نکتہ داں -۲۱۴
۴ اکتوبر ۲۰۲۶
وہ افسانے جنھیں حقیقت سمجھا جانے لگا۔
آئیں آج ان افسانوں کا ذکر کریں جنھیں ہم حقیقت سمجھتے رہے۔
وہ جھوٹ، اور تہمتیں، جو مقتدرہ کے پچھلے 75 سالہ ، متواتر پروپیگنڈے کی وجہ سے، ہمارے ذہنوں میں، یقین اور ایمان کی طرح چپک گئیں ہیں لیکن، اب وقت نے انھیں غلط ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔لیکن اب بھی ہم انکے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہمارے ہر بیانیے، تجزئیے یا اظہاریے میں انکا ذکر ایک حقیقت کے طور پر آجاتا ہے۔جبکہ اس کے غلط ہونے کا اعتراف بھی ہم کرتے رہتے ہیں
لیکن یہ باتیں ہمارے تحت الشعور کا حصہ بن کر، نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے بیانیے کا حصہ بنی رہتی ہیں۔ ہمیں پچھلے ۷۵ سالوں سے یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی رہی ہے کہ:
- یہ قوم ڈنڈے کی ہے، انھیں مارشل لا کا ڈنڈا ہی درست سمت لے جاسکتا ہے
- سارے سیاستدان کرپٹ ہیں۔
- پاکستان میں ترقی صرف ڈکٹیٹروں کے دور میں ہوئی۔
- بھوکے بنگالی پاکستان پر بوجھ ہیں۔
- ملک متحد اور ترقی ون یونٹ بننے سے کرے گا۔
- جس جس سیاستدان نے مارشل لا یا ڈکٹیٹروں کی مخالفت کی وہ غدار اور انڈین ایجنٹ ہیں ، چاہے وہ، محترمہ فاطمہ جناح ہو، باچا خان ہو، ولی خان ہو، مولوی فضل الحق ہو، حسین شہید سہروردی، مجیب الرحمٰن ہو، جی ایم سید یا فیض احمد فیض، احمد فراز، حبیب جالب، نوازشریف بھی غدار، مودی کا یار کہلوایا اور شہید بینظیر کو بھی سکیورٹی رسک کہا گیا۔بلوچستان پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی اور حال ہی میں، آزاد کشمیر کی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھی غدار کہلائی۔
- کہا گیا کہ بھٹو نے نعرہ لگایا “ادھر ہم ، اُدھر تم” اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ حالانکہ یہ بھٹو کا بیان نہیں، “آزاد” اخبار کی سرخی تھی۔ آزاد اخبار کے ایڈیٹر اطہر عباس چسکے دار ہیڈنگز لگا کو اخبار بیچنے کے فن کے ماہر تھے۔ اور بعد میں انھوں نے خود اقرار کیا کہ یہ بھٹو صاحب کے الفاظ نہیں ، بلکہ میری بنائی ہوئی سرخی تھی۔ بھٹو صاحب نے جو کہا وہ یہ تھا کہ ملک کے دونوں حصوں میں مینڈیٹ منقسم ہے، لہذا آئین افہام و تفہیم ہی سے بنے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کی سرخی یا اس سے ملتی جلتی کوئی بات، ملک کے بڑے اخبارات ڈان اور جنگ نے نہیں رپورٹ کئے۔ اور تو اور، بھٹو مخالف جماعتوں مسلم لیگ کے ترجمان نوائے وقت اور جماعت اسلامی کے جسارت اخبار نے بھی ایسی کوئی خبر شائع نہیں کی، لیکن ملک میں اسٹیٹس کو کے خواہاں طاقتوں کو یہ سرخی مل گئی اور اسے خوب استعمال کیا گیا۔
- بھٹو کے ڈھاکہ اجلاس میں نہ جانے اور اپنی جماعت کے ممبروں کو دھمکی دینے کہ “جو جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا “ پر بھی شور غوغا کیا جاتا ہے۔ نئی اسمبلی پر یہ تلوار لٹک رہی تھی کہ اگر ۱۲۰ دنوں میں آئین نہ بنا تو اسمبلی خود بخود تحلیل تصور کی جائے گی۔ مجیب اپنے چھ نکات اور یحیی اپنی صدارت کیلئے جلدی میں تھے کہ چند لوٹوں کو ملا کر آئین بنا لیا جائے۔ جبکہ مغربی پاکستان کی پوری سیاسی قوتیں، جس میں مفتی محمود، نوابزادہ نصراللٰہ خان، مولانا نورانی، ولی خان ، مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے علاوہ بلوچستان کی پارٹیاں بھی چھ نکات کو، جو ملک کو کنفیڈریشن بناتا تھا کے خلاف تھیں اور وہ پاکستان کو ایک وفاقی فیڈریشنوں بنانا چاہتی تھیں۔ اس وجہ سے نہ صرف پیپلز پارٹی، بلکہ اسکی تمام مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنما ڈھاکہ نہیں گئے لیکن ڈھول صرف بھٹو کا بجایا جاتا ہے
