Skip to main content

NUKTADAAN

Reading: ‏۲۱۶۔ نکتہ داں- دودھ کا جلا
Reading: ‏۲۱۶۔ نکتہ داں- دودھ کا جلا

‏۲۱۶۔ نکتہ داں- دودھ کا جلا

admin
11 Min Read
Screenshot

نکتہ داں-۲۱۸

۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶

دودھ کا جلا

کہتے ہیں، دودھ کا جلا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال ، امریکہ میں آباد مسلم تارکین وطن لوگوں کا ہے ۔ ان تارکین وطن کا تعلق برصغیر پاک و ہند اور بنگلہ دیش سے بھی ہے، مشرق وسطٰی اور افریقی ممالک سے بھی مشرق بعید سے بھی اور نومسلم امریکی انگریز بھی ان میں شامل ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی عموما، امریکہ میں مقیم تمام دنیا سے آئے ہوئے تارکین وطن سے متعلق نرم پالیسی اور آزاد رویہ رکھتی چلی آرہی  ہے , بلکہ تارکین وطن لوگوں کیلئے امریکہ میں آبسنے  کی ابتدا 1963 ہی میں کینیڈی دور ہی میں ہوئی  تھی اور انکے قتل کے بعد  مزید پیش رفت 1965 میں صدر لنڈن بی جانسن کے دور صدارت میں ہوئی۔ گو بعد کے ادوار میں ریپبلکن پارٹی نے بھی اس عمل کو آسان اور بہتر کرنے کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔ اسی لئے امریکہ میں آباد تارکین وطن، جن کاتعلق پوری دنیا کے تقریباً ہر گوشے سے ہے اور جن میں دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان بھی شامل ہیں ڈیموکریٹس کو ووٹ دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی ،  تارکین وطن کی حمایت کم ہی حاصل کر پاتی ہے۔ لیکن ماضی کی روش کے برخلاف پچھلے الیکشن کا احوال کچھ مختلف رہا۔

۲۰۲۴ کے صدارتی الیکشن سے پہلے، امریکہ میں ڈیموکریٹس برسر اقتدار تھے اور جو بائیڈن مسند صدارت پر براجمان تھے۔ انکی صدارت کے آخری دور یعنی اکتوبر ۲۰۲۳ میں فلسطین میں حماس اور اسرائیل کی جنگ شروع ہو گئی ۔ اس جنگ میں غزہ کی سویلین آبادی پر جس بربریت اور غیر انسانی سلوک کابرتاؤ کرتے ہوئے اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نے  سویلین آبادی کو اپنے بموں کا نشانہ بنایا  اور جس طرح بچوں ، بوڑھوں ، اور خواتین کا بے دریغ قتل عام ہوا ، اس سے انسانیت پر یقین رکھنے والا ہر شخص بلبلا اٹھا۔ اسرائیلی ظلم کے اس عمل میں بائیڈن انتظامیہ ، اسرائیل کی دامے، درمے، سخنے، ہر طرح سے معاون اور مددگار رہی اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ، غزہ میں سیز فائر کی قراردادوں کو ۴ مرتبہ ویٹو کیا۔

۲۰۲۴ کے صدارتی الیکشن میں ٹرمپ نے اس نعرے پر الیکشن لڑا کہ وہ امریکہ کو بیرونی جنگوں سے نکال کر، ملکی دولت، امریکہ کو مزید دولتمند بنانے پر خرچ کرینگے۔ امریکہ میں مقیم تارکین وطن عموماً اور سٹیٹ مشی گن کے مسلمانوں نے خصوصاً ٹرمپ کے اس وعدے پر اعتبار کیا اور وہ سمجھے کہ ٹرمپ کے آنے سے غزہ میں جنگ بندی ہوجائے گی، لیکن ٹرمپ ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا جو بائیڈن انتظامیہ سے بھی بڑھ کر حمایت کرتے ہوئے  مزید دو مرتبہ ، جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کرکے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ  اسرائیلی جارحیت کو جاری رکھنے کیلے اسرائیل کیلئے اپنے اسلحے کے زخائر کے منہ کھول دیئے ۔

