نکتہ داں-۲۱۱
۲۴ ستمبر ۲۰۲۶
بات ایک حالیہ ملاقات کی
ماڑھوں سبھ نہ سھڑاں، پکھی سبھ نہ ہنج۔
کہں کہں ماڑوںھ منجھ اچے بو بہار جی۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی
شاہ لطیف بھٹائی کا شعر، جس کا مفہوم ہے کہ سب لوگ خوب سیرت نہیں ہوا کرتے اور ہر پرندہ ہنس نہیں ہوتا ، بہار کی سی خوشبو کسی کسی ، شخص سے ہی آتی ہے۔
آج آپ سب سے، اسی بہار جیسی خوشبو لئے، ایک نفیس انسان سے ملاقات کا ذکر کرنا ہے۔
ان سے پہلی ملاقات، آج سے تقریباًُ ۳۸ سال پہلے، بطور مریض، ہوئی تھی۔ اُس وقت ہم بھی جوان تھے اور یہ محترم بھی۔
مہینے بھر کا یہ ساتھ، ہفتے، میں دو یا تین دن کا ہوتا ۔ اور دندان سازی کے دوران، گپ شپ بھی خوب رہتی۔ ضیا دور کے خاتمے کے بعد، ۱۹۸۸ کا الیکشن ہوچکا تھا اور بی بی شہید الیکشن جیت کر حکومت بنانے کیلئے غلام اسحٰق کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھیں۔
موصوف کا سیاسی تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور ہم مارشل لا کے مخالف ، بینظیر کی جیت پر بہت خوش تھے۔
جب جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا ذکر ہو، تو اختلاف کا نہ ہونا نا ممکنات میں سے ہے۔ لیکن، مجھ میں اگر، کچھ سیاسی تحمل اور شائستہ گفتنی ہے تو وہ (اس مہینے کے تعلق سے) میں نے موصوف سے سیکھی۔ اختلاف کو تحمل سے سننا، جواباً جذبات سے عاری دلیل سے، اپنی بات سمجھانا اور جب بحث حد سے بڑھنے لگے تو مکالمے کو خوبصورتی سے، یہ کہتے ہوئے سنبھالنا “ کہ جناب آپ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ میرا تعلق جماعت سے ہے، لہذا کچھ لحاظ فرمائیں”
اس پر وقار شخصیت کے آباء اجداد لکھنؤ سے ہیں اور لکھنوی تہذیب کے جملہ خواص ، یعنی، اخلاق، اخلاص، تہذیب، شائستگی، نرم گفتاری، تکلف اور رواداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
جی ہاں میں سابق صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب ہی کی بات کر رہا ہوں۔
وہ لوگ ، جو ہمیشہ خاندانی سیاست کی مخالفت کرتے ہیں ، انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ جناب عارف علوی نے نہ صرف اپنا شوق ، بلکہ اپنا پیشہ بھی اپنے والد محترم حبیب الرحمٰن علوی سے مستعار لیا تھا۔ انکے والد اپنے زمانے کے پائے کے دندان ساز تھے اور جواہر لال نہرو انکے زیر علاج رہے جبکہ سیاست میں وہ جماعت اسلامی کے سرگرم رکن تھے۔ جناب عارف علوی نے بھی دندان سازی کو اپنے رزق اور سیاست کو عوامی خدمت کے جذبے سے اس طرح اپنایا کہ دونوں میدانوں میں وہ بلند ترین مقام تک پہنچے۔
علوی صاحب اپنے والد کی سیاسی سرگرمیوں کی بدولت گرامر اسکول سے نکالے گئے۔ کیونکہ جماعت اسلامی مشینری اسکولوں میں لازمی عیسائی مذہب کی تعلیم کے خلاف تھی اور حبیب الرحمٰن علوی اس موقف کے بہت بڑے وکیل۔
عارف علوی نے دندان سازی کی تعلیم کا آغاز لاہور کےڈیمونٹ مورینسی انسٹیٹیوٹ سے بیچلر آف ڈینٹل سرجری کی سند حاصل کر کے کیا۔ دندان سازی میں دو ماسٹرز ،یونیورسٹی آف مشی گن اور یونیورسٹی آف سان فرانسسکو سے حاصل کیں۔ انھوں نے، نہ صرف امریکن بورڈ سے ڈپلومہ کیا بلکہ انٹر نیشنل کالج آف ڈینٹسٹ، امریکن کالج آف ڈینٹسٹ اور پریئیر فینچرڈ اکیڈمی کی فیلو شپ بھی حاصل کی۔ وہ پاکستان کے کالج آف فزیشین اور سرجن کی فیکلٹی آف آرتھو ڈانٹسٹ کے ڈین بھی رہے ۔ اسکے علاوہ پاکستان ڈینٹل فیڈریشن اور ایشیا پیسفک ڈینٹل فیڈریشن کی صدارت بھی علوی صاحب کی اڑان کے آئینہ دار ہیں۔
یہ تو انکا پیشہ ورانہ اعزاز تھا ، لیکن سیاست کے میدان میں بھی علوی صاحب اپنے زمانہ طالبعلمی ہی سے، پورے جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیتے رہے۔ وہ لاہور میں تعلیم کے دوران اسلامی جمیعت طلبا کے جھنڈے تلے کالج یونین سرگرمیوں میں پیش پیش رہے اور الیکشن جیت کر، طلبا یونین کے صدر بھی بنے۔ وہ ۱۹۶۹ میں ایوب خان حکومت کے خلاف طلبا تحریک میں شریک ہونے کے سبب، پولیس کی گولیوں کا نشانہ بھی بنے اور انکی ایک آمر کے خلاف جدوجہد کی گواہی، انکے جسم میں پیوستہ ایک گولی آج تک انکے جہاد کی گواہی دے رہی ہے۔
