نکتہ داں-۲۱۲
یکم اکتوبر ۲۰۲۶
سیاسی میدان کو میدان جنگ نہ بنائیں !
پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کے پس منظر میں،ایک دوسرے کے خلاف یا ایک دوسرے کے ساتھ جو سیاسی قوتیں کھڑی ہیں، ان میں قابل ذکر چار ہی ہیں۔ گو ان چار قوتوں کے علاوہ بھی قابل ذکر، سیاسی گروپس اپنا اپنا دائرہ اثر رکھتے ہیں ۔لیکن ابتدا ان چاروں کے ذکر سے، کہ دیکھیں کون کہاں کھڑا ہے ۔
ان چار سیاسی قوتوں میں مندرجہ ذیل ہی قابل ذکر ہیں :
• شہباز شریف کی قیادت میں ن لیگ کی حکومت
•سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور عمران خان بحیثیت سیاسی رہنما۔
• پاکستان پیپلز پارٹی
• فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مقتدرہ۔
آئیے ان اوپر بیان کی گئی سیاسی قوتوں کے اہداف ، اقدامات اور نتائج پر نظر ڈالی جائے۔
شہباز شریف کی ن لیگی حکومت جہاں بین الاقوامی محاذ پر، پاکستان کیلئے افتخار اور عزت کا باعث بن رہی ہے، وہیں اپنی بین الاقوامی کامیابیوں کو ملک کے داخلی محاذ پر کوئی فائدہ نہیں اٹھا پا رہی۔
شہباز شریف حکومت کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے۔
معاشی طور پر، ملک بہتر ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ۔ نہ صنعتی طور پر اور نہ ہی زرعی طور پر بہتری نظر آتی ہے۔ سیاسی معاملات بھی دگرگوں ہیں اور ن لیگی وزرا کے بیانات حالات کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ کسی بھی سیاسی حکومت کا ترجمان یا وزیر اطلاعات ایسا مدبر اور سیاسی طور پر منجھا ہوا شخص ہونا چاہئے جو حزب مخالف کے بیانات، الزامات اور اعتراضات کا جواب ، تحمل ، بردباری اور دھیمے انداز میں اس طرح دے کہ سیاسی گرمی یا تناؤ پیدا نہ ہونے پائے۔ ن لیگ میں ایسے جہاندیدہ افراد کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن عطا تارڑ صاحب جیسے جوان کو وزیر اطلاعات بنانا میری سمجھ سے باہر ہے ،جو شاید کبڈی کے کھلاڑی کی طرح دھوبی پٹکا مارنے کی تربیت تو رکھتے ہیں ، نرم گفتاری اور دھیما پن ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا۔ میری نظر میں، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، رانا ثنااللٰہ، احسن اقبال یا پرویز رشید اس وزارت کیلئے بہترین انتخاب ہو سکتے تھے۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی بہتر پوزیشن پرہے۔ پیپلز پارٹی کے، قمر زماں کائرہ ، ندیم افضل چن، چودھری منظور، شیریں رحمٰن اور مولا بخش چانڈیو اس وزارت کیلئے بہترین چوائس ہوسکتے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔اس ہی لئے اپنے وزراء کے بیانات کی وجہ سے ن لیگ دوستوں سے زیادہ اپنے دشمن بنا رہی ہے۔
ن لیگ کی پنجاب حکومت کی وزیر اعلٰی محترمہ مریم نواز ، اپنے انداز حکمرانی اور اپنے اللے تللوں کی وجہ سے، وفاقی حکومت کی مددگار ہونے کے بجائے سیاسی طور پر اس کا دھڑن تختہ کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت کی ترجمان محترمہ عظمٰی بخاری اپنے لہجے اور انداز گفتگو میں ، عطا تارڑ سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں
شہبازشریف حکومت نے، تحریک انصاف کے مخالفانہ طرز عمل اور دھرنے کے اعلان کے رد عمل میں جو اقدامات کئے اور اسلام آباد، اور اسلام آباد کو ملک سے ملانے والے تمام راستوں پر جس طرح رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ ، عمران خان کی بوڑھی بہنوں سمیت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے وزیروں، لیڈروں اور کارکنوں کو جس طرح، بے دریغ قید کیا ہے وہ ن لیگ کی گھبراہٹ کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ ن لیگ کی ان تمام حرکتوں کو ایک ہارے ہوئے شخص ہی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔تحریک انصاف نے اپنے دھرنے کی تاریخ ۲۷ ستمبر سے ۴ اکتوبر تک بڑھا کر، حکومت کو ایک نئے مخمصے میں پھنسا دیا ہے ۔ شہباز شریف کی ملک میں غیر موجودگی میں، بظاہر ان معاملات کو محسن نقوی صاحب کے ذریعے مقتدرہ ڈیل کرتی نظر آرہی ہے۔ جبکہ اصولاً سیاسی معاملات کو سیاسی قیادت ہی کو مشاورت اور گفت شنید کے ذریعے سیاسی کشیدگی کو تحلیل کرنا چاہئے۔