اس صورتحال کے پیش نظر، امریکی مسلمانوں کی تنظیموں دانشوروں اور  صاحب علم و صاحب حیثیت شخصیات نے، آئندہ کے مڈ ٹرم الیکشن میں ووٹ،دینے کیلئے ڈیموکریٹ یا ریپبلکن پارٹی کی حمایت کرنے کے بجائے، امریکی سینیٹ کے امیدواروں کو فرداً فرداً مدعو کرکے  ، انکے عمومی  خیالات اور خصوصًا فلسطین کے مسئلے پر انکے موقف جان کر انکی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

امریکہ کی شمالی ریاست میسیچیوسیٹس ، ہمیشہ سے ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایتی رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں یہاں کی  نمائندگی  سینیٹر ایڈ مارکی اور سینیٹر  ایلزبتھ وارن کرتے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی اسرائیل سے متعلق پالیسی اور ایران پر، اسرائیل اور امریکی مشترکہ حملے پر انکی حمایت کے بر خلاف، سینیٹر مارکی نے اس حملے کو، غیر قانونی، غیر ضروری اور انسانی جانوں کے متعلق لاپرواہی کا عمل قرار دیا ہے ۔ وہ امریکہ کی اسرائیل کو بے دریغ فوجی امداد اور تباہ کن اسلحے کی فروخت کے بھی شدید مخالف رہے ہیں۔ وہ اسرائیل پر حماس کے حملے کے ضرور مخالف ہیں اور اسرائیل کو اپنے دفاع کے حق کے بھی حامی ہیں لیکن انھوں نے غزہ کی جنگ کی سخت مخالفت کی ہے۔ وہ نیتن یاہو کی غزہ کے متعلق جنونی رویے کے سخت مخالفت کرتے ہیں اور فلسطین کی آزاد مملکت کے  قیام کو ہی فلسطین مسئلے کا حل مانتے ہیں۔ امریکہ میں کم ہی سینیٹر، اسرائیل کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اسکی وجہ اسرائیلی لابی کا امریکن معاشرے پر گہرا قابو ہے۔ امریکہ کی کانگریس کے  ۳۵ کانگریس مین  یہودی ہیں اور کئی عیسائی کانگریس مینوں کی  شریک حیات یہودی۔امریکی معاشرے کا اسرائیل کی سیاسی اور معاشی مدد کرنے کی وجہ تاریخی ہے ۔  پچھلی صدی میں ، جنگ عظیم اول اور دوئم کے بعد، یورپ سے لاکھوں یہودی امریکہ آ کر آباد ہوئے۔ ان میں زیادہ تر علمی طور پر بہت لائق اور قابل افراد تھے۔ امریکہ کو امریکہ بنانے، اسکی علمی، معاشرتی، معاشی اور کاروباری ترقی میں یہودی تاجروں ، صنعت کاروں، فلاسفروں، سائنسدانوں،  اور بینکروں کا  اہم کردار رہا ہے۔ اس ہی لئے امریکہ کے لوگ اسرائیل سے اپنا رشتہ اس طرح جوڑتے ہیں جیسے پاکستان کے لوگ کشمیر اور فلسطین سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

لیکن امریکی عوام میں۔ اسرائیل کی  فلسطین کے متعلق پالیسی کی مخالفت ، سنہ ۲۰۲۳ سے جاری اسرائیل  حکومت کے بدترین دہشتگردانہ  اقدامات ، بمباری اور ظلم و زیادتی کی وجہ سے ہے۔ امریکی نوجوان طبقہ، اسرائیل کے ظلم اور جبر کی وجہ سے اسکا شدید مخالف بن گیا ہے ۔ گو عمومی طور پر امریکی سینیٹر اسرائیل کے ہر اقدام کی وکالت کرتے ہیں لیکن سینیٹر ایڈ مارکی ان سینیٹروں میں شامل ہیں جو کھل کر فلسطین کے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے ہیں۔