طلبا سیاست کے بعد علوی صاحب کی ملکی سیاست کا آغاز ۱۹۷۷ میں جماعت اسلامی کے بینر تلے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ کر ہوا ۔ گو وہ الیکشن ہار گئے۔ لیکن جماعت اسلامی کے رکن کی حیثیت سے وہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
علوی صاحب ایک جمہوری سوچ کے حامل ہیں اور انکی سیاسی تربیت پروفیسر غفور احمد جیسے سیاسی اور جمہوری ذہن رکھنے والے رہنما کے زیر اثر رہی۔ جماعت اسلامی کا ضیا الحق کے ۱۹۸۵ کے ریفرنڈم کی حمایت، کی وجہ سے پروفیسر غفور اور علوی صاحب سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیا ر کرنے لگے۔ اور ۱۹۸۸ میں جماعت اسلامی سے اپنی ۱۱ سالہ رفاقت کو خیرباد کردیا اور اپنی پوری توجہ اپنے پیشے کو دیتے رہے۔
ڈاکٹر عارف علوی کا دوسرا سیاسی جنم عمران خان کے سیاست میں داخلے سے ہوا۔ علوی صاحب کے پاکستان کو بدلنے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے جذبے نے، انھیں عمران خان کی شکل میں ، ایک امید کی کرن دکھائی دی ۔ اور جب اپریل ۱۹۹۶ میں عمران خان نے تحریک انصاف کی بحیثیت سیاسی پارٹی بنیاد رکھی تو عارف علوی صاحب تحریک انصاف کے بانی رکن کے طور پر سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ تحریک انصاف کے آئین کی تشکیل میں نہ صرف انھوں نے اپنا حصہ ڈالا بلکہ صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالنے تک، تحریک انصاف کے ہر سیاسی فیصلے میں وہ بحیثیت ممبر سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی شامل رہے۔
چونکہ آجکل تحریک انصاف زیر عتاب ہے،،اس ہی لئے جناب عارف علوی پچھلے ڈیڑھ سال سے خود ساختہ جلاوطنی گزار رہے ہیں۔ جلاوطنی کے دوران وہ دوبئی ، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں گشت کرتے رہے ہیں۔
انکی امریکہ میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، امریکہ میں مقیم شیوزبری کے پاکبانوں کے سرخیل، منصور خان اور انکی بیگم ڈاکٹر فوزیہ منصور نے انھیں عشائیہ پر مدعو کیا اور اس محفل میں ان سے (دوسری) ملاقات اور سوال وجواب کا مجھے بھی موقع ملا۔
کام و دہن کے بہترین لوازمات پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد، محفل کا آغاز ملکی معاملات پر ہوا۔
ڈاکٹر عارف علوی سے گفتگو میں انکی یہ خوبی فوراً واضح ہوجاتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کثیر المطالعہ شخصیت ہیں اور سیاست، معاشرت، فلسفے کے علاوہ انھیں حالیہ زمانے کے جدید علوم اور ٹیکنالوجی پر بھی خاصہ عبور حاصل ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کی رہنمائی کی ضرورت تو تحریک انصاف کو پاکستان میں ہے، آپ کیوں دیار غیر میں مقیم ہیں۔
جواباً انکا اندیشہ تھا کہ پاکستان میں قدم رکھتے ہی انھیں گرفتار کرلیا جائے گا اور میرے خلاف مضحکہ خیز الزامات کے مقدمے درج کئے گئے ہیں اور میرے بینک اکاؤنٹ بھی منجمد ہیں۔ جہاں تک سیاسی مشاورت کا تقاضہ ہے تو، تحریک انصاف کی تقریباً تمام قیادت سے میرا رابطہ روزانہ کی بنیاد پر رہتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے ہوئے، گرفتاری کے سبب، تحریک انصاف کے موجودہ رہنماؤں سے شاید وہ مشاورت نہ ہوسکے جو یہاں رہ کر میسر ہے۔
انکے مطابق، انکے خلاف ۲۰۱۸ میں ، اسلحہ کے ساتھ دنگے فساد وغیرہ کا مقدمہ کراچی میں درج کیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی، ٹیکسلا اور میانوالی میں دہشتگردی کی مختلف دفعات کے ساتھ، ناقابل ضمانت مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ وہ مسکرا کر کہہ رہے تھے کہ میں تو ایک بے ضرر انسان ہوں ۔ کہاں میں اور کہاں دنگا فساد یا دہشتگردی۔