مقتدرہ کی عسکری سوچ کے تین حل سامنے آرہے ہیں
- خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کا نفاذ
- خیبر پختون خواہ اسمبلی میں وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر، وزیراعلٰی کو تبدیل کروانا۔
- خیبر پختون خواہ میں سیکیورٹی اور دہشتگردی کے مسائل کو بہانہ بنا کر صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ
ان اقدامات کیلئے قصر صدارت کی رضامندی ضروری ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق، محسن نقوی ، صدر زرداری کو کسی بھی غیر سیاسی اقدام کیلئے راضی نہ کر پائے۔
چونکہ وزیراعظم پاکستان پہنچ چکے ہیں اور انکا رابطہ صدر زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی ہوا ہے، جسکے نتیجے میں خبریں ہیں کہ وزیراعظم ، ملک کے تمام سیاسی قائدین سے مشاورت کے بعد ہی کچھ فیصلہ کریں گے۔ یہی ایک بہتر حل ہے۔ اگر وزیراعظم مقتدرہ کے ہر فیصلے پر آمنا و صدقنا کہتے رہے تو مسلم لیگ کے متعلق یہ بات کہنا درست ہوگی کہ “ جتھے دی کھوتی، اتے آں ڑ کھلوتی” یعنی ضیاالحق کی گود میں پرورش اور پنڈی کا پنڈولا ہی آخری آرام گاہ ثابت ہورہا ہے۔
مقام شریف کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
ضیا کی گود سے نکلے تو پنڈی دوار چلے
اب کچھ ذکر دوسری سیاسی قوت کا :
جہاں تک عمران خان اور اسکی جماعت تحریک انصاف کا تعلق ہے، تو میں عمران خان اور اسکی جماعت کی کارکردگی کا ، الگ الگ تجزیہ کروں گا۔
عمران خان کو تین سال پہلے قید کرتے وقت جو پروپیگینڈا کیا گیا تھا، عمران خان نے اس سب کو غلط ثابت کیا ہے ۔ کہا تو یہ جاتا تھا کہ :
• عمران خان نشے کا عادی ہے اور بنا نشے کے وہ چند دن جیل میں نہیں رہ سکے گا
• وہ چند روز بعد ہی حکومت یا مقتدرہ سے ڈیل کر کے جیل سے نجات کے راستے ڈھونڈے گا
• وہ سیاست کو خیرباد کہہ کر برطانیہ میں سکونت اختیار کرلے گا ، وغیرہ وغیرہ
عمران خان کی سیاست سے کوئی کتنا ہی اختلاف کیوں نہ کرے ، لیکن اسکی ثابت قدمی سے انکار نہیں کرسکتا ۔ لہذا میں عمران خان کو سیاسی طور پر جیتا ہوا ہی کہوں گا
اسکے بر عکس، میری نظر میں تحریک انصاف بحیثیت سیاسی پارٹی ناکام رہی ہے۔ اسکی وجہ اسکی پالیسی ہے۔
اب تک، تحریک انصاف اپنے یک طرفہ ایجنڈے یعنی عمران خان کی رہائی کے قریب بھی نہیں پہنچی بلکہ اس کے بر خلاف، عمران خان کو ابتدا میں جو بحیثیت قیدی جائز سہولتیں میسر تھیں وہ بھی اپنی بچگانہ سیاست کی وجہ سے کھو بیٹھی ہے
میرے خیال میں، تحریک انصاف اگر مندرجہ ذیل لائحۂ عمل اختیار کرتی تو شاید بہت کامیاب ہوتی۔
• میرا سب سے پہلا اختلاف ہی اس مفروضے سے ہے جو تحریک انصاف عمران خان ہی کے زمانے سے آزما رہی ہے کہ وہ انسانوں کا لاکھوں کا ہجوم لاکر اسلام آباد پر چڑھائی کرکے حکومتی اور سکیورٹی کے نظام کو تہہ و بالا کرکے، اپنے سیاسی اہداف حاصل کر لے گی جس میں عمران خان کی رہائی بھی شامل ہے۔ یہ پلان ملک میں جمہوریت نہیں، انارکی کا سبب بنے گا۔ اور اس پلان سے کوئی بھی جمہوریت پسند متفق نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت ، قانون پر عمل کرکے تو حاصل کی جاسکتی ہے، انارکی اور لاقانونیت سے نہیں۔
• دوسری بات یہ کہ ہر دفعہ ، جلوس پشاور ہی سے چلے گا اور اسلام آباد ہی اسکا ہدف ہوگا، یہ ثابت کرتا ہے ( جو کہ غلط ہے) کہ شاید تحریک انصاف محض صوبہ خیبر پختون خواہ کی جماعت ہے اور اسکا ہدف وفاقی دارلاحکومت ہے۔