امریکہ کی سیاست پر، ۲۰۲۳ سے پہلے، اسرائیلی لابی کا اسقدر کنٹرول تھا کہ سینیٹروں کی اکثریت، اعلانیہ،  نہ صرف اسرائیل کی حامی بلکہ اسرائیلی حکومت کے فلسطینیوں پر ظلم و استبداد کی،  یا تو کھل کر حمایت کرتی رہی ہے، یا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ لیکن غزہ کی دوسالہ جنگ نے امریکی سیاستدانوں کی سوچ میں قدرے تبدیلی لائی ہے۔ اسرائیل کے ظالمانہ رویے کے خلاف، آواز بلند کرنے،  تنقید کرنے، اور مذمت کرنے کے سرخیل سینیٹر ،  جو خود مذہباً یہودی ہیں سینیٹر برنی سینڈر ہیں ۔ امریکی تاریخ میں پہلی دفعہ، 100 کے ایوان میں، 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ، اسرائیل کو ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کی مخالفت میں  سینیٹر برنی سینڈرز کی پیش کردہ ، قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ امریکی سینیٹرز اپنی آف دی ریکارڈ گفتگو میں، نیتن یاہو کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم گردانتے ہیں لیکن، اعلانیہ یہ بات کہتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔ اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ  پاکستانی مقتدرہ کا جو ڈر پاکستانی سیاستدانوں پر طاری رہتا ہے، ویسا ہی ایک بظاہر پوشیدہ، ڈر، امریکی انتظامیہ پر اسرائیلی لابی کا ہمیشہ سے رہا ہے اور رہتا ہے۔

سینیٹر ایڈ مارکی کا شمار ان سینیٹرز میں ہوتا ہے جو، کھل کر امریکی حکومت کی اسرائیل کی اندھادہند حمایت کے مخالف  اور فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کے وکیل ہیں۔ انکے ان ہی خیالات سے متاثر ہوکر، شیوزبری کے مسلمان تارکین وطن کے سرخیل جوڑے، منصور خان اور ڈاکٹر فوزیہ نے اپنے دولت کدے پر کمیونٹی کے چیدہ چیدہ مسلمان شخصیات کو مدعو کرکے، نہ صرف سینیٹر ایڈ مارکی کے خیالات سے آگاہ ہوئے بلکہ انھیں اپنے خدشات سے بھی  آگاہ کیا۔منصور خان کے علاوہ کمیونٹی کے معزز اراکین جن میں فاروق انصاری، ڈاکٹر مشتاق۔ ڈاکٹر یاسر نجار، طاہر علی، رشید شیخ ، محترمہ حمیرہ نسیم اور ڈاکٹر فوزیہ نے موجودہ امریکی حکومت کی تارکین وطن کی پالیسیوں پر عموماً اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر خصوصا تشویش کا اظہار کرنے کے علاوہ  پاکستانی حکومت کی عمران خان کے مخالف اقدامات اور ہندوستان میں مودی کی مسلم دشمن پالیسیوں کو امریکی سینیٹ اور حکومتی لیول پر اٹھانے پر زور دیا۔

پرتکلف ظہرانے اور گفت شنید کے بعد، سینیٹر ایڈ مارکی کے آئندہ الیکشن کیلئے فنڈ ریزی کی گئی جس میں ۴۰۰۰۰ ہزار ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہوئی۔

اس ہی نوعیت کی دوسری تقریب منصور خان اور ڈاکٹر فوزیہ نے مشی گن سے سینیٹ کے مسلم امیدوار مصری نژاد عبدل السید کو مدعو کرکے کی۔

اس تقریب میں کمیونٹی کے تمام ارکان میں ایک جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔

عبدل السید فلسطین کے پرزور حامی اور امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسی کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔ مشی گن سٹیٹ میں انھیں نہ صرف مسلمان ووٹروں کی حمایت ہے بلکہ وہ عوامی شہرت کی وجہ سے تقریباً تمام تارکین وطن کی حمایت یافتہ ہیں۔ انھیں مزدور طبقہ انگریزوں کی بھی حمایت حاصل ہے اور درمیانہ معاشی حیثیت کے اکثر  لوگ بھی انکی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔

عبدل السید کی الیکشن فنڈریزنگ میں کمیونٹی کا جوش و جذبہ اس بات سے عیاں ہوجاتا ہے کہ آدھ گھنٹے کی فنڈ ریزنگ میں ۷۳۰۰۰ ڈالر جمع ہوگئے۔

امریکہ میں مقیم مسلمان تاریکین وطن کی امریکی سیاست میں دلچسپی اور امریکی معاشرے میں اپنی سیاسی قوت منوانے کے لئے دلچسپی انکی آئندہ  نسلوں کے بہتر مستقبل کی  سرمایہ کاری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے