشور، مورخ ، ادیب ، وکلا ء اور صحافتی برادری سندھ کے عوام کی اس کاوش کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہوئے پنجاب کے عوام کو بھی سندھ کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا سبق دیتے نہ کہ صوبائی رنگ۔
وہ جوش میں بولے جارہے تھے، انھوں نے اردو میڈیا کے طرز عمل کا بھی شکوہ کیا۔ ان کے بقول ، مالدار مالکوں کا میڈیا، سندھ کے مختلف شہروں کے صحافیوں سے رابطہ کر کے فرمائش کر رہا ہے، کہ اپنے علاقے سے دوچار لوگوں کا مزید صوبوں کی حمایت میں انٹرویو بھیجو، چاہے وہ انٹرویو جعلی ہی کیوں نہ ہو۔
میں نے موضوع کی طرف دوبارہ دھیان لانے کیلئے انکی بات کاٹی ۔
میں نے کہا کہ گویا آپ سندھ کے انتظامی معاملات سے بالکل مطمئن ہیں ، اس ہی لئے تو تبدیلی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اس بات پر وہ پھر جذباتی ہوگئے۔ بولے آپکو یہ کس نے کہدیا کہ ہم حالات سے مطمئن ہیں۔ حالات یقیناً پہتر نہیں اور ان میں بہت تبدیلی درکار ہے، لیکن وہ تبدیلی نہیں جو جرنل چاہتے ہیں۔ جرنل اس ملک کو مصر بنانا چاہتے ہیں، عوام کوتقسیم در تقسیم کرکے ، تاکہ
عوام الناس کو آسانی سے کنٹرول کرکے، انکے وسائل کو ہتھیا لیا جائے۔
وہ چولستان میں اپنی زمینوں کو آباد کرنے کیلئے دریائے سندھ کو بھی ایک نالے میں تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ پنجاب میں اس موقف کو معصوم لوگوں میں پھیلا رہے ہیں کہ، سمندر میں گرتا پانی دراصل پانی کا ضیاع ہے۔ وہ قدرت اور اللٰہ کے بنائے ہوئے ایکو سسٹم کو توڑ کر، سندھ کے ڈیلٹا کو بنجر بنا دینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ انھیں دریائی پانی کی غیر موجودگی کی وجہ سے سمندر کے کروڑوں ایکڑ زمین کے ریگستان بن جانے کی کوئی پرواہ نہیں۔ انکی عقل(استغفراللٰہ) ، اللٰہ کے بنائے ہوئے نظام سے زیادہ ہے۔سندھ کا یہ غصہ ان تمام عوامل کی وجہ سے بھی ہے۔
میں نے انھیں روکتے ہوئے کہا، سائیں شاید آپکے پاس بھی پاکستان میں بد انتظامی ختم کرنے کا کوئی حل نہیں ہے۔
بولے حل کیوں نہیں ہے ؟ سندھ کا بچہ بچہ اس بات کے حق میں ہے، کہ اختیارات اور مالیاتی وسائل صوبے کے بجائے آئین ترمیم کے ذریعے نچلی سطح تک پہنچائے جائیں۔ بلدیاتی نظام اپنے مکمل انتظامی اور مالیاتی اختیارات کے ساتھ، صوبائی حکومت سے آزاد ہوکر کام کرے اور پولیس بھی شہروں کے میئر حضرات کے زیر قیادت ہر شہری کی محافظ بنے۔
لیکن اب جب ، سندھ کے عوام نے، جرنیلوں کی سیاسی معاملات میں غیر آئینی مداخلت اور حکومت میں دخل اندازی کو روکنے کے لئے، کمر کس لی ہے تو یہ عمل ملک کے دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید ہونا چاہئے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے بقیہ صوبوں کے عوام نہ صرف سندھ کے عوام کے اس عمل کی تحسین کریں بلکہ آگے بڑھکر تقلید کریں ۔ اگر ایسا ہوگیا ( اور انشاللٰہ ایسا ہی ہوگا) تو اس ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔
بیگم کی آواز نے مجھے موقع عطا کیا کہ میں سائیں سے خداحافظ کہنے کی اجازت لوں
خالد قاضی