ان سے سوال تھا کہ پاکستان میں کیوں لوگ احتجاجاً باہر نہیں نکل رہے۔ جواباً فرمایا کہ پولیس کا ظلم پاکستان کی تاریخ کی تمام حدیں پار کر چکا ہے اور چادر و چاردیواری کی بے حرمتی کرتے ہوئے خواتین کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے نان و نفقے کیلئے پریشان ہیں۔ اس پر لا قانونیت اور جرائم اپنی جگہ۔
انھیں یاد دلایا گیا کہ ضیا دور میں ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران بہت ظلم کیا گیا تھا، لیکن جوابا” انھوں نے ایم آر ڈی کی تحریک کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔
ان سے میرا سوال یہ تھا، کہ جنگ خندق سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایک بڑے اور کہیں طاقتور دشمن سے مقابلہ کرنے کیلئے، اپنے گردونواح کی قدرے کمزور دشمن طاقتوں سے بات چیت اور معاہدے کرکے، اپنی قوت ایک طرف یک سو کرنی چاہئے۔ آپکے اس وقت سب سے بڑے دشمن سیاسی جرنیل ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے سیاسی مفاہمت بڑھا کر، اپنا پورا زور جرنیل جنتا کے خلاف کرلیں۔ اس پر انھوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے کسی خیر کی امید نہ رکھنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں پارٹیاں اقتدار کے مزے لے رہی ہیں ، ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
ان سے پھر سوال کیا گیا کہ ، کیا مقتدرہ سے بات کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی؟ اس پر انھوں نے انکشاف کیا کہ ہم تو بات کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کوشش بھی کی گئی لیکن مقتدرہ نے ہمارے لئے گفت شنید کے سارے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ ایک دوست نے پوچھا کہ آپ صدر پاکستان رہ چکے ہیں، آپکی غیر ملکی سربراہوں سے کچھ سلام دعا، کچھ علیک سلیک بھی تو ہوگی۔ کیا اس تعلق کو استعمال کرکے کچھ بیرونی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا ؟
اس پر انھوں نے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ عموماً سربراہوں کے تعلقات سرکاری ہوتے ہیں ۔ جب تک آپ سرکار کا حصہ ہیں تو تعلق بھی ہے جب سرکار سے ریٹائر ہوئے تو تعلق بھی نہیں رہتا ۔ ویسے بھی تمام ممالک، اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہیں کسی فرد کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔
گفتگو کے موضوع کو بدلتے ہوئے اس محفل کی میزبان ڈاکٹر فوزیہ منصور نے اے آئی کے پاکستان میں مستقبل کے متعلق پوچھا۔
ڈاکٹر علوی نے جواباً فرمایا کہ اے آئی تو، آج کے دور کی ضرورت ہے اور اس میں پیشرفت کرنے ہی سے مستقبل کی راہیں وا ہو پائیں گی۔
پاکستان میں مزید صوبوں کی بحث کے متعلق، انکی رائے تھی، کہ اس وقت یہ کام بے وقت کی راگنی ہے
اور اس سوال پر، کہ عمران خان کے بیشتر ساتھی، مشکل وقت میں اسے چھوڑ گئے ہیں، آپ کیا کہیں گے۔
اس پر انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان مختلف صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ جو میری صلاحیت ہے میں اسکے مطابق پورا ساتھ دے رہاں ہوں ، ہاں عمر کے اس حصے میں قید و بند واقعی مشکل مرحلہ ہے۔
محفل کے خاتمے پر گھر جاتے ہوئے ، عمران خان کے بیشتر ساتھیوں کا، عمران خان اور تحریک انصاف سے کنارہ کش ہوجانے کے متعلق سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ، بلندی پر پہنچنے کی جلدی میں ، اگر آپ نے بُھربُھری اینٹوں سے مینار بنایا تو پہلی ہی بارش میں آپ زمین پر آ گریں گے۔
خالد قاضی
قاضی صاحب آپ نے ان صاحب کی جس طرح انکی تعریف بیان کی ہے یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے اہلیان کراچی زیادہ جانتے ہیں ان کی بدتمیزی فرعونیت کو اگر اچھے کام اور اچھے رویئے کے مالک ہوتے تو دربدر نہ ہو تے الله سب کو معاف فرمائے
سر پہلے تو شکریہ کہ آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دوسری اہم بات یہ کہ سر مجھے اپنی قبر میں جانا ہے اور اسے اسکی۔ میں جو بیان کیا ہے وہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ باقی دوسرے لوگوں کے ساتھ اسکے سلوک کا مجھے پتہ نہیں