نکتہ داں-۲۱۵
۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶
سوات کی راہ نجات سے ، تھر کے صحرا تک۔
ریٹائرڈ بریگیڈیر طارق قادر لاکھیر کی کہانی انکی زبانی۔
گو، سعودی عرب، ایران کویت اور خلیج کے دوسرے ممالک، اپنے تیل کی بدولت، امیر ملکوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جبکہ انکے مقابلے میں پاکستان کا شمار ایک غریب ملک کے طور پر کیا جاتا ہے، لیکن ، سعودی عرب، ایران اور کویت کی مجموعی تیل کی قدر سے بھی ۲۰ ارب بیرل زیادہ کی استطاعت رکھنے والا تھر کول فیلڈ، اپنی تہوں میں کوئلے کے ۹ لاکھ زخائر جن کا مجموعی وزن ۱۷۵ ارب ٹن ہے، پاکستان کے عوام کی قسمت بدلنے کیلئے، اپنے بازو پھیلائے بیٹھا تھا، کہ :
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہر وے منزل ہی نہیں
تھر کول کو پاکستان کے معاشی استحکام کی منزل کی طرف بڑھانے میں جن شخصیات نے اپنا اپنا حصہ ڈالا، ان میں شامل ایک نام، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طارق قادر لا کھیر ( نشان امتیاز ) بھی ہیں۔ بریگیڈیئر طارق نے بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر تھر کول ، اپنے وژن، قابلیت، اور محنت سے ، نہ صرف مشکلات سے بھرپور پیچیدہ مسائل پر قابو پاکر، اس منصوبے کی ابتدا کی ، بلکہ اسے کامیاب بنا کر مستقبل میں صدیوں تک، پاکستان کی توانائی کی ضرورتوں سے آزاد کرنے کی بنا رکھ دی ۔
بریگیڈیئر صاحب سے ملاقات ، بوسٹن امریکہ میں ، ہمارے مشترکہ دوست کی بیٹی کی شادی، جو چند دنوں پر پھیلی ہوئی تھی، میں ہوئی.شادی کے موقع پر دوست تو کئی ملے لیکن، ان میں بریگیڈیئر طارق ایک منفرد شخصیت محسوس ہوئے ۔ موقعہ غنیمت جانتے ہوئے، میں نے انٹرویو کیلئے وقت طلب کرلیا، جسکی انھوں نے بخوشی حامی بھر لی۔میرے تجسس کی وجہ ، یہ بھی تھی، کہ میں جاننا چاہتا تھا کہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے، فوج میں شمولیت اختیار کرکے بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچنے کیلئے کن حالات کا سامنا کیا اور اس متعلق اسکے تجربات کیا تھے۔
دوسرے دن ہماری بیگم نے ، جب صبح صبح تیاری کی وجہ پوچھی تو ہم نے انھیں مطلع کیا کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر صاحب سے انٹرویو طے ہے۔ وہ حیرانی سے ہمیں دیکھتے ہوئے بولیں کہ “ خالد قاضی اور پھر فوجی کا انٹرویو ؟ یہ انہونی بھی ہونی تھی ! “
میں نے سمجھایا کہ اے خوشبخت، یہی تو ثبوت ہے ہمارا اپنی فوج سے محبت کا۔ اختلاف تو، غیر آئینی سرگرمیوں پر ہوتا اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا ۔
بریگیڈیئر طارق حالانکہ ریٹائرڈ ہیں لیکن فوجی عادت کے عین مطابق میرے پہلے ہی میسیج پر ملاقات کیلئے، دروازے پر آکر مجھے خوش آمدید کہا۔
بریگیڈیئر طارق سے انٹرویو لینے کا میرا اشتیاق یہ جاننے پر تھا، کہ وہ کہاں سے یہاں تک، کس طرح، کن حالات میں، ان بلندیوں تک پہنچے ۔ میرا تجسس بھانپتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ
ان کا تعلق ضلع دادو کے تعلقہ میہڑ کے ایک چھوٹے سے گاؤں “ بخش لاکھیر “سے ہے۔ انکے والد غلام قادر لاکھیر ایک علم دوست شخصیت تھے ۔ انھوں نے نہ صرف ڈان اخبار میں بحیثیت ایڈیٹر خدمات انجام دیں بلکہ سول سرونٹ کے طور پر گھی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائیریکٹر بھی رہے۔
ابتدائی تعلیم طارق صاحب نے اپنے گاؤں “بخش لاکھیر” ، اور پھر شکارپور کے مدارس میں حاصل کی لیکن مڈل سے لیکر ایف اے تک تعلیم،( والد کی خواہش پر)، کیڈٹ کالج پٹارو سے بہترین نمبروں سے مکمل کی۔ انکی شخصیت ، صلاحیت، قابلیت اور اعتماد ، کیڈٹ کالج پٹارو کی تربیت کا مرہون منت ہے۔
میں نے پوچھا کہ فوج میں بھرتی ہونے کا شوق پٹارو کے ماحول کی وجہ سے ہوا ؟ تو بولے کہ دوستوں کے ایما پر تو میں بھی فوج ہی میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن والد مجھے ڈاکٹر دیکھنا چاہتے تھے، سو، میں نے مقابلے کا امتحان پاس کرکے چانڈ کا میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ پہلا سال تو چانڈکا میں گزارا لیکن پھر سندھ میڈیکل کالج کراچی میں وارد ہوئے۔
اس انکشاف پر میں بولا، تو گویا، آپ آرمی کی میڈیکل کور میں منتخب ہوئے ۔ بولے نہیں ، یہ ایک الگ قصہ ہے۔
بھٹو کا عدالتی قتل ہو چکا تھا اور ایم آر ڈی کی تحریک زوروں پر تھی، جسکی وجہ سے تعلیمی ادارے تقریباً مستقل بند۔ ہم گھر پڑے سوتے رہتے تھے اور والد محترم اس پر نالاں۔ اس ہی دوران کراچی میں تعینات ، آرمی کے ایک سینئر افسر، جو والد صاحب کے دوست تھے نے مطلع کیا کہ آرمی آفیسرز کی سلیکشن کا عمل شروع ہوا چاہتا ہے۔ بیٹے سے کہو کہ درخواست دیدے۔ اور پھر، پانچ مختلف ادوار کے ٹیسٹوں سے گزرنے کے بعد ، ہم، نتیجے کے منتظر تھے۔ فوج میں بھرتی ہونے کے ٹیسٹ کی اطلاع جن لفافوں میں مہیا کی جاتی ہے، انکا حجم دراصل نتیجہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اگر لفافہ ثقیل ہو، تو سمجھ لیں کہ آپکے مہیا کی گئی تمام اسناد بمعہ شکریے کے واپس کی جارہی ہیں کیونکہ آپ ناکام رہے۔ لیکن ہمیں ایک خفیف سا لفافہ ملا۔ جس کے ایک مختصر سے پیغام نے ہماری زندگی بدل دی ۔ پیغام تھا کہ “آپ آرمی میں سلیکٹ ہو گئے ہیں”اور اب دوسرے احکامات کا انتظار کریں۔
پاکستان آرمی میں کمیشن ملنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا، کہ پاکستان کے چپے چپے، جسکے متعلق عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا، کو دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ۔ اور ہم نے اپنی ۳۲ سالہ ملازمت اسی دشت کی سیر کرتے کرتے گزاری۔
میرا اگلا سوال تھا، کہ آرمی میں ملازمت کے دوران انھیں سندھ سے تعلق ہونے کے ناطے کبھی کوئی مشکل ، کوئی زیادتی یا کسی محرومی کا احساس ہوا ؟ اس پر وہ پورے اعتماد سے گویا ہوئے کہ مجھے ایسے کسی بھی تجربے سے کبھی بھی، سابقہ نہیں پڑا اور میں نے جتنی ترقی کی اس سے بھی مطمئن ہوں اور اگر اس رینک سے آگے نہ جاسکا تو اس کا بھی کوئی گلہ یا شکایت نہیں ہے ۔ میرے متعلق میرے افسران نے جو بھی فیصلہ کیا وہ بالکل دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا۔ اور مجھے کبھی بھی، کسی طرح کی کوئی بھی شکایت ، کسی سے بھی نہیں۔ انکے اس منصفانہ جواب پر میں نے پوچھا کہ فوجی ملازمت کے دوران ، وہ کیا کیا سنگ میل ہیں جنھیں پار کرنے پر آپ فخر محسوس کرتے ہیں۔