• میرے مطابق، تحریک انصاف کا چاہنے والا ہر صوبے میں کثیر تعداد میں ہے لیکن انھیں متحرک کرنے کا تحریک انصاف کے پاس کوئی پلان موجود نہیں۔
•میری رائے میں، وزیر اعٰلی سہیل آفریدی، بحیثیت وزیراعلٰی اپنی سو فیصد توجہ عوامی مسائل اور صوبے کی حالت بہتر کرنے پر صرف کرتے اور صوبہ خیبر پختون خواہ کو اپنی کارکردگی کی وجہ سے چاروں صوبوں میں انتظامی طور پر بہترین صوبہ بنا کر پیش کرتے۔
باقی پورے ملک کے تمام بڑے شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنوں، رہنماؤں، اور ملک کی جمہوریت پسند شخصیات کو بڑے بڑے کنوینشن بلا کر، اپنے کارکنوں اور عوام کو متحرک کرکے، عمران کو آزاد کرانے کی تحریک کی ابتدا کرتے ۔ اس میں ہر دفعہ کسی ایک شہر کو نشانہ بنا کر اس میں عوام کی رضامندی سے ہڑتال کروانا اسکے بعد کسی صوبے میں ہڑتال کی کال دینا اور جب تحریک کو عوامی پزیرائی ملتی ہے تو ملک گیر ہڑتال کروانا۔ لیکن ان تمام اقدامات کو کرتے وقت ہنگامہ آرائی، مارا ماری یا توڑ پھوڑ کا عنصر اگر شامل ہوا تو سارے کئے کرائے پر پانی پھر جانے کا اندیشہ ہو گا۔میرا پی ٹی آئی کی قیادت کو مشورہ یہ ہوگا، کہ خدارا اس ملک گیر سیاسی پارٹی کو عملاً صوبائی جماعت بنا کر پیش نہ کریں بلکہ، ملک کے تمام بڑے شہروں میں پارٹی ورکرز کنوینشن منعقد کرکے، پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کو متحرک کریں ۔
اب بات کچھ پیپلز پارٹی کی:
پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر انصاف سے تبصرہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اسکی سیاسی کارکردگی اور حکومتی کارکردگی کا علیحدہ علیحدہ تجزیہ کیا جائے۔
حکومتی کارکردگی اور انتظامی طور پر پیپلز پارٹی کو، سندھ کے پس منظر ہی میں پرکھا جائے گا، کہ جہاں وہ پچھلے تقریباً سترہ سالوں سے بلا شرکت غیرے حکمرانی کر رہی ہے ۔ اور نہ صرف حکمرانی کر رہی ہے بلکہ اٹھارویں ترمیم کے پس منظر میں اسے صوبائی خود مختاری کے ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی اپنے حصے کے وافر فنڈ میسر ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے، سوائے صحت کے شعبے کے، پیپلزپارٹی کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا پائی۔ سندھ کے چھوٹے بڑے تمام شہروں کا انفراسکچر ، پانی، تعلیم اور صنعتی یا معاشی سرگرمیوں کا فقدان پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے، کہ پیپلز پارٹی صوبہ سندھ سے اپنی چاہت کا اظہار تو کرتی ہے، لیکن وہ کراچی کے علاوہ، کسی دوسرے شہر کو، صنعتی، تجارتی ، اور معاشی مرکز نہیں بنا پائی اور نہ ہی کوئی ایسا منصوبہ اسکے زیر غور دکھائی دیتا ہے، جبکہ پنجاب میں لاہور کے علاوہ، فیصل آباد ، سیالکوٹ، اور گوجرانوالہ پنجاب کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ گو کراچی کے میئر مرتضٰی وہاب کچھ عرصے سے کافی متحرک نظر آرہے ہیں اور آئے دن کسی سڑک، کسی پروجیکٹ اور پانی کے پمپنگ اسٹیشن کو بحال کرتے نظر آتے ہیں لیکن سندھ کے دوسرے شہروں سے کوئی خاص خبر نظروں کے سامنے نہیں آرہی۔
پیپلز پارٹی کی کارکردگی سیاست میں، میرے حساب سے تمام سیاسی جماعتوں میں بہتر ہے۔ اسکی وجہ میرے خیال میں یہ ہے :
پیپلز پارٹی پر، ن لیگ اور ایم کیو ایم کی طرح، فارم ۴۷ کا داغ نہیں ہے اور انکے نتائج پر، ن لیگ اور ایم کیو ایم کی طرح انکے مخالف امیدوار کیطرف سے الیکشن کمیشن میں نتائج بدلنے کی کوئی بھی عذرداری کی درخواست دائر نہیں کی گئی۔