- بھٹو ، اقوام متحدہ میں پولینڈ کی پیش کردہ قرارداد کو اگر نہ پھاڑتا تو پاکستان نہ ٹوٹتا۔ یہ ڈھول بجانے اور اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے والے اس عنصر کو یکسر بھلا دیتے ہیں کہ اُس دور میں دنیا بائی پولر تھی۔ امریکہ، یورپ، مشرق وسطی ، مشرق بعید پاکستان سمیت امریکہ کے زیر سایہ تھے۔ جبکہ دوسری طرف روس، بھارت ، مشرقی یورپ ، مصر بمعہ پولینڈ روس اور بھارت کے زیر سایہ سیاست کرتے تھے۔ اب کوئی پوچھے کہ پولینڈ جو انڈیا اور روس کا حواری تھا اسے پاکستان سے کونسی محبت نے آ گھیرا ؟ وہ انڈیا اور روس کے ایما پر، پولینڈ کی پیش کردہ قرارداد دنیا میں انڈیا کو گوڈ بوائے بنا کر پیش کر رہی تھی، جبکہ بھٹو کا موقف تھا کہ چونکہ انڈیا نے مشرقی پاکستان میں فوج بھیجی ہے لہذا اسے “جارح” قرار دیا جائے۔ آج بھی بھٹو کی تقریر یو ٹیوب پر موجود ہے اور اس کا موقف سنا جاسکتا ہے
- حکومتوں کو کرپشن کے مبہم الزام پر گھر بھیجنا کہ سیاسی حکومتیں کرپٹ ہوتی ہیں ، محمد خان جونیجو، دو مرتبہ بینظیر، اور ۳ مرتبہ نوازشریف کی۔جبکہ حکومت سے بے دخل کرنے کے بعد ، کسی بھی عدالت میں ان کے خلاف کرپشن پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
- محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے متعلق بھی کہا گیا کرپٹ ہے، اور اس کے ملیشیا ، ساؤتھ افریقہ وغیرہ میں ہوٹل ہونے کا دعوٰی کیا گیا۔
- زرداری کو بنا کسی عدالتی فیصلے یا عدالتی سزا کے گیارہ سال قید رکھا گیا اور مسٹر ۱۰٪ کہا گیا، لیکن ایک بھی مقدمہ ثابت نہ کر سکے۔ دلچسپی کی بات یہ کہ زرداری تمام مقدمات، مشرف یا نواز شریف کے ادوار میں جیتا۔ جسٹس قیوم اور شہباز شریف کی آڈیو لیک ہوئی جس میں حکم دیا گیا کہ انھیں سات سال کیلئے نا اہل کرو، وڈیو لیک ہونے پر جسٹس قیوم کو استعفٰی دینا پڑا۔ سیف الرحمٰن نے عدالت میں پیر پڑ کر زرداری سے معافی مانگی کہ جھوٹے مقدمات شریفوں کے حکم پر بنائے تھے۔لیکن ذہنوں میں ۱۰٪ چپکا ہوا ہے۔
- عمران خان نشہ کرتا ہے اور بنا نشے کے جیل میں رہ نہیں سکے گا
- عمران خان نے تمام زندگی عیاشی سے ایک پلے بوائے کی طرح گزاری ہے یہ فوراً ڈیل کرکے باہر آئے گا۔
- فوج میں بالکل کرپشن نہیں ہے۔
- فوج کے جملہ صنعتی، تجارتی ، زرعی، تعمیراتی وغیرہ وغیرہ کے کاروبار شہدا کیلئے ہیں
- فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
- فوج کو سیاستدان لیکر آتے ہیں یہ خود سازشیں کرکے بالکل نہیں آتے۔
- فوجی جرنیل بہت ڈسپلن کے ساتھ رہتے ہیں اور جرنل ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرکے اوپر آنے کی کوشش نہیں کرتے۔
- تمام جنگیں ہندوستان نے شروع کیں۔
موجودہ زمانے کا سوشل میڈیا، نوجوان نسل کو تاریخ کے حقائق سے آشکار کر رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ، ہماری مقتدرہ نے، مسلسل اور متواتر پروپیگنڈے کے ذریعے، جو ذہن سازی کر رکھی تھی، اس کی پرتیں اب کھل کھل کر ذہنوں کو آزادانہ سوچنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے پرانے ذہنی طلسم سے آزادی دلوا رہی ہے۔ یہی جدت خیال پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں ۔ انشااللٰہ
خالد قاضی