یہ سوال سن کر انکے چہرے پر ایک چمک سی آگئی۔ ان کے بقول میں بہت خوش قسمت ہوں۔ فوج میں شمولیت کا جو سفر ۱۹۸۵ میں شروع کیا، اس نے مجھے:
- کوئٹہ میں ۱۹۳۱ میں قائم کردہ، اسکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹس میں، جنگ کے اسرار و رموز سکھائے اور وہاں میں بہترین اعزاز کے ساتھ کامیاب ہوا ۔
- پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں سندھ سے تعلق رکھنے والا میں پہلا انسٹرکٹر تھا جو منتخب ہوا۔
- ۱۸۸۵ میں قائم شدہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کہ جہاں نہ صرف پاکستان ، بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ ، یورپ کے آفیسرز تربیت حاصل کرنا، اپنا فخر سمجھتے ہیں ، سے میں نے ممتاز حیثیت سے اپنی تدریس مکمل کی ۔
- نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد میں ۲۰۰۵/۲۰۰۶ کی تعلیم بھی میرے لئے اعزاز ہے اور یہاں بھی ممتاز حیثیت میں کامیاب ہوا۔
- پاکستان اور امریکہ کے آفیسرز کی مشترکہ، تربیت کیلئے، پینٹاگان میں جاری کورس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اپنے ممتاز نتیجے کی بدولت پاکستان کی توقیر کا سبب بنا۔
- ورجینیا، امریکہ کے “میرین وار کالج “ کے کوائنٹیکو بیس پر “اسٹریجٹک وار فیئر اینڈ پلاننگ کورس” میں پاکستان کی نمائندگی بھی میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
- مختلف کورسز، کانفرنسیں ، سیمینار ، تربیت اور سرکاری اور نجی کاموں کے سلسلے میں، دنیا کے ۵۷ ممالک کا سفر بھی میرے لئے کسی تمغے سے کم نہیں ۔
یہ بھرپور تفصیل سن کر، میں نے سوال کیا ، کہ اس ۳۲ سالہ دور میں، وہ کونسا عمل، تجربہ یا کارنامہ ہے جس پر آپ کا سر فخر سے بلند ہوا، دل مطمئن ہوا اور آپ سمجھے کہ میں کامیاب ہوگیا۔ اس سوال پر، وہ پورے اعتماد سے بولے، کہ ہاں ایک ایسی کامیابی ضرور میرے اعمال نامے میں ہے جو اگر قبول ہوئی تو میری بخشش کا سبب بنے گی۔ میرا تجسس بھانپتے ہوئے وہ گویا ہوئے :
“ سنہ ۲۰۰۹ میں سوات میں پاکستان کی حکومت کی رٹ ختم ہوچکی تھی اور ہر طرف طالبان دہشتگردوں کا راج تھا۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ تمام امن پسند دنیا کیلئے تشویش کا سبب تھی۔ اس صورتحال کو ختم کرنے کیلئے “قومی اتفاق رائے” کی ضرورت تھی۔
- صدر آصف علی زرداری ، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مشترکہ فیصلے کے تحت، قومی اسمبلی نے متفقہ “نیشنل ایکشن پلان” منظور کرکے فوج کو طالبان دہشتگردوں کا صفایا کرنے کا ٹاسک دیا۔ پہلے مرحلے میں “راہ راست” اور دوسرا مرحلہ “راہ نجات” کے نام سے شروع کیا گیا۔ “راہ نجات” کی میرےبحیثیت کمانڈنگ آفیسر ، ہم نے تکمیل کرکے دہشتگردوں کا صفایا کیا اور باقی بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ حالانکہ “راہ نجات” کامیاب ہوچکا تھا، لیکن سوات میں عوام مطمئن نہیں تھے۔ انھیں ڈر تھا کہ فوج کے جاتے ہی دوبارہ طالبان قابض ہوجائیں گے۔عوام الناس کا اعتماد بحال کرنے کیلئے، ہم لوگوں سے مل کر انکے خوف کو ختم کرنے کے مراحل سے گزر رہے تھے کہ اس دوران، سوات کے گاؤں مٹّا کی ایک بزرگ خاتون نے بھیگی آنکھوں سے اپنی بپتا سنائی۔ اس کے بقول اسکا بیٹا، سرکاری اسکول میں انگریزی کا استاد تھا۔ وہ بچوں کو انگریزی پڑھا کر اپنا گھر بار چلا رہا تھا کہ اچانک اسے طالبان کا حکم ملا کہ تم انگریزی پڑھانا بند کردو ۔ یہ بات اسے عجیب سی لگی اور وہ اس حکم کو اہمیت نہ دیتے ہوئے، اسکول میں انگریزی پڑھاتا رہا۔ ایک روز، جب میرا بیٹا بذریعہ ویگن، مجھے ہسپتال سے گھر لیجا رہا تھا، کہ راستے میں طالبان نے ویگن روک کر اسے اترنے کو کہا۔ اس نے انھیں بتایا کہ اس وقت میری والدہ میرے ساتھ ہے، میں انھیں گھر چھوڑ کر آتا ہوں اور آپ سے تب بات ہوگی۔ اس پر اسے زبردستی ویگن سے اتار کر، طالبان کی حکم عدولی کرکے انگلش پڑھانے کی سزا کے طور پر، ، وہیں، ، سر عام ، ، میری آنکھوں کے سامنے، ، گردن کاٹ کر ، ، ذبح کردیا گیا اور اس کا سر کئی دنوں تک درخت پر لٹکائے رکھا کہ لوگوں کو طالبان کی حکم عدولی کے خوف میں رکھنا مقصود تھا۔ یہ بات کرتے ہوئے بزرگ خاتون کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور ہچکیاں تھیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ ہم نے ان بزرگ خاتون سے وعدہ کیا کہ اماں ہم انشااللٰہ تمھارے بیٹے کے قاتل کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ اسکے بعد ، ہم نے فوج کی انٹیلیجینس کو اس بدبخت کے مکمل کوائف بتاکر پورے پاکستان میں اسکی تلاش شروع کروادی۔ ہمیں اطلاع ملی کہ اسے مردان میں دیکھا گیا ہے ۔ لیکن جب وہاں ہمارے لوگ پہنچے تو وہ وہاں سے فرار ہوچکا تھا۔ پھر کچھ عرصے بعد خبر ملی کہ راولپنڈی میں اسکی موجودگی کے آثار پائے جاتے ہیں، لیکن پھر اسی دوران اطلاع ملی کہ وہ پشاور میں پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔ ہم نے اسکا پیچھا کرنا نہیں چھوڑا، لیکن پشاور پہنچ کر پتہ چلا کہ شاید اسے پشاور میں چھپنے کی بہتر جگہ نہ مل سکی اس لئے وہ دوبارہ راولپنڈی چلا آیا ہے۔ لیکن وہ خطرہ بھانپ چکاتھا اور پنڈی سے بھی فرار ہوگیا۔ پھر کچھ عرصے بعد، لاہور سے ہمارے کھوجی کی اطلاع آئی کہ اسے شاہدرہ کے علاقے میں دیکھا گیا ہے۔ لیکن جب ہمارے لوگ شاہدرہ اسکے تعاقب میں پہنچے تو وہاں سے بھی جاچکا تھا۔ ہم اپنی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے افسران سے مستقل رابطے میں رہ کر، اسے گرفتار کرنے کی تلقین کر رہے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد، ہماری کراچی کی شاخ سے اطلاع آئی کہ لانڈھی کی پٹھان بستیوں میں وہ چھپا ہوا ہے۔ لیکن کراچی میں چھاپا بھی ناکام رہا اور پھر پتہ چلا کہ وہ دوبارہ پنڈی میں وارد ہوا ہے۔ لیکن پنڈی میں بھی اس نے زیادہ قیام نہیں کیا اور ہمیں پکی خبر ملی، کہ اس نے لنڈے کے کپڑوں کے تاجر کا بھیس بدل کر کوہستان کے ایک ویران علاقے میں کاروبار شروع کیا ہوا ہے ۔ ہم نے اپنی ٹیم کوہستان روانہ کی، اور ہماری ٹیم نے اس گھر کو جسکی اطلاع ہمارے مخبر نے دی تھی، گھیر لیا۔ اور گھر کی مکمل تلاشی لی۔ لیکن وہ نہ ملا ۔ ہماری ٹیم نے مطلع کیا کہ وہ تو اس گھر میں موجود نہیں ہے۔ ہم نے زور دیکر کہا کہ جس مخبر نے اس گھر کا بتایا ہے، اس پر ہمارا مکمل اعتماد ہے، آپ دوبارہ اس گھر کی تلاشی لیں ، یہ اسی میں ملے گا۔ہماری ٹیم ہمارے اسرار پر دوبارہ گھر کی تلاشی لینے لگی۔ تلاشی کے دوران اسے ایک کھڑکی پر کچھ شک ہوا کہ باہر سے دیکھنے پر، اور اندر سے سائز میں کچھ کمی بیشی نظر آتی ہے۔ زیادہ غور کرنے پر محسوس ہوا کہ باہر سے کمرے کی چوڑائی اور کمرے کے اندر جاکر اسکا رقبہ کچھ کم لگتا ہے۔ اسی شک میں جب اس کھڑکی کو کھولنے کی کوشش کی تو اندر سے گولیاں چلنا شروع ہو گئیں ۔ دراصل دو دیواریں بنا کر چھپنے کی جھری بنائی گئی تھی۔ ہماری جوابی کاروائی سے وہ شدید زخمی ہوگیا تھا ۔ اسے فورا” مٹّا روانہ کردیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اسکی لاش مٹّا سوات لائی گئی جسے دیکھنے کیلئے سوات کے عوام، ہزاروں کی تعداد میں پہنچے اور ایک جلوس کی شکل میں لاش ، بزرگ خاتون کے دروازے پر لائی گئی تاکہ اسکے بیٹے کے قاتل کا انجام اسے دکھایا جائے۔ خاتون اسے دیکھ کر سجدے میں گر گئیں اور مجھے اور پاکستانی فوج کو دعائیں دینے لگی۔ اور اس واقعے کے بعد، سوات کے لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔ یہ کاروائی ۷ مہینے جاری رہی اور ۷ مہینوں کے بعد وہ بد بخت، بہ مشکل گرفت میں آیا۔ اس گرفتاری کیلئے، ملک میں پھیلے ہوئے انٹیلیجنس اداروں کی معاونت کے بغیر یہ مشن تقریباً ناممکن ہوتا۔
ہمارے مکالمے کے اس جذباتی ماحول سے نکلنے کا بہترین راستہ یہی تھا کہ میں گفتگو کا کوئی اور موضوع چھیڑوں، لہٰذا میں پوچھ بیٹھا کہ سنا یہ ہے کہ سندھ کے لوگوں کو یا تو فوج میں شامل نہیں کیا جاتا یا پھر وہ خود ہی فوج میں شمولیت سے گھبراتے ہیں۔ اس پر وہ کچھ دیر ہنستے رہے ! پھر بولے، فوج میں ہر صوبے کے فوجی جوانوں کا کوٹہ مقرر ہے۔ سندھ کا آبادی کے حساب سے ۲۲۰۶۸ فیصد کوٹہ یعنی تقریباً ۷۶۰۰۰ ہزار بنتا ہے، لیکن ۹۰ کی دہائی میں اصل سندھی فوجیوں کی تعداد محض ۱۸۰۰۰ تھی، باقی لوگ جعلی کاغذات پر سندھ کے کوٹے پر درج تھے۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں بھٹو کی پھانسی کے پس منظر میں، سندھ فوج سے متنفر تھا۔ اسکی وجہ سندھ کی فوج میں کم تعداد بھی ایک عنصر تھی۔ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے، جنرل اسلم بیگ کے دور میں فوج کے جوانوں کا مکمل آڈٹ کیا گیا اور سندھ سے جوانوں کی بھرتی درست کاغذات کے حامل لوگوں سے سندھی پڑھنے اور لکھنے کا ٹیسٹ لیکر کی گئی۔نہ صرف صوبائی کوٹہ، بلکہ مردم شماری کے نتائج کو مد نظر رکھہ کر، ضلعی آبادی کے کوٹے کے حساب سے بھرتی شروع کی گئی۔ سندھی نوجوان جوق در جوق شامل ہوئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھی جوان اپنے کوٹے سے بھی زیادہ ۸۱۰۰۰ فوج میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ۔ جنرل کیانی کے دور میں بلوچستان پر توجہ دی گئی اور بلوچ جوانوں کی اس وقت کی تعداد ۲۶۰۰ سے بڑھا کر اب ۳۱۰۰۰ جوانوں تک پہنچی ہے۔فوجی آفیسران صرف میرٹ پر مقرر ہوتے ہیں۔ جہاں تک جرنیل مقرر کرنے کا تعلق ہے، اس وقت ۳ میجر جرنلوں کا تعلق سندھ سے ہے، جبکہ چوتھے میجر جنرل کے شامل ہونے کی بھی نوید ہے۔