ابتدا میں تو صدر زرداری کے دوبارہ صدر بننے پر مختلف آراء سامنے آرہی تھیں لیکن ملک کی موجودہ صورتحال میں، اپنی صدارتی عہدے کی وجہ سے، وہ مقتدرہ کے حالیہ اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ الگ بات، کہ انکی اس سیاسی پیش بندی کی تحسین لوگ نہیں کرتے۔ اس ہی پیش بندی میں دوسری سیاسی لائن آف ڈیفینس ، چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ہے اور الیکشن کے بعد، تقریباً ہر پنڈی کا پنچھی یہی سر لگاتا تھا کہ مقتدرہ انوارالحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ بنوائے گی۔ لیکن صدر زرداری پیپلزپارٹی کے آزمائے ہوئے وفادار سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا۔ اس ہی طرح دگرگوں سیاسی حالات میں صوبائی گورنرز بھی اہم ہوتے ہیں ۔ اور اس ہی لئے پیپلزپارٹی دو صوبوں میں اپنے گورنرز کی صورت موجود ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی بلاول بھٹو نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا اور ہندوستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد بلاول بھٹو نے ہندوستان کے بیانیے کو دنیا بھر میں غلط ثابت کرکے مودی سرکار کو سفارتی طور پر اکیلا کردیا اس طرح انھوں نے پاکستان اور خود اپنے لئے بھی نام کمایا ۔
۲۰۱۰ میں، اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری حاصل کرنے کی اہمیت قوم کو ۱۶ سال بعد اب سمجھ میں آرہی ہے، یہ بھی پیپلزپارٹی کا کارنامہ ہے۔ لیکن سیاسی نفرتوں کے اس دور میں پاکستانی عوام ، سیاسی حقیقتوں کو حیلے بہانے کرکے نہ ماننے کا گر جانتے ہیں۔
اب آئیے مقتدرہ کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا حساب کریں۔
جنرل عاصم منیر نے ہندوستان کے خلاف، بنا کسی برّی فوجی مہم کے، پاکستان کی فضائی فوج کی کامیابیوں کے طفیل فیلڈ مارشل کا عہدہ، (وہ بھی عمر بھر کیلئے یعنی ریٹائر ہی نہیں ہونگے) حاصل کرلیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ اب وہ ملک کی تینوں افواج کے تمام عہدیداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرچکے ہیں اور انھیں اپنی صوابدید پر تینوں افواج کے کسی بھی کمانڈر کو گھر بھیجنے، مدت ملازمت میں اضافہ کرنے کی یا برخواست کر دینے کا صوابدیدی اختیارات مل گیا ہے۔ وہ پاکستانی کی قیمتی معدنی دھاتوں کے اکلوتے سیلز مینجر بھی ہیں، وہ عملاّ وزیر خارجہ بھی بن گئے ہیں اور خارجی امور میں انھوں نے دنیا میں صدر ٹرمپ کے طفیل بڑا نام بھی کما لیا ہے۔
اور ان کامیابیوں کی وجہ سے انکے اعتماد میں اسقدر اضافہ ہوگیا ہے کہ، اب انھوں نے پاکستان کے نظام حکومت، کو بھی ماورائے آئین، بدلنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ اب اس عمل میں انھیں کتنی کامیابی ملتی ہے اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی
انکی ناکامیوں کی فہرست بھی کم نہیں ہے۔ ملک کے دو صوبوں کے حالات ، انکی آئینی ذمہ داریوں کا آئینہ پیش کر رہے ہیں۔
مجھے ڈر یہ ہے کہ اللٰہ انھیں سلامت رکھے، کیونکہ تاریخ ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ جب جب کسی جرنیل، نے ضرورت سے زیادہ پیر پھیلائے تو :
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
میری نظر میں اگر کوئی سیاستدان بنا کسی خوف اور ڈر کے، حق کی بات، ڈنکے کی چوٹ پر کر رہا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔
وہ کبھی پشاور میں ، کبھی قصور میں، کبھی ملتان میں تو کبھی حیدرآباد میں اپنے ہزاروں چاہنے والوں کے جھرمٹ میں جرنیلوں کو للکار للکار کر انکے اعمال،تاریخی مثالوں سے واضح کئے جارہے ہیں اور انکے اس قدرت کلام کا نہ کسی ISPR کے ترجمان نے،نہ محسن نقوی نے اور نہ کسی حکومتی وزیر نے جواب دینے کی ہمت کی ہے۔
اگر یہی لہجہ، دوسرے تمام سیاستدان بھی اپنا لیں تو یقیناً جرنیلوں کو انکی آئینی ذمہ داریوں تک محدود کیا جاسکتا ہے
خالد قاضی