اس دوران چائے بھی آچکی تھی اور سموسے بھی ، اسلئے چائے کی چسکی لیتے ہوئے، میں نے سوال کیا کہ، ریٹائرمنٹ کے بعد، تھر کول پروجیکٹ کیلئے آپ کا سلیکشن کیسے ہوا۔
باقی انٹرویو کل دوسری قسط میں ملاحظہ کریں۔
بہت دلچسپ قاضی صاحب ….!
اگلی قسط کا انتظار رہے گا ۔
پسندیدگی کا شکریہ محترم
محترم
خالد قاضی بھائی
سب سے پہلے بہت شکریہ: ایک عام سے کام کو اس نظر سے دیکھنے اور دوستوں کو شیئر کرنے کا
دوسرا شکریہ کہ آپ نے اپنی لکھاری ہونے کی خوبیوں کو میرے اور فوجی کام کی تحسین کیلئے استعمال کیا۔کیا خوب لکھتے ہیں آپ: اللہ زور قلم اور زور کرے
تھر کول جیسے بہت ہی اعلی پروجیکٹ کو سوچنے سے لیکر تکمیل تک پنہنچانے میں میرا رول تھا ضرور لیکن ایک حد تک محدود تھا لیکن اصل کریڈٹ
پیپلز پارٹی کی قیادت ، سندھ کے عوام، اینگرو کے ما لک حسین داود صاحب اور ہمارے چیف ایکزیٹو شمس شیخ اور ان کی قابلیت اور ٹیم بنانے کی صلاحیت کو جاتا ہے
اس کا ذکر کرنا میرے خیال میں بہت ضروری اور مناسب ہے۔
اگلی قسط میں آپ کے قلم سے لکھنے میں یہ ذکر اور خوبصورت اور نکھر کر نظر آئیگا انشاللہ
آپ کی کاوشوں کا شکریہ دوبارہ سہبار
اللہ تعالیٰ آپ اور اہل خانہ کو اپنے کرم میں رکھے
السلام
طارق لاکھیر بھائی، آپکے خیالات اور انداز اظہار نے میرے حوصلے کو نئی توانائی بخشی ہے۔
انشااللٰہ اگلی قسط تھر کول ہی کے متعلق ہوگی اور ہم مل کر کوشش کریں گے کہ حقدار کا حق ادا کردیں۔
میں، آپکی محبت کا مقروض رہوں گا۔ اللٰہ آپکے کام اور لگن کو قبول فرمائے اور آپکا مرتبہ دنیا اور آخرت میں بلند فرمائے۔ آمین
محترم قاضی صاحب
Your interviewing manner is unique as it sails like story telling Kept me engaged and eager till I finished it all . Non stop. .
Content is deservingly pregnant ; availing the opportunity to talk with a “soldier from Sindh” . It’s translates a Sindhi , meritoriously qualified, content and satisfied . Later two signs of being *peaceful* and formal one as *capable* .
This writeup also creates a needed thaw with establishment for those want to see a Sindhi always “apparently” entangled in disputes or aggrieved unnecessarily.
Swat incident description is appropriately emotional . That impressions writer as an empath , a content specialist and not in any ways a layman .
Stay blessed
اس اظہار کو انگریزی زبان میں مرتب کرنے پر معزرت
Thank you Brother.
Your words of encouragement means a lot to me and I get new energy from your comments.